بلاسفیمی قوانین کی تاریخ اور موجودہ صورتحال

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بر صغیر پر حکومت کرنے والے انگریزوں نے 1860 میں مذہب کے حوالے سے کیے جانے والے جرائم کو قانون کی شکل دی اور پھر 1927 ء میں اس قانون میں توسیع کر کے دانستہ یا بد نیتی پر مبنی ایسے اقدامات کو جرم قرار دیا تھا جن کا مقصد مذہبی عقائد کی توہین کر کے کسی بھی طبقے کے مذہبی جذبات کو مشتعل کر نا ہو۔ 1924 میں راجپال نامی ایک شخص نے توہین رسالت پر مبنی ایک کتاب شائع کی تو چھ ماہ بعد ایک نوجوان علم دین نے اسے قتل کر دیا تھا۔ اس وقت انگریزوں نے پینل کوڈ میں شق 295۔ A متعارف کروائی تھی جس کے تحت مذہبی عقائد کی توہین ممنوع قرار دی گئی تھی۔ اس قانون میں مذاہب کے درمیان تفریق نہیں کی گئی تھی۔ 1947 ء میں پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد اس قانون کو برقرار رکھا گیا اور پھر 1980۔ 1986 کے دوران میں اس قانون میں نئی شقیں شامل کی گئیں۔

انگریزوں کے بنائے ہوئے قانون کے مطابق کسی مذہبی اجتماع میں خلل ڈالنا یا بے جا مداخلت کرنا، تدفین کی جگہوں میں در اندازی کرنا، جان بوجھ کر کسی کی مذہبی عبادت گاہ کو تباہ کرنا یا عبادت کی اشیا کو خراب کرنا۔ اس قانون کے مطابق ایک تا دس سال کی سزا، جرمانے کے ساتھ یا جرمانے کے بغیر دی جا سکتی ہے۔ 1980 کے عشرے کے دوران اس قانون میں بہت سی تبدیلیاں اور نئی چیزیں شامل کی گئیں۔ اسلامی مقدس شخصیات کے بارے میں توہین آمیز باتیں کرنے کو جرم قرار دیا گیا، اس کی زیادہ سے زیادہ تین سال تک کی سزا مقرر کی گئی۔ 1982 ء میں شامل کی جانے والی شق کے مطابق جان بوجھ کر قرآن پاک کی بے حرمتی کرنے پر عمر قید کی سزا مقرر کی گئی۔ 1986 ء میں ایک اور شق شامل کی گئی جس کے تحت توہین رسالت پر سزائے موت یا عمر قید کی سزا مقرر کی گئی۔ 1986 ء سے 2010 ء کے دوران میں 1274 لوگوں پر ان قوانین کے تحت بلاسفیمی کے مقدمات درج کیے گئے۔ ان میں سے اکاون افراد کو مقدمات کی سماعت کے دوران ہی قتل کر دیا گیا۔

سوشل میڈیا کے پاکستان میں متعارف ہونے کے بعد کئی لوگوں پر بلاسفیمی کے الزام میں مقدمات قائم ہوئے۔ ان میں کمپیوٹر کی مرمت کی چھوٹی سی دکان چلانے والا عالی (فرضی نام) بھی تھا۔ اس پر الزام تھا کہ وہ ایک فیس بک پیج کے ذریعے دہریت کو فروغ دے رہا تھا۔ اس پر ایک ویب سائٹ Realistic Approachچلانے اور اس پر راجپال کی متذکرہ بالا ممنوعہ کتاب کا ترجمہ ڈالنے کا بھی الزام تھا۔ وہ ان جرائم سے انکاری تھا۔ وہ تین بچوں کا باپ تھا اور روزگار کی تلاش میں متحدہ عرب امارات جانے کا پروگرام بنا رہا تھا کہ ٹریول ایجنٹ سے اس کا جھگڑا ہو گیا۔ اس کا کہنا تھا کہ یہ مقدمہ اس جھگڑے کا شاخسانہ ہے۔

اٹھاون سالہ محمد منشا کو 2008 ء میں بلاسفیمی قانون کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔ اس پر بہاول نگر کے امام مسجد نے کلام پاک کی بے حرمتی کا الزام لگایا تھا۔ نو سال بعد سپریم کورٹ نے اس الزام کو جھوٹا قرار دے کر اسے رہا کر دیا۔ الزام لگنے کے بعد محمد منشا کو گاؤں کی پنچایت کے سامنے پیش کیا گیا تھا۔ جہاں اسے بری طرح زد و کوب کرنے کے بعد پولیس کے حوالے کیا گیا تھا۔ کوئی سائنٹفک ثبوت نہ ہونے اور پولیس کی ’ناقص‘ تفتیش کی بنا پر عدالت نے اسے رہا کر دیا۔

ہماری سماجی اور تہذیبی روایات کے مطابق بچوں کو شروع سے بزرگوں کا احترام کرنا سکھایا جاتا ہے اور مذہبی شخصیات کی شان میں تو کوئی گستاخی کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ اگر کوئی کسی کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے لئے ایسا کرتا ہے تو یقینا سزا کا مستحق ہے۔ لیکن سزا کا فیصلہ عدالت کو کرنا چاہیے نہ کہ مشتعل ہجوم کو۔ کسی بھی شہری کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ہمارے ہاں تو ہوتا یہ ہے کہ اگر کسی دوسرے ملک میں کوئی غیر مسلم یا غیر ملکی بلاسفیمی کا مرتکب ہوتا ہے تو ہم پاکستان میں اپنی املاک کی توڑ پھوڑ شروع کر دیتے ہیں، پبلک بسوں کو آگ لگا دیتے ہیں۔ ہمارے ہاں ویسے ہی پبلک ٹرانسپورٹ کا کوئی نظام آج تک بن نہیں پایا جو چند بسیں سڑکوں پر چلتی نظر آتی ہیں، انہیں بھی آگ لگا دی جاتی ہے اور بعد میں تکلیف غریب آدمی کو اٹھانی پڑتی ہے۔

پاکستان بننے کے بعد سے ضیا ء الحق کے دور تک بلاسفیمی کے مقدمات کی تعداد سو تک بھی نہیں پہنچی تھی۔ سوال یہ پیدا ہوتا کہ ضیا ء الحق کے دور سے اب تک اس تعداد میں اتنا زیادہ اضافہ کیوں اور کیسے ہوا۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ان قوانین کو ذاتی دشمنیاں نکالنے کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ کسی کی انا کو ٹھیس پہنچے، یا زمین کا یا باغات کی ملکیت کا جھگڑا ہو، نتیجہ بلاسفیمی کے الزام کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ 2017 ء کے اوائل میں ریاست پر تنقید کرنے والے چار بلاگرز کو غائب کر دیا گیا اور الزام بلاسفیمی کا لگایا گیا۔ مشال خان پر بھی بلاسفیمی کا الزام لگا کر مارا گیا اور بعد میں ثابت ہو گیا کہ اس پر جھوٹا الزام لگایا گیا تھا لیکن جانے والے کو تو اب واپس نہیں لایا جا سکتا۔

یہاں میں پھر سینیٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے انسانی حقوق کی تجویز دہراؤں گی کہ بلاسفیمی کا جھوٹا الزام لگانے والے کو وہی سزا ملنی چاہیے جو بلاسفیمی کے مرتکب کو ملتی ہے۔ سینیٹ کی کمیٹی نے یہ تجویز بھی پیش کی تھی کہ جب کوئی کسی کے خلاف بلاسفیمی کا مقدمہ درج کرانے پولیس اسٹیشن جائے تو دو گواہوں کو ساتھ لے کر جائے لیکن ہمارے ہاں اکثر صورتوں میں ہوتا یہ ہے کہ مسجد سے اعلان کیا جاتا ہے کہ فلاں شخص بلاسفیمی کا مرتکب ہوا ہے اور ہجوم اس کے گھر پر دھاوا بول دیتا ہے۔

آخر کب تک پاکستان کے شہری عام طور پر اور انسانی حقوق کے کارکن خاص طور پر اس خوف میں زندگی بسر کرتے رہیں گے کہ کب کوئی ذاتی دشمنی نکالنے کے لئے ان پر بلاسفیمی کا جھوٹا الزام لگا دے گا۔ جھوٹے الزامات کا اور ہجوم کے قانون اپنے ہاتھ میں لینے کا سلسلہ کب ختم ہو گا۔ آخر کب؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *