کیا ”پب جی“ پہ پابندی درست ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پب جی وہ گیم ہے جس میں مختلف ٹیمیں ایک دوسرے کے خلاف ہتھیاروں سے لڑتی ہیں اور آخری بچ جانے والی ٹیم ونر قرار پاتی ہے۔

بھارتی ریاست تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے ایک بیس سالہ نوجوان (نام بوجہ پرائیویسی نہیں لکھا گیا ) کو گردن کا شدید درد لاحق ہوا جس کے بعد اسے اسپتال داخل کروایا گیا مگر وہ جانبر نہ ہو سکا۔ مقامی اخبار کے مطابق اس کے روم میٹس کا کہنا ہے کہ وہ 45 روز تک مسلسل پب جی گیم کھیلتا رہا جس سے اس کے گردن کے اعصاب بری طرح متاثر ہوئے۔

بھارتی ریاست مہاراشٹرا کے شہر ممبئی کے ایک اٹھارہ سالہ نوجوان نے گھر کے کچن میں لٹک کر خودکشی کی۔ وجہ یہ بتائی گئی کہ نوجوان نے پب جی گیم کھیلنے کے لئے گھر والوں سے مہنگا موبائل (زیادہ ریم اور میموری والا) خرید کر دینے کی فرمائش کی، جسے وہ پورا کرنے میں ناکام رہے تو نتیجتاً دل برداشتہ ہو کر نوجوان نے یہ قدم اٹھایا۔

بھارتی ریاست مہاراشٹرا کے علاقے ناشک سے تعلق رکھنے والے ایک 14 سالہ نوجوان نے اس وقت زہر کھا کر خودکشی کی کوشش کی جب اس کی والدہ نے اس کا موبائل چھین لیا کیونکہ وہ پب جی کھیلنے میں بہت زیادہ وقت ضائع کرتا تھا۔

جموں کشمیر کے ایک فٹنس ٹرینر کو زخمی حالت میں اسپتال داخل کروایا گیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق نوجوان پب جی کے نشے کا شکار ہوا اور خود کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔

یہ ان بیسیوں واقعات میں سے چند ایک ہیں جو گزشتہ برس ہمارے ہمسایہ ملک میں پیش آئے۔ اس کے نتیجے میں کئی بھارتی ریاستوں میں اس گیم پر پابندی لگا دی گئی۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے پب جی انتظامیہ نے کچھ اپڈیٹس متعارف کروائیں جن کے تحت ایک صارف ایک دن میں زیادہ سے زیادہ چھ گھنٹے کھیل سکتا ہے۔

اس سے قبل 2018 میں چین میں بھی اس گیم پر پابندی عائد کی جا چکی ہے۔ اس کے علاوہ عراق اور نیپال بھی ان ملکوں میں شامل ہیں جنھوں نے پب جی پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا۔ پاکستان میں پابندی لگنے کے بعد ایک بار پھر معاشرے کے مختلف طبقات بھارتی حکومت سے قومی سطح پر اس گیم پہ پابندی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

آن لائن وڈیو گیمز اور خصوصاً پر تشدد گیمز کے نوجوانوں پر اثرات کو جانچنے کے لیے اوہائیو اسٹیٹ یونیورسٹی امریکہ کے سائیکالوجی ڈپارٹمنٹ کے پروفیسر ڈاکٹر براڈ جے بشمین نے ایک تحقیق کی جس میں نوجوانوں کو کچھ وقت گیمز کھیلنے کے بعد ایک سوال نامہ دیا گیا اور ان سے جوابات حاصل کیے گئے۔ نوجوانوں سے پر تشدد گیمز کھیلنے کے بعد ان میں پیدا ہونے والے مضبوطی، ڈر اور گبھراہٹ کے احساسات کے متعلق پوچھا گیا۔ اس کے علاوہ ان سے کہا گیا کہ وہ اپنے مخالفین کے پانی کے گلاس میں مرچیں ڈالیں۔

اس تحقیق کے نتیجے میں ڈاکٹر بش مین کا کہنا تھا کہ یہ بات واضح طور پر دیکھی گئی ہے کہ پر تشدد گیمز کھیلنے کے بعد نوجوانوں میں جارحانہ رویے میں اضافہ ہوا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پر تشدد وڈیو گیمز اور پر تشدد جرائم میں بل واسطہ یا بلا واسطہ تعلق پایا گیا ہے۔ ایسی گیمز نہ صرف نوجوانوں کو دوسروں کے درد اور تکلیف کے احساس سے متعلق بے حس کرتی ہیں بلکہ سماجی تعلقات میں کمی کا باعث بھی بنتی ہیں۔

یکم جولائی کو پاکستان میں اس گیم پر عارضی پابندی عائد کرنے کا اعلان ہوا جب لاہور پولیس نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے ) کو ایک خط لکھا جس میں اس گیم کی وجہ سے ہونے والے متعدد خودکشی کے واقعات کا ذکر کیا گیا تھا اور اس کے علاوہ پی ٹی اے کو پب جی کے خلاف مختلف شکایات موصول ہوئی تھیں۔ اس سلسلے میں لاہور ہائیکورٹ نے پی ٹی اے کو ہدایات جاری کیں کہ وہ اس معاملے کو دیکھیں اور شکایت کرنے والوں کی سماعت کے بعد فیصلہ کریں۔ اسی سلسلے میں 9 جولائی کو سماعت کی جا رہی ہے۔

پاکستان میں اس پابندی کے حق میں اور خلاف مختلف آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ اس پابندی کے خلاف اور گیم کے حق میں آواز بلند کرنے والوں کا کہنا ہے گیم کے کوئی منفی اثرات نہیں ہیں بلکہ یہ تفریح کا ایک سستا ذریعہ ہے اور اس سے ملک میں ای اسپورٹس کو فروغ مل رہا ہے۔ یہ نہ صرف نوجوانوں کی تفریح کا ذریعہ ہے بلکہ انٹرنیشنل ٹورنامنٹس میں حصہ لے کر نوجوان پیسہ بھی کما سکتے ہیں۔ اسی ضمن میں اس پابندی کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک شہری کی جانب سے درخواست دائر کی گئی جس میں پابندی ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ اس پر جسٹس عامر فاروق نے پی ٹی اے سے جواب طلب کیا اور انھیں ہدایات جاری کیں کہ اگر پابندی لگانی ہے تو قانونی تقاضے مدنظر رکھتے ہوئے تحریری حکم نامہ جاری کریں۔

جبکہ پب جی پر پابندی کے حق میں بولنے والے افراد کا کہنا ہے کہ اس سے نوجوانوں کے جارحانہ رویوں میں کمی کا امکان ہے اور وہ دوسری مثبت سرگرمیوں میں حصہ لیں گے جس سے ان کی صحت اور دماغی مسائل میں کمی واقع ہو گی۔

اب آپ یقیناً یہ فیصلہ کرنے کے قابل ضرور ہو گئے ہوں گے کہ اس گیم پر پابندی کو برقرار رکھا جانا چاہیے یا نہیں۔

ایسی جارحانہ گیمز کے انسانی نفسیات پر کئی اقسام کے منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ وبا کے ان دنوں جب ہمیں مختلف پابندیوں کا سامنا ہے، آؤٹ ڈور کھیلوں پر پابندی ہے تو نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی طرف کیسے راغب کیا جائے؟ میرے خیال سے ان حالات میں خود کو مصروف رکھنے اور اپنے وقت کا درست استعمال کرنے کے لیے اپنی دلچسپی کی کتابیں پڑھنا بہترین مشغلہ ہو سکتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *