ہماری پولیس نااہل ہے یا مجرم؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ابھی چند دن قبل سماجی میڈیا پر ایک افسوسناک ویڈیو نے کافی گردش کی۔ پشاور کی پولیس ایک شخص کو ننگا کرکے اس کی ویڈیو بنا رہی تھی۔ اس بیچارے پر بہیمانہ تشدد کیا گیا تھا۔ تب بھی اسے گالیوں سے نوازا جا رہا تھا۔ یہ سب دیکھ کر مجھ پر ایک حقیقت کھلی۔ وہی حقیقت کھلی کہ ہمارے سماج میں اصل منظم مجرم گروہ کوئی اور نہیں خود پولیس ہے۔ یہ خیال میرے ذہن میں تب بننا شروع ہوا تھا جب میں خود پولیس میں ملازم تھا۔ مگر تب مجھے کچھ بہتر مثالیں بھی اس ادارے میں نظر آتی تھیں اور لگتا تھا کہ جو بہتر نہیں ہیں وہ بھی بہتر ہوسکتے ہیں۔ میں غلط تھا۔

ہمارے ملک میں سب سے اہل کہلانے والے پولیس اہلکاروں کی حقیقت کیا ہے؟ ہم نے دیکھا کہ راؤ انوار میڈیا سے خوب سینہ پھلا کر باتیں کیا کرتا تھا۔ وہ ہر روز انکاؤنٹر کرتا اور پھر جب اس کے کیے ہوئے ایک انکاؤنٹر پر معاملہ تھوڑا زیادہ ہی سنجیدہ ہوا تو ’سپر کاپ‘ سلمانی ٹوپی لگا کر کسی بل میں چھپ گیا اور اس کے نا اہل اور بدعنوان پیٹی بھائی اس کو کہیں ڈھونڈ نہ پائے۔ ساری دنیا میں ہماری پولیس کا مذاق بنا کہ ایک شخص یوں جا کر ملک کے دار الحکومت میں چھپ گیا اور کوئی اس کو نہ پکڑ پایا۔ پھر وہ خود ہی اپنے منہ پر ’مکی ماؤس‘ کا ماسک لگا کر عدالت میں آ گیا۔

یادش بخیر، اسی کراچی کے ایک اور افسر چودھری اسلم جو پاکستان کے ’رحمت اللہ علیہ‘ بن جانے کی اہلیت پوری کر چکے ہیں (یعنی مر چکے ہیں ) لیاری میں 2012 ء میں عذیر جان بلوچ کے خلاف آپریشن فرما رہے تھے اور آپریشن یوں ہو رہا تھا کہ وہ جا کر لیاری کے ایک مقام پر بیٹھ جاتے۔ سندھ پولیس کے بہادر جوان کسی ملک کی سرحد کی طرح سامنے کے علاقے پر فائر کرتے رہتے۔ مرحوم بھی درمیان میں اپنی کرسی سے اٹھتے اور دو چار گولیاں برسا کر واپس اپنی کرسی پر بیٹھ کر چائے پینے لگتے۔

اس آپریشن کے دوران کچھ بھی حاصل نہ ہوا۔ آپریشن کے بعد عذیر جان بلوچ کسی فاتح جنرل کی طرح تقریر کرنے اپنے چاہنے والوں اور میڈیا کے سامنے ظاہر ہوا اور وہاں ’پاک فوج زندہ باد‘ کے نعرے لگائے گئے۔ عزیر نے ایک تقریر کی۔ اس کے بعد کسی کو یاد نہ آیا کہ جس کے خلاف آپریشن ہو رہا تھا وہ تو یہیں موجود ہیں۔ لیاری میں ارشد پپو اور اس کے ساتھیوں کے سر کاٹ کر ان سے فٹ بال کھیلا گیا اور لاشوں کو کچرا دان میں ڈال کر جلا دیا گیا۔ میں اس واقعے کے محض چند دن بعدرزاق آباد پولیس ٹریننگ سینٹر میں پولیس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ میں موجود تھا۔ وہاں ایک صحافی نے آئی جی سندھ سے پوچھا کہ پولیس کے ہوتے ہوئے لیاری میں ایسے خوفناک واقعات پیش آ رہے ہیں تو محترم آئی جی صاحب نے سنہری الفاظ ارشاد فرمائے۔ ۔ ۔

”ایسا کوئی واقعہ پیش آیا؟ یہ تو Hearsay (افواہ) ہے۔“
یہ ایسی افواہ تھی جس کی وڈیوز آج تک انٹرنیٹ پر موجود ہیں۔

ہمارے ملک کی پولیس کی اہلیت کے پول تو بار بار کھلتے رہتے ہیں۔ زینب کے بھیانک واقعے کے بعد جب سارا ہی میڈیا اس کے پیچھے ہی پڑ گیا تو سر توڑ کوشش کر کے یہ قبیح عمل کرنے والے کو پولیس نے پکڑ لیا مگر ایک مجرم کو پکڑنے کے لئے سارے ہی علاقے کے ہر فرد سے تفتیش کرنی پڑی۔ یہ ہے پولیس کی انٹیلی جنس کی حالت۔ اور ایک اور بھید یہ بھی اس واقعے سے کھلا کہ زینب کے قاتل عمران علی کے ہاتھوں بے حرمتی کا شکار اور ہلاک ہونے والی ایک اور بچی کے قاتل کے طور پر پنجاب پولیس ایک مظلوم کا انکاؤنٹر کر چکی تھی۔

کراچی میں انصار الشریعہ نام کا گروہ سڑکوں پر پولیس والوں کا شکار کھیل رہا تھا اور پولیس ان سے صریحاً بے خبر تھی۔ جب خواجہ اظہار پر قاتلانہ حملہ کرتے ہوئے اس گروہ کا ایک رکن خود مارا گیا تو خود ہی یہ گروہ سامنے آ گیا اور یوں اتفاق سے خود ہی پولیس والوں کے قتل کا عقدہ کھل گیا۔ ہماری پولیس کے اکثر کارنامے ایسے ہی اتفاقات سے پیدا ہوئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ بہت سے جرائم پولیس کی سرپرستی میں ہوتے ہیں مثلاً علاقے کے جسم فروشی کے اڈے پولیس کو ان کا حصہ دیتے ہیں، اسی طرح فقیر، اچکے، چور، ڈکیت یہ سب پولیس کو حصہ دیتے ہیں مگر یہ تو دراصل کاروباری مجرم ہیں جن کی روزی روٹی ہی جرم سے ہے اور یہ اپنا جرم کا کاروبار شروع کرنے سے پہلے خود ہی پولیس سے آشیر باد لینے آ جاتے ہیں مگر اگر کوئی حقیقی مجرم جو صرف پولیس کی نا اہلی سے چوہے بلی کا کھیل کھیلنا چاہے (جیسے انصار الشریعہ یا کوئی سیریل کلر) تو ہماری پولیس تاقیامت نہ اسے روک سکتی ہے نہ ہی پکڑ سکتی ہے۔

اس کی سب سے بڑی مثال لاہور کا سیریل کلر جاوید اقبال ہے جس نے جب سو سے زائد بچوں سے زیادتی کر کے ان کا قتل کر دیا، پھر خود ہی ایک معروف اخبار کو خط لکھ کر اپنے سیاہ کارنامے بیان کیے اور خود ہی چند دن بعد اس اخبار کے دفتر پہنچ گیا۔ یعنی اگر وہ اس کے بعد 100 بچے مزید بھی قتل کر ڈالتا اور خود ہی اس کا ارادہ پولیس کے پاس جانے کا نہ ہوتا تو اسے کبھی پولیس نہ پکڑ پاتی اور اگر کوئی صحافی پنجاب پولیس کے آئی جی سے دریافت کر لیتا کہ یہ سڑک پر زندگی گزارنے والے بچے اچانک سارے شہر سے غائب کہاں ہو گئے ہیں تو پنجاب کے تب کے آئی جی صاحب یقیناً فرماتے کہ

”ایسا کب پیش آیا؟ یہ تو Hearsay (افواہ) ہے۔“

بڑی حد تک سارے ہی ملک کی پولیس بڑے لوگوں کے سیکیورٹی گارڈ کا کام سرانجام دے رہی ہے۔ ایک جانب جب جرائم کی ریل پیل کی بات کی جاتی ہے تو نفری کی کمی کا رونا رویا جاتا ہے اور دوسری جانب صرف صوبہ سندھ میں پانچ ہزار سے زائد پولیس اہلکار صرف بڑے لوگوں کی سیکیورٹی ڈیوٹیز پر تعینات ہیں۔ ہر وقت صرف زرداری کے گھر کی حفاظت کے لئے ہی ڈیڑھ سو پولیس کمانڈوز تعینات رہتے ہیں جب کہ زرداری کے ذاتی دوستوں جیسے انور مجید اور اویس مظفر ٹپی کے ساتھ بھی دس دس پولیس موبائلز کے کانوائے چلتے ہیں۔ چند سال قبل ایک وڈیو سوشل میڈیا پر کافی پھیلی تھی اور ٹی وی پر کافی زیر بحث رہی تھی جس میں ایک شخص سڑک روک کر کھڑے ایک کانوائے کی وڈیو بنانے لگتا ہے تو ’ایس ایس یو‘ کا ایک مستعد جوان تیزی سے آتا ہے اور گالی بک کے مووی بنانے سے روکتا ہے، مکا مارتا ہے اور بتاتا ہے کہ ”تیرا باپ جا رہا ہے۔“

یہ ہے وہ پولیس جو ہمارے دیے ہوئے ٹیکس سے تنخواہ پاتی ہے تاکہ ہمارے ’انتظار‘ ، ’نقیب‘ ساہیوال میں شہید ہونے والے خاندان جیسوں کو بے گناہی کی پاداش میں گولی مار سکے۔ ہمارے نوجوانوں کی سواریاں روک کر ان سے رشوت مانگ سکے، زمینوں پر قبضے کر سکے، شراب، جوئے کے اڈے، چور ڈکیتوں کے ریکٹ چلا سکے اور جب ایک چھری مار کو ہی پکڑنا ہو تو اس کے پسینے چھوٹ جائیں۔ نہتے لوگوں پر گولیاں برسانے والی پولیس ’چھوٹو‘ جیسے ڈاکوؤں سے لڑائی میں پیٹھ دکھا کر راہ فرار اختیار کرتی ہے۔ اس کی قابلیت کا یہ عالم ہے کہ ایک شخص کو پکڑنے کے لئے اس کو پورے شہر کا ڈی این اے ٹیسٹ کرنا پڑتا ہے۔ جعلی پولیس مقابلوں میں کسی کو بھی مار کر کچھ بھی ثابت کر دینے والی ہماری اس عظیم پولیس کا اگر اصل میں دہشت گردوں سے مقابلہ ہو جائے تو بہت صحیح طور سے معلوم ہو جاتا ہے کہ ان کی اصل اہلیت ہے کیا۔

پولیس کی مظلومیت کے گیت گانے والوں کو معلوم نہیں کہ آج پولیس کی تنخواہیں دیگر سرکاری محکموں سے کم نہیں ہیں مگر اس کی کارکردگی اور بدعنوانی بالکل ماضی جیسی ہی ہے۔ آج بھی پولیس کا سپاہی مفت کا کھانا ہوٹل پر کھاتا ہے اور دکانوں سے بھتہ لیتا ہے۔ اس لیے کہ ان پکے گھڑوں کے لئے تنخواہ تو ہے ہی اضافی آمدن، اصل تو اوپر کی کمائی ہے تو منافع کے لئے اصل کون چھوڑتا ہے؟ اور رہی بات اہلیت کی تو حرام خوری کے لئے جس قدر اہلیت درکار ہے وہ تو ہماری پولیس کے پاس ہے ہی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply