ہندوستانی سیکولر ازم۔ ایک ستم ظریفی


عدم خلوص کے بندوں میں ایک خامی ہے
ستم ظریف بہت جلد باز ہوتے ہیں

ستم ظریفی جسے انگریزی میں آئرنی کہا جاتا ہے آج کل کی دنیا کا طرز عمل ہے۔ اگر اس دنیا کے کاروبار کو کسی ایک لفظ میں بیان کیا جا سکتا ہے تو وہ یہی ستم ظریفی ہے۔ دنیا کے کسی بھی ملک کو دیکھ لیں وہ اسی اصول پر عمل کر رہا ہو گا۔ دنیا میں رہنے والے میں اور آپ بھی بڑی سختی سے ستم طریفی پر عمل پیرا ہیں۔ اس پر ستم ظریفی یہ ہے کہ ہم مانتے بھی نہیں کہ ہم ایسا کر رہے ہیں۔ اسی سلسلہ میں ہم اپنے تھنک ٹینک کے خود ساختہ چیئرمین کے پاس گئے۔ چیئرمین صاحب بہت ہی عجلت میں تھے۔ باہر نکلنے ہی لگے تھے کہ ہمیں دیکھ کر ساری جلدی رفو ہو گئی۔ چھوٹتے ہی بولے لو بھائی وقت کی ستم ظریفی بھی عجیب ہے۔ ہم آپ کی طرف ہی چلے تھے کہ آپ آ گئے۔

میں نے کہا کہ جناب اس حالت کو تو عجیب اتفاق نہیں کہتے؟ فرمانے لگے کہ وہ پہلے کہتے تھے اب ہر کام ستم ظریفی کی بدولت ہوتا ہے۔

خلوص کے بندے تم بھی بہت ستم ظریف ہو۔ جو بات میں تمہیں بتاتا ہوں وہ مجھے سمجھانا بھی پڑتی ہے۔ یہی دیکھو کہ ہندوستانی دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم بہت بڑی بلکہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہیں۔ ہمارے جیسا سیکو لر نظام کہیں بھی نہیں ہے۔ اب تم بتاؤ۔ کیا ہندوستان میں سیکولر ازم نام کی کوئی چیز موجود ہے؟ وہاں مائیں بیٹی پیدا کرنے سے ڈرتی ہیں۔ الٹرا ساؤنڈ انسانیت کا دشمن بن چکا ہے۔ اگر ڈاکٹر لڑکی بتائے تو قبل از وقت پیدائش عمل میں لا دی جاتی ہے۔ یہ عمل اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ حکومت کو اشتہارات کے ذریعے روکنا پڑ رہا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اس کو ذاتی معاملہ کہا جاتا ہے۔ پھر بھی وہاں کا سیکولر نظام بہت پختہ ہے۔ ہم تو انسان کے حقوق کا خیال اس وقت نہ رکھتے ہوں گے جب انسان بڑا ہو جاتا ہو گا مگر وہاں تو نیم انسان کو ہی تہہ تیغ کر دیا جاتا ہے۔

اس نام نہاد سیکولر سٹیٹ میں پورا سال غیر ہندوؤں کے خلاف باقاعدہ شدھی کی مہم چلتی رہتی ہے۔ مسلمانوں کا قتل عام تو ایک عام سی بات دو بہت ہی مہا سیکولر تنظیمیں جو خود کو وی ایچ پی اور آر ایس ایس سے الگ سمجھتی ہیں وہ اس شبھ کام میں سب سے آگے ہوتی ہیں۔

نہ صرف ہندوستان کے مسلمانوں کی مال جان املاک ہر وقت خطرے میں رہتے ہیں بلکہ باقی مذہبی اقلیتیں بھی اسی خوف کے تحت زندگی گزار رہی ہیں۔ عیسائیوں کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے چرچ گرا دیں اور اپنا مذہب بدل لیں۔ سکھوں کو جتنے حقوق حاصل ہیں وہ ساری دنیا جانتی ہے۔ اس نام نہاد سب سے بڑی جمہوریت کو دیکھیں کہ وہاں ہندو برہمن کے علاوہ کوئی حکومت نہیں کر سکتا۔ ہندو کے علاوہ کوئی فوج کا سربراہ نہیں بن سکتا بلکہ ایک خاص عہدے سے اوپر ترقی بھی نہیں پا سکتا۔ اور جو چہرہ وہ اپنی فلموں کے ذریعے دنیا کو دکھاتے ہیں وہ بہت ہی الگ ہے۔ وہ پرچار سیکولر کی کرتے ہیں اور عمل اس کے متضاد شدت پسندی اور مذہبی عدم توازن پر کرتے ہیں۔ اب منافقت کی ماری دنیا بھی انڈیا کا فلمی چہرہ ہی دیکھتی ہے اور کشمیر، پنجاب، آسام، اور دوسری بہت سی ریاستوں کے اندر جو ظلم اس نے روا رکھا ہوا ہے اسے اندرونی اور ذاتی معاملہ سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

پھر بھی وہاں کی جمہوریت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے اور وہاں پر سیکولر ازم کا بول بالا ہے۔ اس کو ستم ظریفی کہتے ہیں۔ اج بات ہندوستان تک محدود رکھتے ہیں ورنہ جو ہمیں دکھائی دے رہا ہے اور بتایا جا رہا ہے وہ ہر جگہ اس کے الٹ ہی رہا ہے۔ مگر ہندوستان اس موئے مودی کی وجہ سے اب ستم ظریفی میں سب سے آگے نکل گیا ہے۔ بات یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ دنیا کو اپنے امن کا چہرہ دکھانے کے لئے جعلی ہسپتال بنا کر اس میں جعلی مریض بھی بٹھا لیتا ہے۔ یہ ستم ظریفی نہیں تو کیا ہے؟

اسرائیلی معصوم فلسطینییوں کی جان لے رہے ہیں مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ امریکہ بہادر اسے امن قائم کرنے کے اقدامات گردان رہا ہے۔ اور چند ہزار یا چند لاکھ فلسطینییوں کے مر جانے سے اسے کچھ فرق نہیں پڑتا۔ اس نے تو خود ستم ظریفانہ جنگ چھیڑی ہوئی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف اقوام متحدہ کا عالمی معاملات میں عمل دخل بھی ایک ستم ظریفی ہے۔ حتیٰ کہ کہنے والے تو یہ بھی کہہ جاتے ہیں کہ پاکستان میں جمہوریت آ گئی ہے۔ یہ بھی ایک ستم ظریفی ہے۔ اب تم نے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ یہ وقت زمانے قسمت حالات یا صورتحال کی ستم طریفی ہے۔

Facebook Comments HS