بلاول بھٹو کی جدوجہد کیا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وہ جب پیدا ہوا تھا تو پوری دنیا کے اخبارات میں اس کی پیدائش کی خبریں شہ سرخیوں میں لگی تھیں۔ وہ جب ایک سال کا تھا تو امریکی کانگریس میں اپنی والدہ کے ہمراہ خصوصی مہمان تھا جہاں اس کی آمد پر اس کے نام کا باقاعدہ اعلان کیا گیا۔ وہ جب دو سال کا ہوا تو اس کے والد جیل چلے گئے جہاں وہ اپنی ماں کی گود میں اپنے والد سے ملنے جاتا تھا۔ وہ جب چار سال کا ہوا تو وزیراعظم ہاؤس کے لان میں ملکی سیاست کے بڑے فیصلے ہوتے دیکھا کرتا تھا۔ وہ جب آٹھ سال کا ہوا تو پھر اس کے والد جیل چلے گئے اور وہ اپنی والدہ کی انگلی پکڑ کر بے بسی کے وہ مناظر دیکھا کرتا تھا کہ جن کے تصور سے بھی کلیجہ منہ کو آ جائے اور پھر اسی ننھی سی عمر میں اس نے اپنے پیارے ماموں کا بہیمانہ قتل دیکھا۔

وہ اس عمر میں اپنی ماں کے ہمراہ جلاوطن ہو گیا۔ اس کے بچپن کے دوست نہ بن سکے۔ جو ساتھ تھے۔ وہ چھوٹتے چلے گئے۔ باپ کی جدائی اور ماں کی تکالیف دیکھ کر وہ بڑا ہوتا چلا گیا اور پھر جب وہ ابھی تعلیم مکمل کر رہا تھا کہ اس کی ماں کو بھی پنڈی کے کربلا میں شہید کر دیا گیا۔ اس نے اپنے آرام کی زندگی ترک کردی اور جان ہتھیلی پر لئے پاکستان آ گیا جہاں اسے یہ طعنہ دیا جا رہا ہے کہ اس کی جدوجہد کیا ہے۔

بلاول بھٹو جن کاندھوں پر کھیل کر بڑا ہوا ہے۔ ان کی قامت اتنی بڑی ہے کہ اگر ایسے افراد کی ذرا سی صحبت میسر آ جائے تو یہ زندگیوں کا ایک اہم تجربہ ہوتا ہے۔ جب بلاول بھٹو نے عملی طور پر پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت سنبھالی تو پوری دنیا اپنی جانب سے پی پی پی کے خاتمے کا فیصلہ کرچکی تھی مگر بلاول بھٹو نے پوری دنیا کو غلط ثابت کر دیا۔ 2014 میں کیا کوئی تصور بھی کر سکتا تھا کہ پاکستان پیپلزپارٹی کی وہ پوزیشن ہوگی جو آج ہے؟ بلاول بھٹو نے وہ کر دکھایا جو کسی کے وہم و گمان میں نہ تھا اور کسی بھی شعبے کو اٹھا لیں، سندھ کے متعلق منفی پروپیگنڈا عروج پر تھا اور آج وہ وقت ہے کہ سندھ کے اقدامات کی دیگر صوبے پیروی کر رہے ہیں اور سندھ لیڈ کر رہا ہے۔ یہ سب بلاول بھٹو کا کارنامہ ہے۔

بلاول بھٹو پاکستانی سیاسی تاریخ کا ایک غیرمعمولی کردار ہے۔ میں بلاول بھٹو کی آنکھوں کی چمک اور عام آدمی کے لئے اس کی تڑپ کا گواہ ہوں۔ میں نے دیکھا ہے کہ اس نوجوان لیڈر کے قدم جب اٹھتے ہیں تو راستے خود بنتے چلے جاتے ہیں۔ یہ خود اپنے حالات تخلیق کرتا ہے۔ یہ اپنا وقت خود لکھ رہا ہے۔ اس کا مستقبل کیسا ہوگا۔ یہ خود بلاول بھٹو طے کر رہا ہے کیونکہ وہ قابل ہے۔ وہ اہل ہے۔ وہ دور اندیش ہے اور گستاخی معاف میری دانش یہی کہتی ہے کہ آج اگر بلاول بھٹو کی ایک پہچان اس کے نانا اور والدہ ہیں تو کل اس کے نانا اور والدہ کو بلاول بھٹو کے نام سے بھی یاد رکھا جائے گا۔ وہ دن آئے گا جب بلاول بھٹو بڑھے گا تو اہل زمانہ اشارے سے کہیں گے کہ یہ ہے جس کی ماں بے نظیر تھی۔ یہ ہے کہ جس کا نانا ذوالفقار تھا۔

بلاول بھٹو اپنے بچپن سے جوانی کی سرحد پر قدم رکھتے ہوئے اپنی ماں کے ہمراہ احتجاجی تحریکوں کا حصہ بنا۔ جب پولیس والے اس کی ماں پر لاٹھیاں برسا رہے تھے تو یہ بھی ان کے ہمراہ تھا۔ اسے وہ دن نہیں بھولا کہ جب اس کے والد کے خون آلود کپڑے جیل سے باہر پھینکے گئے تھے۔ وہ بچپن سے جوانی تک ان حالات کا عینی شاہد بنا جنہیں ہم آج پاکستان میں مزاحمت کی سیاسی تاریخ کہتے ہیں اور عمران خان کہتے ہیں کہ بلاول بھٹو کو بغیر جدوجہد کے پارٹی مل گئی۔

کون ہے پاکستان پیپلزپارٹی میں کہ جس نے اپنے نظریے کے لئے اتنا کچھ کھو دیا ہو۔ اپنی پیاری ماں کو قربان ہوتے دیکھا ہو۔ اپنے ماموں کے جنازے میں شریک ہوا ہو۔ اپنے والد پر غیرانسانی تشدد ہوتے دیکھا ہو۔ پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی ایسے فرد کو اپنا چیئرمین نہیں بنائے گی تو کیا عمران خان جیسے کو بنائے گی کہ جس کی 22 سالہ جدوجہد کو نچوڑیں تو صرف رومانی سکینڈل نکلیں گے۔

پاکستان کی موجودہ سیاست پر بلاول بھٹو کے اثرات دیکھیں تو عقل حیران ہوجاتی ہے۔ اگر موجودہ اسمبلی چل رہی ہے تو یہ بلاول بھٹو کی وجہ سے ہے کیونکہ بلاول بھٹو نے مسلم لیگ نون اور جمعیت علمائے اسلام کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ حلف اٹھانے سے انکار کے عمل سے گریز کریں اور اپنی لڑائی پارلیمان میں آکر کریں۔ یہ بلاول بھٹو ہیں جو مریم نواز کو جاتی امرا سے نکال کر عملی سیاست میں لائے۔ پاکستان کی اپوزیشن پارٹیوں کو بار بار ایک ساتھ بٹھایا۔ ملک کے کونے کونے میں طوفانی دورے کر کے عوام میں فاشسٹ اور سلیکٹڈ پی ٹی آئی حکومت کے خلاف شعور پیدا کیا اور عمران خان کے نام پر مسلط کیے گئے لیڈرشپ کے جعلی طلسم کو توڑ ڈالا۔ بلاول بھٹو کی قومی اسمبلی میں کی گئی پہلی تقریر میں ادا کیا گیا لفظ ”سلیکٹڈ“ اتنا بھاری ہے کہ پوری پی ٹی آئی حکومت اس کے بوجھ تلے سسک رہی ہے اور آج تک اس ایک لفظ کی کاری ضرب سے سنبھل نہیں پائی۔

اگر بلاول بھٹو اتنے ہی بے اثر اور بے وقعت ہیں تو کیوں ان کی تقریر کے بعد عمران خان نیب کے ذریعے انہیں نوٹس بھیج دیتے ہیں؟ بلاول بھٹو کی مضبوطی کا یہ عالم ہے کہ پی ٹی آئی کے پاس ان کے خلاف تنقید کے لئے اگر کچھ رہ گیا ہے تو وہ ان کی کردار کشی ہے۔ بلاول بھٹو میں کچھ تو ہے کہ وہ سوال ملکی سالمیت کا کرتے ہیں اور جواب میں ایک 68 سال کا بوڑھا ایک 31 برس کے نوجوان کی نقل اتارتے ہوئے کہتا ہے کہ جب پانی زیادہ ہوتا ہے تو بارش زیادہ آتا ہے کیونکہ اس بیچارے کے پاس اس سوال کا کوئی جواب ہی نہیں ہے۔

عمران خان کے لئے اس سے بڑی اور کیا سزا ہو گئی کہ بلاول بھٹو نے وقت کے وزیراعظم کو قومی اسمبلی میں ایک بھانڈ۔ مسخرہ اور جوکر بننے پر مجبور کر دیا۔ کاش عمران خان کا کوئی مشیر انہیں بتائے کہ بلاول بھٹو نے دو سالوں میں عمران خان کو اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے جہاں سے نکلنے کا کوئی عزت مندانہ راستہ نہیں اور ایسی بند گلی میں عمران خان کا یہ سوال کہ بلاول بھٹو کی جدوجہد کیا ہے، انتہائی مضحکہ خیز ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *