مندر کی بے حرمتی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


کچھ دن پہلے فیس بک پر سکرولنگ کرتے ہوئے بچوں کی ایک کتاب پر نظر پڑی جس کا نام تو مجھے یاد نہیں البتہ سرورق پر شیو لنگ کا بت تھا جسے ایک داڑھی والا شخص کلہاڑا مار کر توڑ رہا تھا۔ بچپن سے کتب بینی کہ عادت ہے ایسے سرورق، عنوانات یا مضامین میرے لئے نئے نہیں ہیں پھر بھی مندر کے حوالے سے چلتے ملک میں حالیہ تنازع کے باعث وہ سروق کئی دنوں میرے دماغ سے چپکا رہا اور بالآخر کچھ دن پہلے سوشل میڈیا پر وائرل ایک وڈیو دیکھ کر معاملہ کچھ کچھ سمجھ آنے لگا۔

اس وڈیو میں ایک شخص مندر کی کچی دیوار توڑ رہا تھا اور بعد میں مندر کی جگہ پر اذان بھی دی گئی۔ ذرا سوچیں اس طرح کے سرورق اور کتابیں اقلیتی برادری کے بچوں کی نظر سے گزرتی ہوں گی تو ان کے معصوم ذہنوں پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہوں گے، کس طرح کا احساس کمتری پیدا ہوتا ہوگا، وہی وہ وقت ہوتا ہوگا جب ان کے کچے ذہنوں میں دوسرے درجے کا شہری ہونے کا انکشاف ہوتا ہوگا اور صرف یہی نہیں ہمارا تو نصاب بھی کچھ اسی طرح کا ہے جس میں ہر مضمون خواہ وہ طبیعیات یا کیمیا ہی کیوں نہ ہو بغیر مذہبی حوالہ دیے کتاب شروع نہیں ہوتی۔

بات صرف یہ ہے کہ قانونی داؤپیچ تو اپنی جائز ناجائز بات منوانے کا راستہ ڈھونڈنے کے لیے کھنگالے جاتے ہیں اصل مسئلہ تو دل میں گنجائش نہ ہونا ہے۔ جس معاشرے میں بچے کو مندر ڈھانا ایک کارنامے اور اعلیٰ اخلاق کے طور پر سکھایا جائے گا اور نصاب میں محمود غزنوی، محمد بن قاسم جیسی متنازعہ شخصیات کو ہیرو کے طور پر پیش کیا جائے گا آخر اس قوم میں مندر کی بے حرمتی نہیں کی جائے گی تو اور کیا ہوگا؟

جی ہاں، آپ بے پورے ہوش و حواس میں ”مندر کی بے حرمتی“ ہی پڑھا ہے کیونکہ جیسے ہمارے لئے ہمارا مذہب مقدس ہے ہماری مذہبی عمارتیں قابل احترام ہیں اسی طرح ہندو یا عیسائی اور دیگر اقلیتوں کے لیے ان کے مذہبی ادارے بھی مقدس ہیں۔ جیسے انڈیا میں ہائی کورٹ کے فیصلے کے باوجود بابری مسجد کی عمارت کو مندر میں تبدیل کرنا ہمارے لیے ”شہادت  کا درجہ“ رکھتی ہے اسی طرح کسی مندر کی عمارت گرانا بھی انسانیت کے ناتے بے حرمتی کا درجہ رکھتی ہے۔

جو جگہ کسی کے لئے مقدس ہے، جہاں ایک انسان اپنے خدا کی موجودگی کو محسوس کر کے سر جھکاتا ہے اس جگہ کو صرف اس لیے ڈھانا کیوں کہ آپ کو اس کے نظریے سے اختلاف ہے یہ زیادتی نہیں تو اور کیا ہے؟ بچپن سے ہی ایک کچے ذہن میں دنیا کے ہر عقیدے کے خلاف نفرت اور عدم برداشت بھر کر آخر ہم کون سی عظیم قوم بنا رہے ہیں؟ اسلام میں تو دیگر مذہبی عمارتوں کا احترام کا ہی درس دیا گیا ہے، فتح مکہ کے بعد خانہ کعبہ میں بت اس لئے توڑے گئے کیونکہ تاریخ کے مطابق خانہ کعبہ ہمیشہ سے ہی مسلمانوں کی ملکیت رہا تھا اور اسلام کی سب سے مضبوط علامت ہے اس کے علاوہ تو کہیں کسی مذہبی عمارت کو نہیں توڑا گیا تو پھر بتائیں ایسی مذہبی جارحیت اپنا کر آپ کون سے مذہب کی تقلید کرتے ہیں؟ افسوس اور دکھ اس بات پر بھی ہے کہ اس سلسلے میں ہر مذہبی عالم امن اور بھائی چارگی کا درس دینے کے بجائے ضد اور ہٹ دھرمی کا رویہ ہی کیوں اپنائے ہوئے ہے؟

ذرا سوچ کر دیکھیں کیا گزری ہوگی ان ہندو بہن بھائی کے دلوں پر جن کے بھگوان کے گھر کو ان کی آنکھ کے سامنے توڑ دیا ہو اور وہ بے بس لب سیے رکھنے پر مجبور ہوں کیونکہ وہ اس وطن سے مذہبی اختلاف ہونے کے باوجود بھی اتنی ہی محبت کرتے ہیں جتنا کہ کوئی مسلمان پاکستانی مگر افسوس کہ پاکستان یا پاکستانی اپنی اقلیتوں کے دکھ درد کو محسوس کرنے اور ان کے بنیادی حقوق ادا کرنے سے قاصر ہیں۔

مجھے سوچ کہ تعجب ہوتا ہے کہ یہ منافقت کا کون سا درجہ ہے کہ ہم مسلمان دیگر ممالک میں سیکولر نظام کا مطالبہ کرتے ہیں اور اپنے ملک میں اقلیتوں کے سانس لینے تک پر پابندی لگا دینا چاہتے ہیں۔ دیگر ممالک میں سیکولر قوانین کے تحت حجاب پر پابندی ہو تو آٹھ آٹھ آنسو بہاتے ہیں اور یہاں کسی کی آنکھ کے آگے اس کے بھگوان کا گھر ڈھاتے ہاتھ بھی نہیں کانپتا۔

بہتر یہی ہے کہ خدائی معاملات کو اپنے ہاتھ میں لینے کے بجائے انسانوں سے انسانیت کا سلوک ہی اپنائیں۔ اقلیتوں کے ساتھ وپی رویہ اپنائیں جو آپ دوسرے ملکوں میں بحیثیت اقلیت اپنے لیے چاہتے ہیں۔ قانون کو توڑ مروڑ کر پیش کر کے اقلیتوں کی دل آزاری کرنے کے بجائے اپنے دلوں میں گنجائش پیدا کریں۔ اگر آپ کو کسی اور ملک کی اسلام دشمن پالیسی پر اعتراض ہے تو اپنے ملک کو ایسی عظیم مثال کے طور پر سامنے لائیں کہ دوسرے بھی آپ کی پیروی کریں ورنہ منافقت اور خودپرستی تو دنیا میں نہ ہی کہیں اعلیٰ اخلاق کے زمرے میں آتی ہے نہ ہی ان دوغلے معیارات کی کسی بھی مذہب خصوصاً اسلام میں کوئی گنجائش ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply