کیا آپ رومانوی دانائی سے واقف ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

راؤ طاہر قیوم کا خط

پیارے طبیب، آداب

میرا نام راؤطاہرقیوم ہے اور پیشے کے اعتبار سے ایک وکیل ہوں اور میاں چنوں میں پریکٹس کرتا ہوں۔ گزشتہ سال جب آپ پاکستان تشریف لائے تھے تو آپ کے ساتھ بالمشافہ گفتگو کا شرف حاصل ہوا تھا۔ آپ کی پیاری بہن عنبرین کوثر کے گھر پر عبدالستار اور زبیر لودھی کے ساتھ آپ کی پیاری پیاری گفتگو سننے کا اتفاق ہوا تھا۔ عبدالستار اور زبیر لودھی نے تو آپ کی باتوں پر عمل کرتے ہوئے ”ہم سب“ پر لکھنے کا آغاز کر دیا ہے اور اب ان دونوں کی حوصلہ افزائی کے ساتھ آپ کو اپنا پہلا خط لکھ کر اپنے ادبی کیرئر کا آغاز کر رہا ہوں۔

پیارے طبیب

آپ کی تحریروں کو پڑھ کر بہت راہنمائی حاصل ہوتی ہے ان تحریروں کے پڑھنے کے بعد چیزوں کو دیکھنے، سمجھنے اور پرکھنے کے زاویے میں بہت تبدیلی آ گئی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے in search of wisdom کے نام سے آپ اور ڈاکٹر بلند اقبال کے ساتھ مشترکہ میزبانی میں آپ اور ڈاکٹر بلند اقبال کی عالمانہ گفتگو سننے کا موقع ملا جس نے میری سوچ کے بند دروازوں کو کھول دیا اپنے ریمارکس اکثر ڈاکٹر بلند کے ساتھ تبادلہ کیا کرتا تھا اور وہ بھی مجھے لکھنے کی طرف راغب کرتے رہتے ہیں۔ اس سے پہلے دوستوں کے ساتھ روزمرہ اور مخصوص مواقع پر گفتگو کرتے ہوئے کوئی خاص احساس نہیں ہوتا تھا مگر اب نہ جانے کون سا میٹر دماغ میں فٹ ہوگیا کہ اب بغیر غور و فکر کی آگے بڑھا ہی نہیں جاتا۔ سچ کہوں تو اب زندگی گزارنے کا مزہ آنے لگ گیا ہے، شعوری طور پر مثبت سمت میں سفر کا آغاز ہو گیا ہے

پیارے طبیب

آج آپ کو چند سطروں پر مشتمل خط لکھنے کی جسارت اس لیے کی ہے کہ ایک دوست نے مجھ سے اپنی زندگی کے اہم فیصلے کے لیے رائے مانگی ہے جسے وہ تقابلی جائزہ کے ساتھ مطالبہ کر رہا ہے کہ ”یہ میری زندگی کا اہم فیصلہ ہے۔“ میرا یہ مشرقی دوست رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے جا رہا ہے اور زندگی کا یہ سفر ایک مغربی پاکستانی نژاد لڑکی کے ساتھ شروع کرنے جا رہا ہے۔ اس رشتے کے متعلق اس کے چند سوالات ہیں بلکہ متعدد لڑکے لڑکیوں کا سوال ہے۔

کیا ایسا رشتہ دیر پا قائم رہ سکے گا؟
مغرب کے یہ فریق کن باتوں پرمتفق اور اختلافی پوائنٹ پر ہوتے ہیں؟
انہیں اس رشتہ کے دوران اور پہلے کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے؟
کیا یہ مخالف سمتوں کے لوگ رشتہ قائم رکھ سکتے ہیں، ہاں تو کیسے؟

****       ****

محترمی رائے طاہر قیوم صاحب!

آپ کا ادبی محبت نامہ پڑھ کر مجھ سقراط کا قول یاد آیا

unexamined life is not worth living

مجھے اس بات کی خوشی ہوئی کہ آپ نے بھی زندگی کے بارے میں غور و خوض کرنے کے بعد اپنی ادبی زندگی کا آغاز کر دیا ہے۔ مجھے پاکستان میں آپ سے ملاقات اچھی طرح یاد ہے۔ مجھے اس بات کی بھی خوشی ہے کہ عبدالستار اور زبیر لودھی کی تخلیقات ’ہم سب‘ پر متواتر چھپ رہی ہیں۔ ’ہم سب‘ کے مدیر نئے لکھنے والوں کی بہت ہمت افزائی کرتے ہیں۔

آپ کے دوست نے ایک نہایت ہی ذاتی معاملے میں آپ سے مشورہ کیا ہے اور آپ انہیں مشورہ دینے کے لیے مجھ سے مشورہ کر رہے ہیں۔ میرا نہیں خیال کہ فریقین کو جانے بغیر میں کسی کواچھا مشورہ دے سکتا ہوں۔

میری نگاہ میں فریقین کا شادی سے پہلے ایک دوسرے کو اچھی طرح جاننا بہت اہم ہے۔ وہ جوڑے جو ایک دوسرے کی شخصیت اور ایک دوسرے کی پسند و ناپسند کو سمجھ جاتے ہیں وہ اپنی زندگی کے اہم فیصلے سوچ سمجھ کر ایسی رومانوی دانائی سے کرتے ہیں جسے میں wisdom of the heartکہتا ہوں۔

میں بہت سے ایسے جوڑوں کو جانتا ہوں جن کی یا تو خاندان والوں نے ارینجڈ شادی کروا دی اور یا جو ایک دوسرے کی رومانوی محبت میں گرفتار ہوئے لیکن ایک دوسرے کو اچھی طرح جانے بغیر شادی کر لی۔ چند ماہ ہنی مون کے مزے لیے اور پھر ازدواجی مسائل کا شکار ہو گئے۔ ان مسائل میں دونوں خاندانوں کے مسائل مستزاد تھے۔

ایسے جوڑوں کی رومانوی زندگی کے بارے میں کسی شاعر نے کہا ہے
آرزو اور آرزو کے بعد خون آرزو
ایک مصرعہ میں ہے ساری داستان زندگی
میری نگاہ میں کسی بھی رومانوی یا ازدواجی رشتے کی کامیابی کا انحصار مندرجہ ذیل تین اہم باتوں پر ہے

پہلی اہم بات۔ ۔ ۔ ایک دوسرے کے نظریات کو جاننا۔ ہم سب زندگی کے فیصلے چند نظریات کی بنیاد پر کرتے ہیں۔ ایک دوسرے کے خیالات اور نظریات اور فلسفہ حیات کو جاننا بہت ضروری ہے۔

دوسری اہم بات۔ ۔ ۔ ایک دوسرے کی توقعات کو جاننا۔ ۔ ۔ ہم سب کی اپنی ذات سے اور اپنے شریک سفر سے کچھ توقعات ہوتی ہیں۔ ہم رشتے کے آغاز میں ان کا کھل کر اظہار نہیں کرتے۔ شادی کے چند ہفتوں ’مہینوں اور سالوں میں ان توقعات کا دھیرے دھیرے اظہار ہوتا ہے اور پھر ہمیں مایوسی اور ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

تیسری اہم بات۔ ۔ ۔ شخصیت میں لچک ہے۔ ہم دوسرے شخص کی محبت میں اپنی شخصیت میں کتنی لچک پیدا کر سکتے ہیں اور سر جوڑ کر خلوص دل سے مسائل کا حل تلاش کر سکتے ہیں۔

میری نگاہ میں جب مشرقی مرد ان عورتوں سے شادی کرتے ہیں جو مغرب میں پلی بڑھی ہیں تو ان کے لیے ان عورتوں کی آزادی و خود مختاری کو قبول کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ وہ ایک مشرقی مرد ہونے کے ناتے شوہر اور مرد کی بالادستی قائم رکھنا چاہتے ہیں جو مغرب کی جمہوری فضا میں مشکل ہو جاتا ہے۔

میری نگاہ میں شادی اور محبت میں دوستی بہت اہم ہے۔ وہ دو محبوب اور میاں بیوی جو دوست بھی ہیں اور اپنی انا کو علیحدہ رکھ کر مل جل کر مسائل کا حل تلاش کرتے ہیں وہ کامیاب رہتے ہیں۔ ایسے رشتے برابری کے رشتے ہوتے ہیں۔ میں ایسی شادیوں کے حق میں نہیں ہوں جہاں میاں بیوی کا رشتہ آقا اور کنیز کا رشتہ بن جاتا ہے۔

میری نگاہ میں ہر شادی شدہ جوڑے کو کم از کم ایک سال خاندان سے علیحدہ رہنا چاہیے تا کہ وہ اپنے ذاتی اور ازدواجی مسائل کا مل کر حل تلاش کر سکیں۔ میں کئی ایسے جوڑوں کو جانتا ہوں جن کی شادی ان کے رشتہ داروں نے اتنا الجھا دی کہ وہ پھر نہ سلجھ سکی۔

اگر آپ چاہیں تو یہ دونوں خطوط اپنے دوست کو بھیج دیں۔ میں اپنے کلینک میں اپنے مریضوں کو اپنی ایک کتاب پڑھنے کو دیتا ہوں جو ان کی بہت مدد کرتی ہے۔ اس کتاب کا نام

THE ART OF LOVING IN YOUR GREEN ZONE ہے

اگر آپ کے دوست وہ کتاب پڑھنا چاہتے ہیں تو وہ مجھے ای میل کر سکتے ہیں اور میں اس کتاب کی پی ڈی ایف فائل انہیں تحفے کے طور پر بھیج دوں گا۔ میرا ای میل ایڈریس ہے

[email protected]

اگر ’ہم سب‘ کے مدیروں نے ان خطوط کو شرف قبولیت بخشا اور یہ خطوط شائع کر دیے تو آپ کے دوست کے علاوہ بہت سے اور لوگ بھی ان سے استفادہ کر سکیں گے۔

ادبی سفر میں نیک تمناؤں کے ساتھ
ڈاکٹر خالد سہیل

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 351 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *