مشتاق احمد گرمانی سائنس کالج کے طلبہ کے نام!

انٹرمیڈیٹ سال دوم کے انگریزی نصاب میں شامل ناول ”گڈ بائے مسٹر چپس“ کا ایک منظر آنکھوں کے سامنے گردش کر رہا ہے کہ جب بستر مرگ پر نیم خوابی کے عالم میں چپس کا ذہن اپنے طلبہ کے ناموں اور ان ناموں سے منسلک یادوں کی کیفیت میں مستغرق ہوتا ہے۔ ایسی قلبی و روحانی وابستگی کلاس روم کے رسمی تعلق کے اختتام پر شاید ہر استاد کے حصے میں آتی ہے۔ بارہویں جماعت میں یہ ناول پڑھاتے ہوئے،

Read more

بھگت: راہ انقلاب کا متوالا

عزم و ہمت، جوش و جذبہ اور بہادری اور سرفروشی کی ایسی ہی لازوال مثال قائم کرنے والا ایک نام بھگت سنگھ بھی ہے کہ انگریز سے آزادی کا خواب کبھی حقیقت نہ ہو پاتا اگر یہ نوجوان آزادی کو اپنی دلہن نہ بناتا۔ مستنصر حسین تارڑ کے ناول ”میں بھناں دلی دے کنگرے“ نے تاریخ کے اس غیر معمولی کردار کو سو سال بعد دوبارہ حقیقت کے پردے پر لا کھڑا کیا۔ پنجابی زبان میں لکھا گیا یہ ناول

Read more

محبت اور سرمایہ داری

دودھ سی سپید رنگت، سحر انگیز سرمئی آنکھیں، جبین نور افشاں، لب کہ شگفتگی گل سے مزین، گیسو کہ مشک ختن، سیمیں بدن کہ عالم کی بہاریں نثار ہوں، شیریں سخن کہ شہد کی مٹھاس پھیکی پڑنے لگے، غنچہ دہن کہ گل و گلاب اسے دیکھ سر جھکانے لگیں۔ بے رخی، کج ادائی اسے زیب دیتی تھی۔ زندگی اس پر نثار ہوا کرتی تھی۔ ماحول سے بے نیاز، آنکھوں میں طلوع آفتاب سے پہلے کے وقت کی چمک لئے، بے

Read more

عورت اور تشدد

دوستوں کے ہمراہ چائے کی نشست پر دوران گفتگو بات نکل پڑی کہ کیا ابھی بھی ہمارے علاقے (جنوبی پنجاب) میں مرد حضرات اپنی بیویوں پر ہاتھ اٹھاتے ہیں؟ اسی روز رات کو والدہ محترمہ کو بات کرتے سنا کہ کسی دور کے رشتہ دار نے اپنی بیوی کو اس قدر بے رحمی سے پیٹا کہ وہ تین دن تک آنکھوں پر سوجن باعث دیکھ نہ سکی۔ والدہ کی بات سنتے ہی نگاہیں اپنی بہنوں پر مرکوز ہو گئیں اور بے شمار خدشات دماغ میں رقص کرنے لگے۔ جنوبی پنجاب ہی کیوں، پورے پنجاب بلکہ پاکستانی سماج کے مختلف حصوں اور علاقوں میں ظلم و ستم کی یہ داستانیں سننے کو ملتی ہیں کہ ظالمانہ نظام کے ہاتھوں بے بس ہو جانے والا مرد جب ہر جگہ اپنی طاقت کو کمزور اور خود کو لاچار پاتا ہے تو اپنی بے بسی دور کرنے خاطر تمام تر مردانگی بیوی پر ہاتھ اٹھانے میں صرف کرتا ہے۔

Read more

سعادت حسن منٹو؛ وہ جو تھا اک مسیحا

اردو ادب میں اگر کسی ایسے لکھنے والے کا نام پوچھا جائے جو انسانی نفسیات کے سپید و سیاہ رنگ روپ اپنے قلم کی سیاہی سے کاغذ پر منعکس کرتا رہا ہے تو میں سعادت حسن منٹو کا نام لوں گا۔ سعادت حسن منٹو کا ادب شاید آج تک متنازع نگاہوں سے پڑھا جاتا رہا ہے اور اس کی وجہ ان کی بے باکی اور صاف بیانی ہے۔ ایک ایسا افسانہ نویس جس نے انسانی شخصیت اور انسانی نفسیات کے

Read more

بے گوروکفن جنازہ

کسی معاشرے کی تہذیب و ثقافت، اس میں عائد رسم و رواج، اور معاشی، معاشرتی اور سیاسی پہلوؤں کا دائرہ کار سمجھنے کے لیے اس معاشرے میں تخلیق کیا جانے والا ادب خصوصی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ غرض کہ ادب ایک معاشرے کا عکاس ہے اور معاشرتی تہذیب و ثقافت کی حفاظت کا ضامن۔گزشتہ دو برس سے اردو ادب کے مطالعہ کا شرف نصیب ہوا۔ جدید اور کلاسیکی دور کے ادب کو سمجھنے، پرکھنے اور جانچنے کے بعد آج رقم طراز ہوں کہ دل کے غبار کو الفاظ کے روپ میں ڈھال سکوں۔ دور جدید کی بات کی جائے تو ہر شخص خود کو لکھاری تصور کیے الفاظ کے لامتناہی سلسلے کا ایک جال بنے ہوئے ہے۔ الفاظ کے اس جال میں ادب کا بے گوروکفن جنازہ قارئین کے لئے ستم ظریفی کا باعث بنا ہوا ہے۔

Read more