شیعہ، سُنی اور مُسلمان یا روٹی ،کپڑا اور مکان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک دفعہ ہمارے ایک بہت ہی دل پسند استاد محترم سر حافظ بلال احمد صاحب جو کہ یونیورسٹی آف سرگودھا کے شعبہ انگریزی میں بہترین لنگوئسٹ (زبان کے استاد) مانے جاتے ہیں، نے لیکچر دیتے ہوئے بہت سے غور و فکر کرنے والے لوگوں کی سوچ کو الفاظ دیتے ہوئے کہا کہ Learning یعنی سیکھنے کے تین مراحل ہوتے ہیں : سیکھنا، سیکھے ہوئے کو بھولنا اور کچھ نیا سیکھنا ( لرننگ، ان لرننگ اور ری لرننگ)

بچے کی پیدائش کے ساتھ ہی والدین، برادری، گرد و نواح کا ماحول اور بنیادی تعلیم اس کا ایک ایمان یعنی ایک بیلیف سسٹم (Belief System) تیار کرتے ہیں جٌو اسے شناخت دیتا ہے کہ وہ کون ہے اور اردگرد والے لوگ کون ہیں۔ اسے بتایا جاتا ہے کہ اس کا مذہب، برادری اور ذات وغیرہ کیا ہے۔ یہ سسٹم دنیا کا سب سے قوی اور طاقتور سسٹم جانا جاتا ہے۔ یہ پہلا مرحلہ یعنی سیکھنا (لرننگ) ہے۔ اکثر لوگ ساری زندگی اسی کے تابع رہ کر گزر جاتے ہیں۔

محض چند لوگ ایسے ہوتے ہیں جو زیادہ سوچ بچار اور غور و فکر کی وجہ سے اپنے بیلیف سسٹم کو کسی دوسرے بیلیف سسٹم کے ساتھ ٹکرا کر بکھرتا ہوا دیکھتے ہیں اور پھر یا وہ دوسرے کو تباہ کر دیتے ہیں یا خود برباد ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ ان کے لیے اپنے سسٹم سے باہر دیکھنا گویا موت کے مترادف ہے۔ یہ دوسرا مرحلہ (ان لرننگ) یعنی سیکھے ہوئے کو بھولنے کا مرحلہ ہے۔ زندگی کا مشکل ترین کام اور وقت یہی ہوتا ہے۔

’اکا دکا‘ وہ لوگ ہوتے ہیں جو بکھرنے کے بعد خود کو سمیٹتے ہیں اور کچھ نیا سیکھتے ہوئے (ری لرن) ایک نیا اور اصلاحاتی بیلیف سسٹم تشکیل دیتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے اندر برادری اور دھرم سے باغی ہو کر، وقت اور تاریخ کا دھارا تبدیل کرنے کی صلاحیت پیدا ہوجاتی ہے۔ مگر پھر ان میں سے بھی ایک آدھ ہی اس صلاحیت کو بروئے کار لاتے ہوئے واقعتاً دنیا کو ایک نیا بیلیف سسٹم دے پاتے ہیں۔

وقت کا پہیہ بدلتا ہے، اور کچھ نئے انسانوں کو کسی نئے زمانے میں یہ نیا بیلیف سسٹم بھی ایک خاص حد کے آگے ناکارہ اور ناقابل قبول نظر آتا ہے۔

ایک نیا بیلیف سسٹم تیار کرنے والے ان لوگوں کو ملحد (اتھیسٹ) ، مؤحد (مونو تھیسٹ) ، مومن (بیلیور) ، موالی اور ولی جیسے ناموں سے منسلک کیا جاتا ہے۔

ہمارے ملک یعنی پاکستان اور پورے ملک یعنی کرہ ارض میں سچائی کی کھوج میں وہ لوگ جنہیں علماء کہا جاتا ہے، عمر کا بیشتر حصہ کافی کتابوں کے مطالعہ اور غور و خوض میں گزارنے کے بعد عوام الناس کو اپنے بیلیف سسٹم کی طرف پھیرنے کی غرض سے تقاریر، کتب، حوالہ کتب دیتے ہوئے لوگوں کے بیلیف سسٹم کو غلط قرار دے کر اپنے بیلیف سسٹم کو ان پر فوقیت دیتے ہیں۔

باقی بہت سے مذاہب کی طرح مسلمانوں میں ہر فرقہ کے زیادہ تر علماء یا مولانا حضرات صرف اپنے اپنے فرقہ کو صحیح ثابت کرنے کی غرض سے انہی روایات اور کتب کو صحیح اور مستند قرار دیتے ہیں جن سے ان کے فرقہ کی کوئی بات صحیح ثابت ہو۔ جن کتب سے دوسرے کسی فرقہ کا کوئی اصول صحیح ثابت ہونے کا خدشہ ہو، اس کتاب اور اس کے مصنف کی حیثیت مشکوک قرار دے دی جاتی ہے۔ اور یہ کھیل بہت عرصہ سے چل رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 1400 سال بعد بھی مسلمانوں میں ایک صحیح فرقہ کا تعین نہیں ہو سکا بلکہ ہمیشہ سچائی کی اس کھوج میں فرقے بڑھتے گئے۔ جہاں فرقے بڑھتے ہیں وہاں فرق بڑھتے ہیں۔ اور جہاں فرق بڑھتے ہیں، وہاں فساد بڑھ جاتے ہیں۔

کچھ عرصہ پہلے تک بین الفرقہ یعنی سنی شیعہ، سنی وہابی، وہابی شیعہ فسادات ہوا کرتے تھے۔ وقت بدلا، نئے بیلیف سسٹم متعارف ہوئے اور اندرون فرقہ یعنی شیعہ ثالثی شیعہ غیر ثالثی، بریلوی دیوبندی، اہل حدیث وہابی، فسادات نے جنم لے لیا۔ پہلے دو فرقوں کے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ لڑتے تھے، اب ایک ہی فرقہ کے اندر لوگ ایک دوسرے کا جانی دشمن ہیں۔ بین الفرقہ فسادات کو بہت تباہ کن تصور کیا جاتا تھا لیکن اندرون فرقہ فسادات نے مسلمانوں کی کمر توڑ کے رکھ دی۔ اسلام جس قدر آزاد (لبرل) دین تھا، اس میں باریکیاں ڈھونڈ ڈھونڈ کر، صحیح غلط کے چکر میں، اسے اس قدر ہی illiberal بنا دیا گیا۔ قرآن جیسی مقدس کتاب سے بھی مرضی اور مقصد کے مطالب نکالے گئے اور ہر فرقہ نے اپنی اپنی تفسیر چھاپ ڈالی۔

ان فسادات کا سب سے زیادہ نقصان نہ اسلام نے اٹھایا او نہ کسی اور مذہب نے، بلکہ انسانیت نے اٹھایا۔ ہر مذہب نے ہر جگہ پہلے اخلاقیات سکھائی تھیں، اخلاقیات کی بات کی گئی تھی۔ لیکن مذہب پڑھانے والوں اور مذہبی ٹھیکیداروں نے ہمیشہ پہلے ایمانیات کی بات کی۔ مذہب نے عبادت کی تلقین کی، مذہبی پیشواؤں نے عبادت کے صحیح غلط طریقوں کی جانچ پڑتال پر زور دیا۔ اور اس سارے چکر میں عام اور سیدھا سادا شخص ہمیشہ لقمہ اجل بنا۔

انہی دنوں اسلام آباد میں ہندو مندر کی تعمیر پر سوشل میڈیا سمیت ہر جگہ فساد شروع ہو گیا جس میں مذہبی (ریلیجئس) اور آزاد سوچ والوں (لبرلز) نے ایک دوسرے کو خوب گالم گلوچ سے نوازا۔ مذہبی لوگوں کو کہا گیا کہ اپنی مسجدیں تو آباد کرتے نہیں، دوسروں کی عبادت گاہوں کی تعمیر میں ٹانگ اڑانا نصب العین سمجھتے ہو۔ لبرلز کو کہا گیا کہ لبرل ازم میں اپنا دین ہی بیچ کھائے ہو، رسول اکرم (ص) نے بت گرائے، اور تم بت کی تعمیر کے حق میں ہو گئے، دنیا کو دوستانہ اقدام دکھانے کے لیے یوں گرو گے تو اللہ کو کیا منہ دکھاؤ گے؟ سوشل میڈیا پر لڑنے والے یہ لوگ سادہ اور عام لوگ ہی ہیں۔ معمولی مطالعہ کا اتنا غرور ہے کہ مکالمہ میں ایک دوسرے کو شکست دینا ہی حقیقت کی فتح سمجھتے ہیں۔

مسلموں کی مسجدیں کیوں آباد نہیں ہوتیں؟ اس دور میں اس وقت رسول اکرم (ص) کے بت گرانے کا مقصد اور وجہ کا آج کے دور میں یا رسول اکرم (ص) کے بعد کسی بھی دور میں مندر میں بت کی تعمیر سے موازنہ؟ اسلام شدت پسند ہے یا لوگ؟ یہ باتیں پھر کسی دن سہی۔ لیکن لبرلز اور مسلمز دونوں نے نہیں سوچا کہ مندر بنانے کے اقدام کا اعلان کرنا ’صاحب الرائے‘ کے پاس ہے، ان کے پاس نہیں۔

ایک عام انسان جو زیادہ پڑھا لکھا بھی نہ ہو، اس کو زندگی جینے کے لیے، اپنے کنبے کا پیٹ پالنے کے لیے، عزت محفوظ رکھنے کے لیے، سکون سے رہنے کے لیے ؛ زندگی سے فقط روٹی، کپڑا اور مکان چاہیے۔ اس کے پاس اتنا وقت نہیں کہ قرآن پاک کی 10 تفاسیر پڑھے، حدیث کی سنی شیعہ کی الگ الگ کتب پڑھے اور پھر نتیجہ نکالے کہ کون سا فرقہ کہاں پہ درست ہے اور دوسرا غلط ہے۔ اگر وہ اتنا وقت اس سچائی کی کھوج میں صرف کرے گا تو، جس کائنات میں پہلے ہی ساٹھ سے ستر فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے ہے، وہاں اس کے حصے کا رزق بھی اسے بھیک کی صورت میں ہی ملے گا۔

لیکن ان سادا دلوں کا بھی ہمیشہ فائدہ اٹھایا گیا اور یہ لوگ بھی نہ سمجھ پائے کہ ’روٹی، کپڑا اور مکان‘ بھی صرف ایک سیاسی نعرہ بن چکا ہے۔ اور نہ ہی یہ سمجھ پائے کہ ہر فرقے میں جذباتی تقریر کرنے والے خود تو باتیں کر کے چلے جاتے ہیں، مگر ہمیشہ مذہبی فسادات میں یہی سادا لوگ ایک دوسرے کو مار مٹانے پر تل جاتے ہیں۔ کیونکہ ان کی کم پڑھائی اور سادا دلی کی وجہ سے ان کے دلوں میں کوئی بھی تعلیم نقش کرنا اور دماغ میں زہر بھرنا بہت ہی آسان کام ہیں۔

باقی بحیثیت قوم، ہم پاکستانی کبھی سیکھنے کے پہلے مرحلے سے آگے بڑھ ہی نہیں پائے۔ ہم زندگی بھر سیکھتے ہی وہی چیزیں ہیں جو ہمارے بچپن کے بیلیف سسٹم سے مشابہت رکھتی ہوں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
سید محمد رضا، سرگودھا کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *