امید کا سفر جاری رہتا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عمران خان کی سرکار کو جمہوریت کی وجہ سے بہت ڈھارس ہے۔ اس کو معلوم ہے کہ قومی اور صوبائی ممبران اسمبلی اپنی حیثیت اور اہمیت کا اندازہ رکھتے ہیں بس خرابی کیا ہے عمران خان سنجیدہ ہے اور وہ سب جو حزب اختلاف سے تعلق بتاتے ہیں رنجیدہ ہیں۔ آئے دن نفرت اور تکبر کے پرچار سے میڈیا کو اپنا دکھ سناتے ہیں۔ بے چارہ بلاول پہلے تو سابق صدر آصف علی زرداری کے زیر سایہ رہا۔ اس کو چھایا تو میسر آئی مگر اس کی سیاسی آبیاری نہ ہو سکی۔

دوسری جماعت مسلم لیگ نواز اس جنگ میں اندرون خانہ شدت سے تقسیم ہوتی نظر آ رہی ہے۔ ان کے خوشگوار تعلقات اپنے پرانے حریف مسلم لیگ ق کے ساتھ کسی نئے اتحاد کی بنیاد رکھتے نظر آرہے ہیں۔ ان کا جذبہ ایمانی کھل کر سامنے آ رہا ہے۔ ایسے میں عمران خان کو مکمل اندازہ ہے کہ اس کے ساتھ کیا ہو سکتا ہے۔ اس کی اس کو زیادہ فکر نہیں۔ اس سے پہلے جمہوریت کے سایہ کے نیچے دو وزیر اعظموں کو عدالت برخواست کرچکی ہے۔

اب کیا ہو سکتا ہے اس کی سب ہی فکر ہو رہی ہے ہیں۔ مگر سب کو یہ بھی فکر ہے کہ ان کی جمہوریت ایسے میں ان سب کو سیاسی اور سماجی طور پر عاق ہی نہ کردے۔ بہت دن پہلے کی بات ہے ہماری دوست شانتی دیوی نے پوچھا تھا۔ اگر پاکستان کرپشن کے خلاف جنگ جیت لیتا ہے تو کیا عوام کی حالت اور سوچ بدل سکتی ہے۔ پھر اس نے یہ بھی لکھا کہ دنیا میں اگر کسی امیر کبیر بڑے عہدے والے شخص کو خدا سے معافی مانگتے دیکھو تو یاد رکھنا وہ مذہب اور عقیدے سے زیادہ چوری پر یقین رکھتا ہے۔

پھر مجھے بھی ایسی ہی بات یاد آئی جو کہ مشہور امریکی مزاح کے پروگرام کرنے والی شخصیت ایمو فلپس نے اپنے کسی پروگرام میں کی تھی۔ اب میں جب امریکی صدر کے فرمودات سنتا ہوں یا بھارت میں جمہوریت کے ٹھیکیدار پر دان منتری کا بھاشن سنتا ہوں تو مجھے یقین آ جاتا ہے کہ خدا سے معافی مانگنا کتنا ضروری ہے۔ ان لوگوں کو یقین ہوتا ہے کہ اتنی بڑی دنیا میں خدا ان کو کہاں دیکھے گا اور رہا چوری کا معاملہ تو اس حمام میں سب ہی ننگ دھڑنگ ہیں۔

ہمارے حکمرانوں پر چوری کے بہت سے الزامات لگتے رہتے ہیں مگر شکر ہے کہ وہ ہمارے سامنے کبھی بھی خدا سے معافی مانگتے نظر نہیں آتے اور نہ ہی ان کو ضرورت ہے۔ ہماری سیاسی اور سماجی اشرافیہ کرپشن کے معاملہ پر یک زبان نہیں ہیں۔ پھر جمہوریت کا رولا لپا ڈالنے والے لوگ اسمبلی میں بجٹ کے سلسلہ میں دعووں کے برعکس کتنی تیزی سے سوچ بدلتے ہیں۔ یہ ہی خاصا ان کو سیاست میں عیار اور چالاک بناتا ہے۔ پاکستان میں کہنے کو جمہوریت کا پرچار بہت ہے۔

چند دن پہلے تک جب بجٹ کے بارے میں قیاس اور گمان زوروں پر تھا۔ ملک بھر کے بہترین صحافی حضرات کا خیال تھا کہ کپتان عمران خان کی سرکار بجٹ کے معاملہ پر سرنگوں ہو جائے گی۔ دوسری طرف اپوزیشن کے لوگ بہت دعوے کرتے نظر آ رہے تھے پھر کپتان عمران خان کے شریک گروپ کے سربراہ اختر مینگل نے فیصلہ دے دیا کہ وہ عمران خان کی مخلوط سرکار میں اب ان کے ساتھ نہیں چل سکتے۔ ان کے اعلان کے فوراً بعد مسلم لیگ نواز کے مریم گروپ نے ان سے رابطہ شروع کیا اور دوسری طرف پیپلزپارٹی کے بلاول زرداری بھٹو گروپ نے بھی مولانا فضل الرحمن کے ساتھ مل کر متحدہ اپوزیشن کا قلندری نعرہ بلند کیا اور یوں لگنے لگا کہ بجٹ کے معاملہ پر تحریک انصاف کی سرکار کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

مرکز میں مسلم لیگ ق کے لوگ بھی اپوزیشن کے ساتھ بات چیت کرتے نظر آئے۔ صرف شہباز شریف اس موقع پر خاموش تھے۔ صحت اور سیاست دونوں کی طرف سے ان کو تشویش تھی۔ پھر کیا ہوا اور کچھ یوں ہوا۔ تمام گمان، قیاس اور اندازے ایک دفعہ پھر مات کھا گئے اور بجٹ منظور کروا لیا گیا۔ کچھ ایسی ہی گمبھیر صورت حال گزشتہ سال درپیش تھی۔ عمران خان کی سرکار نے فیصلہ کیا تھا یا ان کو اندازہ تھا کہ علاقائی تناظر میں بھارت کے عزائم بہت جا رہا نہ ہوتے جا رہے ہیں اور ایسی صورت حال میں افواج پاکستان کی کمانڈ کی تبدیلی مناسب نہ ہوگی اور جنرل باجوہ کو مزید تین سال کے لیے چیف بنا دینا مناسب ہوگا اس پر علانیہ جاری کر دیا گیا۔

پھر اس پر سپریم کورٹ کو نہ جانے کس کے کہنے پر خیال آیا کہ اگر ایسا کرنا ہے تو اسمبلی سے اجازت ضروری ہے۔ اس وقت بھی متحدہ اپوزیشن عمران خان کی سرکار کو گرانے پر بس تیار ہی تھی۔ اگرچہ تحریک انصاف نے سابق وزیراعظم کو سزا کے باوجود ملک سے باہر جانے پر اعتراض نہیں کیا صرف پنجاب ہائی کورٹ سے درخواست کی کہ معاملہ قانون کی مرضی سے طے کیا جائے سو سابق وزیراعظم اور خدام اعلیٰ معالج کی تلاش میں لندن چلے گئے اور پھر ایک دفعہ متحدہ اپوزیشن نے عمران خان کی حکومت کے ساتھ مل ملا کر جنرل باجوہ کو افواج کے کمانڈر کی حیثیت میں تین سال مزید عطا کر دیے۔

اس معاملہ میں پاکستان کے دوست مہرباں ملک بھی خوش تھے اور سرکار کو اعتماد میسر آیا۔ اس وقت پاکستان پر چار ادارے حکومت کر رہے ہیں ایک ادارہ تو عمران کی کابینہ کا ہے، دوسرا ادارہ متحدہ اپوزیشن ہے۔ تیسرا ادارہ نیب کا ہے جو ملک میں کرپشن کو ختم کرنے کے لیے کچھوے کی چال سے چل رہا ہے اور چوتھا ادارہ صوبے اور مرکز کی اعلیٰ عدالتیں ہیں۔ ان تمام کا عوام کے لیے کوئی خاص کردار نظر نہیں آتا اور چاروں ادارے بڑے آرام سے عوام کو نظرانداز کر کے سانپ سیڑھی کا سیاسی کھیل کمال سے کھیل رہے ہیں۔

ویسے تو اسمبلی میں بڑا شور شرابا رہتا ہے اور بے چارے سپیکر صاحب بہادر کو تماشا دکھانے والوں کو روکنا مشکل ہوجاتا ہے۔ دو سال میں اس اسمبلی نے عوام کے لیے کوئی کام نہیں کیا ممبران اسمبلی کو اندازہ ہی نہیں کہ ملک کی معیشت کو ان کے تجربے اور اعتماد کی ضرورت ہے۔ عمران خان کی سیاسی ٹیم بھی اپوزیشن الیون کے سامنے کچھ ڈری ڈری سی رہتی ہے۔ دوسرے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اپنی صحت کے کارن اور اپنی جماعت کے اندر مریم کی مخالفت کی وجہ سے کوئی فیصلہ کن کردار ادا کرنے میں ناکام ہیں۔

عوام کو تسلی بھی دینا ان کو اچھا نہیں لگتا۔ وہ فقط کسی غیبی امداد کے محتاج نظر آرہے ہیں۔ 7 اس ساری صورت حال میں دوست اور دشمن سب دیکھ رہے ہیں کہ پاکستان میں اختیارات کی ایک جنگ جاری ہے۔ ملک کے اہم ادارے اپنے اختیارات کا خوب استعمال کر رہے ہیں۔ ان کی وجہ سے جمہوریت کو مسلسل خطرہ درپیش رہتا ہے۔ ہمارے میڈیا کے بڑے بڑے ناخدا کسی کا نام لیے بغیر کہتے نظر آتے ہیں کہ عمران کو لانے والے لوگ ان سے مایوس ہوچکے ہیں۔

مگر مجبوری یہ ہے کہ ان کو متبادل نہیں مل رہا۔ دوسری طرف ملک کا جمہوری نظام مکمل طور پر بے کار ہوچکا ہے۔ آئین کی ترمیمات نے آئین میں عوام کے حقوق کو نظرانداز کر دیا ہے۔ صوبے خودمختار ضرور ہیں مگر وہ اہلیت سے محروم نظر آرہے ہیں پھر ایسے میں کون سا نظام ملک کی وحدت اور ریاست کے لئے ضروری ہو سکتا ہے۔ صدارتی نظام کی خامیاں امریکی جمہوریت میں بھی نمایاں ہیں۔ ترقی کے لیے نظام کی قید سے آزاد ہونا ضروری ہے۔ ہمارے تمام سیاسی نیتا زائد عمر ہوچکے ہیں اور ان کی کوئی خاص ضرورت بھی نہیں۔ اندازہ غیر معمولی حالات کی دستک سنائی دیتی ہے۔

ایسے میں عرض دعا ہے :
؎ کبھی مایوس مت ہونا
امیدوں کے سمندر میں
تلاطم آتے بھی رہتے ہیں
سفینے ڈوبتے بھی رہتے ہیں
لیکن امید کا سفر جاری رہتا ہے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *