بیری کے صوفے اور قومی مفاد کے سافٹ ویئر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ماسٹر غلام سرور صاحب ضلح سرگودھا کے ایک دور دراز چھوٹے سے گاؤں کے پرائمری سکول میں پڑھاتے تھے۔ پاکستان کے دور دراز گاؤں کے پرائمری سکولوں میں بچوں کی تعلیم صرف ٹیچر کی ذمہ داری نہیں ہوتی۔ بلکہ یہ کام بچے اور ٹیچر مل کر ہی کرتے ہیں۔ کام کی تقسیمم کچھ یوں ہوتی ہے کہ تعلیم دینے یعنی پڑھانے کا کام بچوں کے ذمے ہوتا ہے۔ بچے لیکچر دیتے ہیں، روزانہ کی بنیاد پر کلاس ٹیسٹ لیتے ہیں، ہوم ورک دیتے ہیں اور چیک بھی کرتے ہیں۔

ٹیچر کے ذمے ڈسپلن ہوتا ہے۔ اور ٹیچر اس کام کو بہت تن دہی سے کرتے ہیں۔ طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ کلاس مانیٹر جس بچے کو ٹیچر کے سامنے کسی شکایت کے ساتھ پیش کرتا ہے، ٹیچر اپنے موڈ کے مطابق سکول کو بدنامی سے بچانے کے لیے سزا دیتا ہے۔ جو عام طور پر گالیاں، تھپڑ کی صورت میں ہوتی ہے یا ضرورت کے مطابق ڈنڈے کو بھی کام میں لایا جا سکتا ہے۔ بعض استاد صاحبان یہ کام بھی شاگردوں ہی سے کروا لیتے ہیں تاکہ وہ بھی سیکھ سکیں۔ وہ کلاس کے کسی تگڑے لڑکے کو بلا کر کہتے ہیں کہ پیش کیے گئے ملزم کو کچھ تھپڑ رسید کر دے۔

بچے چونکہ ٹیچر کا کافی کام سنبھال لیتے ہیں اس لیے ٹیچر کے پاس کافی فارغ وقت ہوتا ہے۔ اپنے آپ کو مصروف رکھنے کے لیے اکثر ٹیچر کاشت کاری کرتے ہیں۔ گائے بکریاں اور مرغیاں پال لیتے ہیں۔ اس سے یہ فائدہ ہوتا ہے کہ طالب علم پڑھائی کے ساتھ ساتھ زراعت اور مرغ بانی کی آن جاب تربیت بھی لیتے ہیں۔ استاد نے مرغیاں پال رکھی ہوں تو بھی شاگردوں کا ہی فائدہ ہے، انڈے اپنے گھر سے لا کر نہیں دینے پڑتے۔

ماسٹر غلام سرور صاحب بھی ایک روایتی استاد تھے۔ بچوں کے ڈسپلن کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ ان کی آن جاب تربیت کے لیے بچوں کو کاشتکاری سیکھنے کے مواقع پر فراہم کرتے تھے۔ ماسٹر صاحب چونکہ اسی علاقے کے رہنے والے تھے اس لیے ہر بچے کے خاندان اور ان کے کام کو بھی جانتے تھے۔ سکول میں ایک بچہ ترکھان فیملی سے بھی تھا۔ ماسٹر صاحب اس بچے کے والد سے ایک خاص کام لینا چاہتے تھے اس لیے اس بچے کے ساتھ ان کا سلوک قدرے مختلف اور اچھا تھا۔ ماسٹر صاحب ایک دفعہ شہر گئے تھے اور وہاں پر انہیں صوفے پر بیٹھنے کا اتفاق ہوا تھا۔ صوفہ بہت ہی نرم، لچک دار اور آرام دہ تھا۔ ماسٹر صاحب نے اسی دن سوچ لیا تھا کہ وہ اپنے گھر میں صوفے کا بندوبست ضرور کریں گے۔

ادھر ماسٹر صاحب کے کھیت میں بیری کا ایک درخت تھا۔ اگلے کچھ عرصے میں وہ کافی بڑا ہو گیا اور ماسٹر صاحب کے اندازے کے مطابق اس میں سے اب ایک صوفے کی لکڑی مہیا ہو سکتی تھی۔ ماسٹر صاحب نے اس بیری کو کاٹا اور اپنے شاگرد جو کہ ترکھان کا بیٹا تھا اس کے حوالے کیا اور کہا کہ اپنے والد سے ایک صوفہ سیٹ بنوا دے۔ شاگرد کے پاس تو خیر حامی بھرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔

بیری کی لکڑی کے صوفے بننے میں کئی ہفتے لگ گئے۔ ماسٹر صاحب نے بہت بے چینی سے صوفوں کا انتظار کیا۔ اس دوران ترکھان کے بیٹے کے ساتھ ماسٹر صاحب کا رویہ بہت مختلف اور اچھا تھا۔ اگر اس کو کبھی ماسٹر صاحب کی عدالت میں پیش کیا بھی گیا تو اس کے ساتھ رعایتی سلوک ہوا۔

ایک دن صوفے بن کر آ گئے۔ ماسٹر صاحب نے جب دیکھے تو پریشان ہو گئے۔ ان صوفوں میں تو ان شہر والے صوفوں والی کوئی بات ہی نہیں تھی۔ ماسٹر خاموش ہو گئے۔ اب ماسٹر صاحب اس دن کا انتظار نہیں کیا کہ ترکھان کا بیٹا کوئی غلطی کرے اور اسے ان کے سامنے پیش کیا جائے۔ انہوں نے کلاس ٹیسٹ خود لینے کا اعلان کیا۔ ترکھان کے بیٹے کا ٹیسٹ چیک کیا اور اس پر ڈنڈے برسانے شروع کر دیے۔ ماسٹر صاحب اس پر ڈنڈے برسا رہے تھے اور ساتھ ساتھ کہتے جا رہے تھے کہ ایسے ہوتے ہیں صوفے، ایسے ہوتے ہیں صوفے۔ ترکھان کا بیٹا بہت اچھا محب وطن ثابت ہوا۔ اس نے ڈنڈوں سے مار کھائی اور کوئی احتجاج نہیں کیا۔ اس نے یہ تک نہیں کہا کہ باقی لوگوں کا بھی کلاس ٹیسٹ چیک کریں۔ ان کا سکور اگر ٹھیک نہیں ہے تو ان کے ساتھ بھی یہی سلوک کریں وغیرہ۔

ماسٹر غلام سرور کے برعکس، کمشنر انکم ٹیکس نے بہت صبر سے کام لیا۔ اس نے یہ تو پوچھا کہ آپ نے ملک سے باہر جائیداد کیوں خریدی تھی لیکن یہ نہیں پوچھا کہ دھرنوں میں قومی مفاد کی خاطر استعمال ہونے والے سافٹ ویئر پر سوال کیوں اٹھایا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 237 posts and counting.See all posts by salim-malik

Leave a Reply