’میں سب سے بڑے ایڈونچر کے لیے تیار ہوں‘ – مستنصر حسین تارڑ کا انٹرویو
چند برس پہلے ’ہارٹ اٹیک‘ کے بعد آپ نے کہا تھا کہ اب آپ کچھ مختلف لکھنا چاہتے ہیں۔ وہ مختلف کیا ہے؟
مستنصر حسین تارڑ: میرا مسئلہ یہ ہے کہ میرے اندر ابھی تک فل اسٹاپ نہیں لگ رہا۔ مطلب لکھ بھی بہت لیا ہے۔ لوگ بھی کہتے ہیں کہ اب بس کرو لیکن کچھ ہے جو میں ابھی لکھنا چاہتا ہوں۔ میری ایک مرتبہ اس حوالے سے بانو قدسیہ سے بھی بات ہوئی تھی۔ میں بانو آپا کی رائٹنگ کو اتنا پسند نہیں کرتا تھا لیکن ان سے میری دوستی تھی۔ ان کا خواتین کے حوالے سے نظریہ کچھ مختلف تھا۔ بلکہ میرا بیٹا سلجوق، جو یو این او میں ہے، وہ لوگ وہاں ویمن ایمپاورمنٹ کے حوالے سے کچھ کر رہے تھے۔ تو بیٹے نے کہا کہ ابو ہم بانو قدسیہ کی تصویر لگانا چاہتے ہیں! میں نے کہا وہ تو اس کے خلاف تھیں، وہ تو کہتی تھیں کہ عورت کو مرد سے دس قدم پیچھے ہٹ کر چلنا چاہیے۔ لیکن خیر میں نے کہا لگائیں، میری اچھی دوست تھیں اور بہت نائس لیڈی تھیں۔
میں بھول گیا ہوں اب ہم بات کیا کر رہے تھے۔ ہاں تو وہ میری بیماری کی بات تھی۔ تب میری بیوی پہلی مرتبہ روئی میرے لیے، مجھے خوشی بھی ہوئی کہ چلو مرتے وقت ہی اسے میرا خیال تو آیا ہے۔ میرے بیٹے سمیر نے کچھ پڑھنا شروع کر دیا، تو اس وقت بہت قریب تھا میں موت کے۔
اس واقعے کے بعد آپ کی تحریروں میں تبدیلی آئی ہے، موت کا ذکر مسلسل ہونے لگا ہے؟
مستنصر حسین تارڑ: نہیں موت کا ذکر میں پہلے بھی کرتا تھا لیکن ظاہر ہے اب یہ میرا ذاتی تجربہ تھا۔ جب مجھے آپریشن کے لیے لے جایا جا رہا تھا تو مجھے یوں لگا میری والدہ وہاں پہنچ گئی ہیں، سادہ سے کپڑے تھے، ویسے ہی جیسے ایک دیہات کی ماں ہوتی ہے۔ سنا تو ہوا تھا کہ مرنے سے پہلے آپ کو لینے والے آ جاتے ہیں۔ میں نے امی سے پوچھا کہ آپ کیا کر رہی ہیں تو انہوں نے کہا کہ میں تمہاری خیریت معلوم کرنے آئی ہوں۔ مجھے حوصلہ ہوا کہ چلو شکر ہے لینے نہیں آئیں۔
اس واقعے کے بعد آپ کا مذہب کی طرف رجحان بڑھا ہے؟
مستنصر حسین تارڑ: نہیں، قطعی نہیں۔ میں آج بھی وہاں ہی کھڑا ہوں، جہاں چار برس پہلے کھڑا تھا۔ میں وہ ڈرپوک شخص نہیں ہوں، جو موت کو سامنے دیکھ کر تسبیح پکڑ لیتا ہے۔ جو میں ہوں، وہ میں ہوں، میں تو بلھے شاہ کا مرید ہوں نا۔ میری نئی کتاب منطق الطیر جدید تصوف پر ہی ہے لیکن یہ خیالات میرے ناول پکھیرو میں بھی ہیں۔
تو آپ محبت سے تصوف کی طرف آئے ہیں؟
مستنصر حسین تارڑ: نہیں، یہ چیز ہمیشہ سے ہی وہاں تھی۔ یہ تصوف تو اب آ کر ہو گیا نا۔ اب تو ہر کوئی اسے بیچتا پھر رہا ہے، ہر کوئی بابا بننے کے چکر میں ہے۔ میں وہ نہیں ہوں، اس کی چھابڑی نہیں لگانی، مجھے بابا نہیں بننا۔ میری جو دو کتابیں ہیں، منہ ول کعبہ شریف اور غار حرا میں رات، مجھے بڑی کوشش کی لوگوں نے بابا بنانے کی لیکن میں بڑی مشکل سے بچا ہوں۔ اصل میں میں نفرت کرتا ہوں، جو میں نہیں ہوں، لوگ مجھے وہ سمجھیں۔
ایسے ہی ان گنت سوالات و جوابات کا سلسلہ چلتا رہا اور ہم وہاں کافی دیر تک بیٹھے رہے۔ باتیں ختم نہیں ہو رہی تھیں لیکن انہوں نے کہا کہ جب دوبارہ پاکستان آؤ تو لازمی آنا۔ میں نے ایسے ہی چلتے چلتے پوچھ لیا کہ پہلی محبت آپ کو کب ہوئی؟ وہ مسکرائے، تم بہت ہی احمق ہو اگر سمجھ رہے ہو کہ میں تمہیں بتا دوں گا، ہم دونوں ہنس پڑے۔ لیکن ان کی جلتی بجھتی آنکھوں سے مجھے لگا کہ جیسے میں نے ماضی کے تالاب میں کوئی کنکر پھینک دیا ہو۔
میں دیکھا کہ وہ اپنی گاڑی میں بیٹھنے سے پہلے کسی سے بھی ہاتھ ملانے سے گریزاں ہیں۔ شاید وہ اپنی صحت کے بارے میں اب زیادہ فکرمند رہتے ہیں۔


