نوکری یا داخلے کے لیے پرسنل اسٹیٹمنٹ کیا ہے اور کیسے لکھی جائے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

14 مارچ پر جب ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے کورونا کو عالمی وبا قرار دیا تو دنیا میں موجود تمام انسانوں کی زندگی پر اس کا اثر پڑا ہے۔ امریکی حکومت کی نا اہلی اور عوام کا پاگل پن تمام دنیا کے سامنے ایک تماشا بن گیا ہے۔ زیادہ تر لوگ جو کلینک میں آتے ہیں یا ٹیلی میڈیسن سے رابطے میں ہیں وہ ایسے نہیں ہیں کہ ماسک نہ پہنیں اور دوسروں پر کھانسیں۔ اس طرح کے لوگ میں بھی باقی اور لوگوں کی طرح انٹرنیٹ پر ہی دیکھ رہی ہوں۔

پچھلے تین مہینے شدید مصروفیت رہی۔ سفر بند ہوجانے کی وجہ سے اینڈوکرنالوجی کی روٹیشن ایک ٹیلی روٹیشن میں تبدیل ہو چکی ہے۔ ان اسٹوڈنٹس کے دوسرے ملکوں اور ریاستوں میں ہونے کی وجہ سے وقت مختلف ہونے کی وجہ سے نئے چیلنجز سامنے آئے ہیں۔ زندگی میں سب کچھ ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس کی تبدیلیوں کے ساتھ نئی چیزیں سیکھنا ہوتی ہیں۔ سارا دن مریض دیکھنے اور ان کے درمیان پڑھانے میں گزر جاتا ہے۔

کئی مہینوں سے ہم سب میگزین کو پڑھنے کا وقت تک نہیں ملا۔ کچھ معلوم نہیں کہ ہم سب کی دنیا میں آج کل کیا مقبول ہورہا ہے؟ ڈاکٹر سہیل نے وقت نکال کر میرے اسٹوڈنٹس کو گرین زون فلسفے پر لیکچر دیا جس کا نہایت شکریہ۔ اور جن لوگوں نے مریضوں کی حیثیت سے ان اسٹوڈنٹس کو اپنا انٹرویو کرنے کی اجازت دی ان کا بھی بہت شکریہ۔

اس مہینے ہماری دو اسٹوڈنٹس میکسیکو اور نارتھ کوریا میں ہیں۔ اسٹوڈنٹس کو اینڈوکرنالوجی سکھانے کے علاوہ ان کی پرسنل اسٹیٹمنٹ بہتر کرنے میں مدد کرنا، ریزیڈنسی کے انٹرویو کے لیے رہنمائی کرنا اور ان کو ایک بہتر ڈاکٹر بننے میں مدد کرنا میری ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ آج کے مضمون میں ہم یہ سیکھیں گے کہ پرسنل اسٹیٹمنٹ کیا ہے اور اس کو اچھے طریقے سے کیسے لکھا جائے؟

جب کسی نوکری کے لیے درخواست بھیجتے ہیں جس میں ہماری تعلیم وغیرہ بتائی گئی ہو تو اس کو سی وی کہتے ہیں۔ سی وی سے صرف یہی پتا چلتا ہے کہ کسی بھی درخواست دہندہ کی تعلیم کتنی ہے اور کہاں سے حاصل کی لیکن اس سے زیادہ کسی انسان کو سمجھنے میں مدد نہیں ملتی اسی لیے پرسنل اسٹیٹمنٹ کی بہت اہمیت ہے جس سے ریزیڈنسی پروگرام کے ڈائریکٹر آپ کو اسکول اور کالج کی تعلیم سے بڑھ کر ایک انسان کی طرح دیکھ سکیں۔ جب ہم کوئی نوکری، کسی کالج میں داخلہ یا کسی کلب میں ممبرشپ کی شدید خواہش رکھتے ہوں تو یہ ایک عام سی بات ہے کہ ہم وہی بات کہنے یا لکھنے کی کوشش کریں گے جو دوسرے لوگ سننا چاہیں۔

لیکن یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ قبول ہوجانے کی کوشش میں ہم خود کو ہی کھو دیں۔ جس کیریر میں بھی دلچسپی ہو تو اس کے بارے میں یہ سوچنا ہوگا کہ اس کی کیا بات ہمیں پسند ہے؟ کس طرح اس فیلڈ میں ہمیں دلچسپی محسوس ہوئی؟ کن شخصیات نے ہمیں متاثر کیا؟ ہماری زندگی میں ایسے کون سے واقعات پیش آئے جن سے ہم نے میڈیسن کے میدان میں کام کرنے کے لیے سوچا؟ مجھ سے ایک جونئیر دوست نے کہا کہ ان کی پرسنل اسٹیٹمنٹ لکھ دوں۔

کوئی اور شخص آپ کی پرسنل اسٹیٹمنٹ نہیں لکھ سکتا ہے وہ آپ کوخود لکھنی ہوتی ہے کیونکہ وہ آپ کے بارے میں ہے۔ دوسرے لوگ صرف رہنمائی کر سکتے ہیں۔ اس مہینے کی ہماری ایک اسٹوڈنٹ کی پرسنل اسٹیٹمنٹ پر ہمارے گروپ نے مل جل کر کام کیا اور اس کی نوک پلک سنوارنے میں ان کی مدد کی۔ امید ہے کہ اس مضمون سے ان نوجوانوں کو مدد ملے گی جو اپنے کیریر کو آگے بڑھانے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ ان اسٹوڈنٹ سے جب مختلف سوال پوچھے گئے جن کے بارے میں ان کو سوچ بچار کرنے کا موقع ملا تو خود ہی ایک اچھی کہانی سامنے آ گئی جس سے ان کو اینڈوکرنالوجی کے میدان میں ترقی کرنے کا موقع ملے۔

اسٹوڈنٹ ڈاکٹر مارتھا کی پرسنل اسٹیٹمنٹ

”میڈیسن کی پریکٹس ایک فن ہے، تجارت نہیں، ایک پکار ہے، کوئی کاروبار نہیں، ایک ایسی پکار جس میں آپ کا دل بھی اتنا ہی آزمایا جائے گا جتنا کہ آپ کا دماغ!“ سر ولیم آزلر

ہمارے خاندان میں میں پہلی ڈاکٹر ہوں۔ میڈیکل فیلڈ میں مجھے اس وقت دلچسپی محسوس ہوئی جب ہائی اسکول میں ہم نے جانوروں اور انسانوں کی بائیالوجی کی کلاس لی۔ سائنس نے جس طرح آج ترقی کرلی ہے اور مختلف طرح کی بیماریوں کے لیے جدید علاج کی سہولیات موجود ہیں، میں ان سے بہت متاثر ہوں۔ میں انسانی جسم کے نارمل نظام اور اس میں خرابی سے ہوجانے والے مسائل کو مزید بہتر طریقے سے سمجھ کر انسانوں کی بیماریوں اور مشکلات کو دور کرنے میں اپنا کردار نبھانا چاہتی ہوں۔ میڈیکل کالج ختم کرنے کے بعد میرا ارادہ ہے کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ منتقل ہو کر نامور سائنسدانوں کے زیر نگرانی اپنی تعلیم جاری رکھوں۔

میں ایک صحت مند بچی پیدا ہوئی تھی۔ میرے والدین کے صرف دو ہی بچے ہیں۔ ایک میں اور ایک میرا چھوٹا بھائی۔ ہمارے والدین نے ہمیں تمام ویکسینیں لگوائیں اور اچھے اسکولوں میں پڑھنے بھیجا۔ میرے دونوں والدین ٹیچر ہیں۔ اسکول سے گھر واپس آنے کے بعد بھی ہماری پڑھائی لکھائی جاری رہتی تھی۔ سب کچھ ٹھیک ہی چل رہا تھا۔ میری اٹھارہویں سالگرہ کے بعد میری طبعیت بلاوجہ خراب رہنے لگی۔ مجھے ہر وقت سر میں درد کی شکایت ہوتی اور میں تھوڑا سا چل پھر کر تھک جاتی تھی۔

ذرا ذرا سی بات پر چڑ جاتی اور اسکول سے چھٹیاں کرنے لگی۔ اس دوران میرا وزن بھی بڑھ گیا۔ میری امی نے میرے اندر یہ تبدیلیاں دیکھیں تو وہ مجھے ایک ڈاکٹر کے پاس دکھانے لے گئیں۔ ڈاکٹر نے دماغ کا ایم آر آئی کرنے کا مشورہ دیا جس سے یہ معلوم ہوا کہ میرے پچوٹری گلینڈ میں ایک اعشاریہ سات سینٹی میٹر کا ٹیومر ہے۔ یہ رپورٹ پڑھ کر میری امی سخت پریشان ہو گئیں اور میں رونے لگی۔ یہ پڑھ کر میں شدید خوفزدہ ہو گئی تھی کہ میرے سر کے اندر ایک ٹیومر ہے۔ کیا اس کو سرجری کر کے نکالنا پڑے گا؟ کیا میں مر جاؤں گی؟ میں نے اپنے ہم عمر دوستوں کے سامنے خود کو بدقسمت محسوس کیا۔ ایسا لگتا تھا کہ ساری دنیا ٹھیک چل رہی ہے اور میری زندگی تلپٹ ہو چکی ہے۔

ہمارے فیملی ڈاکٹر نے ہمیں بڑے شہر میں جا کر ایک اینڈوکرنالوجسٹ کو دکھانے کا مشورہ دیا۔ ان اینڈوکرنالوجسٹ نے کافی سارے خون کے ٹیسٹ کیے اور دوا کیبر گولین تجویز کی۔ یہ دوا مجھے ہفتے میں دو دفعہ کھانی تھی۔ اس دوا کی وجہ سے میرا پچوٹری کا ٹیومر سکڑنا شروع ہو گیا، میری بینائی ٹھیک ہو گئی اور سر کا درد بھی ٹھیک ہو گیا۔ اس بیماری کے تجربے سے مجھے ہارمونوں سے متعلق بیماریوں میں دلچسپی پیدا ہوئی کہ کس طرح ایک ہارمون سے تمام جسم کا نظام متاثر ہو سکتا ہے۔

پرولیکٹینوما (Prolactinoma ) کے بارے میں مزید مطالعے سے مجھے معلوم ہوا کہ اس بیماری میں مبتلا خواتین میں بانجھ پن کی بیماری ہوجاتی ہے۔ میں چاہتی تھی کہ نارمل طرح سے زندگی گزرے، کبھی میرے بھی بچے ہوں۔ اس بیماری سے گزر کر اور بہتر ہو کر میں نے ان تمام سائنسدانوں اور ہارمون کے ماہرین کے لیے اپنے دل میں شکر محسوس کیا۔ میں بھی آگے چل کر اینڈوکرنالوجی کے میدان میں تعلیم اور تربیت حاصل کر کے ان تمام انسانوں کی مدد کرنا چاہتی ہوں جن کو ہارمونوں کے نظام میں خرابی کے باعث یہ بیماریاں لاحق ہیں۔ میں نے محسوس کیا کہ اس تجربے سے میرے اندر وہ سمجھ اور بردباری پیدا ہوئی جو میرے ہم عمر دوستوں میں نہیں تھی۔ میں طب کے میدان کو صرف سائنسی نقطۂ نظر سے ہی نہیں بلکہ انسانیت کے نقطہ نظر سے دیکھنے کے لائق بنی۔ یہ باتیں کتابوں سے نہیں سیکھی جا سکتی ہیں۔

میرے والدین نے بچپن سے مجھ میں اور میرے بھائی میں تعلیم سے محبت پیدا کی۔ ہم نے ساری زندگی ان کو روزانہ باقاعدگی سے کام پر جاتے دیکھا۔ میکسیکو میں پیدا ہونے اور ابتدائی زندگی گزارنے کی وجہ سے میں ہسپانوی زبان بھی جانتی ہوں جس سے مجھے ان مریضوں سے بات کرنے میں مدد ملے گی جو انگریزی نہیں جانتے۔ میں نے اپنی چھٹیاں نارتھ امریکہ میں پریکٹس کرنے والے ڈاکٹروں کے ساتھ کام کرنے میں گزاریں تاکہ امریکہ میں ہیلتھ کیئر کے نظام کو سمجھ سکوں۔

نارمن ہسپتال میں ڈاکٹر مرزا کے ساتھ کام کرنے کے دوران میں نے ٹائپ ون اور ٹائپ ٹو ذیابیطس، تھائرائڈ کی بیماریوں، پچوٹری گلینڈ، ایڈرینل گلینڈ اور آسٹیوپوروسس (Osteoporosis ) کی بیماریوں کے بارے میں تفصیل سے سیکھا اور ان کے بارے میں نئی دواؤں کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ میں ان تمام ڈاکٹروں کی شکر گزار ہوں جنہوں نے مجھے مریضوں کا انٹرویو لینے میں اور مناسب لیبارٹری ٹیسٹ اور ایکس رے، سی ٹی اسکین اور ایم آر آئی کے ذریعے مختلف بیماریوں کو سمجھ کر ان کا علاج کرنے میں مدد کی۔

میڈیکل سائنس میں دلچسپی، ہمیشہ کچھ نیا سیکھنے کی خواہش، میرے والدین کی تربیت، میری اپنی زندگی میں بیماری کے تجربے اور امتحانوں میں اچھے نمبروں کے ساتھ میں یہ خود اعتمادی سے کہہ سکتی ہوں کہ میں آپ کے ریذیڈنسی پروگرام کے لیے ایک مضبوط امیدوار ہوں اور مجھے امید ہے کہ آپ مجھے انٹرویو کا موقع دیں گے۔ شکریہ

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *