دہشت گردی پر امریکا کی عالمگیر رپورٹ 2019: غیر متوازن اور جانبدارانہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امریکی انتظامیہ کی جانب سے عالمگیردہشت گردی 2019 پر مشتمل رپورٹ جاری کی گئی، جس میں مختلف ممالک کے حوالے سے امریکا اپنی پالیسی کے تحت موقف سامنے لایا۔ پاکستان اور امریکا کے درمیان سرد تعلقات کی ایک طویل تاریخ ہے۔ جس میں پاکستان پر مختلف نوعیت کے الزامات عاید کرنا امریکی حکام کا وتیرہ رہا ہے۔ تاہم متذکرہ رپورٹ میں امریکا کی جانب سے ایک بار پھر جانبدار پالیسی کا عنصر نمایاں نظر آیا، جب مملکت کے خلاف زمینی حقائق سے برخلاف شواہد کے بغیر ایک بار پھر پاکستان میں دہشت گردوں کی پناہ گائیں اور انہیں سہولت دینے کا الزام عائد کیا گیا۔

واضح طور پر رپورٹ کے مندرجات کو پڑھنے کے بعد اندازہ ہوجاتا ہے کہ امریکانے پاکستان میں امن کے قیام کے لئے جو قربانیاں دیں، اسے اپنے فروعی مفادات کے خاطر نظر انداز کر رہا ہے۔ امریکی رپورٹ میں پاکستان کے حوالے سے محسوس کیا جاسکتا ہے کہ بھارت کا بیانیہ بزبان امریکا جاری کیا گیا ہے۔ بھارت، پاکستان کے خلاف جس قسم کا پروپیگنڈا و الزامات عائد کرتا آ رہا ہے، امریکی رپورٹ اس کا سرقہ معلوم ہوتی ہے، اسی طرح امریکا کی حاشیہ بردار انتظامیہ کے الزامات کو بھی امریکا نے اپنی رپورٹ کا حصہ بنا کر صدی کی سب سے بڑی خبر و امریکی عوام و فوج کو لاحاصل جنگ سے نکالنے کے لئے پاکستان کی قربانیوں کے اعتراف سے انحراف کیا۔ جس کی وجہ سے رپورٹ کی جانبداری مشکوک ہوجاتی ہے۔

رپورٹ کی زبان پاکستان کے حوالے سے عامیانہ و سطحی انداز بیان کی گئی ہے جو غیر سفارتی و غیر اخلاقی عمل قرار پاتا ہے، پاکستان نے پاک۔ افغان بارڈرمنجمنٹ سسٹم کے تحت دونوں ممالک کو نقصان پہنچانے والوں کے لئے اپنی مدد آپ کے تحت طویل بارڈر پر 829، میں سے 700 کلو میٹر پر باڑ و نگراں چوکیاں 443 میں سے 250 قلعے بنائے جاچکے ہیں، اب دوسرے فیز میں افغانستان و ایران کے ساتھ جڑی سرحد پر باڑ لگانے کا، کام تیزی سے جاری ہے۔

باڑ لگانے کے لئے امریکا سمیت کسی بھی ملک نے پاکستان کی کوئی اعانت نہیں کی بلکہ غنی انتظامیہ کے زیر انتظام کٹھ پتلی حکومت کی فورسز نے پاکستانی فورسز پر متعدد بار حملے کیے ، افغانستان میں پناہ گزین نام نہاد کالعدم قوم پرست گروپس اور کالعدم جماعتوں کے ذریعے فورسز کو نشانہ بنانے کا عمل ابھی جاری ہے۔ ان حالات میں مسلح افواج نے ان تمام علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف بے رحمانہ آپریشن کیا جہاں، ملکی و غیر ملکی شدت پسند مختلف اشکال میں موجود تھے، جو آپریشن ضرب عضب کے بعد فرار ہوکر افغانستان کی سرزمین میں موجود ہیں۔

امریکا کی جانب سے کالعدم تحریک طالبان پاکستان ملا فضل اللہ و کالعدم جماعت الاحرار کے سربراہ عمر خالد خراسانی کو افغانستان کی سرزمین پرہلاکت ثابت کرتی ہے کہ پاکستان کا موقف درست ہے۔ نام نہاد علیحدگی پسند گروپوں کے بھارت کے بعد افغانستان میں موجودگی اور سرکاری سہولیات سے استفادہ حاصل کرنا بھی ثابت کرتا ہے کہ پاکستان نے اپنی سرزمین سے دہشت گردوں کی جڑ کو اکھاڑا، لیکن بھارت و غنی انتظامیہ نے کبھی معاوندانہ کردار ادا نہیں کیا۔

یہ حقیقت پر مبنی حقائق ہیں، کہ پاکستان نے امریکا سمیت پوری دنیا کو چیلنج دیا کہ وہ دہشت گردوں کے ٹھکانے بتائیں، ریاست ان کے خلاف خود کارروائی کرے گی۔ امریکا سمیت دنیا کا کوئی ملک پاکستان کے اس چیلنج کا جواب اسی لئے نہیں دے سکا، کیونکہ ریاست نے قیمتی جانوں کی قربانیاں دے کر، اربوں ڈالرز کا نقصان اٹھا کر سرزمین سے شدت پسند جماعتوں و تنظیموں کا قلع قمع کیا۔

امریکی رپورٹ میں کوئی شواہد نہیں دیے گئے کہ پاکستان نے کسی بھی تنظیم کو کسی بھی ملک کے خلاف استعمال ہونے کے لئے کسی بھی قسم کی مدد کی ہو، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف اخلاقی حمایت صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے امن پسند ممالک بھی کرتے ہیں۔ جب کہ وزیراعظم نریندر مودی اعتراف کرچکے ہیں کہ سقوط ڈھاکا، بلوچستان، خیبر پختونخوا اور سندھ بالخصوص کراچی میں بھارت دہشت گردی کراتا رہا اور اس کے لئے بھاری فنڈنگ بھی مختص کی گئی ہے، امریکا کو ابھی تک اس امر کی غلط فہمی ہے کہ امارات اسلامیہ افغانستان، پاکستان کی کوئی ذیلی تنظیم ہے اور ریاست جیسا کہے گی، وہ ویسا ہی کری گے۔

امارات اسلامیہ افغانستان کو مذاکر ات کی میز پر لانے کی کئی برسوں کی کوششیں اس عزم کا اعادہ ہے کہ پڑوسی ممالک میں امن یکساں مفاد میں ہوتا ہے۔ سوویت یونین کے ساتھ امریکی اتحادی بن کر پاکستان نے جو غلطی کی تھی، اس کا خمیازہ پاکستانی عوام ابھی تک بھگت رہی ہے، جب تک افغان مہاجرین کی باعزت واپسی کا عمل جلد مکمل نہیں کرالیا جاتا، اس وقت تک ایسے عناصر کو تلاش کرنے میں دشواری کا سامنا رہے گا، جو مہاجرین کی شکل میں پاکستان میں موجود ہیں، پاکستان اس امر پر بھی واضح موقف دے چکا ہے کہ افغان مہاجرین کی باعزت واپسی کے بعد کسی افغان رہنما کی پاکستان میں موجودگی خطرے سے خالی نہیں ہوگی۔

پاکستان اس سے قبل کئی افغان طالبان کے رہنماؤں کو امریکا کی خواہش پر اسیر کرچکا ہے، اور خطے میں قیام امن کے لئے انہیں امریکا کی درخواست پر رہا بھی کیا، جنہوں نے دوحہ مذاکرات میں امن کے خاطر، امریکا سے طویل ترین مذاکرات کرکے صدی کا سب سے بڑا امن معاہدہ کیا، لیک امریکی کی حاشیہ بردار انتظامیہ نے دوحہ مذاکرات کے ثمرات کو دعوام تک منتقل کرنے میں سیاسی انتشار و خلفشار پیدا کرکے امریکا کو بلیک میل کیا۔ بین الافغان مذاکرات کی راہ میں پاکستان نہیں بلکہ خود امریکا اور اس کی حاشیہ بردار انتظامیہ حائل ہے۔

امریکا ایک جانب پاکستان کے دوحہ مذاکرات میں قابل ذکر کردار کی اہمیت کو تسلیم بھی کرتا ہے تو دوسری جانب 2015 سے شروع نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل درآمد پر عدم اطمینان کا اظہار، عجلت کی غمازی ظاہر کرتا ہے۔ نیشنل ایکشن پلان کے تحت مسلح افواج نے جس طرح شدت پسندوں کے خلاف ملک بھر میں کارروائیاں کیں اور آپریشن ردالفساد کے ذریعے شدت پسندوں کا تعاقب جاری رکھا ہوا ہے، اس اقدام کو عالمی برداری نے سراہا ہے، امریکی رپورٹ میں مسلح افواج کی کارکردگی پر انگشت نمائی قابل افسوس عمل قرار دیا جاچکا ہے۔

امریکی رپورٹ میں غیر مصدقہ اطلاعات کی بنا پر پاکستان پر الزام تراشی کے باوجود امریکا مجبور بھی ہوا ہے کہ وہ پاکستان کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف کرے۔ امریکی رپورٹ کے مطابق ”پاکستان کو 2019 میں دہشت گردی کے نمایاں خطرات کا سامنا کرنا پڑا، حالانکہ حملوں اور ہلاکتوں کی تعداد 2018 کے مقابلے میں کم تھی، جو سال بہ سال کمی ہے۔ پاکستان میں حملوں پر توجہ دینے والے بڑے دہشت گرد گروہوں میں (کالعدم) تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی یا پاکستانی طالبان) اور داعش شامل تھے۔ علیحدگی پسند عسکریت پسند گروپوں نے بلوچستان اور سندھ کے صوبوں میں متعدد اہداف کے خلاف دہشت گرد حملے کیے۔ دہشت گردوں نے افراد، بازاروں، پولیس چوکیوں اور عبادت گاہوں پر حملہ کرنے کے لئے متعدد حربے استعمال کیے، جن میں IED، VBIED، خودکش بم دھماکے، اور ٹارگٹ کلنگ شامل ہیں“ ۔

امریکی رپورٹ میں بھارت نوازی کی جھلک ظاہر ہے۔ جس میں بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم، اقوام متحدہ کی قراردادوں کے برخلاف اقدامات، مسلم کشی، لاکھوں مسلمانوں کی شناخت کے خاتمے اور طویل ترین لاک ڈاؤن میں بے گناہ کشمیریوں کی شہادتوں پر لب کشائی سے گریز کیا گیا ہے، جب کہ امریکی رپورٹ 2019 میں دونوں ممالک کے درمیان اسٹریجک تعلقات کو بڑھانے کے کئی منصوبوں کا ذکر کرکے جانبداری ظاہر کی ہے کہ امریکا کے فطری اتحاد پاکستان کے مقابلے میں امریکا، بھارتی کثیر آبادی کو تجارتی مقاصد کے حصوؒ کے لئے صرف تجارتی نکتہ نظر کو ترجیح دیتا ہے۔

امریکی رپورٹ 2019 میں افغانستان میں امریکا سمیت 38 دیگر اتحادی ممالک کی جانب سے نہتے افغان عوام کو شہید کیے جانے، مدارس، مساجد، جنازوں اور شادی کی تقاریب میں ریاستی دہشت گردی کا ذکر نہ کرنا، ظاہر کرتا ہے کہ امریکا دنیا کا امن پسند ملک ہو اور جو کسی بھی ملک میں خانہ جنگی، جنگوں میں ملوث نہ ہو، مشرق وسطیٰ سے لے کر دنیا بھر کے کئی ممالک میں امن مشن کے نام پر امریکی بربریت کی مثالیں سیاہ تاریخ ہیں، عراق، افغانستان، یمن، ایران، صومالیہ، شام، فلسطین سمیت کئی ممالک امریکی کی جارحانی ریاستی دہشت گردی کے سبب تباہی کے دہانے پر ہیں، جب کہ امریکا اپنی رپورٹ میں اپنے حریف ممالک پر شدید تنقید کرتا تو نظر آتا ہے لیکن نسل پرستی، و عصبیت پر مبنی پالیسیوں پر خود معصوم ٹھہراتا ہے، اقوام متحدہ اور اس کی ذیلی تنظیموں، بشمول سلامتی کونسل کو اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرنا امریکا کا انتہائی غیر مقبول کردار ہے۔

امریکا کو پاکستان کے خلاف الزام تراشیوں سے قبل اپنا گریبان ضرور دیکھنا چاہیے کہ خطے میں آگ کے شعلے کس نے بھڑکائے، ڈالروں کی بارش میں انسانی جانوں سے کھیلنے کا قبیح عمل کا بانی کون ہے۔ امریکا نے جس طرح کروڑوں انسانوں کو اپنے مفادات کے لئے ہلاک کیا، ان پر ایٹم بم گرائے، یہاں تک کہ دنیا سب سے وزنی غیر ایٹمی بم مدر آف آل بمز، افغانستان پر گرانے کے تجربے کیے ، اس ملک کے کسی رپورٹ کو مکمل غیر جانبدار قرار نہیں دیا جاسکتا۔ امریکا کو ددنیا میں خانہ جنگی و پڑوسی ممالک کو جنگوں میں الجھا کر جنگی ساز و سامان فروخت کرنے کی پالیسی کو تبدیل کرنے کی زیادہ ضرورت ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply