واصف علی واصف کی کتاب: حرف حرف حقیقت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ کتاب مجموعہ ہے حضرت واصف علی واصف کے لکھے گئے مضامین کا ’جو انھوں نے اپنی زندگی میں لکھے اور ان مضامین کو کتابی شکل میں ترتیب دیا۔

اس کتاب میں زندگی کی حقیقتوں کو بڑی خوبصورتی سے موتیوں میں پرویا گیا ہے۔

حضرت واصف علی واصف فرماتے ہیں کہ ہمارے الفاظ بہت اہم ہوتے ہیں یہ ہمیں خاص سے عام اور عام سے خاص بناتے ہیں بات تو وہی ہوتی ہے جو سب جانتے ہیں لیکن اس کو بیان کس طرح کیا گیا یہ اہمیت رکھتا ہے کیونکہ ہمارے الفاظ ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ کچھ لوگوں کے بولنے کا انداز اور لفظوں کا چناؤ اس قدر خوبصورت ہوتا ہے کہ ان کو گھنٹوں سن لیں تب بھی دل نہیں بھرتا۔

ہمارا اخلاق بہت اہمیت رکھتا ہے آپ ﷺ نے فرمایا کہ کامل انسان اور کامل ایمان اس مومن کا ہے ’جس کا اخلاق اچھا ہے۔ اعمال کے ترازو میں سب سے بھاری نیکی اچھا اخلاق ہے۔ آپ جتنے مرضی پڑھے لکھے ہوں‘ چاہے جتنی بھی دولت کے مالک ہوں اگر اخلاق اچھا نہیں تو آپ کو لوگ پسند نہیں کریں گے بظاہر آپ کے رتبے کے دباؤ میں آکر فرمابرداری تو کر لیں گے لیکن دل سے آپ کو عزت نہیں دیں گے لہذا اپنے الفاظ ’بات کرنے کے انداز اور اپنے اخلاق پر کام کریں تاکہ آپ لوگوں کے دل میں جگہ بنا سکیں۔

آپ فرماتے ہیں کہ ہمیں اللہ کی رحمت سے کبھی مایوس نہیں ہونا چاہیے اللہ کبھی محنت رائگاں نہیں جانے دیتا وہ آپ کو نوازتا ہے مانگے اور بغیر مانگے۔

اس کتاب میں حضرت واصف علی واصف صاحب نے بہت خوبصورتی سے اپنے رب کی عنایتوں کا اور اپنی نیک تمناؤں کا ذکر کیا ہے کہ یا اللہ ہمیں سیدھا راستہ دکھا دیں وہ راستہ جو کامیابی کا ہو ’جو تیری طرف جاتا ہو۔ پریشانی کی وجوہات بتائی ہیں۔ ہماری نا امیدی‘ بے چینی ’پریشانیوں اور تکلیفوں کی وجہ ہمارا نا شکرا پن ہے۔ ہمارا پیٹ نہیں بھرتا۔ ہم میں انسانیت‘ محبت ’پیار و احساس ختم ہو گیا ہے۔ ہر طرف نفسانفسی کا عالم ہے۔ ہر شخص دوسرے سے صرف مطلب سے ملتا ہے وہ زمانہ آ گیا ہے کہ جب کوئی قریب آتا ہے تو ڈر محسوس ہوتا ہے کہ نہ جانے کیا مقصد ہے جو اتنا تعلق کو بڑھا رہا ہے۔

بڑی خوبصورتی سے انفرادی ’مجموعی‘ معاشی و سماجی مسائل کا ذکر کرتے ہوئے ان مسائل اور ان کے نتائیج کو ہماری کوہتائیوں سے جوڑتے ہیں پھر اللہ سے بہتری کی امید کی دعا کی صورت میں کرتے ہیں۔ لفظ جیسے موتیوں کی طرح پرؤے ہوئے ہیں۔ ہر مضمون الگ نوعیت ’حقیقت پر منبی اس کا حل بھی بتا رہے ہیں اور محسوس بھی ہونے نہیں دے رہے۔ اس کتاب میں ذکر کیا انسانوں کی اقسام کا‘ سب سے بہترین انسان وہ ہے جو دوسروں کے لئے اچھا ہے۔ اب اچھا ہے سے مطلب ’جو دوسروں کے لئے رحمت کا باعث ہے۔ آسانیاں پیدا کرنے والا ہے کیونکہ اللہ فرماتے ہیں‘ انسانوں سے محبت کرو یہی محبت کا ایک پہلو ہے۔

اللہ تک پہنچنا بہت مشکل ہے حالانکہ وہ تو شہ رگ سے بھی قریب ہے لیکن ہم انسان ہیں اور وہ اللہ۔ اللہ کی قدرت ’کرشموں‘ جلوؤں کو ہم اپنی آنکھ سے دیکھ کر بھی دیکھ نہیں پاتے ہمارے اندر کی آنکھ کھل نہیں پاتی حالانکہ کائینات کی ہر تخلیق اس کی قدرت کو ظاہر کرتی ہے لیکن ہم اپنی دھن میں مگن رہتے ہیں اور صرف وہی دیکھتے ہیں جو دیکھنا چاہتے ہیں۔ اللہ تک پہنچنے کا راستہ بھی انسانوں سے ہو کر گزرتا ہے یہ ہم سمجھ نہیں پاتے۔

زندگی کے مسائل کے بارے میں اتنی خوبصورتی سے لکھتے ہیں اور نصیحت کر جاتے ہیں کہ پڑھنے والا ان کی باتوں کے سحر میں کھو جاتا ہے۔ حضرت کہتے ہیں کہ ڈپریشن کچھ نہیں ہوتا ’ہر مشکل کے بعد آسانی ہے جب سب رستے بند ہو جاتے ہیں تب نیا دروازہ کھلتا ہے‘ نئی سوچ ابھرتی ہے ’نئی امید جاگتی ہے۔ ہر ہونے میں اک راز پنہاں ہے اس دنیا میں ہر شخص ایک سبق دے کر جاتا ہے۔ اور اس طرح سیکھنے سکھانے کا عمل جاری رہتا ہے۔ جتنا تم کسی کو آج دو گے اس کا دوگنا ہو کر تم تک واپس آئے گا لہذا بانٹو جتنا بانٹ سکتے ہو۔ کسی سائل کو خالی ہاتھ نہ بھیجو اس کو جھڑکا نہ دو ہمیشہ یاد رکھو دینے کی حیثیت تمھاری نہیں ہے یہ صرف اللہ کی ذات ہے اس کی قدرت ہے‘ جس نے تمھیں دینے والا بنایا ہوا ہے جتنا تم مال بانٹو گے اس کے کئی گنا واپس آئے گا۔

ہم سب کو اللہ نے آنکھوں سے نوازا ہے بصیرت عطا کی ہے لیکن ہر ایک کے دیکھنے کا زاویہ مختلف ہے۔ سارا کھیل ہی آنکھوں کا ہے کہ وہ کیسے اور کیا دیکھتی ہیں۔ وسعتیں آشکار ہوتی ہیں۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آنکھیں بھٹک بھی جاتی ہیں اور کسی دوسرے رستے چل پڑتی ہیں۔ آنکھیں دیکھ کر نظارہ روح تک پہنچاتی ہیں جو دماغ میں خیالات کو جنم دیتی ہیں یہ خیال ہماری سوچیں ہی ہیں جو ہمیں ایک دوسرے سے مختلف بناتی ہیں۔ بس یہ خیال ’سوچ غریب نہیں ہونی چاہیے خیال غریب ہو گیا تو انسان غریب ہو جاتا ہے اسی طرح خیال امیر تو انسان امیر۔

لیکن شکر کرنے کی بات یہ ہے کہ ہم صرف اپنی سوچ‘ اپنے اعمال کے جوابدہ ہیں۔ جیسے سوچ امیر غریب ہوتی ہے اسے طرح انسان بھی اچھے ’برے اور امیر غریب ہوتے ہیں۔ اب اس میں بھی اچھے امیر‘ برے امیر اور اچھے غریب اور برے غریب آتے ہیں۔ ساری بات سوچ پر آکر ختم ہو جاتی ہے ہم سوچتے ہیں اور خود کو ڈھالتے ہیں جیسا اللہ چاہتا ہے خود کو اس کے قریب تر کر لیں تو سارے مسائل خود بہ خود حل ہو جائیں گے۔

ہمارے خیالات ’ہماری سوچ ہمارا ہر عمل ہماری تربیت کو اور خاندان کو ظاہر کرتا ہے۔ اللہ نے سب کو ایک جیسا پیدا کیا اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم کیسے خود کو اچھے انسان میں تبدیل کرتے ہیں آنے والی ہر سوچ کو اچھی سوچ میں بدلتے ہیں اور خود کے ساتھ عدل و انصاف کرتے ہیں۔

ہم پر ذمہ داریاں ہیں ’حقوق ہیں۔ اور حقوق العباد کے بغیر حقوق اللہ کا فرض ادا نہیں ہوتا۔ اسی طرح اللہ نے ہم سب کو کوئی نہ کوئی خاص مقصد دے کر اس دنیا میں بھیجا ہے یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم کس طرح اپنیے مقصد کا تعین کرتے ہیں‘ محنت کرتے ہیں اور اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہوتے ہیں۔ کبھی کبھی ہم پریشانیوں ’ناکامیوں سے دل برداشتہ ضرور ہوتے ہیں لیکن یہ وہ مقام ہوتا ہے جہاں ہم خود کو تلاش کرتے ہیں‘ نئی سمت کا تعین کرتے ہیں یہی اندھیرا روشنیوں کا باعث بنتا ہے ہمیں اللہ کے قریب کرتا ہے ہمیں سجدے کی توفیق عطا فرماتا ہے ’کیونکہ کبھی دروازہ بند نہیں ہوتا دروازے کے اندر دروازہ ہوتا ہے بس نظریہ بدلنے کی دیر ہے پھر منظر بدلنے لگتا ہے۔

اگر ہم اپنی ذات کی محبت سے نکل کر دیکھیں تو معلوم ہو گا کہ یہ زندگی تو عارضی ہے انسان کو ماضی کا حصہ بننے میں دیر نہیں لگتی بس یادیں‘ باتیں رہ جاتی ہیں ہمارے بہت قریبی رشتے ہوتے ہیں جو ہمیں یاد رکھتے ہیں ہم ان کی باتوں میں کہانیاں بن جاتے ہیں۔ ہمیں ان رشتوں کی قدر کرنی چاہیے تاکہ اچھے لفظوں میں ان کی کہانیوں کا حصہ بن سکیں۔ اب حضرت کہتے ہیں کہ نصیحت کرنا تو بہت آسان ہے لیکن ان پر عمل کرنا انتہائی مشکل۔ پہلے خود پر کام کرو ’خود کو دوسروں کو نصیحت کرنے والا بناؤ پھر نصیحت کرو تاکہ لوگوں کے پاس تمہاری بات ماننے کا جواز موجود ہو۔

ضمیر کی آواز سنائی دینا بھی نصیب کی بات ہے کیونکہ یہ خدا کا خوف ہمارے دل میں ڈالتی ہے لیکن آج کل لوگ ضمیر کی آواز کہاں سنتے ہیں بس وہ کرتے ہیں جن میں ان کو فائدہ نظر آتا ہے۔ کیونکہ ہماری فطرت نہیں بدلتی ہم ہر چیز میں تبدیلی لے آتے ہیں لیکن اپنی فطرت نہیں بدل پاتے یہ ایک اٹل حقیقت ہے۔ بالکل اسی طرح ہم خود پسندی کا شکار ہیں ہمیں اپنے علاوہ کوئی صحیح نہیں لگتا لہذا ہم ایک دوسرے سے بیزار رہتے ہیں کم تر سمجھتے ہیں اور اپنی سوچ کے مطابق دوسروں کے بارے میں رائے قائم کر لیتے ہیں۔ بس ہر وقت یہ دعا کرنی جاہئیے کہ اللہ ہمیں خودپسندی سے بچائے۔

اس کتاب کے آخر میں حضرت اپنی آخری خواہش بیان کرتے ہیں بہت ہی خوبصورت اور دل موہ لینے والے انداز میں اور ہر دل کی ترجمانی کرنے والے الفاظ۔ اور اللہ کی طرف سے عطا کی گئی ہر نعمت کا شکر ادا کرتے ہیں شکرانے کے لفظ ادا کرنا بھی کسی کسی کو نصیب ہوتا ہے۔ اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنا ان کی معافی مانگنا پھر اس کی اصلاح کر لینا کوئی آسان کام نہیں ہوتا۔ اللہ ہم سب کو ہدایت کے رستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائیں آمین ثمہ آمین۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *