آپریشن ”ان“ فیئر پلے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”اٹھو جاگو فوراً کپڑے پہنو“ پنکی کے کان میں نصرت بھٹو کی آواز پڑتی ہے۔ ”فوج نے قبضہ کر لیا ہے“

7 مارچ 77 کے انتخابات کے نتائج کے خلاف احتجاجاً پی این اے نے 10 مارچ کو ہونے والے صوبائی انتخابات کا بائیکاٹ کر دیا۔ 11 مارچ جمعے کا دن تھا۔ مساجد سے جلوسوں کی ابتدا ہو گئی۔ ”پٹکا مرکنٹائل“ آگے آگے تھی۔ (پٹکا مرکنٹائل کی اصطلاح ان تاجروں، آڑھتیوں اور دکانداروں وغیرہ کے لیے تھی جو کندھے پر چار خانہ پٹکا ڈالے مذہبی تنظیموں کی مالی سرپرستی کرتے تھے )

پی این اے کی تحریک غالباً پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی مالی تحریک تھی۔ مساجد کو استعمال کیا گیا، ڈاکیوں، دودھ والوں، میٹر ریڈرز کو پی پی مخالف پمفلٹ تقسیم کرنے کے لیے رشوت دی گئی۔

اس تحریک میں دو افراد کا رویہ سخت ترین تھا، اول اصغر خان کہ جنہیں وزیراعظم بننے کا یقین تھا یا دلایا گیا تھا دوم بیگم نسیم ولی وجہ حیدرآباد ٹریبونل کیس۔ اصغر خان نے تو 25 اپریل کو فوج کے نام لکھے خط میں قریب قریب قبضے کی دعوت تک دے ڈالی تھی۔ اور بھٹو صاحب نے اسمبلی میں اس خط کا تذکرہ کرتے ہوئے اسے بغاوت اور غداری قرار دیا تھا۔ نیز سقوط ڈھاکہ فیم ”ٹائیگر نیازی“ پی این اے کے جلسوں میں سٹیج پر رونق افروز ہوا کرتے تھے۔

حالات دن بدن مخدوش ہوتے چلے جا رہے تھے۔ کہ بھٹو صاحب نے مفتی محمود کو پیغام بھجوایا کہ وہ نئے انتخابات کے لیے تیار ہیں۔ گو کہ اس دوران لاہور ہائیکورٹ نے تین بڑے شہروں میں لگایا گیا مارشل لا غیر قانونی قرار دے دیا تھا اور حکومت سپریم کورٹ میں اپیل کے لیے جا رہی تھی۔ لیکن پی این اے سے مذاکرات کے بعد 7 جون کو مارشل لا اٹھا لیا گیا۔ بھٹو صاحب پی این اے کی بنیادی مطالبات، نئے انتخابات اور نگران کونسل میں پی این اے کی برابر نمائندگی تسلیم کر چکے تھے۔

بھٹو صاحب نے 15 جون کو اسمبلی میں کھڑے ہو کر نئے انتخابات کا اعلان بھی کر دیا۔ اور اس کے بعد مختلف ممالک کے غیرملکی دورے پر روانہ ہو گئے۔ لیکن اصغر خان، نسیم ولی اور شیرباز مزاری کے اعتراضات نے معاملہ لٹکا دیا۔ بھٹو صاحب کی واپسی پر یکم جولائی کو مذاکرات کا پھر آغاز ہوا۔ بھٹو صاحب اور مفتی محمود کی ملاقات ہوئی۔ ایک دفعہ پھر معاہدہ دستخط کے لیے تیار تھا۔

لیکن اصغر خان نے معاہدہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور اعلان کیا کہ کوئی معاہدہ نہیں ہوا۔ مفتی محمود اور بھٹو صاحب کی دوبارہ ملاقات ہوئی اور طے پایا کہ پانچ جولائی کو معاہدے ہر دستخط ہوں گے۔

بھٹو صاحب اپنی کتاب ”اگر مجھے قتل کیا گیا“ میں رقمطراز ہیں :

”چار اور پانچ جولائی کی درمیانی شب 12 بجے کھانے کے بعد پیرزادہ نے کہا“ مبارک ہو سر، بحران ختم ہو گیا ”بھٹو صاحب نے پوچھا“ کیسے؟ ”کہنے لگے اپوزیشن کے غبارے سے ہوا نکل چکی ہے۔ بھٹوصاحب ہنس پڑے اور ممتاز بھٹو سے کہا کہ پیرزادہ کی دائمی رجائیت کو دور کرے۔ ممتاز بھٹو نے کہا کہ پیرزادہ کی رجائیت کو دور کرنے کے لیے جب زوروں کا سیلاب ہوگا تو انہیں سکھر بیراج لے جاؤں گا۔ اس جواب پر تینوں قہقہہ مار کر ہنس پڑے۔ لیکن کچھ ہی دیر بعد ہم نے کسی اور کے قہقہے کے آواز سنی۔“

پنکی کے کانوں میں جب نصرت بھٹو کے فوج کے قبضے کی آواز گونجی تو ساتھ ہی انہیں کچھ دیر قبل اپنے والد اور انکلز کا قہقہہ بھی یاد آیا۔

پنکی گھبرا کر والدین کے بیڈروم میں پہنچیں۔ بھٹو صاحب فوج کے سربراہ اور وفاقی وزرا سے رابطے کی کوشش کر رہے تھے۔ پیرزادہ کی بیٹی نے روتے ہوئے بتایا کہ اس کے والد کو فوج لے گئی ہے۔ اگلی کال پر گورنر سرحد سے بات ہو رہی تھی کہ فون کٹ گیا۔

نصرت بھٹو نے زرد چہرے کے ساتھ پنکی کو بتایا کہ بھٹو صاحب کو سازش کا علم پولیس کے ایک سپاہی کی وجہ سے ہوا کہ جس نے فوج کے سپاہیوں کو وزیراعظم کی رہائش گاہ کو گھیرے میں لیتے ہوئے دیکھا اور اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال کر پیٹ کے بل رینگتا ہوا دروازے تک پہنچا اور بھٹو صاحب کے خادم عرس کو زور دے کر کہا کہ ”بھٹو صاحب کو بتادو کہ فوج انہیں قتل کرنے آ رہی ہے اور وہ چھپ جائیں“ بھٹو صاحب نے کہا کہ اگر فوج نے مجھے قتل کرنے کا تہیہ کر لیا ہے تو وہ ضرور قتل کرے گی۔ چھپنے کا کوئی فائدہ نہیں نہ تم میں سے کسی کی مزاحمت کا۔ انہیں آنے دو۔ بقول محترمہ شہید کہ پولیس کے سپاہی کی بروقت تنبیہ نے شاید ہماری جانیں بچالیں۔

اتفاق سے صنم کی پرائیویٹ لائن کٹنے سے بچ گئی تھی۔ بھٹو صاحب نے اس لائن سے ضیا کو کال ملائی۔

”جناب مجھے افسوس ہے کہ مجھے یہ کام کرنا پڑ رہا ہے“ ضیا نے کہا۔ ”ہمیں کچھ دن آپ کو حفاظتی نگہبانی میں لینا ہے۔ میں 90 دن میں انتخابات کروا دوں گا۔ آپ یقیناً دوبارہ وزیراعظم منتخب ہوجائیں گے اور میں آپ کو سلامی دے رہا ہوں گا۔“

ضیا نے بتایا کہ آرمی کے جوان 2:30 بجے تک ان کے پاس پہنچ جائیں گے۔ اور بھٹو صاحب جہاں جانا چاہیں گے انہیں لے جایا جائے گا۔
کال ختم ہوتے ہی اس فون کی لائن بھی کٹ گئی۔
اس دوران میر اور شاہ کمرے میں داخل ہوئے۔

ہمیں مزاحمت کرنی چاہیے۔ میر نے کہا۔
”جرنیل ہمیں مارنا چاہتے ہیں۔ ہم مزاحمت کر کے انہیں اپنے قتل کا جواز کیوں فراہم کریں“ بھٹو صاحب نے سختی سے منع کرتے ہوئے کہا۔ پنکی کانپ اٹھتی ہیں۔ ان کے ذہن میں دوسال قبل مجیب اور ان کے اہل خانہ کا فوج کے ہاتھوں قتل گھوم جاتا ہے۔

بھٹو صاحب کہتے ہیں کہ ”ضیا نے غلط اندازہ لگایا۔ اس کا خیال تھا کہ قومی اتحاد سے مذاکرات ناکام ہوجائیں گے اور اسے قبضہ کرنے کا بہانہ مل جائے گا۔ اس نے حتمی معاہدے پر دستخط سے پہلے ہی وار کر دیا۔“

2:30 بجے تک کوئی جوان نہیں آیا۔ چار بجے جا کر بھٹو صاحب کا ملٹری سیکریٹری پہنچا۔ وہ ضیا سے مل کر آیا تھا۔ کہنے لگا کہ بھٹو صاحب کو لاڑکانہ جانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ انہیں مری میں وزیراعظم ریسٹ ہاؤس میں رکھا جائے گا۔ انتظامات چھ بجے تک مکمل ہوں گے۔ دو گھنٹے بعد بھٹو صاحب کو بیرے نے بتایا کہ ریسٹ ہاؤس کے مینیجر کو جگایا گیا ہے اور صفائی کی جا رہی ہے۔

”ضیا نے کہا تھا کہ وہ 2:30 بجے مجھے گرفتار کرنے آئیں گے۔ اب چھ بجے ہیں انہوں نے ابھی ریسٹ ہاؤس بھی تیار نہیں کیا۔ انہوں نے باقی سب کو گرفتار کرنے کا پروگرام بنایا تھا لیکن میرا نہیں“ بھٹو صاحب آہستہ سے کہتے ہیں۔ بھٹو صاحب کے یہ الفاظ جرنیلوں کے ارادے عیاں کرتے ہیں۔

یہ اس سیاہ شب کی کہانی ہے کہ جس کی سیاہی آج بھی اس ملک پر چھائی ہے۔ سحر ہے کہ طلوع ہونے کا نام نہیں لے رہی۔ اس ملک کا سیاستدان آج بھی مطعون ہے، وہ پھانسی چڑھتا ہے، سڑک پر گولی کھاتا ہے، جلاوطن ہوتا ہے، الزامات جھیلتا ہے، جیل کی سختیاں برداشت کرتا ہے، پھر بھی اس وطن کی خدمت کے لیے تیار رہتا ہے۔ لیکن یہ اس شب کی سیاہی ہے جو ہمیں سچ دیکھنے نہیں دیتی، یہ ہمارے دل و دماغ پر چھائی ہے، ہماری روحوں پر قابض ہے۔ 5 جولائی 1977 ہو یا 25 جولائی 2018 فرق صرف طریقہ واردات کا ہے۔ یہ سماج آج بھی ضیائی عفریت کے شکنجے میں ہے۔ اور ہم اتنے سادہ ہیں کہ ”و تعز من تشاء و تذل من تشاء“ کی ٹویٹ میں جمہوریت کی کامیابی تلاش کرتے ہیں۔

مصنف۔ احسن عباسی۔
صدر پاکستان پیپلز پارٹی ریاض ریجن۔
گزشتہ بارہ برس سے ریاض، سعودی عرب میں مقیم ہوں۔
اس مضمون کی تیاری میں مندرجہ ذیل کتب سے مدد لی گئی ہے۔
اگر مجھے قتل کیا گیا۔ از ذوالفقار علی بھٹو
دختر مشرق۔ از بے نظیر بھٹو
باہر جنگل اندر آگ۔ از علی جعفر زیدی

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
احسن وقار عباسی کی دیگر تحریریں

Leave a Reply