حاجی شمس الدین: جنہیں جرم عشق پہ ناز تھا وہ گناہ گار چلے گئے 

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پیپلزپارٹی سندھ کی بات کی جائے تو دو خاندانوں کا ذکر نہ کرنا زیادتی کہلائے گا۔ دونوں خاندان حالات کے نشیب و فراز کے باوجود بھٹو خاندان کے شانہ بشانہ کھڑے رہے۔ ضیاء کا مارشل لا ہو یا مشرف کا آمرانہ اقتدار دونوں خاندان وفا کے پیکر بنے رہے۔ جی ہاں #ہالا کا مخدوم خاندان اور #جمال۔ آباد کا ہنگورجو خاندان۔

حاجی جمال الدین مرحوم حقیقی حر تھے، حر تو حریت پسند ہوتے ہیں۔ خلیفہ شاہی کے ناجائز فیصلوں، زیادتیوں اور ظلم کے خلاف فنکشنل لیگ کے گڑھ سانگھڑ میں علم بغاوت بلند کرنے والا حاجی جمال الدین مرحوم دو بھائیوں کی مختصر سی جماعت کے ساتھ مارشل لاء کا مقابلہ کرتا رہا لیکن کبھی زندگی کی بھیک نہیں مانگی، مختلف جیلوں میں ٹارچر برداشت کیا لیکن بھٹو سے غداری نہیں کی۔

حاجی جمال الدین کا دور ہم نہ دیکھ سکے لیکن ان کے فرزند حاجی شمس الدین کا دور اور پارٹی سے وفاداری کے ہم چشم دید گواہ ہیں۔ نوے میں اقتدار کی آنکھ مچولی اور انتقامی سیاست نے بڑے بڑے خاندانی نوابوں کو رات کی تاریکی میں وفاداریاں بدلتے دیکھا وہاں یہ شخص چٹان کی طرح مضبوط رہا۔ سنہ 1997 سے 2008 تک پی پی، سانگھڑ سے تقریباً ختم ہوچکی تھی، اس وقت محترمہ کے اس وفادار سپاہی نے اپنے حصے کا چراغ جلائے رکھا۔

مالی حالات اچھے نہیں تھے لیکن جب بھی پارٹی نے جلسہ کرنا چاہا حاجی شمس الدین پیش پیش رہے۔ مجھے یاد ہے اس عرصے کے دوراں پی پی پی کھپرو کے نوابوں کے بنگلوں کو ٹرائی سرکل کے تالے لگے ہوتے تھے، کارکن تو کیا قیادت کو چائے پلانے کے روادار نہ تھے وہاں حاجی شمس الدین کے بنگلے کے دروازے ہر امیر و غریب کے لیے کھلے تھے۔ اگرچہ انتظامیہ مخالف تھی لیکن کسی سائل کو مایوس نہیں کیا، کورٹ کچہری تک ساتھ ساتھ رہے۔ اور نہیں تو ہر آنے والا کا خندہ پیشانی سے استقبال کرتے اور اس کی درد کتھا سن کر تسلی ضرور دیتے تھے۔

فنکشنل لیگ سے بغاوت کی پاداش میں ان کا ہاتھ بند تھا (سوشل بائیکاٹ) ہتھونگو سے مٹھی تک سب اپنے بیگانے ہو گئے لیکن یہ شخص اپنے نوجوان کزن کے ساتھ اصولوں پر قائم رہا۔ جی ہاں عمر گل کی صورت میں انہیں ایک مضبوط کندھا مل چکا تھا، جو حاجی صاحب کا تا حیات سہارا بنے رہے۔

حالات کی ستم ظریفی دیکھیں وہ شخص جس نے ہر مشکل وقت میں پارٹی کے لیے قربانیاں دیں جب پی پی کو اقتدار ملا تو ان سے تعلقہ صدارت چھینی گئی، انہیں ہر معاملے میں نظر انداز کیا جانے لگا۔ نور محمد شاہ اور شرجیل میمن جیسے نئے جیالوں پر نوازش ہونے لگی اور مخدوم خاندان کی طرح جمال آباد کا یہ خاندان بھی نظر انداز ہونے لگا۔ لیکن میں نے حاجی شمس الدین کے چہرے پر کبھی شکن نہیں دیکھی زبان پر پارٹی کا شکوہ نہیں سنا، نہ سوال وصل نہ عرض غم نہ حکایتیں نہ شکایتیں۔ کیونکہ وہ ابن الوقت اور مفاد پرست نہیں تھے وہ تو بھٹو پرست تھے، بھٹو ان کا عشق تھے، بھٹو کو اپنا مرشد سمجھتے تھے ان کے ہاں ایڈوائزر بننے سے زیادہ بھٹو کاز کے لیے جیل جانا افضل تھا۔

سنہ 2013 کا ضمنی انتخاب تھا، الیکشن سے پانچ روز پہلے تک پی پی کے جیتنے کا کوئی چانس نہیں تھا، ون سائیڈیڈ مقابلہ لگ رہا تھا، لیکن حاجی شمس الدین اور کھپرو کے حاجی سلیمان اور محمد وسیم قائم خانی نے حوصلہ نہیں ہارا، تینوں میڈم شازیہ کے ساتھ ساتھ رہے، چونکہ جنرل الیکشن میں فنکشنل لیگ اس سیٹ سے جیت چکی تھی تو ضمنی میں ان کی فتح یقینی لگ رہی تھی، لیکن جمال آباد کے اس جیالے اور کھپرو کے قائم خانی نے میڈم کی الیکشن مہم بھرپور چلائی۔ اچانک پارٹی قیادت نے اس حلقے کو سیریس لیا ساری سندھ کو کھپرو کی مہم پر لگا دیا، ایک ایک پولنگ اسٹیشن پر نثار کھہڑو اور مراد علی شاہ جیسی قیادت کو بھیجا گیا، نتیجتاً باقی لوکل پارٹی زعماء بھی میدان میں اترے اور مہم چلائی۔

میڈم شازیہ مری نے بھی سیاسی گھرانے میں آنکھ کھولی تھی، تو مردم شناسی ان کی تربیت اور جین میں تھی، میڈم نے جمال آباد کے اس خاندان کی وفاداری اور بے لوث خدمت پہچان چکی تھیں تو انہوں نے احسان کا بدلہ احسان سے دیتے ہوئے حاجی شمس الدین کی ہر بات کو مان دیا۔ حاجی شمس الدین کو والد کادرجہ دیتے ہوئے ہر وقت ان سے دعائیں اور مشورے لیتی رہیں۔ کل جمال آباد کا دوسرا جیالا بھی راہ اجل کا راہی ہوا، دیکھتے ہیں حاجی شمس الدین کی مہمان نوازی، وفاداری، انسان دوستی، تحمل اور بردباری کس کے حصے میں آتی ہے۔

نہ رہا جنون رخ وفا یہ رسن یہ دار کرو گے کیا
جنہیں جرم عشق پہ ناز تھا وہ گناہ گار چلے گئے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *