نام وفا کا قرض ادا بھی نہ کر سکے


دنیا کی ہر ثقافت میں قصے اور کہانیاں سنا کر بچوں کو اخلاقی درس دینے کا طریقہ صدیوں سے استعمال ہوتا آ رہا ہے۔ اس مقصد کے لئے خصوصی طور پر ترتیب دی گئی کہانیاں انہیں سنائی اور پڑھائی جاتی ہیں اور کہانی کے اختتام پر انہیں اس قصے، کہانی میں پوشیدہ اخلاقی درس کو دو چار جملوں میں بیان کیا جاتا ہے۔ اگر ایسی کہانیوں کو اچھے انداز سے سنایا اور پڑھایا جائے تو بچے کہانی بھول سکتے ہیں لیکن انہیں وہ اخلاقی درس ہمیشہ یاد رہتا ہے۔ بچوں کی تعلیم و تربیت کا یہ طریقہ جاپانی، چینی، روسی، انگریزی اور ہندوستانی، غرض دنیا کے ہر ادب میں اہم مقام رکھتا ہے۔ مختلف ثقافتوں کی بعض اعلیٰ کہانیوں کا ترجمعہ دیگر زبانوں میں بھی کیا جاتا ہے اور اس طرح یہ انسانوں کا مجموعی ادبی سرمایہ بن جاتی ہیں۔

انگریزی ادب میں ایسی کہانیوں کو فیبل (Fable) کہتے ہیں اور یہ نہ صرف بچوں بلکہ ہر عمر کے افراد میں مقبول رہی ہیں۔ مثلاً انگریزی ادب میں بچوں کے لئے ترتیب دی گئی وہ کہانی جس میں لالچی شخص کی وہ خواہش پوری ہو جاتی ہے کہ وہ جس چیز کو چھوئے وہ سونا بن جائے یا پھر نوجوانوں کے لئے ترتیب دی گئی وہ کہانی جس میں بادشاہ کی بیوی اور ایک نوجوان درباری غلطی سے جادوئی مشروب پی کر ایک دوسرے کے عشق میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔

ان کہانیوں میں درج واقعات نہ صرف بڑوں بلکہ بچوں کے لئے بھی ناقابل یقین ہوتے ہیں لیکن انہیں اتنے خوبصورت انداز سے ترتیب دیا گیا ہوتا ہے کہ سننے اور پڑھنے والے اس پر کوئی اعتراض نہیں کرتے۔ عام طور پر اچھی یا بری باتیں جانوروں کی زبان سے ادا کی جاتی ہیں لیکن کہانی انسانی رویوں کے متعلق ہی ہوتی ہے جس سے آخر میں اچھا یا برا نتیجہ نکلتا ہے جو کہ سبق آموز ہوتا ہے۔

ایسی ہی ایک کہانی بچپن میں ہمیں پڑھائی گئی تھی جس میں ایک شخص حج کرنے کا ارادہ کرتا ہے۔ جاتے وقت وہ چالیس سیر سونا بطور امانت اپنے قریبی دوست کے حوالے کرتا ہے۔ حاجی صاحب حج کرنے کے بعد لوٹتے ہیں تو توقع رکھتے ہیں کہ ان کا دوست خود ہی ان کی امانت یعنی چالیس سیرسونا ان کے حوالے کر دیں گے لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ کچھ عرصہ بعد حاجی صاحب نے سوچا کہ شاید ان کا دوست ان کے پاس رکھی امانت بھول گیا ہے اس لئے انہوں نے دوست کو اپنی امانت یاد دلائی۔

دوست نے جواب میں کہا کہ مجھے آپ کی امانت یاد ہے لیکن میں شرمندہ ہوں کہ میں آپ کی امانت واپس نہیں لوٹا سکتا۔ تفصیل بتاتے ہوئے دوست نے کہا کہ انہوں نے ہر ممکن کوشش کی کہ سونے کو محفوظ جگہ پر رکھا جائے لیکن اس کے باوجود کسی طرح چوہے اس سونے تک پہنچ گئے اور سارا سونا کھا گئے۔ حاجی صاحب نے دوست کی ان کاوشوں کا شکریہ ادا کیا جو اس نے ان کی امانت کی حفاظت کے لئے کی تھیں اور گھر واپس لوٹ آیا۔

کچھ عرصے بعد اسی دوست نے حاجی صاحب سے کہا کہ اس نے کہیں جانا ہے اس لئے اس کے بچے کو شام تک اپنے گھر پر رکھے۔ شام کو دوست حاجی صاحب کے گھر آئے تاکہ بچے کو واپس اپنے گھر لے جائے۔ حاجی صاحب نے دوست سے کہا کہ مجھے بڑا افسوس ہے کہ میں آپ کی امانت یعنی بچے کی حفاظت نہیں کر سکا۔ تفصیل بتاتے ہوئے حاجی صاحب نے کہا کہ اس کا بچہ گھر کے باہر کھیل رہا تھا کہ ایک چیل نے بچے کو اٹھا لیا اور میری ہر ممکن کوشش کے باوجود میں بچے کو چیل کے پنجوں سے نہ چھڑا سکا۔

دوست نے حیرانی سے کہا کہ ایسا تو ممکن نہیں کیونکہ اتنے بڑے بچے کو کیسے ایک چیل ہوا میں اٹھا سکتا ہے۔ حاجی صاحب نے کہا کہ عام طور پر ایسا نہیں ہوتا لیکن ایسا ممکن ہو بھی سکتا ہے کیونکہ جس علاقے میں چوہے چالیس سیر سونا کھا سکتے ہیں اس علاقے کے چیل بچوں کو اٹھا بھی سکتے ہیں۔ دوست بہت شرمندہ ہوا اور اس نے حاجی صاحب کو اس کا سونا لوٹایا اور ان سے اپنے کیے کی معافی مانگی۔

حاجی صاحب اور اس کے دوست کی کہانی میں چھپا درس واضح ہے کہ جیسا کرو گے ویسا بھرو گے لیکن ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ جب معاشرہ بگڑ جائے تو معاشرتی بگاڑ میں نیک افراد بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ ان نیک افراد کے لئے دو ہی راستے ہوتے ہیں یعنی یا تو وہ مسلسل تکالیف اٹھائیں اور نقصان برداشت کریں یا پھر تنگ آ کر خود بھی برا بن جائیں۔ دیکھا گیا ہے کہ نیک افراد کچھ عرصہ ہی مزاحمت کر سکتے ہیں اور انہیں جلد ہی جینے کے لئے معاشرے سے خود کو ہم آہنگ کرنا پڑتا ہے۔ کسی دانشور کا قول ہے کہ انسان دوسروں کی طرف سے دی گئی محبت اور احسانات کو باآسانی بھول جاتا ہے لیکن ان کی نفرت اور ان کے پہنچائے ہوئے ضرر کو نہیں بھولتا۔ افراد کی اکثریت کا رنگ جلد یا بدیر باقی لوگوں پر چڑھ جاتا ہے۔

معاشرہ یا تو اچھائی کی طرف مائل ہوتا ہے یا پھر بتدریج اچھائی سے دور سرکتا چلا جاتا ہے۔ معاشرہ افراد کے لئے یا سانپ ہے یا پانی کا چشمہ۔ سانپ برائی کی علامت ہے جو محبت اور احسان کا بدلہ بھی ڈس کر دیتا ہے جبکہ چشمہ اچھائی کی علامت ہے جو لوگوں کی پیاس بجھاتا ہے اور کھیتوں کو سیراب کرتا ہے۔ جانورں کے برعکس انسان کے پاس اچھائی کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں کیونکہ اچھائی اس پر بطور انسان معاشرے کا قرض ہے جسے اس نے ہر حال میں فرض سمجھ کر ادا کرنا ہے ورنہ یہ قرض واجب الا ادا رہے گا۔

Facebook Comments HS