تشدد کرنے والا مرد: سوچا شادی کے بعد ٹھیک ہو جائے گا، کیوں سوچا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ شب ایک ٹویٹر اکاؤنٹ سے ایک تھریڈ پوسٹ کیا گیا جس میں میڈیا سے تعلق رکھنے والے علی سلمان علوی پر یہ الزام عائد کیا گیا کہ وہ اپنی بیگم پر تشدد، مختلف خواتین سے تعلقات، بلیک میلنگ اور بعد ازاں بیوی کے قتل میں ملوث ہیں۔ ان کی مرحومہ بیوی صدف زہرا کی بہن کا حوالہ دے کر یہ الزام عائد کیے گئے اور بعد ازاں علی سلمان علوی کے خلاف سرکاری کارروائی کا بھی آغاز ہو چکا۔ ٹاپ ٹرینڈ بھی ہو گیا۔ بحث بھی کہ مار پیٹ سے بہت بہتر طلاق ہوتی ہے تو ایسے انسان کو چھوڑ دیا جائے۔ طلاق کے حق میں دلائل پیش کیے گئے اور اس انسانی حق کو سماجی طور پر قابل قبول بنانے کا بتایا گیا۔ اب تھوڑا پچھلے سال میں جائیں۔

ایک مشہور کیس جو سوشل میڈیا سے وائرل ہوتا کورٹ تک پہنچا وہ اسما عزیز نامی خاتون کی بیان کردہ روداد تھی کہ اس نے اپنے شوہر کے دوستوں کے سامنے ڈانس کرنے سے انکار کیا جس پر اس کے شوہر میاں فیصل نے دوست کے ساتھ اسے تضحیک و تشدد کا نشانہ بنایا اور اس کے سر پر ٹریمر پھیر دیا۔ پہل پہل کافی جوش سے خاتون کے حق میں بولا گیا کہ اچانک اس کے ڈانس کی ایک ویڈیو آئی۔ بعد ازاں ان دونوں کے طرز زندگی اور نشے کی لت کے بارے خبروں کے آتے ہی معاشرتی رائے اچانک تقسیم ہوتے ہوتے خاموشی میں بدل گئی۔

یہ واقعہ صرف ایک مثال کے طور پر پیش کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ ہم خود ان واقعات کی ایک فہرست پہ نظر ڈالیں کہ فاطمہ سہیل، طیبہ بمقابلہ چیئرمین نیب، ججا بٹ اور دیگر کتنے ہی واقعات سوشل میڈیا پر ڈالی گئی کسی ویڈیو آڈیو سے شروع تو ہوتے ہیں مگر اصل ایشو ”تشدد“ کے تدارک کے لئے کیا کیا جاتا ہے؟ ”کلک بیٹ“ یعنی خبر کو تڑکا لگا کر وقتی تشہیر کے بعد اچانک وہ سرے سے غائب ہی ہو جاتی ہے۔ نظام، ادارے اور معاشرہ سب اگلے واقعے کی تلاش یا انتظار میں لگ جاتے ہیں۔

منطق، نتیجہ اور فیصلہ کرنے کا کسی کا کوئی ارادہ نہیں۔ علیحدگی کا مشورہ دینے والے بہت ہیں مگر آج تک ہم نے مطلقہ خاتون کے معاشی تحفظ کے لئے کوئی پالیسی یا سماجی قبولیت نہیں دیکھی۔ چار خواتین بھی ٹی وی یا ٹویٹر پہ جوش ٹھنڈا کر لیں گی مگر عملی طور پر عورت وہ بھی عام یا غیر تعلیم یافتہ کے لئے ہمارے پاس کوئی باعزت رستہ نہیں کہ وہ اپنے حالات زندگی کو بہتر بنا سکے گی۔ روٹی تو دو وقت سب کا انتظام بن جاتا ہے۔ تعلیم یافتہ مطلقہ کے لئے بھی اکیلے اپنے معیار زندگی کو بہتر بنانا مشکل ہے۔ اشرافیہ کے معاملات الگ ہیں، وہاں پھر بھی گنجائش نکل سکتی ہے۔ یہاں اکثریت کی بات کی جا رہی ہے۔

ہمارے یہاں عورت مارچ بحث برائے بحث کے سوا کچھ بھی نہیں۔ زندگی میں تبدیلی شعور اور آگاہی سے لائی جاتی ہے۔ آپ کے اپنے معاشرے کی عورت ابھی شعور سے محروم ہے۔ آپ کا سارا زور سمٹ کر ایک نعرہ میرا جسم میری مرضی پہ محدود ہو گیا جس کے ظاہری یا لغوی (یا غلط فہمی کے باعث تشہیر ہونے والے مطلب) نے اس مہم کو ایک مخصوص طبقے اور ایک محدود سوچ سے نتھی کر دیا۔ اگر ہم اس وضاحت کو بھی مان لیں کہ اس کا مقصد عورت کی مرضی اس کی شادی، ہم بستری، تولیدی عمل اور اولاد کی تعداد کے حوالے سے ہے پھر بھی اس کا تعلق ہمارے ہی معاشرے کی عورت سے ہے۔

وہ عورت جو خود کم عمری میں شادی کر کے خود کو ممتاز سمجھنا چاہتی ہے۔ شادی کرتے ہی اسے حمل ٹھہرانے کی افراتفری پڑ جاتی ہے کیونکہ اس کے خیال سے گھر میں پیر جمانے کی یہی ایک قابلیت ہے۔ پہلی اولاد لڑکی ہو جائے تو وہ دوسرے کی تیاری میں لگ جاتی ہے۔ پھر دو لڑکے، تین لڑکے، سہارا، خاندان، نسب وغیرہ وغیرہ جیسی بھونڈی تاویل پیش کی جاتی ہے۔ عورت کا محور ساری دنیا کو چھوڑ کر، اپنی ذات سے ہٹ کر صرف ایک انسان کو سدھانے کی خواہش میں سمٹ جاتا ہے۔

سدھائے گدھے جاتے ہیں، قابو جانور کو کیا جاتا ہے۔ انسان صرف اپنی مرضی کے مطابق کسی اور کی بات مانتا ہے۔ عائلی زندگی (شادی شدہ زندگی) کو ترجیح سمجھنا اور مقصد حیات بنا دینے کی وجہ سے کتنے ہی مرد اور خواتین ذہنی تناؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ پہلے ہمیں انسان کے طور پر اپنی عادتوں کو بنانا اور اپنی برداشت کو بڑھانا ہے۔ اپنی زندگی میں شعور کو سماجی دباؤ پر ترجیح دینی ہے۔ ایک ڈپریسیو انسان اپنے شریک سفر کو بھی مریض ہی بنائے گا۔

اپنی اولاد، اپنے بھائی بہنوں کو ذہنی اور معاشی طور پر خود کفیل بننے کی ترغیب دیں۔ ہماری ساری توجہ سمٹ کر شادی پر آ کر ٹھہر جاتی ہے کہ عمر نکل رہی ہے، عمر نکل گئی، زمانہ کیا کہے گا۔ بارات ولیمہ کھانے تک یہ زمانہ ہوتا ہے۔ اس کے بعد کس گھر میں مار پیٹ ہو رہی ہے، کہاں بلیک میلنگ چل رہی ہے، کون کس کا ذہنی استحصال کر رہا ہے اور کس کے لئے زندگی صرف ذہنی اذیت بن چکی ہے اس کا زمانہ تو چھوڑیں برابر کمرے میں رہنے والے کو بھی پتہ نہیں ہوتا۔

تشدد کبھی بانجھ نہیں ہوتا۔ یہ مزید تشدد کو جنم دیتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں لڑکے کو گھٹی میں ”زور“ پلایا جاتا ہے کہ زورآور بنو۔ ”نازک“ ایک چڑ کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ ولدیت، تربیت، درسگاہ ہر جگہ تشدد کا استعمال عام ہے۔ گالم گلوچ، تذلیل اور طنز رواج عام ہیں۔ یہ تمام عوامل مل کر ایک ”نفسیاتی مریض“ بنا دیتے ہیں جو اپنی کمزوری کو چیخ و پکار، مار پیٹ اور آخر کار بہیمانہ تشدد سے چھپاتا ہے۔ یہ معاشرہ وحشی بننے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔

جہاں تک رہی بات خواجہ سرا، بچوں اور خواتین پر ظلم کی تو اس معاشرے سے وحشت تب تک ختم نہ ہو گی جس دن تک ہم یہ جملہ کہتے اور سنتے رہیں گے کہ ”مرد بن مرد“ ۔ جیسے کہ زور، جبر اور ظلم مرد کی شناخت سے منسوب ہوں۔ جبر کو مردانگی کی چادر ڈال کر آپ اور ہم صدیوں بعد بھی جہالت کا مکروہ چہرہ چھپا نہیں سکتے مگر کیا ہے کہ مرد نام کی ٹرافی صرف اسے دی جائے گی جو خود کو زورآور ثابت کرے گا۔

ہم بحیثیت قوم کب ہوش کریں گے؟ کیا فنا ہو کر ہوش آئے گا؟ لیکن بعد از مرگ ہوش نہیں حساب ہونا ہے۔ بد صورت حقیقت یہ ہے کہ عورت پر تشدد کرنے والا ایک عورت سے جنم لینے والا ہی ہے۔ تربیت میں کہیں نہ کہیں رحم ڈالنا ہو گا۔ احساس ذمہ داری سکھاتے وقت برداشت اور تحمل کا بتانا پڑے گا۔ مرد کو عورت کا ساتھی، ہر رشتے میں اس کا برابر شریک سمجھانا ہو گا۔

جہاں کل ”جسٹس فار زہرا“ کی دہائی ٹاپ ٹرینڈ تھی وہاں آج کسی دانیال اور منو کا قصہ سر فہرست ہے۔ خود زہرا کا ملزم بھی تشدد کے خلاف لکھا کرتا تھا۔ محض نعرے، چیخ چنگھاڑ یا ٹرینڈ چلا دینا کوئی تبدیلی نہیں لا سکتے۔ عمل کرنا ہو گا۔ نظام کے بدلنے کی کوئی امید نہیں۔ پہلے اپنے ذہن اور کردار پہ کام کرنا ہو گا۔ یہ وہ قرض ہے جو آنے والی نسل کا ہم پر ہے کہ ہم انہیں کیسا معاشرہ، کیسے ساتھی، کیسا ماحول دے سکیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *