عورت اور تشدد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دوستوں کے ہمراہ چائے کی نشست پر دوران گفتگو بات نکل پڑی کہ کیا ابھی بھی ہمارے علاقے (جنوبی پنجاب) میں مرد حضرات اپنی بیویوں پر ہاتھ اٹھاتے ہیں؟ اسی روز رات کو والدہ محترمہ کو بات کرتے سنا کہ کسی دور کے رشتہ دار نے اپنی بیوی کو اس قدر بے رحمی سے پیٹا کہ وہ تین دن تک آنکھوں پر سوجن کے باعث دیکھ نہ سکی۔ والدہ کی بات سنتے ہی نگاہیں اپنی بہنوں پر مرکوز ہو گئیں اور بے شمار خدشات دماغ میں رقص کرنے لگے۔ جنوبی پنجاب ہی کیوں، پورے پنجاب بلکہ پاکستانی سماج کے مختلف حصوں اور علاقوں میں ظلم و ستم کی یہ داستانیں سننے کو ملتی ہیں کہ ظالمانہ نظام کے ہاتھوں بے بس ہو جانے والا مرد جب ہر جگہ اپنی طاقت کو کمزور اور خود کو لاچار پاتا ہے تو اپنی بے بسی دور کرنے خاطر تمام تر مردانگی بیوی پر ہاتھ اٹھانے میں صرف کرتا ہے۔

عورت جسے ظاہراً ماں، بہن، بیوی اور بیٹی کا درجہ دیا گیا ہے، ہمارے اس ظلمت زدہ معاشرے میں در حقیقت آج تک اپنا صحیح مقام نہیں پا سکی۔ خوشی، غمی، عید شب برات، یا کوئی تہوار ہو، جون جولائی کی تپتی لو ہو یا دسمبر کا سخت جاڑا، ہر موسم ہر تہوار سے بے نیاز عورت کا مقدر باورچی خانے کا ایندھن بننا ٹھہرا۔ پیدا ہونے سے لے کر رخصتی تک ماں باپ کی عصمت کا بوجھ اس کا مقدر بنا جسے اپنی تقدیر سمجھ کر سنبھالتی ہوئی وہ شوہر کے گھر آن پہنچی اور پھر شوہر کی عصمت کا بار گراں اس کے کندھوں پر آ گرا۔ باقی کی عمر بچوں اور خاوند کی خواہشات کی چکی میں پستے گزر گئی۔

دیہاتی عورت کی زندگی کسی عذاب جہنم سے کم نہیں کہ سورج کی پو پھٹنے سے پہلے اٹھ بیٹھتی ہے۔ مال مویشیوں کا چارہ، گھر کی صفائی کرنے کے بعد پورے خاندان کے کھانے پینے کا بندوبست اور پھر برتن سمیٹنے سے فرصت نہیں ملی کہ دوپہر کے کھانے کا وقت آن پہنچا۔ بیچ میں گر کچھ وقت ملا تو کوئی خواہش حکم بن کر نازل ہوئی اور اسے پورا کرنے میں وہ وقت بھی نکل گیا۔ شام میں گوبر کے اپلے بناتی رہی، دودھ دوہنے اور رات کا کھانا کھلانے کے بعد جب بدن تھکان اور درد سے ٹوٹ کر چارپائی پر گرا تو مرد نے اپنی تسکین واسطے اس کے بدن کو مزید چور چور کر دیا۔

صبح و شام، دن رات اسی طرز پر نکلتے رہے۔ ساری زندگی گھر کو سنوارنے بنانے اور تندور پر روٹیاں لگانے میں نکلتی رہی۔ اس سب کے باوجود جب جب مرد بے بس ہوا تو اس کی بے بسی برق بن عورت پر گرنے لگی۔ جب جی میں آیا تھپڑ رسید کر دیا۔ غصہ حد سے تجاوز کرنے لگا تو اپلوں اور ڈنڈوں کی بوچھار ہونے لگی۔ عورت کی تذلیل کو مرد نے اپنی مردانگی ثابت کرنے کا ذریعہ سمجھا۔

چند روز قبل ایک دوست نے اپنے ہمسائے کا قصہ بیان کیا کہ جس نے ساری عمر بیوی کو اپنے ہی بچوں کے سامنے مارتے پیٹتے گزاری۔ بچے جوان ہو گئے مگر باپ کی عقل پر قفل لگے رہے۔ اس کی درندگی کو لگام نہ لگی۔ ایک روز ماں کو پٹتا دیکھ جوان بیٹا باپ کے گریبان میں ہاتھ ڈالنے پر مجبور ہو گیا۔ اپنی مردانگی کو جوان بیٹے سامنے پست ہوتا دیکھ معافی مانگ وہ شخص گھر سے نکلا اور ہمارے دوست کے پاس پہنچا۔ گھنٹوں زار و قطار رونے کے بعد جو الفاظ اس کے منہ سے نکلے وہ دل دہلا دینے والے تھے۔

کہنے لگا کہ زندگی میں آج پہلی بار یہ احساس ہوا کہ جب میں اپنی بیوی کو بچوں کے سامنے مارتا پیٹتا تھا تو اس پر کیا گزرتی تھی۔ گھر پہنچ بیوی اور بچوں سے معافی مانگی اور تمام تر جائیداد بیوی کے نام لکھ دی۔ احساس ندامت بہت بڑی بات ہے مگر کیا اس کی وہ جائیداد بیوی پر کیے گئے ظلم و ستم کا ازالہ کر سکتی ہے؟ کیا یہ جائیداد اس عورت کی جوانی واپس لا سکتی ہے جو ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھائے بوڑھی ہو چلی ہے؟ نہیں یہ ہرگز ازالہ نہیں ہو سکتا۔

کسی بھی معاشرے میں عورت کا مقام اس معاشرے کے مقام کی عکاسی کرتا ہے۔ آزادانہ معاشرے عورت کو احترام، آزادی رائے اور عزت نفس عطا کرتے ہیں۔ جب کہ عورت کو مغلوب اور محکوم بنانے والے معاشرے غلامی، ذلت اور پستی کا شکار ہوا کرتے ہیں۔ سکول میں نپولین کا ایک مشہور جملہ پڑھا تھا کہ تم مجھے ایک پڑھی لکھی ماں دو۔ میں تمہیں ایک پڑھی لکھی نسل دوں گا۔ ایک پوری نسل کی اخلاقی و ذہنی تعلیم و تربیت اور پرورش کی ذمہ داری عورت پر لاگو ہوتی ہے۔ وہ عورت جسے محکوم بنا کر ذلت کی وادیوں میں دھکیلا گیا ہو ایک ایسے معاشرے کی تخلیق کا باعث بنے گی جو اخلاقی لحاظ سے پستی کی اعلی ترین سطح پر ہوگا۔ جو ذہنی لحاظ سے مفلوج ہوگا۔ اس کے نوجوان بے راہ روی کا شکار ہوں گے۔ غلامی ایسے معاشرے کا مقدر بنے گی۔

اس بابت امام انقلاب ہند مولانا عبیداللہ سندھی (رح) رقمطراز ہیں، ”ہمارے ہاں یہ ہوا کہ ہم نے اپنی بیویوں کو محکوم بنایا اور انہیں ذلیل سمجھا، اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے گھروں کی فضا محکومی اور ذلت سے آلودہ ہو گئی ہے۔ ہم اس فضا میں سانس لیتے ہیں اور ہمارے بچے اسی میں پلتے ہیں۔ چناں چہ ہماری اس گھریلو زندگی کا اثر ہماری گھر سے باہر کی زندگی پر پڑا۔ جس طرح گھر کے اندر ہم نے اپنی عورتوں کو محکوم اور ذلیل سمجھا، اسی طرح ہم خود بھی گھر کے باہر اخلاقی لحاظ سے محکوم اور ذلیل ہو گئے اور ہماری اولاد اس سانچے میں ڈھلتی چلی گئی۔ سچ پوچھو تو ہماری موجودہ قومی پستی، جمود، بے ضمیری اور عدم ثبات و استقامت ہماری اس گھریلو زندگی کی وجہ سے ہے۔ اب اگر ہمیں آزاد ہونا ہے اور اس دنیا میں اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کی ہمت پیدا کرنا ہے تو ضرورت ہے کہ ہم اپنی عورتوں کے اندر عزت نفس اور رفاقت کا شعور پیدا کریں۔“

خدارا اپنی غلامانہ ذہنیت کے شکنجے توڑیے۔ جان لیجیے کہ حضرت خدیجہ ایک تاجر تھیں جنہوں نے دین اسلام کی اشاعت واسطے نبی اکرم ﷺ کی مالی معاونت فرمائی۔ درس و تدریس میں حضرت عائشہ کی خدمات سے کس کو انکار ہے؟ حضرت خولہ بنت ازور کی بہادری کے قصے کس نے نہیں سنے کہ شوہر کی وفات پر ماتم کرنے کے بجائے گھوڑے پر سوار ہو تلوار ہاتھ میں لیے دشمنوں پر ٹوٹ پڑیں۔ اپنی بیٹیوں پر اپنی عصمتوں کے بوجھ مت ڈالیے۔ ان کی تربیت اس طرح کیجئے کہ ظلم و ستم کے خلاف آواز بلند کر سکیں۔

انہیں تعلیم کے حق سے محروم کرنے کی بجائے خود کفیل بننے دیجئے کہ کل کو کوئی انسان نما درندہ ان کی عزت نفس مجروح نہ کر سکے۔ انہیں خودی کا درس دیجئے کہ وہ ایک آزاد معاشرے کی تخلیق کر سکیں۔ ایسا معاشرہ جو غلامی کی زنجیریں توڑ آزادی کی شمعیں جلا سکے۔ اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ہماری عورتیں محکوم ہیں۔ اپنی بیویوں سے لونڈیوں جیسا سلوک روا نہ رکھیں۔ ان کی عصمتیں تار تار مت کیجئے۔ سمجھ لیجیے کہ ان کے بغیر مرد کا وجود آدھا ہے۔ اپنی مردانگی اس استحصالی نظام کے خلاف استعمال کیجئے جو برسوں سے آپ کو غلام بنائے ہوئے ہے۔ اور یقین جانیے عورت کے ساتھ اور مدد کے بغیر آپ اس استحصالی نظام سے ہرگز ہرگز نہیں لڑ سکتے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
طلحہ محمود راجپوت کی دیگر تحریریں

Leave a Reply