گلگت بلتستان میں تحریک انصاف اور مذہبی جماعتوں کا ممکنہ انتخابی گٹھ بندھن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گلگت بلتستان میں 3 طرح کی سیاسی پارٹیاں انتخابات میں حصہ لیتی ہیں۔ پاکستان کی وفاقی پارٹیاں، مذہبی (مسلکی) سیاسی جماعتیں اور ایک آدھ قوم پرست تنظیمیں۔ ماضی میں یہاں مذہبی جماعتوں کا کردار اہم رہا ہے، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی سیاسی قوت اور اثرنفوذ کم ہوتے گئے۔ اس وقت خطے میں 4 مذہبی جماعتیں وجود رکھتی ہیں جو گلگت بلتستان کے ساتھ ساتھ الیکشن کمیشن آف پاکستان میں بھی بطور سیاسی پارٹی رجسٹرڈ ہیں۔

ان میں دو سنی العقیدہ مذہبی جماعتیں ہیں اور دو شیعہ۔ گلگت بلتستان ایسے گلدان کی مانند ہے جو کئی طرح کے پھولوں سے آراستہ ہے یعنی اس خطہ ء شمال میں کئی مسالک کے ماننے والے اور مختلف زبان بولنے والے لوگ بستے ہیں۔ یہی رنگا رنگی مذہبی سیاسی جماعتوں کے باب میں بھی دکھائی دیتی ہے، کچھ اضلاع میں شیعہ جماعتیں اپنا ووٹ بنک رکھتی ہیں تو بعض علاقوں میں سنی تنظیموں کو قبولیت حاصل ہے، تاہم کوئی ایسی مذہبی جماعت نہیں جو پورے خطے میں تنظیمی وجود رکھتی ہو۔

ذکر ہو رہا تھا 4 مذہبی جماعتوں کا، جماعت اسلامی تنظیمی حد تک تو موجود ہے لیکن اس کی کوئی پارلیمانی قوت نہیں۔ مولانا فضل الرحمان کی پارٹی ضلع دیامر تک محدود ہے مگر ہے وہاں بڑی تگڑی۔ باقی 2 تنظیمیں مجلس وحدت المسلمین اور اسلامی تحریک (سابق تحریک جعفریہ) ہیں۔ یہاں ہم جائزہ لیتے ہیں کہ یہ مذہبی تنظیمیں آمدہ انتخابات برائے صوبائی اسمبلی میں کہاں کہاں اسٹیک رکھتی ہیں؟ کن حلقوں میں میدان مار سکتی ہیں؟ اور ان کا کن جماعتوں سے انتخابی اتحاد ہو سکتا ہے یا سیٹ ایڈجسمنٹ ممکن ہے۔

اسلامی تحریک (تحریک جعفریہ) اور ایم ڈبلیو ایم دونوں دراصل 5 اضلاع کی پارٹیاں ہیں۔ ضلع گانچھے اور استور میں ان کا سیاسی اثر قابل ذکر نہیں، ہنزہ، غذر اور دیامر میں ان کا وجود نہیں۔ آنے والے انتخابات کے تناظر میں دیکھا جائے تو ضلع شگر اور کھرمنگ کی سیاسی بساط پر ان کی خاص گرفت نہیں۔ شگر، کھرمنگ دونوں اضلاع میں یہ دونوں پارٹیاں حلقے میں دوسرا نمبر نمبر لینے کی پوزیشن میں بھی نہیں، نا ہی انتخابی اتحاد کے ذریعے کسی اور جماعت کو اپنے حق میں دست بردار کرانے کی پوزیشن ہے۔

گویا اسلامی تحریک اور مجلس وحدت المسلمین دونوں اپنے پتے کھیلیں گی تو 3 اضلاع کی سیاسی بساط پر جن میں گلگت، نگر اور سکردو شامل ہیں۔ انتخابی تاریخ کے اوراق بتلاتے ہیں کہ چھوٹی جماعتوں نے عموماً وفاقی حکومت یا وفاق کی منتظر حکومتی پارٹی کے ساتھ ہی بارگیننگ کی۔ اس وقت تحریک انصاف کے ساتھ مذکورہ دونوں تنظیموں کی کسی نہ کسی سطح پر بات چیت چل رہی ہے۔ ایم ڈبلیو ایم اور پی ٹی آئی کے درمیان تو مرکزی لیول پر جی بی انتخابات کو لے کر مذاکرات کے کئی دور چلے ہیں۔

مجلس وحدت مسلمین کے مستند ذرائع کا بتانا ہے کہ گزشتہ دنوں پی ٹی آئی کے چیف آرگنائزر سیف اللہ نیازی سربراہ ایم ڈبلیو ایم راجہ ناصر کے گھر بھی جا چکے ہیں۔ پاکستان کے 2018 انتخابات میں ایم ڈبلیو ایم نے تحریک انصاف کو سپورٹ کیا تھا، 2014 کے دھرنے میں بھی مجلس وحدت پی ٹی آئی کی ہم رکاب تھی۔ علامہ راجہ ناصر عباس اور عمران خان کے درمیان اچھی انڈرسٹیڈنگ پائی جاتی ہے۔ دونوں ملک سے اقرباپروری کی سیاست کا خاتمہ چاہتے ہیں، کرپشن کی لعنت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی بات کرتے ہیں اور اسٹیٹس کو کو ٹورنے کے لئے مشترکہ جدوجہد کا عزم ظاہر کرتے ہیں۔

نواز شریف حکومت کی کئی پالیسیوں اور اقدامات سے دونوں یکساں نالاں تھے۔ علاوہ ازیں گلگت بلتستان میں ایم ڈبلیو ایم اور تحریک انصاف کے سربراہوں آغا علی رضوی اور سید جعفر شاہ ایک دوسرے کے قریب سمجھے جاتے ہیں۔ گلگت بلتستان کے سیاسی حلقوں میں ایم ڈبلیو ایم کو تحریک انصاف کی بی ٹیم کے طور پر جانا جاتا ہے۔ تاہم ہر انتخابی حلقے کا اپنا سیاسی ڈائنیمکس ہوتا ہے، حلقہ سیاست، گاؤں سیاست تا حتٰی محلے کی سیاست کے اپنے تقاضے اور مقامی جھگڑے ہوتے ہیں، لہذا مرکزی لیول پر کافی حد تک اور صوبائی سطح پر کسی حد تک ہم آہنگی کے باوجود حلقہ جاتی سطح پر دونوں پارٹیوں میں کافی اختلافات پائے جاتے ہیں۔ کارکن سیاسی طور پر ایک دوسرے کو قبول نہیں کرتے۔ اس سے قطع نظر کہ مختلف حلقوں میں پیچیدگیاں موجود ہیں تحریک انصاف اور ایم ڈبلیو ایم میں سیاسی اتحاد یا سیٹ ایڈجسمنٹ کا امکان بھی موجود ہے

یہاں ہم دیکھتے ہیں کہ پی ٹی آئی کون کون سے حلقے اپنی ممکنہ اتحادی ایم ڈبلیو ایم کے لئے چھوڑ سکتی ہے۔ پچھلے سطور میں ذکر کیا کہ 3 ضلعے ایسے ہیں جہاں ایم ڈبلیو ایم اپنے پتے کھیل سکتی ہے۔ سکردو حلقہ نمبر ایک اور 3 میں ایم ڈبلیو ایم کا خاص اسٹیک نہیں۔ گلگت حلقہ 3 سے سید جعفر شاہ خود پی ٹی آئی کے امیدوار ہیں۔ حلقہ 5 نگر ایم ڈبلیو ایم اور تحریک انصاف کے مابین بہت مسئلہ پیدا کرے گا کیونکہ یہاں سے پچھلے الیکشن میں مجلس کے حاجی رضوان جیت چکے ہیں تو دوسری جانب پی ٹی آئی کے امیدوار انتہائی بارسوخ شخصیت میر آف نگر پرنس قاسم ہوں گے۔

تحریک انصاف کی مرکزی قیادت سے براہ راست تعلقات کے حامل اور ریاستی اداروں میں بھی اچھی لابنگ رکھنے والے پرنس قاسم کو کسی اور کے حق میں بٹھانا نا ممکنات میں سے ہے۔ باقی رہے 3 حلقے یعنی جی بی اے 4 نگر ون اور گلگت کے دو حلقے المعروف حلقہ ایک اور دو تو ان تینوں حلقوں میں خود ایم ڈبلیو ایم کی ایسی انتخابی پوزیشن نہیں جو وفاقی حکومتی پارٹی کو اپنے حق میں دست بردار ہونے کا مطالبہ کرے۔ گویا انتخابی گٹھ بندھن کی صورت میں تحریک انصاف ایم ڈبلیو ایم کو سکردو حلقہ نمبر 2 اور سکردو حلقہ 4 روندو کی پیشکش کر سکتی ہے۔

سکردو حلقہ 2 ایم ڈبلیو ایم کا ہوم گراونڈ ہے، یہاں سے دستبرار ہو کر پی ٹی آئی ایم ڈبلیو ایم پر کوئی احسان نہیں کرے گی۔ روندو میں البتہ مجلس ووٹ بنک رکھنے کے باوجود 2 امیدواروں کے ٹکٹ جھگڑے سے تھوڑی پریشان ہے۔ تحریک انصاف کی حمایت روندو میں ایم ڈبلیو ایم کو بڑی تگڑی پوزیشن میں لا سکتی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا مجلس وحدت مسلمین عمران خان یا جعفر شاہ کی محبت میں صرف 2 سیٹوں پر اکتفا کرے گی؟ تیسرا حلقہ کون سا ہو گا جس کی پیشکش تحریک انصاف کی قیادت ایم ڈبلیو ایم سے کر سکتی ہے؟ ممکنہ طور پر جی بی اے 4 نگر ون ہو سکتا ہے مگر یہ پیپلز پارٹی اور اسلامی تحریک کا روایتی حلقہ ہے اور سوال یہ ہے کہ کیا ایم ڈبلیو ایم کی قیادت حلقہ 5 نگر 2 کو قربان کر کے حلقہ 4 نگر ایک میں انتخابی اتحاد کرتے ہوئے ہوئے اترنے کا رسک لے گی؟ مشکل فیصلہ ہو گا۔

اب ذرا اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ تحریک انصاف اگر اسلامی تحریک (ساجد نقوی والی) کو اتحادی بناتی ہے تو سیٹ ایڈجسمنٹ کے طور پر کون کون سے حلقے چھوڑ سکتی ہے؟ بات پھر سے انہی 3 ضلعوں میں ہو گی یعنی گلگت، نگر اور سکردو۔ اس گٹھ بندھن کی صورت میں ضلع گلگت میں ڈرامائی صورت حال پیدا ہو گی۔ گلگت حلقہ 3 میں اسلامی تحریک کو صدر پی ٹی آئی جعفر شاہ کے مقابلے پر موجود اپنے سب سے متحرک ممبر اور پچھلی اسمبلی میں دبنگ اپوزیشن لیڈر کا کردار ادا کرنے کیپٹن ریٹائرڈ شفیع کو دستبردار کرانا پڑے گا۔

اسی طرح گلگت حلقہ 2 میں تحریک اسلامی کے سابق رکن اسمبلی دیدار علی اہم فگر ہیں اور سابق وزیر اعلی حفیظ الرحمان سے بھرپور ٹکر کے امیدوار ہیں، ممکنہ طور پر ”مسجد ٹکٹ“ بھی اس بار پھر دیدار علی کو ہی ملے گا۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ کیا تحریک انصاف سیٹ ایڈجسمنٹ میں اپنے جنرل سکیرٹری فتح اللہ کو یہاں سے دست بردار کرائے گی؟ یعنی ایسا کوئی اتحاد تشکیل پاتا ہے تو گلگت کی حد تک کافی دلچسپ صورت حال پیدا ہو گی۔

یہاں یہ بات یاد رکھیں سید جعفر شاہ کی پوری کوشش گی کہ کسی طرح سے تحریک اسلامی یعنی کیپٹن شفیع کی حمایت حاصل کی جائے کیونکہ ان کے مقابلے میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے بھی مضبوط امیدوار ہیں۔ مختصراً یہ کہ پی ٹی آئی اور تحریک اسلامی کے انتخابی اتحاد کی صورت میں تحریک انصاف سکردو حلقہ 4 روندو اور نگر حلقہ ایک چھوڑ سکتی ہے۔ روندو میں اسلامی تحریک کے پچھلے الیکشن کے فاتح کیپٹن ریٹائرڈ سکندر یہی کوشش کرتے نظر آتے ہیں۔ تاہم تیسرا حلقہ دینا پی ٹی آئی کے لئے کافی مشکل ہو گا۔ مگر کیا اسلامی تحریک دو حلقوں پر اکتفا کرے گی؟ مشکل ہے۔ ایم ڈبلیو ایم اور اسلامی تحریک دونوں کی کوشش اور خواہش ہو گی کہ کم از کم 3 حلقوں میں پی ٹی آئی دست بردار ہو جائے۔

دونوں مذہبی پارٹیوں میں سے کسی ایک کے ساتھ گٹھ بندھن تحریک انصاف کی مجبوری تو ہے ہی تاہم مذہبی جماعت بھی اس سے اپنے تئیں مالا ہو سکتی ہے۔ اگر اس ممکنہ انتخابی اتحاد کے نتیجے میں دونوں میں سے کوئی ایک مذہبی پارٹی 3 جنرل سیٹیں نکال لے تو ایک خاتون کی مخصوص نشست اس کے حصے میں آئے گی بلکہ ٹیکنوکریٹ کی سیٹ کے لئے بھی بارگیننگ پوزیشن میں آ سکتی ہے۔ یعنی 33 رکنی ایوان میں 4 یا 5 سیٹوں کا حصول ایم ڈبلیو ایم اور اسلامی تحریک دونوں کے لئے مفید سودا ہو گا، یعنی گٹھ بندھن گھاٹے کا سودا نہیں ہو گا۔

ایک اور پہلو یہ کہ با الفرض اگر تحریک انصاف دونوں چھوٹی مذہبی جماعتوں کو ساتھ لے کر جانا چاہے تو اسے کم از کم 5 حلقوں میں بلے کا نشان خالی چھوڑنا پڑے گا۔ ایسا بظاہر تو ممکن نہیں تاہم غیر مرئی طاقتوں کی جانب سے ایک اشارہ کافی ہو گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply