جب سمندر مسافر بن کر آیا تھا۔ ۔ ۔
میں ایسا درخت ہوں جس پر ہمیشہ خزاں کا سماں رہتا ہے، کہیں کہیں پتے موجود ہیں، ان ہی کی وجہ سے میری چھاؤں تو ٹھنڈی ہے لیکن کڑوا ہوں۔ میرے سائے میں لوگ بیٹھتے ہیں لیکن کبھی میری خواہش نہیں کرتے کہ مجھے اٹھا کر اپنے باغ میں لگا دیں۔ ۔ ۔ ایک دن ایک مسافرنہ جانے کہاں سے بھٹکتا ہوا آیا اور میرے سائے تلے بیٹھ گیا۔ اس کے پاس خیمہ تھا، پانی کا مشکیزہ بھی، پھلوں سے بھی اس کا تھیلا بھرا ہوا تھا۔ پھر بھی ا س نے خیمہ نہیں کھولا اور میری چھاؤں میں آبیٹھا۔
مجھ سے باتیں کرنے لگا اور میں جو اتنے سالوں سے تنہا کھڑا تھا، کبھی کسی مسافرکو میں نے چھاؤں سے محظوظ ہونے نہیں دیا تھا، جب بھی کوئی میری چھاؤں میں بیٹھتا میں فوراً اپنی گھنی چھاؤں کا رخ موڑدیتا تھا اور وہ حیرت سے مجھے تکتا اور اٹھ کر چلا جا تا۔ اس کے ساتھ میں نے ایسے نہیں کیا بلکہ اپنی گھنی چھاؤں کو مزید گھنا کر دیا۔ وہ تھکا ہا را، نہیں تھکا ہوا تھا لیکن ہارا ہوا نہیں تھا، پہلے بھی میں نے بتایا ناں کہ اس کے پاس خیمہ تھا، پھل تھے پانی تھا، لیکن وہ میرے سائے میں رکا رہا۔
مجھے اس کی موجودگی بری نہیں لگ رہی تھی میرا جی چاہتا تھا یہ کبھی اٹھ کر نہ جائے، پھر خیال آتا ابھی شام ہو گی تو وہ خیمہ لگا لے گا اور مجھے ہمیشہ کی طرح رات تنہا ہی گزارنی پڑے گی۔ لیکن وہ اللہ کا بندہ ایساتھا کہ اسے بھی میری چھاؤں بھا گئی تھی، جانے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔ پھر کیا ہوا دن ڈھلنے لگا، یہ مجھ سے باتیں کرنے لگا، میں نے کہا، درخت سے باتیں کر رہے ہو؟ کیا ہوا تمہارے ساتھی کہاں گئے؟ کیا تنہا ہو؟
اس بھری دنیا میں؟ نفی میں سر ہلانے لگا اور بولا، میرے آس پا س تو اک ہجوم ہے۔ ۔ ۔ چاہوں تو ہاتھ بڑھا ؤں اور کسی کو بھی اپنا بنا لوں لیکن میں بہت تھکا ہوا ہوں، کتنے سال میں نے شور میں گزارے ہیں، اس شور میں مجھے کبھی اپنی آواز سنائی ہی نہیں دی اب جو تم چاہے کڑوے نیم ہی سہی لیکن تم سے باتیں کر کے مجھے اپنی آواز سنائی دے رہی ہے، تمہارا کیا جاتا ہے جو میں کچھ لمحے اور تمہارے سائے میں بتا لوں۔ میں بھی تو اتنے سالوں سے خاموش کھڑا تھا، تنہا، چپ چاپ، سوچاٹھیک ہے اکیلا دھوپ میں جل رہا ہوں، کچھ دیر ہی کے لئے سہی اس مسافر کے ساتھ کچھ گھڑیاں گزار لیتا ہوں۔
ہم باتیں کرنے لگے، وہ کبھی میری شاخوں کو چھوتا کبھی میرے زخموں کی بابت پریشانی کا اظہارکرتا، وہ کہتا یہ کس ظالم نے تمہاری چھاؤں کم کرنے کی کوشش کی؟ میں نے کہا اگر تم درخت ہوتے تو تمہیں پتہ ہوتا لکڑ ہاروں، چرواہوں اور کچھ جانوروں کا تو کام ہی یہی ہے وہ جنگل میں آتے ہیں اور گھنے درختوں کے پتے، حتیٰ کہ کیکر جیسے سخت جان کی شاخیں لے جاتے ہیں، ہمیں تکلیف بھی ہوتی ہے لیکن کیا کیجئے اس سلسلے میں کچھ ہو نہیں سکتا، تم میرے بارے میں پریشان نہ ہویہ تو معمول کی چوٹیں ہیں۔
کوئی چاقو سے وار کرتا ہے، کوئی کلہاڑی سے اور کوئی تو محض ہاتھوں سے ہی نو چ لے جاتا ہے، تم فکر مت کر و۔ تم مزید میرے تنے کے قریب آجاؤ تاکہ میری چھاؤں کی ٹھنڈک محسوس کر سکو۔ ایسا مسافر کبھی دیکھا ہو گا میں نے؟ میں سوچ رہا تھا کہ اسیکیا میری چوٹوں سے، اسے تو چھاؤں سے مطلب ہونا چاہیے لیکن کچھ عجیب تو تھا اس میں!
سورج کا رخ ایساتھا کہ مجھے اپنی چھاؤں برقرار رکھنے کی جی جان لگانی پڑرہی تھی لیکن جیسے جیسے وہ میرے زخموں پر آنسو بہاتا، ویسے ویسے میں اپنی چھاؤں کی ٹھنڈک بڑھاتا جاتا لیکن اب میرے اعصاب شل ہو رہے تھے، مجھ سے مزید سورج کی تمازت کو روکنا مشکل ہو رہا تھا۔ میں نے دیکھا وہ بھی دن ڈھلتے ڈھلتے انسان سے پانی میں بدلنے لگا تھا، میں نے کہا یہ کیسی ہیئت ہے؟ کہنے لگا تمہیں سیراب کرنا چاہتا ہوں، اسی لئے اپنی ہیئت بدل رہا ہوں۔
۔ ۔ اور اگر شام سے پہلے پہلے تم نے مجھے ایسا نہ کرنے دیا تو سمندر میں پھر بھی بن جاؤں گا لیکن تمہیں سیراب کرنے کی خواہش پوری نہیں کر سکوں گا دیکھوباتوں میں وقت ضائع مت کرو اور مجھے خود کو سیراب کرنے دو۔ میں جو صدیوں سے یوں ہی کھڑا تھا، اپنے بچے کھچے پتوں پر نظر دوڑاتا اور کبھی اسے دیکھتا، فیصلہ کرنا میرے لئے آسان نہیں تھا، مجھ پر تو کئی سالوں سے بارش نے برسنا بند کر دیا تھا، میں سیراب ہوجاتا اتنی آسانی سے؟
مجھے اپنی قسمت پر یقین نہیں تھا، وقت پھسل رہا تھا، مسافر کی تڑپ میرے سامنے تھی، میں چاہتا تھا میں بھی اسی کی طرح پانی میں تحلیل ہو جاؤں! سورج ڈوب چکا تھا، دیکھتے ہی دیکھتے وہ شخص پانی میں بدلا، اب میر ے آس پاس تاحد نظر سمندرہی سمندر تھا، پانی کا ریلا بہتا جاتا تھا اور میں اپنی جڑوں میں الجھا ہو ا تھا۔ شام گزری، رات ہوئی اور سمندر ہر شے بہا کر ساتھ لے گیا، سوائے میرے۔ اب میں کھڑا سوچ رہا ہوں، سمندر میں جانے کا ایک ہی راستہ ہے پانی کا ریلا پھر آئے، مجھے بہا کر ساتھ لے جائے، لیکن اس کے لئے مجھے اپنی جڑوں کو کاٹنا ہوگا، خود کو سمندر کی لہروں کے سپرد کرنے کے لئے اپنا مقام چھوڑنا ہوگا وگرنہ یہ سورج کی تپش اور تنہائی تو میرا مقدر ہے، کئی سالوں سے کھڑا ہوں اور اب تو مجھے اس جیسے مسافر کی امید بھی نہیں!


