جٹی، عزت نفس اور ہماری روایت!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بہت عرصہ قبل جٹی نامی ایک فلم آئی تھی۔ جس کا ایک منظر ابھی کچھ عرصہ قبل میری نگاہوں سے گزرا۔ اس منظر میں ایک سینی ٹیشن ورکر ایک امیر گھر میں کام کر رہی ہے۔ اچانک اس گھر کا مالک کمرے میں داخل ہو تا ہے۔ وہ صفائی کی صورتحال پر عدم اطمینان کا اظہار کرتا ہے اور سینی ٹیشن ورکر کو ڈانٹتا ہے۔ بحث کے بعد غصے میں آ کر وہ اس ورکر کے چہرے پر ایک تھپڑ رسید کرتا ہے۔

اس فلم کے آن ائر آنے کے بعد ملک بھر کے سینی ٹیشن ورکرز نے ہڑتال کر دی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تھپڑ اس سینی ٹیشن ورکر کے منہ پر نہیں بلکہ تمام ملک کے سینی ٹیشن ورکرز کے منہ پر مارا گیا ہے۔ مزید یہ کہ یہ ان تمام سینی ٹیشن ورکرز کی ہتک تھی۔ اور یہ کہ یہ منظر ان کی اور اس پیشہ کی تذلیل تھی۔ اور یہ بھی کہ اس منظر نے ان کی دل آزاری کی ہے اور ان کی عزت نفس کو بری طرح سے گھائل کیا ہے۔ مزید براں کہ ایسے مناظر اس رویے کی حوصلہ افزائی کے مترادف تھے جو ان سینی ٹیشن ورکرز کے ساتھ روا رکھا جاتا ہے۔ قصہ مختصر کہ یہ ڈرامے بازی نہیں چلنی ہے! شروع شروع میں تو عوام یا میڈیا نے کوئی گھاس نہ ڈالی مگر جب ہڑتال لمبی ہوئی اور لینے کے دینے پڑنے شروع ہو گئے تو فلم ساز اور پروڈیوسر کو گھٹنے ٹیکنے پڑے۔ اس فلم میں سے اس سین کو نکال دیا گیا۔

شاید آپ کو حیرانی ہوئی ہو کہ اس قبیل کے لوگوں کی بھی کوئی عزت نفس ہوتی ہے بھلا کیا۔ جواب ہے کہ ہوتی ہے۔ ہر شخص کی، ہر ذی روح کی ایک عزت ہوتی ہے۔ بات صرف اتنی سی ہے کہ آپ اس عزت کو اہم سمجھتے ہیں یا نہیں۔ اگر آپ اپنی عزت کو اہم سمجھتے ہیں تو آپ کسی بھی شخص کو، چاہے وہ کوئی بھی ہو، یہ اجازت نہیں دے سکتے کہ وہ آپ کی تذلیل کرے۔ مگر افسوس یہ ہے کہ ہمارے اس بے حس معاشرے میں اچھی اقدار دم توڑ چکی ہیں جو کچھ باقی ہیں وہ بھی جاں بلب ہیں۔ اپنی عزت پر تو ہم حرف نہیں آنے دیتے مگر جب بات دوسروں کی عزت کی ہوتی ہے تو ہم بڑے آرام سے شانے اچکا کر آئی ڈونٹ کیئر والا فارمولا استعمال کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

ہمارے معاشرے میں ہر شخص کے لیے ایک ایک ہتک آمیز نام، ایک تذلیل کرنے والا مذاق موجود ہے۔ اپنی گاڑی ٹھیک کروانے کے لیے شہر کے کسی بھی گیراج میں چلے جائیں اپنی تذلیل کروانے کے لیے ایک چھوٹا آپ کو لازمی ملے گا۔ چاہے یہ چھوٹا بڑا ہو کر پچاس برس کا ہی کیوں نی ہو جائے وہ چھوٹا ہی کہلائے گا اور اسے اتنی ہی غیر مہذب زبان اور مغلظ مذاق کے ساتھ ہی مخاطب کیا جائے گا۔ اپنی تذلیل کروا کروا کر شہر بلکہ ملک کے ہر کونے میں موجود چھوٹے کی عزت نفس ختم ہو چکی ہے، آپ اسے اس نام سے پکاریں، طنز کریں وہ برا نہیں منائے گا۔

چند دن پہلے میں کسی جگہ سے واپس آ رہا تھا کہ گاڑی خراب ہو گئی۔ اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود مجھے نقص سمجھ نہ آیا تو ایک غیر معروف جگہ بریک لگاتے ہی بنی۔ ورکشاپ کے مالک نے کہا کوئی بڑا مسئلہ نہیں بس بٹ صاحب باہر گئے ہوئے ہیں۔ بٹ صاحب آتے ہی منٹوں میں آپ کی گاڑی ٹھیک کر دے گا۔ آپ بس تھوڑا سا انتظار کر لیں۔ لہذا میں انتظار کی سولی چڑھ گیا۔ کوئی دس منٹ انتظار کے بعد ایک ایسی شخصیت ورکشاپ میں داخل ہوئی جس کو اگر سورج کے سامنے بھی کھڑا کر دیا جاتا تو بھی ہر طرف اندھیرا چھا جاتا۔

میں نے گردن موڑ کر بٹ صاحب کا انتظار جاری رکھا۔ ورکشاپ کے مالک جب دیکھا کی میں نے کوئی ریسپانس نہیں دیا تو زور سے آواز لگائی اوئے بٹ ادھر آ، صاحب جی کی گاڑی کا مسئلہ چیک کر۔ بے حد سیاہ رنگت والا وہ لڑکا اچانک میرے سامنے آ کھڑا ہوا۔ لو جی اب بتاؤ بٹ کو کہ کیا کرنا ہے، ورکشاپ مالک نے مجھ سے مخاطب ہو کر کہا۔

اسی طرز کا واقعہ مجھے ایک ایسی دکان پر پیش آیا جہاں میں کسی شادی سے واپسی پر رکا۔ میں نے دکاندار سے اپنا مدعا بیان کیا اس نے جھٹ پٹ آواز لگائی اوئے کالے جلدی سے کوکا کولا کے چار ٹھنڈے ٹن پیک لے کر باہر آ۔ تھوڑی دیر میں ایک انتہائی گورا چٹا لڑکا ہاتھ میں مطلوبہ اشیا لیے باہر آ گیا۔ میں سمجھا کہ شاید کسی اور کی آئٹم ہیں لہذا آرام سے کھڑا رہا تب دکاندار نے اس سے کہا اوئے کالے پیک کر کے دے دے ان کو۔ جب اس لڑکے نے مجھے یہ سامان دیا تو میں نے اسے دوبارہ غور سے دیکھا کہ یہ کالا ہے تو نہیں مگر کہلاتا کیوں ہے۔

اس قسم کے واقعات ہمارے معاشرے میں اس طرح سے عام ہیں جیسے غلط العام محاورے ہماری زبان میں مروج ہیں۔ دوسروں کی عزت وہی شخص کر سکتا ہے جو خود عزت دار ہے۔ اور جو اس بات کو سمجھتا ہے کہ دوسروں کی عزت بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی خود اس کی اپنی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی ان فرسودہ روایات اور سٹیریو ٹائپ مائنڈ سیٹ سے باہر آئیں اور اپنی گفتار اور اپنے کردار میں شائستگی لے کر آئیں اور ان گھسے پٹے خیالات اور روایات کو خیر آباد کہہ دیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *