کشمیر کا تین سالہ عیاد جہانگیر اور شام کا تیرہ سالہ بچہ محمد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ان دونوں کہانیوں کا پلاٹ ایک دوسرے سے مختلف ہے، جغرافیائی اور زمانی اعتبار سے یہ جدا جدا ہیں۔ لیکن ان کی روح اور باطن ایک ہی ہے۔ ان دونوں کا تعلق ایک ایسی امت سے ہے جس کے فرزند دنیا بھر میں اپنی بقا، اپنی شناخت اور اپنے وطنوں کی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ یہ دو معصوم اور مظلوم بچوں کی کہانیاں ہیں۔ جن میں سے ایک کا تعلق مقبوضہ کشمیر سے ہے اور اس کی عمر تین برس ہے جب کہ دوسرا ایک شامی مہاجر ہے، جو لبنان میں اپنی والدہ کے ساتھ پناہ گزین ہے اور اس کی عمر تیرہ برس ہے۔

کشمیری بچے کا قصہ دو دن پرانا ہے جب کہ شامی بچے کی کہانی دو سال پرانی ہے۔ لیکن دنیا والوں کو یہ دونوں واقعات ایک ہی وقت یعنی جولائی 2020 ء کے آغاز میں معلوم ہوئے۔ دونوں کی کہانی سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز کے ذریعے لوگوں کو پتہ چلی۔ ایک کی ویڈیو نے اردو بولنے والوں کا کلیجہ چھلنی کیا۔ دوسرے کی ویڈیو سے عربی جاننے والوں کا جگر لخت لخت ہوا۔ میری بد نصیبی کہ مجھے دونوں کا کرب اور الم سہنا پڑا۔

کشمیر کا تین سالہ عیاد جہانگیر اس بات پر رو رہا ہے کہ اس کے بڑے پاپا کو ”ٹھک ٹھک“ کر کے پولیس والوں نے گولیاں ماری ہیں اور سڑک کے بیچوں بیچ ان کا خون کر دیا ہے۔ اس بچے کے رونے کی ویڈیو آپ نے بھی دیکھی ہو گی۔ وہ تھوڑی دیر رونے کے بعد وہ خود ہی چپ ہو جاتا اور اپنی ننھی ننھی انگلیوں سے اپنے آنسو پونچھ لیتا ہے۔ شاید اسے احساس ہے کہ اس کا رونا بے کار ہے، اس کے آنسو اور اس کے بڑے پاپا کے خون کی طرح رائگاں بہہ رہے ہیں، اس کی اشک شوئی کرنے کوئی نہیں آئے گا۔

ایک اور ویڈیو میں وہ اپنی کسی رشتہ دار کو بتا رہا ہے کہ کیسے ٹھک ٹھک کر کے پولیس والوں نے اس کے بڑے پاپا کو مارا ہے۔ وہ جب ٹھک ٹھک کرتا ہے تو اس کی آواز بہت زیادہ اونچی ہوجاتی ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے پولیس کی گولیوں کی آواز اب بھی اس کے لاشعور میں گونج رہی ہے اور وہ کسی ذریعے سے اسے اپنے ذہن سے نکالنا چاہتا ہے یا پھر وہ اپنے مخاطب کے سامنے صحیح منظر کشی کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ تم گولیوں کو کوئی معمولی چیز نہ سمجھو۔

ان کی آواز بہت اونچی اور ان کا وار بہت گہرا ہوتا ہے۔ اتنا گہرا کہ چیخ نکلنے سے پہلے بدن کا آدھا لہو بہہ جاتا ہے اور پانی ملنے سے پہلے پوری روح پرواز کر جاتی ہے۔ یا پھر شاید ٹھک ٹھک کی اونچی آواز کے ذریعے وہ اس قوم اور اس کے راہنماؤں کے ضمیر پر دستک دینا چاہتا ہے جو دن رات کشمیر کو اپنی شہ رگ کہتے اور ”آخری گولی اور آخری فوجی تک لڑنے کا عزم“ کرتے نہیں تھکتے۔

میرے پیارے سے عیاد جہانگیر! باغ بہشت کے لالہ و یاسمین! دستک دے کر تو انہیں جگایا جاتا ہے جو سو رہے ہوں۔ مردوں کو اٹھانے کے لیے تو صور اسرافیل درکار ہے۔

دوسری ویڈیو تیرہ سالہ شامی مہاجر بچے کی ہے جو لبنان میں پناہ گزین ہے اور اپنا اور اپنی والدہ کا پیٹ پالنے کے لیے ایک فیکٹری میں مزدوری کرتا ہے۔ یہ ویڈیو پوری نہیں دیکھی جا سکتی۔ نہ ہی کسی ویب سائٹ کا ضابطۂ اخلاق اسے نشر کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ سی این این عربی نے تو اس ویڈیو سے متعلق واقعے پر مفصل رپورٹنگ کے باوجود اس ویڈیو کے کسی ایک جز کو بھی نشر کرنا انسانیت کے لیے عار اور اخلاقی اقدار کی بے حرمتی قرار دیا۔ مگر الجزیرہ سمیت بعض دیگر عربی چینلوں نے اس ویڈیو کے تھوڑے سے حصے کو نشر کیا ہے اور وہ بھی بعض تصویروں کو مدھم اور بعض آوازوں کو حذف کر کے۔

ویڈیو میں یہ تیرہ سالہ شامی بچہ ادھر ادھر بھاگ رہا ہے اور مسلسل چیخ رہا ہے۔ اس کے پیچھے لبنان سے تعلق رکھنے والے تین جنسی درندے لگے ہیں۔ انہی میں سے ایک ویڈیو بھی بنا رہا ہے۔ بالآخر یہ جنسی درندے اس معصوم بچے کو دبوچ لیتے ہیں۔ بچے کی چیخیں آسمان کو چھو رہی ہیں لیکن ان جنسی درندوں کے قہقہے ان چیخوں سے بھی زیادہ بلند ہیں۔ بھڑکتی شہوت اور ہوس کی ڈکشنری میں رحم، انسانیت اور اخلاق جیسے الفاظ بے معنی تصور کیے جاتے ہیں :

”ان کے پاس عقل ہے مگر اس سے سمجھ بوجھ کا کام نہیں لیتے۔ آنکھیں ہیں مگر ان سے دیکھنے کا کام نہیں لیتے۔ کان ہیں مگر ان سے سننے کا کام نہیں لیتے۔ یہ لوگ جانوروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں۔“ (الاعراف: 179 )

تین نوجوانوں کے اس گروہ نے ببانگ دہل اور کھلے عام اس معصوم کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی۔ اس لیے کہ انہیں پورا یقین تھا کہ جسے اس کا اپنا ملک تحفظ نہیں دے سکا دیار غیر میں بھی اسے کوئی نہیں بچائے گا۔ جس کی اپنی سرزمین اسے پناہ مہیا نہیں کر سکی اجنبی ملک میں کون اس کی فریاد سنے گا؟

جنسی زیادتی کا شکار ہونے والے معصوم بچے عام طور اپنے والدین کو کچھ بتا نہیں پاتے وہ اندر ہی اندر نفسیاتی گھٹن، احساس جرم، احساس کمتری اور بلیک میلنگ کا شکار ہوتے رہتے ہیں اور ان کے انصاف کی قضیہ حشر کے دن تک کے لیے موقوف ہو جاتا ہے۔ اس بچے کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ اسے قتل کی دھمکی دے کر اس کی آواز کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دبا دیا گیا۔ اور اگر یہ ویڈیو منظر عام پر نہ آتی تو شاید اس درندگی کا پردہ کبھی بھی فاش نہ ہوتا۔

ویڈیو نشر ہونے کے بعد عرب دنیا میں بھونچال آ گیا۔ وسیع پیمانے پر اس عمل کی مذمت کی گئی۔ مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے اور معصوم بچے کو انصاف دلانے کا مطالبہ کیا گیا۔ لبنانی حکومت بھی حرکت میں آئی۔ تینوں نوجوانوں کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کر دی گئی۔

مگر یہ واقعہ اپنے پیچھے متعدد سوالیہ نشان چھوڑ گیا۔ اس واقعے کے دو سال بعد تک اس بچے پر کی اس بچے پر کیا بیتی؟ کیا یہ اپنی نوعیت کا واحد واقعہ ہے یا دنیا بھر میں مقیم بے آسرا و بے سہارا شامی بچوں کو اس طرح کے مسائل درپیش درپیش ہیں؟ ایک ایسی قوم جس کے کیلنڈر کا سرا ہجرت کے مقدس عنوان سے جڑا ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جس کی تاریخ مہاجرین و انصار کے پاکیزہ رشتے، ایثار، قربانی اور تعاون سے شروع ہوتی ہے۔ کیا وہاں اخلاقی زبوں حالی اور بے حسی اس حد کو پہنچ چکی ہے کہ بے سہارا و بے آسرا پناہ گزینوں کی عزت و آبرو تک محفوظ نہیں؟

عیاد جہانگیر سے لے کر محمد تک کیسے کیسے المیے اور کیسی الم ناک داستانیں مسلم دنیا کی کوکھ سے جنم لے رہی ہیں۔ کہیں خارجی اور بیرونی تسلط کا رونا رویا جا رہا ہے کہیں باطنی اور داخلی زوال پر آہ و فغاں جاری ہے۔ کہیں غیروں کے ہاتھ ہمارے معصوم لہو سے رنگین ہیں کہیں اپنوں کی بے حمیتی، ہوس پرستی اور غداری سے جگر چھلنی چھلنی ہے۔ ہمارے ملی وجود کے اول و آخر، ظاہر و باطن میں بھونچال آیا ہوا۔ چاروں اور اندھیرا ہے اور ہر سمت ظلمتوں کا بسیرا ہے۔

بولنا چاہیں تو دہن سے خون رستا ہے اور لکھنے بیٹھیے تو انگلیاں فگار ہو جاتی ہیں۔ چپ رہنے میں درد ہی درد ہے اور اظہار میں کرب ہی کرب ہے۔ شام سے لے کر کشمیر تک اور برما سے لے فلسطین تک عالم اسلام کے جس گوشے کا منظر نامہ رقم کریں یوں لگتا ہے جیسے کوئی مرثیہ لکھا جا رہا ہوں۔ جیسے میں کوئی شہر آشوب تخلیق ہورہا ہے۔ جیسے ہم سب نوحہ گر ہیں، ہم سب یرمیاہ ہیں :

”صیون کی راہیں ماتم کرتی ہیں۔ کیوں کہ عید کے لیے کوئی نہیں آتا۔ اس کے سب پھاٹک سنسان ہیں۔ اس کے کاہن آہیں بھرتے ہیں۔ اس کی کنواریاں مصیبت زدہ ہیں اور وہ خود غمگین ہے۔ اس کے مخالف غالب آئے اور دشمن خوش حال ہوئے۔“ (عہد نامہ عتیق، نوحہ: باب: 1، آیات: 4، 5 ) ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *