عابد سہیل :آخری ترقی پسند

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

’اوہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں ٹھیک ہوں۔ ۔ ۔ ۔ ۔‘

مجھے اچانک احساس ہوا، فرانز کفکا کا کردار گریگور میرے اندر داخل ہو چکا ہے۔ مگر میں کہاں ٹھیک تھا۔ سر بھاری، طبیعت بوجھل۔ اس وقت رکشہ علی گڑھ یونیورسٹی کی گلیوں سے گزر رہا تھا۔ اس طرف دور تک ا ندھیرا تھا۔ رکشہ پر میں اور عابد بھائی بیٹھے تھے۔ مجھے نہیں معلوم، اس درمیان ہم کتنی بار مل چکے تھے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مگر وہ رات۔ میرے لئے نئی بھی تھی اور یادگار بھی۔ علی گڑھ میں سے می نارتھا۔ میں شام کے 7 بجے پہنچا تو معلوم ہوا عابد بھائی برابر والے کمرے میں موجود ہیں اور کچھ دیر بعد وہ مسکراتے ہوئے نظروں کے سامنے تھے۔ اور اس کے بعد ہم سیر کے لئے ایک رکشہ پر سوار ہو گئے تھے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور یہی وقت تھا، جب میرے اندر گریگور سمسا کی آمد ہو رہی تھی اور میں عابد بھائی کے الفاظ میں گم ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔

”الفاظ کہاں ہوتے تھے ذوقی۔ تم نے درزی کو دیکھا ہے۔ ہاتھ میں قینچی اور پنسل لیے کپڑوں پر جھکا ہوا۔ اور بیکار کپڑو ں کو کاٹتا چلا جاتا ہے۔ ہم اور کیا کرتے ہیں، کرپٹ سسٹم کو ہٹانے کی کوشش کرتے ہیں مگر افسوس ہمارے پاس قینچی بھی نہیں۔ ’

’اور ہم سمجھتے ہیں کہ لکھنے والا۔ ۔ ۔ ۔ ۔‘

عابد بھائی نے زور کا قہقہہ لگایا۔ یہاں چھوٹا کون ہے؟ اردو میں چھوٹا کوئی ہے ہی نہیں۔ مگر ذوقی۔ ہم دوسروں کی بات کیوں کریں۔ زندگی بھراپنا محاسبہ کرتا رہا کہ کرنا کیا ہے۔ کہانیوں کا آغاز ہوا تو ایک جنگل آباد تھا۔ اور یہ وہ دور تھا جب کہانیاں ترقی پسندی سے ہوتی ہوئی جدیدیت تک کا سفر طے کر رہی تھیں۔ ایسا ہوتا ہے ذوقی، ضروری نہیں کہ سب ایک ہی راستہ پرچلیں۔ کبھی کبھی راستہ تبدیل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ رکشہ والے اس گلی میں لے لو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعدہوسٹل ہے، جہاں ہم ٹھہرے ہیں۔ وہ پھر ہنسے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آپ کو تو راستہ یاد نہیں ہوگا؟

’جی ہاں۔‘
’میں راستہ کبھی نہیں بھولتا۔‘

اس بار گریگور نے پلٹ کر اس چہرے کو دیکھا تھا۔ جہاں نہ غرور کی کوئی جھلک تھی نہ فتح کے آثار۔ جہاں اس عمر میں بھی ایک بچپن چھپا ہوا تھا، نہ کسی سے کوئی گلہ تھا، نہ شکوہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نہ کوئی حرف شکایت کسی کے لئے زبان پر۔ ا ور یہ اس قد آور شخصیت کا کمال تھا کہ میں خود کوکفکاکے اس کردار کے طور پر محسوس کر رہا تھا جو اچانک ہی رات کی خاموشی میں مجھے ایک معمولی رینگنے والے کیچوے میں تبدیل کر چکا تھا۔

رکشہ ہاسٹل گیٹ کے دروازے پر رک گیا تھا۔

عابد سہیل، میرے عابد بھائی۔ یہ رشتہ آج کا نہیں برسوں پرانا تھا۔ ان دنوں میں آرہ میں تھا۔ بہار کا ایک چھوٹا سا شہر آرہ۔ کہانیاں شائع ہونے لگی تھیں۔ انہی دنوں قمر رئیس صاحب کا ایک طویل خط مجھے موصول ہوا تھا، جس کے آخر میں کچھ لوگوں کے نام دیے گئے تھے۔ اور پوچھا گیا تھا۔ کیا آپ نے ان لوگوں کو پڑھا ہے۔ ؟ ان میں ایک نام عابد سہل کا تھا۔ جب میں نے ہوش سنبھالا اور لکھنا شروع کیا تو ’کتاب‘ کا ذکر آرہ کے ادبی حلقوں میں زور شور سے سنائی دیتا تھا۔

کتاب کو بند ہوئے عرصہ گزر چکا تھا مگر اس کا نام معیاری ادب پسند کرنے والوں کی زبان پر موجود تھا۔ اسی زمانے میں عابد بھائی کی کئی کہانیوں کو پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ اور ان کہانیوں کے راستے عابد بھائی کو جاننے اور سمجھنے کا سلسلہ بھی شروع ہوا۔ وہ ترقی پسند تھے۔ مگر ان کی کہانیاں پروپیگنڈا ادب سے کوسوں دور تھیں۔ کہانیوں میں چھوٹے چھوٹے جملوں سے ایک بڑی دنیا آباد کرنے کی کوشش کی جاتی تھی۔ بڑی بات یہ، کہ دوسرے فنکاروں کی طرح عابد بھائی گہرے اوربوجھل فلسفوں کے چکر میں نہیں پڑتے تھے۔

ان کی کہانیاں سیدھے سادے انداز میں شروع ہوتی تھیں اور بعض جملوں میں اتنی تہہ داری ہوتی تھی کہ آپ چاہیں تو وہاں سے علامتوں کے موتی بھی تلاش کر سکتے تھے۔ یہ انداز کچھ کچھ مجھے راجندر سنگھ بیدی کی تحریروں کی یاد دلاتا تھا۔ مگر بیدی کے جملے گنجلک بھی ہوا کرتے تھے۔ عابد بھائی کی نثر شگفتہ اور رواں دواں۔ وہ چھوٹے چھوٹے پلاٹ اٹھاتے اور چھوٹے چھوٹے پر مغز جملوں سے کہانیوں میں جان ڈال دیتے۔ مجھے اس بات کا شدت سے احساس تھا کہ عابد بھائی کی کہانیوں پر کام کرنے کے لئے کوئی نقاد سامنے نہیں آیا۔

کیوں احساس تھا؟ اس کی وضاحت کرتا چلوں۔ عابد بھائی نے جب کتاب کا اجرا کیا۔ جدیدیت کے ہنگامے شروع ہو چکے تھے۔ ایک وقت ایسا بھی تھا جب نہ جدیدیت ترقی پسندیت پر حاوی تھی۔ نہ ترقی پسندیت پر جدیدیت۔ بلکہ دو لہریں ادب میں ساتھ ساتھ چل رہی تھیں۔ اور یہ کہنا بے معنی ہے کہ ترقی پسند ادب سے نجات کے لئے جدیدیت کا راستہ اختیار کیا گیا۔ اگر آپ کتاب کے اس وقت کے شمارے دیکھیں تو تعجب اس بات پر ہوتا ہے کہ عابد بھائی نے کیسے کیسے ادیبوں کو ایک بڑے پلیٹ فارم پر جمع کر دیا تھا۔

نظمیں، غزلیں اور کہانیوں پر نگاہ ڈالیں تو ترقی پسندی کے ساتھ ساتھ چلتی ہوئی جدید لہریں بھی آسانی سے آپ کو نظر آ جائیں گی۔ اور یہی عابد بھائی کا سب سے بڑا کمال تھا کہ وہ کسی نظر یہ کے گرفت میں نہیں آئے۔ وہ روایتوں کے بھی قائل تھے۔ ترقی پسندی کے بھی اور وہ یہ بات بخوبی جانتے تھے کہ ہر کہانی کو جدید ہونے کا حق حاصل ہے۔ غلام عباس کی آنندی سے منٹو تک کی کہانیاں پڑھ جائیے تو زیر یں لہروں میں وہ جدیدیت آسانی سے نظر آ جائے گی، جس کا غلط استعمال اس عہد کے کچھ ادبی دانشوروں نے کیا۔ اور بقول عابد بھائی، کہانی کو کہانی کی طرح ہی رہنے دیجئے۔

دلی، غالب اکادمی میں کوئی سے می نار تھا۔ میں داخل ہوتا ہوں تو اچانک ٹھہاکے کے ساتھ ایک زور دار آواز ابھرتی ہے۔ آپ کے سالک رام مارے جا رہے ہیں۔ یہ اسی زمانے کی بات ہے جب میری کہانی مت رو سالک رام، قمر رئیس کے رسالہ عصری آگہی میں شائع ہوئی تھی۔ یہ کہانی کافی مقبول ہوئی تھی۔ عابد بھائی نے آگے بڑھ کر مجھے گلے لگایا۔ فضا خراب تھی۔ دنگے ملک کا چوتھا موسم بن چکے تھے۔ میں نے عابد بھائی کی بڑی بڑی آنکھوں میں جھانک کر دیکھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہاں ابھی بھی سہما سہما سا سالک رام موجود تھا۔

دلی سے لکھنؤ تک، ملاقاتوں کا ایک لمبا سلسلہ ہے۔ اور ہر بار اپنی گفتگو سے عابد بھائی کچھ ایسے گہرے نشان چھوڑ جاتے ہیں کہ انہیں بھلانا آسان نہیں ہوتا۔ لکھنؤ کی نفاست، رواداری اورتہذیب کو دیکھنا ہو تو شرر کے گزشتہ لکھنؤ میں جھانکنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ عابد بھائی کو دیکھ لیجیے۔ ’ان کی ذات میں اس کیمیا، کا وصف تھا کہ اپنے اخلاق حمیدہ سے دوسروں کے اندر وہی صفات پیدا کر دیتے تھے۔ جس سے انسانیت روشن ہے ا ور دنیا کا کاروبار چلتا رہتا ہے۔

اور یہ وصف مجھے حضرت موسیٰ کی یاد دلاتا ہے کہ تجلی طور کے بعد حضرت موسیٰ کا حال یہ تھا کہ جوان کے چہرہ مبارک کو دیکھتا، اس کی بینائی جاتی رہتی اور موسیٰ نے دعا کی کہ ایسا نقاب عطا کیجئے کہ اس تجلی سے کسی کا نقصان نہ ہو۔ یہ رہی پیغمبروں کی باتیں۔ مگر عابد بھائی کا انداز یہ کہ کبھی کسی نقاب کی ضرورت نہیں رہی۔ وہ جیسے کل تھے، آخری سانس تک اس طرح زندگی گزار تے رہے۔ کہانیوں کی بستی، کتابوں کی بستی، کبھی رتن سنگھ کی کتابوں کا اجرا ہو رہا ہے۔

Abid Suhail (First from the left)

کبھی ا دب کو لے کر نئے مباحث سامنے آرہے ہیں۔‘ کتاب ’سے شروع ہوا یہ سلسلہ آخری وقت تک جاری رہا۔ اور اس لیے جاری رہا کہ حضرت موسیٰ کی طرح عابد بھائی کوہ طور پر تو نہیں گئے لیکن زمانے کا غم (سب سے بڑا غم) پی کر ان کی شخصیت اور ان کا وجود ایک ایسی علامت بن گیا تھا کہ ہم اس چہرے میں اردو ادب کے آج کا چہرہ دیکھ سکتے تھے۔ وہ تھکے نہیں تھے۔ وہ مسلسل لکھ رہے تھے۔ جیسے کہہ رہے ہوں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میرے جمال کو برداشت کرنے والا ہے ہی کون تھا۔ نہ زمین، نہ آسمان۔ اور اس لئے میں نے کہانیوں سے‘ کتاب ’اور‘ آپ بیتی ’تک ایک ایسے راستہ کا انتخاب کیا، جو ہر لمحہ میری روح کو تازہ دم رکھتا ہے اور مجھے زندگی دیتا ہے۔

اور اسی لیے مضمون کے آغاز میں، میں نے فرانز کفکا کے مشہور کردار گریگور کا حوالہ دیا۔ جو ایک کیچوے میں تبدیل ہو گیا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایک دنیا تبدیل ہو چکی ہے۔ ہم معمولی کیچوے کی طرح ابھی بھی کہانی اور داستانوں کی تلاش میں بھٹک رہے ہیں مگر عابد بھائی کی دنیا مختلف تھی۔ وہ ایک ایسے سیاح ہیں، جو دوڑنے پر یقین رکھتے ہیں۔ اور دیکھیے تو وہ آخری سانس تک اس ریس میں سب سے آگے رہے۔ مجھے ایک روسی نظم کا ایک ٹکڑا یاد آ رہا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔

ایک دن یہ زمین بنجر نہیں رہے گی
ایک دن ہم کاریگروں اور مزدوروں کی کہانیاں نہیں لکھیں گے۔
ایک دن خزاں ہمیشہ کے لئے رخصت ہو جائے گی۔
شاعر کہتا ہے۔ جشن مناؤ، ایک دن ترقی پسندی بھی صرف پرانی کتابوں میں نظر آئے گی۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ڈاکٹر محمد حسن کی طرح میں بھی سوال کرتا ہوں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آخری ترقی پسند کون؟

آنکھوں کے آگے ابھی بھی عابد بھائی کا چہرہ رقص کر رہا ہے۔ وہ مسکرا رہے ہیں۔ قہقہہ لگا رہے ہیں۔ سب سے بڑا غم کیا ہے؟ جانتے ہو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دوسروں کے غم کو خاموشی سے پی جانا۔ ۔ ۔ ۔ ۔

وہ ابھی بھی یہی کر رہے ہیں۔ گو خزاں بھی ہے، زمینیں بھی بنجر ہیں۔ کسان اور مزدوروں کے حالات پہلے سے کہیں زیادہ خراب۔ اور اترپردیش کی سیاست فرقہ وارانہ فسادات کی نذر ہو چکی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ سب کچھ دیکھ رہے ہیں۔ اور مجھے اس بات کا احساس ہے کہ اچانک ان کے ہاتھوں کا قلم جاگ جائے گا۔ ۔ ۔ ۔ ۔

نجات کہاں ہے؟
راستہ کہا ں ہے؟
وہ زندہ ہوتے تو ابھی بھی قلم سے کسانوں اور مزدوں کی طرح کام لیتے
وہ جانتے تھے کہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کوششیں رائیگاں نہیں جاتیں اور ایک دن یہ نظام ضرور بدلے گا۔

”کھلی کتاب“ عابد بھائی کے تحریر کردہ خاکوں کا مجموعہ ہے جس میں ڈاکٹر عبد العلیم، حیات اللہ انصاری، ایم چلپت راؤ ( ایم سی ) ، پنڈت آنند نرائن ملا، آل احمد سرور، عشرت علی صدیقی، منظر سلیم، عابد پشاوری، وجاہت علی سندیلوی، احمد جمال پاشا، مقبول، احمد لاری، ڈاکٹر عبدالحلیم، راجیش شرما اور نسیم انہونوی کے علاوہ ایک مضمون ”اولڈ انڈیا کافی ہاؤس“ بھی شامل ہے۔ سب سے چھو ٹا غم ’‘ جینے والے ”“ غالم گردش ’ان کے تین مجموعے ہیں۔ آخری کتاب دلی اردو اکادمی نے شایع کی۔ بہت زیادہ ادبی سرمایہ نہیں تھا ان کے پاس۔ گوشہ نشیں بھی ہو گئے تھے۔ حالات سے رنجیدہ بھی تھے۔ ان کا لکھنؤ تبدیل ہو رہا تھا۔ فسطائیت عروج پر تھی۔ وہ افسردہ تھے۔

جینے کی خواہش ختم ہو چکی تھی مگر جب تک جئے، شان سے قہقہہ لگاتے ہوئے جئے۔ اور ایک دن شر پسند طاقتوں کے طوفان سے گھبرا کر یہ آخری ترقی پسند اٹھا اور نہ ختم ہونے والی سیر پر نکل گیا۔

جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی ہے عابد بھایی۔ ابھی تو آپ کی ضرورت تھی۔ آپ بہت یاد آتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *