ڈاکٹر مظہر محمود شیرانی : سو گئے روشنی کے پہلو میں


یہ حقیقت ہے کہ پرانے خاندانی تعلق کے باوجود میرا شیرانی صاحب سے زیادہ رابطہ نہیں رہا لیکن اس کے باوجود میں نے کئی بار یہ نوٹ کیا کہ شیرانی صاحب بنیادی طور پر شرمیلے اور وضع دار انسان تھے اور اس کے علاوہ یہ کہ ہر خاص و عام کے سامنے کھلتے نہیں تھے بلکہ اپنی مرضی کے افراد یا یوں کہہ لیں کہ اپنے کچھ مخصوص احباب کے سامنے ان کی گفتگو کے تیور دل موہ لینے والے ہوتے۔ ان سے ملاقات کے بعد مجھے ہمیشہ یوں محسوس ہوتا جیسے میں اردو اور فارسی ادب کی ایک بھرپور کلاسیکی روایت سے مل کر آیا ہوں۔ سلجھی ہوئی میٹھی اردو جس میں بعض اوقات وہ پنجابی کا تڑکا بھی لگاتے لیکن ان کی زبان سے نکلے ہوئے پنجابی کے جملے اور الفاظ بھی اردو کے لگتے۔ چٹکلے، واقعات اور اردو فارسی اشعار ان کے سامنے گویا ہاتھ باندھے کھڑے رہتے کہ کب ہماری باری آئے گی۔ ان کے دلچسپ بیانیے سے یوں لگتا جیسے مذکورہ واقعہ ہمارے سامنے رونما ہوا ہے۔ میں پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر ان کی گفتگو کسی طور تحریر میں آجاتی تو اردو ادب کی نثری اصناف میں یقینا ایک نئی صنف کا آغاز ہوجاتا۔ میں جب بھی ان سے ملتا ان کی گفتگو کی شگفتگی میں شامل ان کے تخیل کی اڑان مجھے بہت متاثر کرتی۔ ایک معمولی سی بات کو کیا سے کیا بنا دیتے۔ پروفیسر سید خورشید بخاری صاحب پر لکھے گئے ایک خاکے میں اُن کے لمبے قد کے حوالے سے لکھتے ہیں :

 ”میں نے اُن کی کیفیتِ مزاج کا اندازہ لگانے کی خاطر ایک پرانے لطیفے کا سہارا لیا۔ پوچھا، حضرت! یہ بات کہاں تک صحیح ہے کہ ایک بار بازار سے گزرتے ہوئے آپ نے ایک انبہ فروش سے آموں کا بھاؤ پوچھا۔ اس کے نرخ بتانے پر آپ نے کہا اتنے چھوٹے چھوٹے آم اور اتنے مہنگے۔ اس پر اس ستم ظریف نے مودبانہ عرض کی کہ جناب آم تو خاصے بڑے ہیں لیکن قباحت یہ ہے کہ آپ کھڑے ہوئے اُن پر نظر ڈال رہے ہیں۔ “ (ایسے ہوتے ہیں خورشید حسین بخاری! )

بلاشبہ اگر شیرانی صاحب اپنے خاکوں میں اس طرح کا بے تکلف اسلوب جاری رکھتے تو کوئی ادبی مورخ شیرانی صاحب کی خاکہ نگاری کے حوالے یہ جملہ لکھنے پر مجبور ہوجاتا کہ ”ہم (ظریفانہ ) خاکہ نگاری کے عہدِ شیرانی میں زندہ ہیں“ لیکن شاید شیرانی صاحب خاندانی وضع داری کے باعث احباب کو ہلکی پھلکی چھڑ چھاڑ سے ناراض نہیں کرنا چاہتے تھے۔ ”انیس ٹھیس نہ لگ جائے آب گینوں کو“ اسی خیال کے پیشِ نظر انھوں نے زیادہ تر خاکوں میں سنجیدہ اسلوب ہی برتا۔ ویسے بھی وہ ایسے مصنف اور محقق نہ تھے جو محض نام کے اندارج کے لیے لکھتے ہیں۔ وہ تو بس تحریر و تخلیق اور تحقیق سے مہذب روایات کا فروغ چاہتے تھے اور ان کا لکھنا تو محض اس لیے تھے کہ بقول غالب ”۔ ستم زدہ ہوں میں ذوقِ خامہ فرسا کا“

یہ حقیقت ہے کہ شیرانی صاحب کی تحریریں پڑھ کر نہ صرف بہت سوں نے لکھنا سیکھا بلکہ ان کی حوصلہ افزائی سے نئے لکھنے والے تحریرِفن کی باریکیوں کو سمجھنے کی طرف بھی مائل ہوئے۔ 2001 کی بات ہے جب میرے دل میں ایک دیرینہ خواہش بیدار ہوئی کہ میں اپنے والد (مرحوم) سید افضل حسین کا کلام مرتب کرکے شائع کرواؤں۔ والد صاحب کا کلام ان کی مختلف ڈائریوں میں بکھرا ہوا تھا۔ میں نے بڑی مشکل سے سارے کلام کو ایک جگہ اکٹھا کیا اور نظرِ ثانی کے لیے کتاب کا مسودہ ماموں جان (پروفیسر انور حسین سید) کی وساطت سے شیرانی صاحب کو ارسال کیا۔ اس مسودے کے ساتھ والد صاحب کی شخصیت اورفکر و فن پر لکھا ہوا میرا ایک مضمون بھی تھا۔ جب اپنی تحریری رائے کے ساتھ انھوں نے مسودہ واپس کیا تو ماموں نے مجھے بتایا کہ شیرانی صاحب نے خصوصی طور پر کہا ہے کہ وقار سے کہیں کہ لکھا کرے، وہ اچھا لکھ سکتا ہے۔ یقین کیجیے شیرانی صاحب کے ان دو حوصلہ افزا جملوں کے بعد میں نے جب بھی لکھا مجھے لگا کہ شیرانی صاحب میرے کندھے پر ہاتھ رکھے، میرے ساتھ کھڑے ہیں اور میں بے تکان لکھتا چلا جارہا ہوں۔ اگرچہ میں جانتا ہوں کہ مجھے ابھی تک اچھا لکھنا نہیں آیا لیکن میں نے ہمیشہ کوشش کی کہ شیرانی صاحب کی حوصلہ افزائی کا بھرم قائم رہے۔

ماموں بتاتے ہیں کہ انھیں اکثر بذریعہ ڈاک خطوط کے ہمراہ اصلاح اور نظرِ ثانی کے لیے زیرِ طبع کتب کے مسودے بھی موصول ہوتے اور وہ اپنے سارے کام چھوڑ کر بڑی محبت اور مستعدی سے نہ صرف خطوط کا جواب دیتے بلکہ اصلاح و راہنمائی سے مکتوب الیہ کی جھولی بھی بھر دیتے۔

ادبی دیانت داری ادیب اور محقق کا گہنا ہوتا ہے یہ صفت انھیں وراثت میں ملی۔ غالبا 4 ۔ 2003 کی بات ہے۔ میں شیخوپورہ میں فخر کے گھر، اس کے ساتھ بیٹھک میں بیٹھا تھا کہ وہاں شیرانی صاحب اور مرزا صدیق علی مرحوم تشریف لائے۔ کافی دیر اِدھر اُدھر کی باتیں ہوتی رہیں۔ گفتگو کے دوران میں نے شیرانی صاحب کی توجہ دیوار پر آویزاں ان کی تحریر کردہ ایک نظم کی طرف مبذول کرائی جو انھوں نے فخر کے والد پرو فیسر سید خورشید حسین بخاری صاحب کی وفات پر لکھی تھی۔ میں نے شیرانی صاحب سے پوچھا کہ اس نظم میں جو فلاں مصرع واوین میں ہے، یہ کس کا ہے؟ مسکراتے ہوئے کہنے لگے ”معلوم نہیں لیکن جب اس نظم کی تحریک ہوئی تو یہ مصرع ذہن میں گونج رہا تھا۔ جتنا رواں یہ مصرع ہے، مجھے نہیں لگتا کہ یہ میرا ہے، میں نے اسے کہاں پڑھا، یہ بھی مجھے یاد نہیں۔ بہرحال میں نے اسے واوین میں لکھ دیا تاکہ کوئی اسے میرا تخلیق کردہ مصرع نہ سمجھے۔ “

شیرانی صاحب کے حوالے سے ڈھیروں باتیں ہیں جو میں نے اپنے بڑوں سے اور ان کے احباب سے سن رکھی ہیں لیکن یہ بات میں اپنے ذاتی تجربے کے حوالے سے جانتا ہوں کہ اگر کسی کا کوئی کام ان کے دائرہ اختیار میں ہوتا تو وہ اسے اس شخص کے کہے بغیر کر نے کی پوری کوشش کرتے۔ ۔ 2004 کا ذکر ہے، میں شیخوپورہ گیا تو فخر مجھے کہنے لگا کہ کل میں جی۔ سی۔ یو گیا تھا اور وہاں سے ایم۔ فل میں داخلے کے دو فارم لایا ہوں۔ ایک بڑے بھائی صاحب کے لیے اور ایک اپنے لیے۔ بھائی کا تو ابھی ارادہ نہیں۔ وہ فارم تم لے لو۔ میں تھوڑی بہت پس و پیش کے بعد مان گیا۔ فخر کے گھر ہی سے چھوٹے بھائی کو فون کیا تاکہ وہ بذریعہ ڈاک میری اسناد کی فوٹو کاپی مجھے ارسال کردے۔ فارم جمع کرانے کی آخری تاریخ سے ایک دن پہلے مجھے فوٹو کاپیز موصول ہوئیں۔ اگلے دن میں اور فخر فارم جمع کرانے جی۔ سی۔ یو گئے۔ ہم ابھی شعبہء اردو کی طرف جارہے تھے کہ رستے میں شعبہ فارسی کا بورڈ پڑھا تو فخر نے بتایا کہ آج کل شیرانی صاحب ادھر ہوتے ہیں۔ ”آؤ پہلے انھیں سلام کرلیں“۔ میں تھوڑا جھجک رہا تھا لیکن فخر کے اصرار پر ہم صدرِ شعبہ فارسی جناب انور وڑائچ کے دفتر میں داخل ہوگئے۔

ہم تھوڑی دیر ان کے پاس بیٹھے، انھوں نے ہمیں بتایا کہ اس آفس کی دائیں طرف جو بڑا کمرہ ہے وہاں شیرانی صاحب بیٹھے ہیں۔ ہم اس کمرے میں چلے گئے۔ شیرانی صاحب دو تین احباب کے ساتھ وہاں بیٹھے کارڈز نما پرچیوں میں کچھ نوٹ کر رہے تھے۔ اٹھ کر بڑے تپاک سے ملے اور وہاں موجود احباب سے ہمارا تعارف کروایا۔ شعبہ فارسی کے جس کمرے میں شیرانی صاحب بیٹھے تھے وہاں فارسی لغت پر کام ہو رہا تھا۔ اس دوران میں کئی لوگ شیرانی صاحب سے ملنے آتے رہے۔ شاید اسی دن یا کسی اور روز شیرانی صاحب کے ایک شاگردِ عزیز بابر آسی سے بھی ادھر ملاقات ہوئی، میں نے نوٹ کیا کہ وہ شیرانی صاحب کی معمول کی باتوں اور چٹکلوں کو بھی اس طرح سنجیدہ ہوکر سن رہا تھا جیسے کوئی طالبِ علم کلاس روم میں استاد کا لیکچر سنتا ہے۔ یقینا استاد کی اسی عزت و تکریم کا ثمر ہے کہ آج وہ ماشا اللہ پروفیسر ڈاکٹر بابر آسی ہے۔ بہرحال شیرانی صاحب کی موہنی گفتگو جاری تھی اور اسی دوران میں انھوں نے ہم سے پوچھا کہ آج لاہور کیسے آنا ہوا؟ فخر نے بتایا کہ وقار نے ایم۔ فل اردو میں داخلے کے لیے فارم جمع کرانا تھا۔ ان کی آنکھیں ایک دم چمک اُٹھیں، کہنے لگے ”اچھا، لیکن آج تو آخری تاریخ ہے، فارم کدھر ہے“ میں نے انھیں فارم دیا تو اسی دوران پروفیسر انور وڑائچ صاحب ان کے کمرے میں تشریف لائے۔ انھوں نے داخلہ فارم پروفیسر انور وڑائچ صاحب کے حوالے کرتے ہوئے کہا کہ ”آج فارم جمع کرانے کی آخری تاریخ تھی اور یہ ابھی بتا رہے ہیں“۔

بہرکیف پروفیسر انور وڑائچ صاحب نے میرا فارم جمع کرا دیا اور کچھ دنوں بعد جی۔ سی۔ یو میں میرا داخلہ بھی ہوگیا۔ لیکن میں اپنی فطری جھجک کی وجہ سے جی۔ سی۔ یو میں ہوتے ہوئے بھی شیرانی صاحب سے بہت کم ملتا۔ میں جب بھی جی۔ سی۔ یو لاہور سے شیخوپورہ جاتا تو ماموں مجھ سے پوچھتے ”شیرانی صاحب سے ملاقات ہوئی“؟ اور اگر میں یہ کہتا کہ نہیں تو وہ اگلی دفعہ مجھے اقبال کے دو تین فارسی اشعار اور ان کا مفہوم لکھ دیتے اور کہتے ”جب اگلی دفعہ لاہور جاؤ تو شیرانی صاحب کو میرا سلام کہنا اور انھیں یہ چٹ دینا“۔ ( یہ 6۔ 2005 کے وہ دن تھے جب ماموں بالِ جبرئیل کی منظومات کا انگریزی ترجمہ کررہے تھے )۔ بہرحال ماموں کے ہاتھ کی لکھی ہوئی چٹ جب میں شیرانی صاحب کو دیتا تو وہ مسکراتے ہوئے اسے پڑھتے اور بغیر کسی تبصرے اور ردبدل کے مجھے واپس کرتے ہوئے کہتے ”شاہ صاحب کو میرا سلام کہنا“ اور میں سمجھ جاتا کہ شیرانی صاحب اپنی دبیز شیشوں والی عینک کو ذرا نیچے کرتے ہوئے مسکراتی ہوئی روشن آنکھوں سے یہ کہہ رہے ہیں کہ بھئی، تقریب کچھ تو بہرِ ملاقات چاہیے۔ شیرانی صاحب سے کم ملنے کے باوجود وہاں لاہور (جی۔ سی۔ یو ) میں اور یہاں گجرات میں ہمیشہ لکھتے، پڑھتے اور پڑھاتے ہوئے یہ احساس میرے لیے باعثِ تقویت رہا کہ شیرانی صاحب ہیں ناں۔ ۔ لیکن اَب کیا ہوگا؟ فخر بخاری کے 12 جون 2020 کے اس واٹس اپ میسج نے آب دیدہ کر دیا ہے کہ شیرانی صاحب اب ہمارے درمیان نہیں رہے۔ إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ

اوڑھ کرخوابِ گل کی چادر کو

سو گئے روشنی کے پہلو میں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2