قومی بیانیہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”بیانیے“ کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی بنی نوع انسان کی۔ آدم علیہ السلام جو پیغام لے کر دنیا میں آئے، وہ انسانوں کے لیے پہلا نظام یا دستور حیات تھا اور یہی پہلا بیانیہ بھی تھا۔

پھر یہ سلسلہ نسل در نسل اور قوم در قوم چلتا رہا، کئی قومیں آئیں کئی برباد ہوئیں، اگر یہ کہاجائے تو بے جا نہ ہو گا کہ بیانیے کی تاریخ قوموں کے عروج و زوال سے جڑی ہے۔

نبی آخرالزمان قیامت تک آنے والی قوموں کے لیے جو دستور حیات لے کر مبعوث ہوئے، اس کا اختتام ”آخری بیانیہ“ خطبہ حجتہ الوداع کی صورت میں ہوا۔ جو اس پر قائم رہے کامیابیاں ان کے قدم چومتی رہیں، جنھوں نے روگردانی کی زمانہ میں ناکام، نامراد اور بے نام ونشان ہو کر رہ گئے۔

اگر تاریخ برصغیر کے تناظر میں دیکھا جائے تو جب بر صغیر کے مسلمان اس نتیجے پر پہنچے کہ مسلمان اور ہندو دو الگ قومیں ہیں، جو کبھی ایک نہیں ہوسکتیں، تو مشترکہ بیانیے کے تحت ”اجتہاد“ کے نتیجے میں دو قومی نظریے اور الگ وطن کے حصول پر اتفاق ہوا اوراسی اجتہاد کا نتیجہ تھا کہ مختلف الخیال مذہبی و سیاسی جماعتوں اور نظریات کے باوجود مسلمان قائداعظم کی ولولہ انگیز قیادت میں متحد ہوگئے اور قیام پاکستان کا خواب شرمندہ تعبیر ہوا۔

قیام پاکستان کے بعد تکمیل پاکستان کا سفر شروع ہوا۔ بانی پاکستان کی رحلت کے ساتھ ہی ہم قیام پاکستان کے مقاصد بھول گئے اور اقتدار کی وہ جنگ شروع ہوئی، جو آج تک جاری ہے۔ ملک چلانے کے لیے سب سے پہلی ضرورت ”دستور“ بنانے میں سال دوکی بجائے چھبیس برس بیت گئے۔ نظام حکومت کے لیے کوئی صدارتی نظام پر متفق، کوئی پارلیمانی نظام کا حامی، کوئی آمریت کے لیے کوشاں تو کوئی ”ہم ادھر تم ادھر“ کا نعرہ لگاتا نظر آیا۔

آئین کے تحت ملک اسلامی جمہوریہ تو بن گیا لیکن اسلامی و جمہوری اقدار اور روایات کبھی پروان نہ چڑھ سکیں صرف تخت تک پہنچنے کے لیے ”جمہوریت“ کو سہارے کے طور پر استعمال کیا گیا۔ دین مسجد تک اور سیاست اشرافیہ تک محدود ہو کر رہ گئی۔ منبر و محراب سے سیاست کو برا بھلا کہا گیا اور کارزار سیاست سے مذہب پر حملے ہوئے۔ مسلکی اختلافات سے دین کا نقصان ہوا تو سیاسی مخاصمت سے ملک دولخت ہوا۔

چونکہ بات ہو رہی تھی قومی بیانیہ کی، اگر موجودہ ملکی حالات کے تناظر میں دیکھا جائے تو ہر کوئی اپنی بولی بولتا نظر آ رہا ہے۔ مخالفت برائے مخالفت اور تنقید برائے تنقید کے کلچر نے حق وباطل کا فرق مٹا کر رکھ دیا ہے۔ عوام کی خیر خواہ اور وطن کی محبت کی دعوے دار جماعتیں بھی اپنے مفادات کی اسیر اور اپنے اپنے بیانیہ پر پورے قد کے ساتھ کھڑی ہیں ان کے کارکن بھی جھوٹ کو جھوٹ اور سچ کو سچ کہنے پر تیار نہیں۔ پورا زور مخالف کو چاروں شانے چت گرانے پر صرف کیا جا رہا ہے۔

حالیہ کوروناوائرس کی ہی مثال لے لیجیے، کورونا ایک عالمی وبا ہے جس نے پوری دنیا کے نظام کو تہ وبالا کر کے رکھ دیا۔ عالمی طاقتوں کے سارے منصوبے زمین بوس ہو گئے۔ دنیا کے مختلف ممالک کے کروڑوں لوگ متاثر ہوئے۔ لاکھوں لقمہ اجل بنے۔ معیشت تباہ وبرباد ہو گئی۔ پاکستان بھی وائرس سے متاثر ہوا۔ اپنے ہاتھوں سے عزیزوں کے جنازے اٹھائے، لیکن افسوس پھر بھی حکومتی بیانیہ پر کسی نے یقین نہ کیا۔ بھانت بھانت کی بولیاں بولی گئیں، کوئی اسے جھوٹ ثابت کرنے پر تلا ہواتھا تو کوئی پروپیگنڈا کہہ رہا تھا۔ کوئی ملکی قرضے معاف کرانے کا جواز تو کوئی چندہ لینے کا بہانہ قرار دے رہا تھا۔

قارئین! کہتے ہیں کہ اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے لیکن اختلاف رائے اور ہٹ دھرمی میں فرق کی بھی ضرورت ہے۔ اگر مسافر منزل کا رستہ بھول جائیں سب اپنی اپنی رائے دیں اور اس رائے کے نتیجے میں رستہ کا تعین ہو جائے تو یہ ”اختلاف رائے“ ہے اور اگر سارے اپنے اپنے رستے پر چل پڑیں تو یہ اختلاف رائے نہیں ہٹ دھرمی ہے جس کا نتیجہ گم راہی ہے۔ آج وطن عزیز بھی ایسے ہی حالات سے دوچار ہے۔

وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی اداؤں پر ذرا غور کریں۔ بحیثیت مسلمان ہمارا معبود ایک، رسول ایک، کتاب ایک اور مسافر صرف صراط مستقیم کے، تو پھر ہمارا بیانیہ ایک کیوں نہیں ہو سکتا۔ آؤ عہد کریں، ذاتی مفاد کو ملکی مفاد پر ترجیح نہیں دیں گے۔ اختلاف کریں گے، مکالمہ کریں گے رستے اور منزل کا تعین کریں گے اور سب ساتھ مل کر چلیں گے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments