ذکر صحافتی تاریخ کے اساطیری نیوز ایڈیٹر کا۔ ۔ ۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہماری خوش بختی کہ گزشتہ روز برادرم اسلم ہمشیرہ اور عزیزم اصغر جھبیل جیسے اساتذہ کرام نے اپنے قدوم میمنت لزوم سے کتاب سرائے کو رونق بخشی۔ مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے لیجنڈ فنکار اور شاعر طارق عزیز صاحب کا تذکرہ چھڑ گیا۔ ”ذکر یار“ سے شروع ہونے والی بات ان کی وفات کے حوالے سے اخبارات کی سرخیوں تک اور وہاں سے عباس اطہر صاحب تک جا پہنچی۔

کچھ معاصر اخبارات نے طارق عزیز صاحب کی وفات پر سرخی جمائی تھی کہ ”دیکھتی آنکھوں سنتے کانوں کو طارق عزیز کا آخری سلام“ ۔ ہماری ناقص رائے کے مطابق یہ جملہ اس لئے صحافتی فنی محاسن پر پورا نہیں اترتا تھا کہ قضا نے طارق عزیز صاحب کو دیکھتی آنکھوں اور سنتے کانوں کو آخری سلام کرنے کی مہلت ہی نہیں دی تھی، البتہ ان کی سانحہ ارتحال نے کتنی ہی دیکھتی آنکھوں اور سنتے کانوں کو سوگوار کر دیا۔ اخباری سرخیوں کا ذکر چھڑا تو ہمیں بے اختیار عباس اطہر صاحب یاد آ گئے۔ اہل صحافت میں آپ شاہ جی کے نام سے معروف تھے۔ جو آسمان سمان لوگ زمین کا رزق ہوئے، عباس اطہر بھی ان میں سے ایک تھے۔ انجیل مقدس میں جنہیں زمین کا نمک کہا جاتا ہے۔ لیکن افسوس کہ ہماری نئی نسل ان کے نام، کام اور مقام سے ہی ناواقف ہے۔

عباس اطہر صاحب ایک اساطیری نیوز ایڈیٹر تھے۔ صحافتی تاریخ کے واحد نیوز ایڈیٹر، جن کی سرخیوں کا مجموعہ شائع ہوا۔ وہی نابغہ روزگار آدمی، جس نے روزنامہ ”آزاد“ کے نیوز ایڈیٹر کی حیثیت سے 15 مارچ 1971 ء کو ”ادھر تم، ادھر ہم“ کی شہ سرخی شائع کی۔ یہ شہ سرخی ایک روز قبل نشتر پارک کراچی میں ذوالفقار علی بھٹو کے جلسے سے خطاب کے متن سے اخذ کی گئی تھی

عباس اطہر صاحب جب کسی خبر پہ سرخی جماتے تو دیکھنے والے اش اش کر اٹھتے۔ ایک بار کسی نے ان سے کہا: شاہ صاحب، آپ نے شاعری کیوں چھوڑ دی۔ جواب دیا: میں نے پیشہ اختیار کر لیا۔ اب اخبار میں شاعری کرتا ہوں۔ قصوری قتل کیس کے مقدمے میں جسٹس صمدانی نے بھٹو صاحب کو ضمانت پر رہا کیا تو شاہ جی نے اخبار میں محض دو حرفی سرخی جمانے پر اکتفا کیا ”جا“ ۔ جنوری 1996 ء میں سلطان راہی کو ڈاکوؤں نے قتل کر ڈالا۔ شاہ نے سرخی جمائی ”راہی راستے میں مارا گیا“

ہمارے لڑکپن کے دور میں عباس اطہر صاحب روزنامہ ”نوائے وقت“ میں ”کنکریاں“ کے مستقل عنوان سے کالم لکھا کرتے تھے۔ ان کا یہ کالم صفحہ نمبر دو پر شائع ہوتا تھا۔ والد بزرگوار کی زندگی کے آخری ایام میں ان کو اخبار کے باریک الفاظ پڑھنے میں دقت ہوتی تھی۔ لہذا سکول سے واپسی پر ان کو اخبار کا اداریہ اور کالمز وغیرہ پڑھ کر سنانا ہماری ذمہ داری تھی۔ عباس اطہر صاحب کے کالم سے آغاز کرتے تو فکاہیہ کالم ”سرراہے“ پر جا کر دم لیتے۔ یہی ایام تھے جب ان کے کالم قرات کر کر کے ان سے جذباتی وابستگی سی ہو گئی اور بے نام سا رشتہ بن گیا۔ ہمارے لئے بڑے اعزاز اور افتخار کی بات ہے ہم ان کے لاکھوں قارئین میں سے ایک تھے۔

شاہ جی کی یاد آئی ہے تو ایسے کتنے ہی عنوان جگمگا اٹھے ہیں۔ وہ ایک اخبار کے چیف نیوز ایڈیٹر تھے جب دو گنا تنخواہ پر ایک دوسرے اخبار نے انہیں کالم نگاری کی پیشکش کی۔ ایک آدھ جملے میں بات نمٹا دینے والے شاہ جی نے کہا ”کالم کیا ہوتا ہے؟ میں نیوز روم کا آدمی ہوں۔ کوئی بدقماش لیڈر ہتھے چڑھ جائے تو چار کالمی سرخی کے نیچے دفن کر سکتا ہوں۔ زائد تنخواہ کے لیے کیا کوئی پولیس افسر تھانے کا محرر ہو جائے گا؟“

شاہ صاحب صحافت کی قوت سے خوب واقف تھے اور موقع ملتا تو قلم کو شمشیر بنا دیتے۔ صدر فاروق احمد لغاری نے ایک بار ان سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی تو انہوں نے انکار کر دیا۔ ان کے خیال میں بے نظیر حکومت برطرف کر کے وہ احسان فراموشی کے مرتکب ہوئے تھے۔ مرحوم صدر نے اصرار جاری رکھا تو انہوں نے جواب دیا: چھٹی کا صرف ایک دن میسر آتا ہے، اگر آپ اس کی قیمت ادا کر سکتے ہوں تو تشریف لے آئیے۔ ”وہ ایسے ہی تھے۔ فیصلہ کن، یکسو اور واضح۔

جنرل ضیاء الحق کے دور آمریت میں عباس اطہر صاحب کو گرفتار کر لیا گیا اور قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں۔ 1981 ء میں امریکہ چلے گئے جہاں 1988 ء تک رہے۔ ضیاءالحق کے دور کے خاتمے پر وطن واپس آ گئے اور روزنامہ ”مساوات“ ، ”صداقت“ ، ”آزاد“ ، ”خبریں“ ، ”پاکستان“ اور ”نوائے وقت“ میں صحافتی خدمات انجام دیں۔ 2006 ء میں روزنامہ ”ایکسپریس“ سے وابستہ ہو گئے۔

بطور شاعر جناب عباس اطہر کی شاعری کا پہلا مجموعہ 1964 ء میں ”دن چڑھے، دریا چڑھے“ کے نام سے منصہ شہود پر آیا۔ دوسرا مجموعہ ”کہا سنا“ کے نام سے آیا لیکن اسے ضبط کر لیا گیا۔ اس کے بعد ان کے تمام کلام پر مبنی ”آواز دے کے دیکھ لو“ شائع ہوا۔

اپنے طویل صحافتی کیریئر کے دوران اخبار کی دنیا میں ہونے والی بہت سی تبدیلیوں کو عباس اطہر صاحب نے نہ صرف یہ کہ خود قریب سے دیکھا بلکہ ان تبدیلیوں کا حصہ اور محرک رہے۔ 12 اپریل 1939 ءکو مغل پورہ لاہور کے قریب تاجپورہ گاؤں غازی آباد میں پیدا ہونے والے سید عباس اطہر طویل عرصہ کینسر کے مرض میں مبتلا رہنے کے بعد 6 مئی 2013 ء کو انتقال کر گئے تھے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *