EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

کیا امریکہ کا بطور سپر پاور زوال شروع ہوچکا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حالیہ کچھ عرصے کے دوران عالمی سطح پر اور امریکہ کے اندررونما ہونے والی تبدیلیوں نے عالمی سطح پر امریکہ کے کردار کے بارے میں مختلف سوالات اور شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے۔ علامہ اقبال کے مشہور شعر کا مصرعہ ہے

ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں
کیا عالمی سطح پرطاقت کے توازن میں بھی تبدیلی آ رہی ہے؟

حال ہی میں امریکہ کے بارے میں یورپ کے رویے نے امریکی اثرورسوخ کے خاتمے کے بارے میں بحث کو تیز کر دیاہے۔ مثال کے طور پر، جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے جون کے آخر میں خبردار کیا کہ اگر واشنگٹن عالمی طاقت کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریوں سے دستبردار ہوتا ہے تو یورپ کو امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کا ازسر نو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ نومبر 2019 میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے نیٹو کو ”برین ڈیڈ“ یعنی دماغی طور پر مفلوج قرار دیا، جو امریکہ کے فراہم کردہ سیکیورٹی آرڈر پر فرانس کے کم ہوتے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔

عسکری، معاشی اور ثقافتی نرم طاقت کے پیمانوں کے مطابق امریکی اثرو رسوخ کم نہیں ہوا ہے۔ ان شعبوں میں عالمی سطح پر امریکہ کی اجارہ داری اب بھی قائم ہے۔ فوجی لحاظ سے، امریکہ دنیا میں سب سے زیادہ جوہری صلاحیت اور ہتھیار رکھنے والا ملک ہے اور دنیا بھر میں اس کے سینکڑوں فوجی اڈے ہیں۔ معاشی طور پر، امریکہ جی ڈی پی کے لحاظ سے دنیا میں پہلے نمبر پر ہے۔ اس کا فی کس جی ڈی پی، 60000 ڈالر سے زیادہ ہے۔ بلاشبہ ہائی ٹیکنالوجی اور تعلیم کے میدان میں امریکہ کو ممتاز مقام حاصل ہے۔ ۔ اس کے علاہ اپنی سافٹ پاور یعنی نرم طاقت کے ذریعے، امریکی نیوز کوریج کا عالمی میڈیا مارکیٹ میں 70۔ 80 فیصد حصہ بنتا ہے۔

لہذا، موجودہ بین الاقوامی سیاسی نظام کے اندر، اب بھی طویل عرصے تک امریکہ کا اثر و رسوخ قائم رہے گا۔ تاہم اس حقیقت سے بھی صرف نظر نہیں کیا جا سکتا کہ کووڈ 19 نے متعدد معیارات کے مطابق امریکہ کے عالمی سطح پر اثر و رسوخ کے زوال کو تیز کر دیا ہے۔

مثلاً عوامی خدمات فراہم کرنے کے لئے امریکہ کی اہلیت اور خواہش میں کمی آئی ہے۔ عالمی ادارہ صحت سے امریکی انخلاء نے امریکہ کی یک طرفہ پسندی کے نظریے ”پہلے امریکہ“ کو مزید تقویت بخشی ہے۔ پیرس معاہدہ، ایران جوہری معاہدہ، یونیسکو، اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کونسل جیسے کثیرالجہتی میکانزم سے لگاتار انخلاء بین الاقوامی امور میں امریکہ کی کم ہوتی دلچسپی کو ظاہر کرتا ہے۔ یہاں تک کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے جی سیون کو جی الیون تک توسیع دینے کی کوششوں کو بھی امریکی تنہائی سے تعببیر کیا جا رہا ہے۔

عالمی وبا کووڈ۔ 19 نے امریکہ کی گرتی صلاحیت اور بین الاقوامی سطح پر تعاون نہ کرنے کی خواہش کو مزید بے نقاب کر دیا ہے۔ جون 2020 میں یورپی کونسل برائے خارجہ کے کیے گئے ہزاروں یوروپیوں کے سروے کے مطابق جواب دہندگان کی اکثریت کا کورونا وائرس کے بحران کے نتیجے میں امریکہ کے بارے میں منفی تاثر بڑھا ہے۔ سروے میں شریک صرف دو فیصد یورپی شہریوں نے امریکہ کو کوویڈ 19 کے خلاف جنگ میں ایک ”مددگار“ اتحادی قرار دیا ہے۔ سروے کے مطابق جرمنی، ڈنمارک، اسپین، فرانس اور پرتگال کے تقریباً دو تہائی لوگوں کا کووڈ 19 کے دوران امریکہ کے بارے میں تاثر خراب ہوا ہے۔

اسکے علاوہ ٹرمپ پر اعتماد میں کمی آئی ہے۔ جنوری 2020 میں پیو ریسرچ سنٹر کے ایک سروے کے مطابق، شرکا کی صرف 29 فیصد تعداد نے ٹرمپ پر اعتماد کا اظہار کیا۔ سروے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جرمنی، سویڈن، فرانس، اسپین اور ہالینڈ میں چار میں سے تین شرکا ٹرمپ پر اعتماد نہیں رکھتے۔ اس سروے کا ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ یورپ میں دائیں بازو کی عوامی جماعتوں کو ٹرمپ پر زیادہ اعتماد تھا۔ تاہم، دوسرے بڑے عالمی رہنماؤں کے مقابلے میں، عالمی سطح پر ٹرمپ کی پسندیدگی میں کمی آئی ہے۔

امریکہ کی اداراتی کشش اور پالیسی کے جواز دونوں میں کمی آئی ہے۔ ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے، پورے امریکہ میں سیاسی اور معاشرتی اختلافات میں اضافہ ہوا ہے۔ کووڈ 19 پھیلنے کے بعد، ٹرمپ کی پالیسیاں تباہ کن ثابت ہوئی ہیں۔ ہر سطح پر قیادت کی ناکامیوں کے نتیجے میں معاشی بدحالی، امیر اور غریب کے درمیان فرق اور معاشرتی تناؤ میں اضافہ ہوا ہے۔ امریکی سیاسی نظام کمزور اور ناقص ثابت ہورہا ہے۔ زیادہ یورپیوں کو احساس ہو نے لگا ہے کہ لیزز فیئر سرمایہ دارانہ نظام اب انسانیت کو فائدہ پہنچانے والا نظام نہیں رہا۔ جارج فلائیڈ کی موت کے نتیجے میں ہونے والے مظاہروں نے یورپی اتحادیوں کی نظر میں امریکی امیج کو مزید داغدار کر دیا ہے۔

امریکہ کے اس زوال کے تناظر میں، یورپی یونین ایسی پالیسیاں تلاش کر رہی ہے جن سے اس کے داخلی اتحاد میں اضافہ اوراسٹریٹجک خودمختاری کو توسیع ملے۔ امریکہ کی اسٹریٹجک پسپائی اور عالمی اثرو رسوخ میں کمی کے تنا ظر میں یورپ کے لئے ناگزیرہے کہ امریکہ پراپنے انحصار کو کم سے کم کرے اور خلا پر کرنے اور توازن پیدا کرنے کے لئے اپنی خارجہ پالیسی کوتوسیع دے۔

دوہزار بیس بڑی بڑی تبدیلیوں کا سال ثابت ہوا ہے۔ کووڈ 19 نے لوگوں کی صحت کے ساتھ ساتھ دنیا کی معیشت، سیاست، اور سماجی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ ایسے میں عالمی طاقت کے توازن میں ہلچل کا مشاہدہ انو کھا نہیں ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے