تیل کی بڑھتی قیمتیں اور ہندوستان کی اسرائیل دوستی کے اثرات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیر اعظم نریندر مودی عوام کو سبز باغ دکھلانے میں بلا کی مہارت رکھتے ہیں۔ عوام ان کے وعدوں اور دعووں کی حقیقت سے بخوبی واقف ہوتی ہے مگر اس کے باوجود ان کی قیادت پر عوام کا اندھا اعتبار ان کی بے پناہ مقبولیت کو ظاہر کرتا ہے۔ مہنگائی کے اس دور میں بھی عوام ان کی قیادت کی تنقید کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔ بی جے پی کی حریف جماعتوں کے لئے عوام کی یہی ’اندھ بھکتی‘ بڑا مسئلہ بن کر ابھر رہی ہے جس کا نقصان انہیں بہار اور بنگال کے انتخابات میں بھی ہوگا۔

عوام بی جے پی کے اعلیٰ قائدین کی ناتجربہ کاری، لاعلمیت اور نا اہلی سے اچھی طرح واقف ہے مگر بی جے پی نے عوام کو منافرانہ سیاست اور فرقہ پرستی کے جس دام فریب میں الجھایاہے اس سے باہر نکلنا آسان نہیں ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ بی جے پی کے پاس حکومت کا کوئی تجربہ نہیں تھا اس لئے اس کی ناتجربہ کاری نے ملک کی معیشت کو تباہ و برباد کر دیا۔ داخلی سیاست پر نفرت اور فرقہ پرستی کو مسلط کر دیا گیا اور خارجہ پالیسی استعمار کی خوشنودی کے حصول کے لئے یکسر بدل دی گئی۔

ہندوؤں کو متحد کرنے کے لئے فرقہ پرستی اور اقلیتوں کے خلاف نفرت کی سیاست کا سہارا لینا، بی جے پی کا ذاتی خیال نہیں تھا۔ بلکہ اسی گھناؤنی سیاست کے سہارے ایک عرصے تک عیسائیت نے مسلمانوں کے خلاف تخریب کاریاں سرانجام دی تھیں اور آج یہودیت اسی منصوبے پر عمل پیرا ہے۔ استعمار کے حلیف اس کے ہتھکنڈوں اور سیاسی چالوں سے آزاد نہیں ہوسکتے، یہی وجہ ہے کہ آر ایس ایس جیسی جماعت نے بی جے پی کو اقتدار میں لانے کے لئے ان تمام حربوں کو استعمال کیا جن سے ہمارے ملک کی سیاست بے خبر تھی۔

یہ کامیابی ایک بار میں ہاتھ نہیں لگی بلکہ آزادی سے پہلے اور فوراً بعد ہیڈگوار اور ساورکر جیسے لیڈروں کی رہنمائی میں یہ کوشش جاری رہی۔ آج صورتحال یہ ہے کہ مسلمانوں سے نجات اور ان کے خاتمے کے لئے کھل عام باتیں ہو رہی ہیں اور گزشتہ دس سالوں میں سیاست کا رخ اس قدر تبدیل ہو گیا کہ اقلیتی طبقہ انگشت بدنداں ہے۔ اس کی بڑی وجہ اقلیتی طبقہ کی غیر منظم سیاسی سوچ اور مرکزی قیادت کا فقدان ہے۔ ملک کی سیاست کی باگ ڈور استعماری طاقتوں کے ہاتھ میں ہے اور مسلمان سمجھتے بوجھتے ہوئے بھی کچھ نہیں کر سکتا، یہ ایک المیہ ہے۔ ہندوؤں کو جب تک اس گھناؤنی سیاست کا صحیح اندازہ ہوگا، صورتحال بے قابو ہو چکی ہوگی اور پھر ملک کی سیاست کے نفرت آمیز دھارے کو بدلنا ممکن نہیں ہوگا۔ اس وقت ملک کے عوام کو یہ سمجھنا ضروری ہے کہ آخر ہماری سرکار استعمار پر اس قدر فریفتہ کیوں ہے؟

ہمیں سمجھنا ہوگا کہ جس وقت امریکی دباؤ میں ہندوستان نے ایران سے تیل کی تجارت منسوخ کی تھی، اس وقت امریکہ نے یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ ہندوستان کو کم قیمت پر تیل فراہم کرے گا۔ مگر جیسے ہی ہندوستان نے ایران سے تیل کی تجارت ختم کی، امریکی موقف بدل گیا۔ امریکہ نے واضح الفاظ میں ہندوستانی سرکار سے کہا کہ وہ بازار سے کم قیمت پر تیل فراہم نہیں کر سکتا۔ ہندوستان نے سعودی عرب سے اضافی تیل کی فراہمی کے سلسلے میں مذاکرات کیے مگر نتیجہ بے سود رہا۔

کیونکہ سعودی عرب کی تیل ریفائنریز کی اتنی صلاحیت نہیں ہے کہ وہ دوسروں ملکوں سے تجارتی تعلقات کو بحال رکھتے ہوئے ہندوستان کو اضافی تیل فروخت کرسکیں۔ اس وقت ہندوستان سب سے زیادہ عراق اور سعودی عرب سے تیل برآمد کر رہا ہے۔ مگر عالمی بازار میں تیل کی قیمتیں کم ہوتے ہوئے بھی وہ اپنے عوام کو سستا تیل مہیا نہیں کرا پا رہا ہے۔ اس کا براہ راست اثر ملک کی معیشت پر پڑ رہا ہے جو کورونا وائرس کی وجہ سے پہلے ہی بدحالی کا شکار ہے۔ تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے عام ضروریات کی چیزوں کو بھی متاثر کیا ہے۔ مہنگائی دن بہ دن بڑھ رہی ہے اور عام آدمی اپنی ضروریات کو پورا کرنے سے بھی قاصر ہے۔ ایسے حالات میں ہندوستان اگر اپنے پرانے دوستوں کی طرف دوستی کا ہاتھ نہیں بڑھائے گا تو حالات مزید بدتر ہوں گے۔

جس وقت نریندر مودی پہلی بار بر سر اقتدار آئے تھے، اس وقت تیل کی قیمتیں عالمی بازار میں عروج پر تھیں۔ اس کے باوجود ان کا دعویٰ تھا کہ عوام کو سستا تیل دستیاب ہونا چاہیے۔ انہوں نے تیل اور گیس کی بڑھتی قیمتوں کو لے کر کانگریس سرکار کے خلاف محاذ کھول دیا تھا۔ مگر جب سے نریندر مودی برسراقتدار آئے ہیں اس کے بعد سے تیل اور گیس کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ جب بھی ان کے وزیروں سے اس سلسلے میں بات کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو وہ یہ کہہ کر بات ٹال دیتے ہیں کہ تیل اور گیس کی قیمتیں ان کے اختیار میں نہیں ہیں۔

سوال یہ ہے کہ جس وقت بی جے پی کانگریس کے خلاف مہنگائی کو لے کر مظاہرے کر رہی تھی، کیا اس وقت بی جے پی کو یہ معلوم نہیں تھا کہ مہنگائی پر سرکار کا قابو نہیں ہوتا ہے؟ اور اگر اقتدار میں آنے کے بعد بی جے پی کو مہنگائی کی حقیقت کا علم ہوا ہے تو پھر انہیں اپنے تمام ان سابقہ مظاہروں اور احتجاجات پر ملک سے معافی مانگنی چاہیے، جو انہوں نے کانگریس سرکار میں مہنگائی کے خلاف کیے تھے۔ مگر جناب! سیاست کا کھیل نرالا ہے۔ یہاں سچ کی کوئی اہمیت نہیں، جھوٹ کا بول بالا ہے۔ آج بھی بی جے پی مہنگائی، کورونا وائرس، چین سے تنازع اور دیگر مسائل کے سلسلے میں سفید جھوٹ بول رہی ہے مگر ’گودی میڈیا‘ اور ’بھکت‘ کچھ سمجھنے کو تیار نہیں ہیں۔

نریندر مودی اپنے عجلت پسندانہ فیصلوں کے لئے جانے جاتے ہیں۔ ان کے غیر منصوبہ بند لاک ڈاؤن نے ملک کی معیشت کی کمر توڑ دی اور عوام پر فاقوں کی نوبت آ چکی ہے مگر اب بھی ان کے یہاں منصوبہ بندی کا فقدان ہے۔ تیل کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں اور عام آدمی مہنگائی سے پریشان ہے۔ اس کی آمدنی کا سلسلہ تو پہلے لاک ڈاؤن کے بعد ہی ختم ہو گیا تھا، اس پر مہنگائی کی مار نے رہی سہی کسر پوری کردی۔ سرکار غریبوں کو جتنا راشن مہیا کر ارہی ہے وہ ان کی گزر بسر کے لئے کافی نہیں ہے۔

بے روزگاری عروج پر ہے اور مزدور طبقہ جو پہلے بڑے شہروں میں روزی روٹی کما رہا تھا، آج اپنے گھروں پر بیکار بیٹھا ہوا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ مہنگائی کے اس دور میں بھی سرکار کی خارجہ پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ اس کی بڑی وجہ ہندوستان کی اسرائیل دوستی ہے۔ مودی سرکار کو اب تک اس حقیقت کا علم نہیں ہوسکا ہے کہ اسرائیل دوستی میں وہ ملک کا بیڑا غرق کر رہے ہیں۔ اگر بھارت سرکار ایران کے ساتھ اپنے دیرینہ روابط کو امریکہ و اسرائیل کی محبت میں بلی نہ چڑھاتی تو تیل کی قیمتیں آسمان نہ چھو رہی ہوتیں۔

ہندوستان کو دنیا میں سب سے سستا تیل ایران سے ملتا تھا مگر امریکی دباؤ میں بی جے پی سرکار نے ایران کے ساتھ تیل کی تجارت ختم کردی۔ اب جبکہ ہندوستان دوبارہ ایران کے ساتھ تجارت کے فروغ پر غور و خوض کر رہا ہے اور کئی اشیاء کی خریدوفروخت پر دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت بھی ہوئی ہے مگر تیل کا مسئلہ ابھی بھی زیر غور نہیں ہے۔ اگر ایران برے وقت میں وینزویلا کا ساتھ دے کر اس کی ڈوبتی ہوئی معیشت کو سہارا دے سکتا ہے تو پھر وہ ہندوستان کی مدد سے بھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔ مگر اس کے لئے بھارت سرکار کو اپنی خارجہ پالیسی میں بدلاؤ لانا ہوگا۔

بھارت سرکار اگر ہمسایوں کے ساتھ اچھے تعلقات کی خواہاں ہے تو اسے سب سے پہلے ان ممالک سے دوبارہ تعلقات ہموار کرنا ہوں گے جو امریکہ اور اسرائیل کے دباؤ میں سرد مہری کا شکار ہیں۔ چین اور پاکستان کو رام کرنے کے لئے بھی ایران جیسے طاقتور ملکوں سے دوستی بہت ضروری ہے۔ چین اور ایران کے تعلقات کی گہرائی سے ہندوستان بخوبی واقف ہے، اسی طرح روس اور ایران کی دوستی بھی کسی سے صیغہ راز میں نہیں ہے۔ روس کبھی ہندوستان کا سب سے گہرا دوست ہوا کرتا تھا مگر امریکی اور اسرائیلی دباؤ میں بی جے پی سرکار نے روس کے ساتھ بھی تجارتی معاملات محدود کر لیے تھے۔

اس کا واضح اثر ہماری داخلی اور خارجی سیاست پر بہت صاف نظر آ رہا ہے۔ چین کے ساتھ حالیہ تنازعات کے بعد سرکار ہوش میں ضرور آئی ہے اور وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے روس کا سفر کر کے خوش آئند اشارے دیے ہیں۔ ہندوستان ہتھیاروں کی خرید کے سلسلے میں سب سے زیادہ روس پر منحصر تھا مگر اسرائیل دوستی میں یہ معاہدہ بھی محدودیت کا شکار ہے۔ راج ناتھ سنگھ کے حالیہ روس دورے میں پرانے معاہدوں پر نظر ثانی اور ان کے استقرار سے صورتحال بدلنے کی امید نظر آتی ہے۔

ہندوستان کو سمجھنا ہوگا کہ امریکہ اور اسرائیل کی دوستی ظاہری طور پر بہت سود مند ثابت ہو سکتی ہے مگر اس کے برے اثرات دیر پا ہیں۔ استعمار ہر حال میں اپنے مفاد کی تکمیل کو ترجیح دیتا ہے۔ وہ کبھی اپنے مفادات پر ہندوستان کے مفاد کو ترجیح نہیں دے سکتا۔ وہیں بی جے پی سرکار کو یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ جو بھی استعمار کا منظور نظر رہا ہے، اس کا انجام اچھا نہیں ہوا۔ تاریخ اس کی گواہ ہے۔ یہ بات استعمار کی منظور نظر جماعت آر ایس ایس کو بھی سمجھ لینی چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *