کشمیری بچے کو انصاف نہیں ملے گا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سال 2015 میں ترکی کے ساحل پر اوندھے منہ مردہ حالت میں پڑے تین سالہ شامی بچے ایلان کردی کی تصویر دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ میں شائع ہوئی تو اسے دیکھ کر انسانیت لرز گئی تھی۔ ایلان کردی کے اس المناک واقعہ کے بعد یورپ کے بہت سے ممالک نے اپنے دروازے شام کے پناہ گزینوں کے لیے کھول دیے تھے۔ گزشتہ دنوں ایسی ہی ایک اور تصویر نظر آئی جس میں ایک بچہ اپنے نانا کی لاش کے سینے پر بیٹھا بری طرح رو رہا تھا، یہ تصویر جس بھی حساس شخص نے دیکھی ہو گی یقیناً اسے رونے پر مجبور کر دیا ہوگا۔

تصویر میں نظر آنے والا بچہ مقبوضہ کشمیر کا تین سالہ ننھا عیاد تھا جو اپنے 69 سالہ نانا بشیر احمد کے ساتھ جا رہا تھا کہ سوپور میں ایک ناکے پر بھارتی سکیورٹی اہلکاروں نے انہیں روکا اور معصوم بچے کی آنکھوں کے سامنے اس کے نانا کو گاڑی سے اتار کر گولیاں مار کر شہید کر دیا۔ اس کے بعد ہی وہ تصویر بنائی گئی جس میں خوفزدہ ننھا عیاد اپنے نانا کی لاش پر بیٹھا تھا اور اس معصوم نے ہی اپنی تتلاتی زبان سے دنیا کو بتایا کہ اس کے نانا کو کس طرح شہید کیا گیا۔ مجھے زیادہ امید نہیں کہ شامی بچے کی طرح اس کشمیری بچے کی تصویر دنیا کا سویا ضمیر جھنجھوڑنے میں کامیاب ہوگی۔ مقبوضہ کشمیر کے علاقے سوپور میں پیش آیا حالیہ دردناک واقعہ بھارتی ظلم و بربریت کی پہلی مثال نہیں بلکہ پچھلے ستر سالوں سے انگنت کشمیری بچے بھارتی ظلم و ستم سے یتیم و بے سہارا ہو چکے ہیں۔

لیکن بھارتی سرکار کی طرف سے گزشتہ سال کشمیر کی امتیازی حیثیت برقرار رکھنے والے آرٹیکل 370 اور 35 اے کے خاتمے کے بعد کشمیری عوام پر ظلم و ستم میں انتہائی تیزی آئی ہے۔ گزشتہ ستر سالوں سے بھارت مختلف حیلوں سے کشمیری عوام کی نسل کشی کی ڈھکی چھپی کوششوں میں مصروف تھا۔ صدارتی حکم کے ذریعے مذکورہ آرٹیکل کے خاتمے کے بعد مگر کشمیری عوام کی نسل کشی کی بالکل علانیہ کوششیں شروع کر دی گئی ہیں۔ اس سے قبل غیر کشمیری شخص پر وادی میں جائیداد خریدنے اور ملازمت حاصل کرنے جیسی پابندیاں عائد تھیں تاکہ کشمیری عوام کی اکثریت غیر مقامی افراد کی آباد کاری کے سبب اقلیت میں تبدیل نہ ہو۔

لیکن اس پابندی کے خاتمے کے بعد اب کشمیر کا درد سر ختم کرنے کے لیے بلا جھجک وہی طرز عمل اختیار کیا جا رہا ہے جو اسرائیل غزہ میں کر رہا ہے۔ حالانکہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیر انڈیا اور پاکستان کے درمیان تصفیہ طلب مسئلہ ہے اور اقوام متحدہ کے ہی چارٹر کے مطابق کوئی بھی قابض ریاست مقبوضہ علاقے میں اپنے رہائشی نہیں بسا سکتی، اس کے باوجود کھلم کھلا یہ عمل جاری ہے۔ اس مذموم عمل پر کشمیری عوام کے ممکنہ رد عمل کو دبانے کے لیے تقریباً سال بھر گزرنے کے بعد بھی کرفیو کی سی کیفیت نافذ ہے جس کے باعث پورا مقبوضہ کشمیر جیل بنا ہوا ہے۔

عوام گھروں میں محصور ہیں انہیں روزگار تعلیم اور عبادت جیسے بنیادی حقوق کی بھی اجازت نہیں ملتی۔ آزادی کا پیدائشی حق مانگنے والوں کو شیلنگ، تشدد اور پیلٹ گنوں کے ذریعے معذور کیا جا رہا ہے۔ محاصرے کے باعث خوراک اور ادویات کی قلت ہے اور لوگ سنگین بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں اور بہت بڑی تعداد کو روزگار کے مواقع میسر نہ ہونے کی وجہ سے کھانے کے لالے پڑے ہیں۔ ٹیلی فون، موبائل، انٹرنیٹ، میڈیا اور مواصلات کے دیگر تمام ذرائع پر قدغنوں کی وجہ سے مگر وہاں کی درست خبر دنیا تک نہیں پہنچ رہی۔ دنیا میں کہیں کسی جانور کو گزند پہنچ جائے تو نام نہاد مہذب دنیا آسمان سر پر اٹھا لیتی ہیں مگر اس عظیم انسانی المیے پر نہ اقوام متحدہ نوٹس لیتی ہے اور نہ انسانی حقوق کی تنظیمیں انڈیا سے کوئی باز پرس کرتی ہیں۔

دنیا سے مگر کیا گلہ کریں ایمانداری کی بات یہ ہے کہ شور شرابے اور وقتی اچھل کود کے سوا دنیا کے سامنے کشمیر کا مسئلہ اجاگر کرنے کے لیے آج تک ہم نے کیا کاوش کی۔ ہماری سنجیدگی کا عالم تو یہ ہے کہ گزشتہ سال اگست میں بھارت کے غاصبانہ اقدام کے ردعمل پر بلائے جانے والے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بھی گالیاں اور دست و گریبانی نظر آتی رہی اور اس پلیٹ فارم سے محض ایک رسمی قرارداد منظور کرنے کے سوا دنیا کو کوئی مضبوط پیغام نہیں دیا گیا۔

افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے ہاں ایسے سیاستدان اور دانشور بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں جنہیں یہاں کی اقلیتوں پر ظلم و ستم کی داستانیں تو مل جاتی ہیں اور وہ اپنے پیٹ سے کپڑا اٹھانے کو ہمہ وقت اتاؤلے رہتے ہیں مگر انڈیا کے مسلمان اور کشمیر کے مسلمان کی حالت زار پر ان کی زبان کبھی حرکت میں نہیں آئی۔ اس میں کیا شبہ ہے کہ اسلام سے زیادہ کسی مذہب کی تعلیمات میں اقلیتوں کو حقوق حاصل نہیں اور ہمارے آئین کے ابتدائیے میں درج ہے کہ قرآن و سنت سے متصادم یہاں کوئی قانون نہیں بن سکتا۔ جان بوجھ کر لیکن بار بار اس طرح کا تاثر قائم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جیسے ہمارے ہاں اقلیتوں کے بارے امتیازی قوانین موجود ہوں۔ انڈیا میں بابری مسجد شہید کی گئی، وہاں کی سپریم کورٹ نے کا اس متعلق فیصلہ بھی کس قدر غیر منصفانہ اور متعصبانہ تھا۔ ہمارے روشن خیال لکھنے والوں نے اس بد معاشی پر کتنے مضامین لکھے؟ کتنے سیاستدانوں نے زبان و بیان کے جوہر دکھائے؟

کون اقلیتوں کو عبادت سے روکنے کی حمایت کر سکتا ہے۔ جہاں جہاں ان کی عبادت گاہیں ہیں انہیں کھل کر اپنے عقیدے کے مطابق عبادت کا حق ملنا چاہیے اور اگر کہیں نئی عبادت گاہ کی ضرورت ہے تو قانون میں درج طریقہ کار پورا کرنے کے بعد وہ بیشک نئی عبادت گاہ بھی بنائیں اور پچھلے ستر سالوں سے اقلیتوں کی نئی عبادت گاہیں ملک میں بن بھی رہی ہیں۔ میں دکھا بھی سکتا ہوں کہ ایسی جگہوں پر جہاں مسلمانوں ہزاروں کی تعداد میں موجود ہیں اور ہندوؤں کے صرف چند گھرانے ہیں نئے مندر وہاں بھی بن رہے ہیں۔

اسلام آباد میں نئے مندر کی تعمیر پر اصولی بنیادوں پر اختلاف پیدا ہوا تو چند لوگوں نے صحافتی بد دیانتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایسے مضامین لکھے گویا یہاں مندروں کی تعمیر کی اجازت تو کجا پہلے سے زیر تعمیر مندر بھی ڈھا دیے گئے ہیں اور ہمارے ایک سابق وزیر خارجہ تو پارلیمنٹ جیسے فورم پر جوش خطابت میں اتنا آگے نکل گئے کہ انہوں اسلام اور دیگر مذاہب کے درمیان تفریق سے ہی انکار کر دیا۔ پھر ایسے مواقع پر قائداعظم کی گیارہ اگست کی تقریر گھسیٹ گھساٹ کر اکثر بطور حوالہ پیش کی جاتی ہے۔

سمجھ نہیں آتا اس میں قائداعظم نے یہ کب کہا کہ مملکت خداداد اسلام کے نام پر وجود میں نہیں آئی۔ ایسی بات اگر ہوتی تو اتنا خون خرابہ کرانے کے بعد مسلمانوں کے نام پر علیحدہ ریاست حاصل کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ دنیا اس وقت تک کچھ نہیں کرے گی جب تک ہماری کنفیوزن ختم نہیں ہوتی سنجیدگی کا عالم یہی رہا اور پیٹ سے کپڑا اٹھانے کا شوق اسی طرح برقرار رہا تو کشمیری مزید سو سال بھی ظلم و ستم کا شکار رہیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *