ایک اور بیٹی غیرت کا شکار۔ ۔ ۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک باپ کی اپنی بیٹی کی قبر پر دھاڑیں مارکر اللہ سے انصاف کی اپیل کرنے والی وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد اس نے کئی دلوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے، یہ وڈیو سندھ کے ضلع جامشورو کے قریب گاؤں وڈا چھچھر کے ایک قبرستان سے وائرل ہوئی جہاں نوجوان لڑکی وزیراں چھچھر کو اس کے سسرالیوں نے مبینہ طور پر اجتماعی زیادتی کے بعد فرسودہ روایات کو قائم رکھتے ہوئے بھاری پتھر مارکر سنگسار کر دیا اور اس کی نعش انڈس ہائیوے پر پھینک کر اس کو خودکشی کا رنگ دیا، پولیس نے واقع کی تفتیش کرتے ہوئے لڑکی کے شوہر علی بخش چھچھر اور اس کے بھائی کو گرفتار کر لیا ہے۔

مقتولہ کے والد کا کہنا ہے کہ اس کی بیٹی کو ایک ہفتہ قبل بھاری پتھر مار کر قتل کیا گیا اور نعش انڈس ہائیوے پر پھینک دی گئی جب اس نے انصاف کے لئے علاقے کے وڈیرے سے مدد مانگی تو اس نے بھی خاموش رہنے کی دھمکیاں دیں اور اب پولیس بھی ملزمان سے بات چیت کرنے کے لئے دباؤ بڑھا رہی ہے، وڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس نے معاملے کی تفتیش کے لئے جاچ کمیٹی قائم کردی ہے جبکہ ابتدائی پوسٹ مارٹم رپوٹ میں بھی لڑکی کی موت کسی بھاری پتھر سے ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔

سندھ میں یہ پہلا واقعہ نہیں جہاں ایک لڑکی کو غیرت کا نام پر قتل کر دیا گیا ہو، اس طرح کے روزانہ کئی واقعات ہمارے سامنے رونما ہوتے ہیں جہاں کبھی ایک معصوم لڑکی کو غیرت کے نام پر قتل کر دیا جاتا ہے تو کہیں معصوم بچیوں کو جرگہ کے فیصلے کے تحت عمر بھر کے لیے کسی کے حوالے کر دیا جاتا ہے اور بل آخر اس معصوم بچی کو وحشی مرد اپنی غیرت کا نام دے کر کبھی اس کا گلا گھونٹ دیتا ہے تو کہیں ہوا کی بیٹی کو سنگسار کرکے اس سے جینے کا حق چھین لیا جاتا ہے۔

سندھ میں قانون تو موجود ہے لیکن اس پر عملدرآمد لوگوں کی زندگیاں بچانے میں نہیں بلکہ ملزمان کو گرفتار کرکے پھر آپس میں فیصلے کروانے تک محدود ہے، اس پدرشاہی اور فرسودہ نظام میں آج بھی ہوا کی بیٹی کی زندگی کا فیصلہ علاقہ کا ایک با اثر وڈیرا ہی کرتا ہے اور اس کے نتائج مقتولا وزیراں کی طرح ہمارے سامنے آتے ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے آبائی علاقے جامشورو میں ایک نوجوان لڑکی کو سنگسار کر دینا تو ایک چھوٹی سی جھلک ہے، اسی طرح روزانہ کی بنیاد پر سندھ میں کئی لڑکیوں کو قتل کر دیا جاتا ہے لیکن اکثر ایسے کیسز رپورٹ ہی نہیں ہوتے، بعض اوقات جرگائی فیصلے میں اس طرح کے واقعات کو اس لڑکی کے ساتھ ہمیشہ کے لئے دفن کر دیا جاتا ہے اور سول سوسائٹی اور میڈیا سمیت انسانی حقوق کی تنظمیں خاموش تماشائی بن کر رہ جاتی ہیں۔

جب اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لئے کوئی خاتون یا لڑکی ایک رول ماڈل بن کر سامنے آتی بھی ہے تو اس پر آزاد خیال، آوارہ خاتون اور سماجی اقدار کی منافی کے طعانے لگاکر اسے ڈرا دھمکا کر خاموش کرادیا جاتا ہے۔ مطلب اب اس سماج میں لڑکی کا ہونا بھی ایک جرم بن گیا ہے۔ بے گناہ بچیوں پر بدترین نا انصافی کا یہ نظام کب ختم ہوگا؟ اس کو سوچ کر اب ہمارے سر شرم سے جھک گئے ہیں۔

وزیراں چھچڑ کے قتل کا کیس ہائی پروفائل بننے کے باوجود اب تک سندھ حکومت نے دھاڑیں مارتے باپ کو انصاف دلوانے کے لئے کوئی نوٹس تک نہیں لیا جس سے ہمیشہ کی طرح ایک اور معصوم لڑکی کے خون سے انصاف کی حاصلات پر کالے بادل چھائے ہوئے ہیں۔ سندھ کے شعور کو مقتولا وزیراں کو انصاف دلوانے کے لئے سامنے آنا ہوگا اور اس طرح کے واقعات کی روکتھا کے لئے قتل کی درست انداز میں تفتیش کرکے ملزمان کو سخت سزا دینی چاہیے تاکہ سندھ میں کوئی اور ہوا کی بیٹی ہمیں اس طرح خون الود حالت میں روڈ سے ناملے، بصورت دیگر ہمیں آئندہ نسل کبھی معاف نہیں کرے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
رضا محمد لغاری کی دیگر تحریریں

Leave a Reply