ہارون رشید کے نام ایک خط

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


محترم ہارون رشید صاحب۔

امید کرتا ہوں آپ خیریت سے ہوں گے۔ اور ہوں گے بھی کیوں نہیں؟ آخر آپ ربع مسکوں میں واحد مرد مجاہد ہیں جو سارے عالم اسلام کے دشمنوں کے سامنے ڈٹے ہیں اور گاہے بگاہے ان دشمنانان ملت کے کالے کرتوں میں ملوث دیسی خبر گیروں کو بے نقاب بھی کرتے رہتے ہیں۔ اب اگر خدا نے آپ کے ذمے اتنا اہم کام سونپا ہے تو ظاہر ہے اسے آپ کی صحت اور تندرستی کا بھی خاص خیال ہو گا۔ اور آپ کو اس زمرے میں خود کوخوش قسمت گمان کرنا چاہیے کیوں کہ اچھی صحت اور لمبی زندگی خدا کسی کسی کو دیتا ہے۔ میرے خیال سے اساطیری پیر تسمہ پا کے بعد آپ ہی کو یہ سعادت نصیب ہوئی ہے۔

اور آپ بھی کیا دلیری اورنیک نیتی سے اس کام کو سر انجام دے رہے ہیں، میں سوچتا ہوں تو حیران ہو جاتا ہوں کہ آخر کوئی اکیلا، تن تنہا شخص ایسا کیسے کر سکتا ہے۔ میری تو راتیں یہی سوچتے سوچتے گزر جاتی ہیں کہ آخر کیا خاص ہے آپ میں جو آپ کو باقیوں سے ممتاز کرتا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ آپ جیسے اور لوگ نہیں ہیں ہمارے ہاں۔ نہیں ایسا بالکل بھی نہیں ہے۔ ویسے تو ہمارے نیوز چینل آپ جیسوں سے بھرے پڑے ہیں لیکن آپ سب سے مختلف ہیں۔

کچھ خاص ہے آپ میں جو دوسروں میں نہیں۔ سچ بتاؤں تو میں نے بارہا کوشش کی کہ آپ کے جیسا بنوں لیکن یہ گستاخ ضمیر ہے کہ مانتا ہی نہیں ہے۔ پھر سوچتا ہوں کہ یہ ضمیر والا تو شاید میں نے ایک بہانہ ہی بنایا ہوا ہے اصل میں مجھ میں وہ خود اعتمادی ہی نہیں ہے جو آپ میں ہے۔ یعنی کسی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ایسے ٹھہراؤ اور طمانیت سے بات کو یوں جرعہ جرعہ بیان کرنا کہ ایک دفعہ تو سامنے والا بندہ آپ کے جھوٹ پر بھی ایمان لے آئے اور اپنے علم پر شک اور کم علمی پر شرمندہ محسوس کرے۔ نہیں کر پاتا میں ایسا۔ میں بس یہ جاننا چاہتا ہوں کہ کیسے کر لیتے ہیں آپ یہ سب؟

ابھی یہ کل پرسوں کی بات ہی دیکھ لیں۔ جو آپ نے اس قوم کی خدمت ان دو نام نہاد پروفیسروں کو بے نقاب کر کے کی ہے اس کا احسان ہم کیسے چکائیں گے؟ کیا نام بتا رہے تھے آپ؟ ہاں وہ پرویز ہود بھائی اور عمار علی جان۔ یہ عمار علی جان پر تو میں زیادہ کچھ نہیں کہوں گا کیوں اس کو تو میں بالواسطہ جانتا ہوں اور یہ تو ابھی جوان خون ہے۔ کہاں سمجھتا ہے ساری باتیں۔ ابھی کچھ ہی سال ہوئے ولایت سے ڈاکٹری کر کے آیا ہے۔ اب اسے کیا معلوم کہ ہمارے پاس آپ جیسے نابغے موجود ہیں جن کے پاس سب سے بڑی طاقت ہے۔ جمہور کی طاقت۔ (سرگوشی سے۔ اب ان کو کیا معلوم کہ آپ کب سے عوام کو ”ماموں بناتے آرہے ہیں“ اب تو وہ آپ کی خرافات کو بھی تہہ دل سے سچ مان لیتے ہیں)۔ (قہقہہ)۔

ویسے میں نے سنا ہے یہ عمار علی جان پنجاب یونیورسٹی میں طالب علموں کو سوچنا سکھا رہا تھا۔ توبہ توبہ کتنا بڑا گناہ ہے یہ۔ اب ایسے تو نہیں چلتا ناں۔ بھلا آپ خود سوچیں کہ ہمیں یہ سوچنے جیسے فرسودہ کام کرنے کی کیا ضرورت؟ جب ہمارے پاس آپ جیسے نابغے موجود ہیں تو پھر علیحدہ سے اور لوگوں کو یہ کام کیوں سکھانا؟ اور ویسے بھی یہ سوچنے والا کام ہمارے ملک کے وسیع تر مفاد کے خلاف ہے۔ یہ طرح طرح کی خرافات سوچتے رہتے ہیں اور پھر فضول قسم کے سوالات کرتے ہیں۔ جیسا کہ عورت کو آزادی دو، غریب کو تعلیم دو اور اللہ معاف کرے پتا نہیں کیا کیا۔ میں تو کہتا ہوں ایسے لوگوں کا ایک ہی توڑ ہے اور وہ یہ کہ سوچنے پر ہی پابندی لگا دی جائے۔ کیا کہتے ہیں آپ؟

اور وہ پرویز ہود بھائی۔ کیا بتا رہے تھے آپ ان کے بارے میں کہ یہ امریکی سفارت خانے کا نوکر ہے۔ ہو گا۔ یقیناً ہو گا۔ اب جب آپ نے ایک بات کر دی تو اب تو اس سچ ہونا ہی پڑے گا چاہے وہ جھوٹ بھی ہو۔ لیکن کچھ بے ادب ایسے بھی ہیں جو ثبوت مانگتے ہیں۔ بھئی جب آپ نے ایک بار کہہ دیا تو کیا یہی کافی نہیں ہے؟ پھر علیحدہ سے ثبوت مانگنے کی کوئی حاجت رہ جاتی ہے بھلا؟ جب ایسے لوگوں کے بارے میں سوچتا ہوں تو کبھی کبھی تو میں خدا سے سوال کرتا ہوں کہ جب آپ کی صورت میں ہمیں ایک عذاب مل گیا تھا تو پھر مزید ان کی کیا ضرورت تھی؟ خیر یہ اس کے کام ہیں یقیناً کوئی بہتری ہو گی اس میں۔

یہ پرویز ہود بھائی جہاں کہیں بھی رہا ہے اپنی حرکتوں کی وجہ سے ناپسند ہی کیا گیا ہے۔ حرکتیں بھی بڑی عجیب کرتا ہے۔ جیسا کہ، یہ چاہتا ہے کہ پروفیسر باقاعدگی سے کلاس میں جا کر پڑھایا کریں اور تو اور یہ بھی کہتا ہے یہ وہ جو کچھ بھی پڑھائیں وہ پہلے خود بھی پڑھیں۔ اب ان سے کوئی پوچھے کہ ایسے کام ہمارے پروفیسر کہاں کرتے ہیں؟ بھئی اگر یہی کرنا ہوتا تو پروفیسر ہی کیوں لگتے؟ سننے میں آیا ہے کہ ایف سی کالج سے اس لیے نکالا گیا ہے کہ یہ وہاں مذکورہ بالا فرمائشیں کرتا تھا۔ ظاہر ہے اب اگر آپ ایسی بے تکی فرمائشیں وطن عزیز میں کریں گے تو پھر لڈن جعفری کے الفاظ میں ”یہ تو ہو گا“۔

اس نے کبھی بھی اپنے جیسے باقی پروفیسروں کے بھلے کا کوئی کام نہیں کیا۔ جب یہ قائد اعظم یونیورسٹی میں تھے تو وہاں یونیورسٹی کی بہت ساری زمین فارغ پڑی تھی تو سیاستدانوں نے سوچا کہ چلو اس پر ایک ایک گھر ہی بنا لیتے ہیں اور مبارک کے طور پر ایک ایک پلاٹ پروفیسروں کو بھی دے دیتے ہیں تا کہ زیادہ واویلا نہ کریں۔ بہت سارے مان گئے لیکن یہ جناب اور ان کے کچھ دوست نہیں مانے۔ رٹ کیا لگائی کہ یہ یونیورسٹی کی زمین ہے اس پر طالب علموں کے لیے یونیورسٹی کی عمارت ہی بنے گی۔ اب ان سے کوئی پوچھے کہ وہاں طلبہ کو فرنگیوں کے مضامین پڑھا کر کون سا تیر مار لینا ہے آپ نے؟ اب ایسی حرکتیں کریں گے تو ایف سی کیا وطن عزیز میں ہر جگہ سے نکالے جائیں گے۔

خیر چھوڑیں ان کو میں بھی کیا باتیں لے کر بیٹھ گیا۔ خط تو میں نے آپ کا شکریہ ادا کرنے کے لکھا تھا۔ شکر ہے ہمیں آپ جیسے لوگ میسر ہیں ورنہ یہ پرویز ہودبھائی اور عمار علی جان جیسے سر پھرے لوگ تو واقعی لوگوں کو سوچنا سکھا کر مشتعل کر دیتے اور پھر پتا نہیں اس ملک کا کیا بنتا۔ آپ جیسے دانش ور لوگوں نے اتنے برسوں کی محنت کے بعد اس پیارے ملک کو اس حالت میں پہنچایا ہے جہاں یہ آج موجود ہے اور یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اب لوگوں کو شعور دیا جائے۔ نری بیوقوفی ہے نری۔ بس آپ بالکل نہ گھبرائیں اور اس قوم کا بیڑا غرق کرنے میں ثابت قدم رہیں۔

والسلام۔

فصی ملک

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

One thought on “ہارون رشید کے نام ایک خط

  • 08/07/2020 at 3:10 pm
    Permalink

    Agreed with the columnist , The orthodoxy has no option other than to ridicule the liberal progressive thinking ,if it happens they cannot sell their product to the society

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *