منٹو اپنے کرداروں میں آج بھی زندہ ہے


اردو ادب نے بے مثال لوگ پیدا کیے ہیں۔ میر، غالب، فیض کی شاعری ہو یا کمال مہارت سے نثر لکھتے محمد حسین آزاد، ابن انشاء، سعادت حسن منٹو، مشتاق احمد یوسفی ہوں۔ ایسے سینکڑوں نایاب ہیروں کی شاعری اور نثری تخلیقات کو اردو ادب نے اپنے اندر خوبصورتی سے سمویا ہے۔ چودھویں صدی عیسوی میں امیر خسرو سے شروع ہونے والی اردو شاعری ہو، یا ڈپٹی نذیر احمد کے میراة العروس سے شروع ہونے والا ناول کا سفر، داستان ہو یا تذکرے، مزاح ہو یا سفر نامے، اردو صحافت ہو یا افسانہ نگاری، اردو ادب میں پڑھنے والوں کے لیے دلچسپی کی بے شمار چیزیں موجود ہیں۔

اردو ادب کی ترقی اور عروج بیسویں صدی میں دیکھنے میں آتا ہے جہاں 1936 کی حلقہ ارباب ذوق تحریک نے اردو ادب میں ایک نئی جان ڈالی اور 60 کی دہائی میں جدید اور ترقی پسندوں کی تخلیقات نے ادب کو ایک نیا زاویہ دے کر اردو ادب میں ایسے شاہکار تخلیق کیے ہیں جو امر ہو گئے اور ہر دور کے لوگوں کے لیے دلچسپی کا سبب بنتے ہیں۔ ایسے ہی افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کے افسانے بے مثال اور کردار امر ہوئے ہیں۔

سعادت حسن منٹو 11 مئی 1912 کو متحدہ ہندوستان میں لدھیانہ کہ گاؤں سمرالہ میں ایک مقامی عدالت کے جج غلام حسن منٹو اور سردار بیگم کے گھر پیدا ہوئے۔ جنوبی ایشیاء کا یہ مشہور افسانہ نگار کشمیری نسل سے تعلق رکھتا تھا اور خوبصورتی کا دوسرا نام کشمیر کو کہتا تھا جس کا تذکرہ اس نے جواہر لال نہرو کو لکھے گئے ایک خط میں بھی کیا۔ منٹو نے اپنے افسانوں میں معاشرے کا وہ سیاہ چہرہ دکھایا جو بظاہر بہت خوبصورت اور تہذیب و اقدار سے بھرپور نظر آتا ہے لیکن اندر سے کھوکھلا، خوفناک اور وحشت سے بھرپور ہے۔ منٹو نے معاشرے کا اصل چہرہ اپنے افسانوی کرداروں سے دکھایا ہے۔

آج بھی قدیمی شہروں کی اندرون گلیوں میں اپنی تنگ اور بدبودار چھوٹی سی کھولی میں رہتی کوئی سوگندھی کسی مادھو کی چکنی چپڑی باتوں میں آکر عشق میں مبتلا ہوجاتی ہے۔ اپنی ہمسائی کانتا اور دلال رام لال کے سمجھانے کے باوجود وہ اپنی دنیا بسانے کے خواب دیکھنے لگتی ہے۔ پھر کوئی سیٹھ جب اس کی اجڑی ہوئی شکل پہ اعتراض کر کہ چلا جاتا ہے تو رام لال کی باتیں سچی لگتی ہیں اور اسے ہوش آتا ہے کہ مادھو کے وعدے صرف اس کی ذات، اس کے پیسے اور جسم کا مفت میں استحصال کے علاوہ کچھ نہیں۔

ممکن ہے خاکستری آسمان اور گردو غبار کے موسم میں کسی پوش علاقے کی بالکنی پہ کھڑا سریندر اپنے گھر کے سامنے درخت کے نیچے بیٹھی سڈول جسم کی غریب لڑکی جو بظاہر کوئی جوان بھکارن لگتی ہو کو گھر آنے کی اس لیے دعوت دے رہا ہو کہ وہ گھر پہ اکیلا ہے۔ یا پھر اپنے گھر کے لان میں آم چوستا اور بارش کے مزے لیتا تنویر ہمسائیوں کے گھر ململ کے لباس پہنے بارش میں نہاتی لڑکیوں کے گیلے جسم کو دیکھ کر اپنا لہو گرما رہا ہو۔ اور ایک دن اس ہمسائی پروین کو لفٹ دینی پڑے اور معلوم ہو کہ بارش میں ناز و اندام سے نہاتی پروین جس سے وہ یک طرفہ عشق کر بیٹھا ہے اس کا رات کا ٹھکانہ بازار حسن ہے۔ عین ممکن ہے کہ آپ کے ارگرد کوئی من موہن کسی رانگ نمبر سے آئی فون کال پہ کسی لڑکی کو دیکھے بغیر اس کی خوبصورت آواز سے عشق لڑا بیٹھا ہو۔ اور اس کے ٹیلی فون کا انتظار کرتا ہو اور بات نا ہونے کی صورت میں اضطرابی کیفیت سے دوچار ہوجاتا ہو۔

ہر گھر میں عورت کلونت کور کے روپ میں بھی نظر آتی ہے جو دوسری عورت کے ساتھ تعلقات کے شک میں اپنے شوہر ایشر سنگھ پر وار بھی کر سکتی ہے۔ ہمیں معاشرے میں سراج الدین کی بڑی بڑی آنکھوں والی خوبصورت بیٹی سکینہ اپنے ہی مسیحاوں کی ہوس کا نشانہ بنتی نظر آتی ہے۔ ممکن ہے سندھ کے کسی ہندو اکثریتی آبادی والے علاقے میں کسی مختیار اور شاردا کا عاشقانہ اس لیے ختم ہو گیا ہو کہ شاردا نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا ہو اور مختیار نے ہندو بننے سے اور مختیار اپنا عشق شاردا کے گھر چھوڑے اور مذہب کو سینے سے لگائے چل پڑا ہو۔

ہجرت کے دکھ میں مبتلا آج بھی کئی لوگ آپ کو ٹوبہ ٹیک سنگھ کے بشن سنگھ کی جگہ کھڑے نظر آئیں گے۔ جس کے ایک طرف ہندوستان کے بارڈر کی خار دار تاریں ہیں جبکہ دوسری طرف پاکستان کے بارڈر کی خاردار تاریں اور وہ ان دونوں خار دار تاروں کے بیچ کی زمین پر کھڑے ہیں جو نا ہندوستان کی ہے نا پاکستان کی۔ لائن آف کنٹرول پر فائرنگ سے تھک ہار کر ہندوستانی اور پاکستانی فوجی جوان شاید اپنے ماضی میں جھانک کر اپنے آبا و اجداد کے سنائے قصے یاد کر رہے ہوں۔ اور کھلے آسمان تلے چاند ستاروں کو بتا رہے ہوں کہ ان کے اباو اجداد سرحد پار فلاں شہر میں رہتے تھے۔

ہو سکتا ہے کسی طوائف کے بطن سے پیدا ہوا اس دور کا محمد طفیل (المعروف تھیلا کنجر) جس کی وجہ شہرت اس کی خوبصورت اور جوان بہنیں شمشاد، الماس اور ان کا رقص ہو وقت آنے پر اپنی دھرتی کے لیے سینہ تان کر دشمن کی سب سے پہلی گولی کھالے۔ کوئی چور شکر کی لوٹی ہوئی بوریاں پولیس کے ڈر سے رات کی تاریکی میں کنویں میں ڈالتے ہوئے خود بھی ان کے ساتھ جا گرے اور مر جائے۔ گاؤں والے صبح کنویں کا میٹھا پانی دیکھ کر اس کو ولی کا درجہ دے دیں اور اس کی لاش گاؤں میں دفن کر کہ قبر پر دیے جلانا شروع کر دیں۔ ابو کوچوان کی بیوہ نیتی ہمیں آج کے معاشرے میں بھی نظر آتی ہے جس کی جوانی میں بیوگی کا دکھ سب اپنے بستر پر بانٹنا چاہتے ہیں۔ جسے محنت مزدوری کرنے کے لیے سرکاری افسر تانگہ چلانے کا لائسنس اس لیے نہیں دیتے کہ وہ عورت ہے جبکہ کمیٹی کے افسر اسے جسم بیچنے کا لائسنس باآسانی جاری کردیتے ہیں۔

منٹو کا تخلیق کردہ کردار منگو کوچوان جو تانگہ چلا کر سواریوں کی باتوں سے خود کو حالات حاضرہ سے باخبر رکھتا ہے اور ہر شام اڈے پر اپنے ہم پلہ ساتھیوں کے ساتھ حقے کے دور لگاتے ہوئے اپنے مفکرانہ تجزیے پیش کرتا ہے۔ یکم اپریل کو ایک گورے کی اس لیے درگت بنا دیتا ہے کیونکہ اس نے سواریوں کی باتوں سے سن رکھا تھا کہ یکم اپریل کو انڈین ایکٹ نافذ ہوگا اور تبدیلی آ جائے گی گورے محکوم اور ہندوستانی حاکم بن جائیں گے۔ لیکن انگریز کو پیٹنے کے جرم میں منگو استاد کو یکم اپریل کو حوالات میں بند کر دیا جاتا ہے اور وہ چلاتا رہتا ہے ”نیا قانون“ ”نیا قانون“ اور نئے قانون کے ثمرات منگو کو نہیں ملتے کیونکہ درحقیقت کچھ نہیں بدلتا۔ منگو کوچوان آج بھی سیاسی جلسوں میں شرکت لازم سمجھتا ہے گو کہ گاندھی، جناح اور جواہر لال کی جگہ دوسرے لیڈران نے لے لی ہے۔ استاد منگو لیڈروں کی عظمت کا اندازہ آج بھی عوامی ہجوم اور لیڈروں کے گلے میں ہاروں کی تعداد سے لگاتا ہے۔ اور جلوس میں اگر دنگا ہو جائے تو منگو کی نظر میں جلسے کی قدر و اہمیت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔

منٹو نے سماج کو جس باریک بینی سے دیکھا ہے ادب کی دنیا میں چند لوگوں نے ہی اس قدر دیکھا اور سمجھا ہے۔ شاید جس بے باکی سے اس نے لکھا ہے جنوبی ایشیاء میں وہ اسی بنا پر منفرد افسانہ نگار کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کی کہانیوں کو فحش کہا گیا حالانکہ اس نے اپنی کہانیوں کو ایک آئینہ بنا کر معاشرے کو چہرہ دکھایا ہے۔ منٹو کے تخلیق کیے ہوئے سینکٹروں کرداروں کے نام اور مقام بدلے ہیں باقی سب وہی ہے۔ ہجرت کا غم، معاشی مشکلات، تجسس اور اضطرابی کیفیت نے منٹو کے اندر ایک باغی انسان پیدا کیا جس نے ایسے سینکڑوں شاہکار تخلیق کیے جن کے باعث اسے مقدمات اور جرمانوں کا بھی سامنا کرنا پڑا مگر اس کا قلم کوئی نا روک پایا۔ شاید قدرت منٹو کے قلم کے ذریعے معاشرے کو اس کا سیاہ چہرہ دیکھانا چاہتی تھی۔ اگر معاشرے کی نفسیات، مزاج، دلچسپیوں اور شعوری سطح کو سمجھنا ہے تو منٹو کو پڑھنا لازم ہے۔

وہ یہ کہتے ہوئے دنیا سے رخصت ہو گیا کہ ”ہم اکٹھے ہی پیدا ہوئے ہیں اور خیال ہے اکٹھے ہی مریں گے۔ لیکن یہ بھی ہو سکتا ہے کہ سعادت حسن مر جائے اور منٹو کبھی نا مرے“ اور اس کی بات سچ ثابت ہوئی۔ آج منٹو لاہور میں میانی صاحب کے قدیمی قبرستان میں دفن ہے مگر اس کے چاروں اطراف اس کے تخلیق کردہ کردار الگ نام اور پہچان کے ساتھ گھوم رہے ہیں۔ جو منٹو کو ادب کی دنیا میں امر بناتے ہیں۔

18 اگست 1954 کو منٹو نے ظفر زبیری کی آٹوگراف بک پر لکھا؛
” یہاں سعادت حسن منٹو دفن ہے۔ اس کے سینہ میں افسانہ نگاری کے سارے اسرار و رموز دفن ہیں۔ وہ اب بھی منوں مٹی کے نیچے سوچ رہا ہے کہ وہ بڑا افسانہ نگار ہے یا خدا“

Facebook Comments HS