جمال حق میں جلوے ہی جلوے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خود شناسی کا سفر سر سے شروع ہوتا ہے۔ وہ جو اقبال نے کہا۔

”اپنی خودی پہچان او غافل افغان“ اب اگر یہاں ”افغان“ کی جگہ ”انسان“ کا لفظ لکھ رکھئے تو جس پہچان کا سفر ہم شروع کریں گے وہی سفر خود شناسی کا سفر کہلائے گا۔ خود شناسی کو اگر عام فہم الفاظ میں بیان کیا جانا ہے تو اوپر لکھے گئے اقبال کے مصرعے سے بہتر تعریف شاید ممکن نہ ہو۔

جب بھی انسان کوئی کام شروع کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو یہ فطری سی بات ہے کہ وہ اپنے اردگرد، نزدیک یا دور اس مخصوص کام کی نسبت راستے اور نظائر تلاش کرتا ہے۔ خود شناسی کے مسافر فی الحقیقت ہمارے آس پاس ہی موجود ہوتے ہیں بس یا تو ہماری نظر ان پر نہیں پڑتی یا ہم اس چشم بینا سے محروم رہتے ہیں جو ایسی ہستیوں کو پہچان سکے۔ لیکن بوجوہ! یہ بات طے ہے کہ ہر انسان کسی نہ کسی درجے میں جانے یا انجانے کسی بھی جہت میں اس سفر کا مسافر ضرور بنتا ہے۔ کیونکہ ہر انسان کے اندر یہ سوال بہرحال موجود ہے کہ ”وہ کون ہے“ بس اس کون کی تلاش ہی خود شناسی ہے اور ”میں کون ہوں“ اس سفر گمشدگی کا اصل جذبہ محرکہ ہے۔ خود شناسی کی فطری جبلت گویا انسان کو تفویض کر دی گئی۔ پس سفر آگہی کا سب سے موثر ہتھیار بھی خود انسان کا انسان ہونا ہے۔

فرشتے سے بہتر ہے انسان ہونا
مگر اس میں لگتی ہے محنت زیادہ

اب سوال یہ ہے کہ انسانوں کے لیے ایسا کرنا کیونکر ممکن ہو سکے تو اس کا جواب جاننے کے لئے ہمیں ایسی ہستیوں کی زندگیوں کی طرف دیکھنا ہوگا جنہوں نے اس جہد میں اپنی عمریں وقف کیں ایسی عالم باعمل ہستیاں اولیاء کرام اور صوفیاء ہی کی ہو سکتی ہیں ان کی زندگیوں پر نظر ڈالیں تو اس سلسلہ سفر آگہی کی بابت بہت سے بھید کھل جاتے ہیں۔ انبیاء علیہ السلام کی زندگیاں ہمارے لئے مینار نور ہیں مگر یہاں فرق نبی، رسول، اور عام بشر کا ہے انبیاء و رسل براہ راست اللہ تبارک و تعالی کی نگرانی میں تعلیم و تربیت پاتے ہیں ہر نبی ہر رسول وارد دنیا ہونے سے پہلے ہی منصب نبوت و رسالت کا امین ہوتا ہے۔ لہذا ان باکمال و بے مثال شخصیات کی حیثیت دیگر سے بالکل مختلف ہے۔ وہ جو فرمایا گیا ”و علمناہ من لدنا علما“ ہم انہیں تعلیم کرتے ہیں اس خاص علم سے جو براہ راست ہماری طرف سے آتا ہے ”

اب آئیے اولیاء اور صوفیاء کرام کی طرف! تو الہامی کتابوں کے مطابق انسان کی اصل کا تذکرہ قرآن پاک اور دیگر الہامی کتابوں میں ہمیں جابجا ملتا ہے۔ انجیل مبارک میں الفاظ آتے ہیں کہ ”and God created Man in His own image“ یعنی اللہ (خدا) انسان کو اپنی صورت پر تخلیق فرمایا۔ نبی صلی علیہ و آلہ و سلم کی ایک حدیث مبارک میں بھی کچھ ایسے ہی ملتے جلتے الفاظ آئے ہیں ”خلق اللہ آدم علی صورتہ“ اللہ نے آدم کو اپنی صورت پر تخلیق فرمایا۔

پھر صوفیاء میں تو وہ حدیث بہت ہی مقبول ہے کہ ”جس نے اپنے (نفس) اپنے آپ کو پہچان لیا اس نے تو اللہ کو پہچان لیا“ تو معلوم ہوا کہ اللہ اور بندے کے درمیان تو بہت ہی گہرا اور قریبی رشتہ موجود ہے۔ اسی ا ٹوٹ بندھن کی بنیاد پر صاحبان حسرت نے جلوہ افروزی الا اللہ کا رخت سفر اس اطمینان سے باندھا کہ تلاش حق کی کنجی دراصل تلاش خود آگہی و خود شناسی یعنی اپنے آپ کی تلاش ہی میں مضمر ہے لہذا پہلے خود آگہی کا سفر شروع کیا جائے تاکہ منزل جستجو حق کی جانب بڑھا جاسکے۔

وہ جو اس سفر کے مسافر بنے ان کو یقیناً کچھ جلوے بھی میسر آئے اور کچھ پر تو ان جلوؤں کی بے بحا تجلیاں بھی عیاں ہوئیں انہیں کوئی نہ کوئی منزل، کوئی کیفیت، تو ملی جس نے ان پر اپنا گمان بڑھایا۔ ان میں سے کچھ نے ان کیفیات تجلیات کو سمجھا اور جانا کچھ پر خود کی جلوہ گیری نے گھیرا کیا اور ”رانجھا رانجھا آکھدی میں آپے رانجھا ہوئی“ اور بلھے شاہ بھی پکار اٹھا کہ ”گھڑیالی دیو نکال نی میرا پیا گھر آیا“ جب اس وصل کی جلوہ گری کا جادو سر چڑھ کر بولا تو ہم نے سنا کہ بایزید بسطامی کی زبان پر بھی یہ الفاظ آ گے ”لیس فی جبتی الا اللہ“ میرے اس جبے میں اللہ کے سوا کچھ نہیں۔

پھر تو ایک قدم اور بھی آگے بڑھ گے ”سبحانی ما اعظم شانی“ میں پاک ہوں میری شان کتنی بلند ہے۔ اور حسین منصور بن الحلاج نے سرِ دار ”انا الحق“ کا نعرہ بلند کر دیا۔ اب ان میں سے کچھ تائب ہوئے یا نہیں مگر یقیناً ہوئے یہ جاننا اہم نہیں ہے مگر ایک بات طے ہے کہ ان سب کو کچھ نہ کچھ تجلیوں کی جلوہ افروزی ضرور ہوئی ہوگی۔

صوفیاء کرام نے با العموم تطہیر نفس کا جو راستہ کا اختیار کیا اس کی ابتدا انہوں نے سر سے کی کیونکہ کاسہ سر ہی نفس کے منبع کا سب سے اہم حصہ ہے کہ یہاں دماغ پایا جاتا ہے جو نفس کی تمام جہتوں کی پہچان اور ان کے احساسات کا مظہر ہے یہیں سے انسانی حواس خمسہ کے محسوسات نمودار بھی ہوتے ہیں اور ان کی بابت انسانی جسم کو پیام رسائی بھی یہیں ہوتی ہے پس سر ہی سے تطہیر نفس کی ابتدا ہوگی دماغ کو رفتہ رفتہ مادی الائشوں سے پاک کر کے حواس کو پاک کیا جائے گا۔

دماغ کے قریب ترین انسان کی سب سے اہم حس کا ادراک کرنے والا اہم جز آنکھ ہے جو تطہیر دماغ کے بعد ہر وہ شے دیکھے گی جو پاک ذہن اسے دکھائے گا وہ بے حیائی نہیں دیکھے گی پاک آنکھ جلوہ فطرت کی مظہر ہو جائے گی وہ قدرت کی لازوال جلوہ گری کا نظارہ لے گی لغو نظارے آنکھ کی حد قبولیت سے باہر ہو جائیں گے۔ آنکھ سے ملحقہ ناک جو حس شامہ کی مظہر ہے انسان خوشبوؤں کا آرزومند ہو جائے گا زمانوں مین پھیلی بد بو حس شامہ سے باہر ہو جائے گی ناک پاکیزہ خوشبوؤں سے انسان کے تن من کو معطر کرنے لگے گی۔

ناک کے بالکل نیچے انسان کا منہ ہے جو دو اہم انسانی احساس کا امین ہے جس کا اہم جز انسانی زبان ہے جو دو کام کرتی ہے ایک ذائقوں کو پہچانتی ہے اور دوئم وہ الفاظ کی ادائیگی کرتی ہے یعنی چکھنے اور بولنے کی حس۔ دماغ و ذہن کی پاکیزگی زبان کو لگام اور ذائقوں میں مٹھاس کی ضامن بن جاتی ہے بس ایک ذہن کی پاکیزگی انسان کے تمام حواس کی پاکیزگی ہے۔ ذہن پاک نظر پاک نظارے پاک، ناک پاک حس شامہ پاک، زبان پاک ذائقوں میں مٹھاس، لفظوں میں مٹھاس، گفتگو محبت کی آمیزش سے لبریز، گلہ اور کینہ رد، سماعتوں میں وصل کے شادیانوں کی مدھرتا، لمس میں محبوب کے گلابی پنکھڑیوں کی نازکیت، بس حواس کی پاکیزگی ہی نور کی بارش کی ضامن ہے اور اس نورانی بارش میں نہایا ہوا منور چہرہ اس نور کو بدن میں سرایت کردے گا اور یہ نور دہن و گردن کے راستے پاکیزگی لے کر سینے میں اتر جائے گا اور قلب کو منور کردے گا اور یوں سینہ روشن ہو جائے گا وہ جو فرمایا گیا ”فانھا لاتعمی الابصار ولکن تعمی آل قلوب التی فی الصدور“ کہ آنکھیں آندھی نہیں ہوتیں دل اندھے ہو جاتے ہیں جو سینوں میں بند ہیں۔

بس اولیاء ہوں یا صوفیاء انہوں نے تطہیر نفس کی ابتدا سر سے کی اور دماغ و ذہن کو الودگیوں سے پاک کر کے سینے روشن کیے قلوب کو نظاروں کی جلوہ افروزی کے قابل بنایا اور قدرت کی جلوہ گری کے لئے سینے میں بند قلب کو کھول دیا۔ اب ہر لمحہ ہر سمت ہر جگہ بس جلوے ہی جلوے تجلیات قدرت کے دفتر آباد ہوگے۔ انسانی قلب ہی جلوؤں کو سمیٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے، حب یار کا جلوہ قلب کی پاکیزگی سے ہی حاصل ہوتا ہے۔

نماز پڑھن تمزاں نال تے روزہ صرفہ روٹی
اوچیاں باگاں او دیندے نیت جناں دی کھوٹی
مکے دے ول او جاون جڑے ہندے کم دے ٹوچی
وے میاں بلہیا جے ہے حب یار ملندی
رکھ صاف اندر دی کوٹھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply