قبائلی عورتیں، جائز حقوق اور ثقافتی بندشیں
مجھے یہاں وہ واقعہ یاد آ رہا ہے جس کا مفہوم کچھ یوں ہے جب ایک عورت کا نکاح اس کے والد نے زبردستی کرایا تو وہ حضور پاک ﷺ کے پاس بطور احتجاج آئی اور کہا کہ اس کے والد نے اس کا نکاح ایسے شخص کے ساتھ کرایا ہے جو وہ پسند نہیں کرتی، حضور ﷺ نے اس کی رضامندی سے اس کا نکاح فسخ کیا اور فرمایا کہ اس شخص کے ساتھ نکاح کرو جسے تم پسند کرتی ہو۔
اسی طرح ضلع کرم میں ایک جوان عورت کا شوہر انتقال کر گیا۔ کچھ عرصے بعد اس کی بہنوں کی توسط سے اس کے میکے رشتہ آیا، ان لوگوں نے بیوہ عورت کی رضامندی معلوم کی تو وہ اپنی خوشی سے دوسری شادی کے لئے راضی ہوئی مگر اس کے میکے والوں نے یہ اپنی بے عزتی قرار دے کر اس رشتے کا سختی سے انکار کیا۔ اب وہ جوان عورت جس کے ابھی بچے بھی نہ ہوئے تھے۔ اس کو کیا دوسری شادی کا حق نہیں؟ کیا اسے اب اپنی نسوانیت معاشرے کے ان نام نہاد غیرت اور روایات کی نظر کرنی چاہیے؟ اگر بالفرض وہ اپنی جوانی کی وجہ سے کسی الزام میں گرفتار ہو جائے تو ذمہ دار وہ عورت ہوگی یا اس علاقائی رسم و رواج پر ذمہ داری عائد ہوگی؟
خواتین کے مسائل میں ایک سلگتا ہوا مسئلہ وراثت کا بھی ہے جو شاید ہی کوئی اس پر بات کرتا ہو، اسلام نے وراثت میں عورت کو مرد کا آدھا حصہ اس کا حق قرار دیا ہے مگر یہاں ایسا کوئی حق نہیں مانا جاتا، اس حوالے سے وزیرستان کی ایک خاتون سوشل ایکٹوسٹ نے بتایا کہ خواتین کو تمام قبائلی اضلاع میں وراثت و جائیداد میں حصہ دار نہیں مانا جاتا، اس کی وجہ یہاں کی ایک قدیم روایت ہے اس کے تحت جائیداد میں باہر کا قبیلہ حصہ دار نہیں بن سکتا اور چونکہ عورت کی شادی کہیں اور کسی بھی قبیلے میں ممکن ہے اس لیے جائیداد میں حصہ دینا قبائلی روایات کے عین مخالف ہے۔
اگر کوئی عورت شادی کے بعد اس کا مطالبہ کرے تو اسے برا بھلا کہا جاتا ہے۔ نافرمان بہن بیٹی کے طعنے دیے جاتے ہیں جبکہ بعض دفعہ تو بات قطع تعلقی تک پہنچ جاتی ہے اس لیے یہ مسئلہ لٹکتا ہوا رہ جاتا ہے۔ وہ مزید کہتی ہے کہ اگر اسلام کے اس جائز حکم کو اس انداز میں نہیں مانا جا سکتا تو کم از کم اپنی بہن بیٹی کے اس حصے جتنے پیسے یا کوئی اور نعم البدل پیش کیا جا سکتا ہے البتہ بیٹی اپنی مرضی سے اپنا حق معاف کرے تو اس پر شوہر کی طرف سے زبردستی نہیں کرنی چاہیے۔
فاٹا کی خواتین کے لئے ریفریشمنٹ کا بھی کوئی ذریعہ موجود نہیں ہے۔ کوئی فیملی پارک ہے نا ہی کوئی کمیونٹی اور ری ہیبلیٹیشن سنٹر جہاں خواتین آپس میں سماجی روابط بڑھا کر کوئی مہارت سیکھ سکے یا کسی ذاتی مسئلے کے سلسلے میں ایک تعلیم یافتہ اور سوشل خاتون سے رہنمائی حاصل کر سکے، ایک قبائلی خاتون جب بھی نظر آئے تو محض گھر کے کام کاج میں مصروف نظر آئے گی جو بذات خود عورت کی پہلی ترجیح ہونی چاہیے مگر ساتھ میں اگر وہ اپنی کمیونٹی کے لئے کوئی کردار ادا کرنا چاہتی ہے تو اسے ضرور ادا کرنا چاہیے، اس سے مقامی خواتین میں علمی، دینی، سماجی اور قدرے سیاسی آگاہی بڑھنے کا موقع فراہم ہوگا، اس کے نتیجے میں خواتین اپنے حقوق و فرائض سے آگاہ ہوں گی۔
ایک طرف اگر مرد عورت سے ان کے فرائض کی بجا آوری کا پر زور مطالبہ کرتے ہیں دوسری جانب جب عورت اپنے جائز حقوق سے آشنا ہوں گی تو معاشرے میں توازن بڑھے گا اور فائدہ مجموعی طور پر معاشرے کو ہی پہنچے گا کیونکہ ہمارے دین اسلام میں مرد کے لئے اس کی مردانگی قابل فخر ہے اور نا عورت کے لئے اس کی نسوانیت قابل عار ہے۔
خواتین کا قبائلی اضلاع میں سماجی حوالے سے بھی صفر کردار رہا ہے اور اس کی بنیادی وجہ بھی تعلیم و شعور کی عدم فراہمی اور سماجی و ثقافتی بندشیں ہیں جس کی وجہ سے عورت کا کردار اپنے اصل سے بھی کافی محدود اور سکڑ گئی ہے۔ یہاں عورت کھیتوں میں کام کرنے کے لئے مردوں کے شانہ بشانہ تو کام کر سکتی ہے مگر بد قسمتی سے معاشرے کی بہتری یا کم از کم اپنی کمیونٹی کی بھلائی کے لئے کوئی کردار ادا نہیں کر سکتی، اس حوالے سے سماجی تنظیموں کو خواتین کے قانونی اور مذہبی حقوق کو اجاگر کرنے کے لئے مثبت کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ قبائلی خواتین کے لئے پشتون روایات کے اندر رہ کر ملازمت کے مواقع پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ تعلیم کا شعبہ، صحت کا شعبہ، سماجی مسائل کے شعبے جیسے محکموں میں کردار ادا کرنا چاہیے۔
آخر میں اپنے تمام قبائلی دوستوں بھائیوں اور بزرگوں سے دردمندانہ گزارش کرنا چاہوں گا کہ عورت کو ثقافتی بندشوں کی نذر نہ کریں، ان کو وہ تمام حقوق بلا جھجک دیں جو ہمارے دین اسلام نے دیے اور ہمارے اسلامی معاشروں کی پہچان رہی ہیں۔ میں گزارش کرتا ہوں کہ عورت ایک ٹیبو کے طور پر نہ لی جائے بلکہ معاشرے کا ایک مکمل اور حقوق کے لحاظ سے برابر انسان کے طور پر لیں، بیوی کو محکوم نہ سمجھیں بلکہ معاشرے کی رسموں سے قطع نظر ایک دوست ایک ساتھی کے طور پر سمجھنے کی کوشش کریں، خواتین کو بیشتر فیصلوں اور مشترکہ مسائل کے حل میں شریک کریں، اسلامی تاریخ اور اسلامی معاشرے میں عورت کی حیثیت و کردار کا بذات خود مطالعہ کریں۔
اسلام کے اس لبرل شکل کو بھی دیکھیں جو ہمارے نیم ملاؤں نے ہمیں نہیں دکھائی، ہمیں یہ نہیں بتایا گیا کہ ایک عورت اپنے حدود کو مد نظر رکھتے ہوئے بزنس کر سکتی ہے۔ ایسی جاب کر سکتی ہے جہاں پر اس کے پردے اور حدود میں خلل نہ ہو، اپنی کمیونٹی کی بہتری کے لئے عملی کام کا حصہ بن سکتی ہے۔ ڈرائیونگ کر سکتی ہے۔ تعلیم حاصل کر کے معاشرے کے بیٹے بیٹیوں کو تعلیم یافتہ بنانے میں صف اول کا کردار ادا کر سکتی ہے۔
خاتون اگر خود تعلیم یافتہ ہو تو اس بات کا سو فیصد امکان ہے کہ اس کا بیٹا ایک کامیاب اور معاشرے کے لئے بہتر انسان ثابت ہوگا، بیٹے اور بیٹیوں کے مابین اس فرق کو ختم کرنے کی ضرورت ہے جو حقوق ایک بیٹے کا اپنے والدین پر ہیں وہی حقوق ایک بیٹی بھی رکھتی ہے۔ ہمیں ان دو اصناف کے مابین اس خلا اور ترجیحات کو ختم کرنے کی ضرورت ہے اور سب سے بڑھ کر عورت کو حوصلہ دینے اور اس پر اعتماد کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم عورت پر اعتماد اور بھروسا ہی نہیں کر سکتے تو گھر کی چار دیواری میں پرسکون زندگی کیسے گزاری جا سکتی ہے؟

