زلیخائے ہند: بیگم محی الدین ابوالکلام آزاد


ماضی کی ایسی بہت سی مثالیں تاریخ کے اوراق پر نقش ہیں جن میں عورت اپنا ایک منفرد کردار ادا کرتی نظر آتی ہے۔ یہ کردار کبھی ماں، کبھی بہن، کبھی بیوی اور کبھی بیٹی کی شکل میں ہمیں نظر آئے گا۔ یہ کردار بارہا مقامات پر تاریخ کی کسی نابغہ روزگار شخصیت کی کامیابیوں کا سبب بنتے بھی نظر آتے ہیں۔

نرگسی آنکھیں، دراز پلکیں، جٹی ہوئی بھنویں، پگھلتے ہوئے سونے جیسی رنگت، بیضوی چہرہ، یاقوتی لب، ساؤں کی گھٹاؤں کی مانند کالے لمبے بال، دلآویز جسم مائل بہ گداز، جو سلیقہ شعاری میں طاق، مہمان نوازی میں یکتا، شیریں زبانی میں بے مثال، سسرال والوں کی شیدائی، شوہر کی فدائی، اخلاق و تہذیب کا نمونہ، مجموعہ اوصاف حمیدہ و محاسن پسندیدہ، مسکین، پاکباز، شریف، باحیا، پیکر صبر و رضا، ہمیشہ مہر بہ لب نام ان کا ”زلیخا بیگم“ لوگ انہیں ”بیگم ابوالکلام آزاد“ کے نام سے جانتے ہیں۔ جب بیاہ کر آئیں تو سسرال والوں نے انہیں ”تاج دلہن“ کا نام دیا۔

والد کا نام آفتاب الدین جو ایک نہایت شریف النفس اور فرشتہ صفت انسان تھے۔ جن کا آبائی تعلق بغداد کے ایک شریف خاندان سے تھا اور جن کا سلسلہ نسب یار غار و مزار حضرت ابوبکر صدیق (ر۔ ض) سے جا ملتا ہے۔ آفتاب الدین صاحب کو رب العالمین نے ایک بیٹے اور پانچ بیٹیوں کی نعمت سے نوازا۔ زبیدہ بی بی، حفیظہ بی بی، زہرہ بی بی، حنیفہ بی بی اور زلیخا بی بی۔ آفتاب الدین صاحب مولانا آزاد کے والد بزرگوار مولانا خیر الدین نوراللہ مرقدہ کے مرید خاص تھے۔ درویش صفت انسان نے ننھی پری کی ولادت پر اس کو اپنے پیر و مرشد کے حضور پیش کیا جنہوں نے اس کا نام ”زلیخا بی بی“ تجویز کیا۔

آفتاب الدین صاحب کی دو بیٹیوں کو اپنے مرشد خانہ کی عزت بننے کا شرف حاصل ہوا۔ بڑی بیٹی حفیظہ بی بی مولانا آزاد کے برادر کبیر مولوی ابوالنصر آہ دہلوی کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئیں جن سے ایک بیٹے نورالدین نے جنم لیا۔ جبکہ چھوٹی بیٹی زلیخا بی بی مولانا آزاد کے عقد میں آئیں۔ جن کے ہاں حسین نامی بچے نے جنم جو جلد ہی دار فانی سے دارلبقاء کو چل دیے۔

تکمیل درسیات کے بعد مولانا ابوالکلام کی زندگی نہایت مصروف گزری۔ ابتدئی صحافتی سرگرمیاں ہوں یا پھر اصلاحی تحریکوں کا میدان جس محاذ پر بھی نظر پڑے مولانا ایک خاص جاہ و جلال کے ساتھ صف اول میں کھڑے مجاہد کی حیثیت سے نظر آتے اور پھر اپنی ساری زندگی سیاست کے لیے وقف کر دینا۔ عوامی اجتماعات سے خطاب کرکے عوام الناس کے ساسی شعور کی بیداری کا مرحلہ ہو یا اپنے قلم کی کاٹ سے حکومتی ایوانوں میں زلزلے برپا کرنا ہوں یقیناً یہ سب کچھ بالکل ناممکن ہوتا اگر مولانا آزاد گھریلو پریشانیوں کا شکار ہوتے۔

فطرتی طور پر انسان اپنی ذمہ داریوں کی آدائیگی کی فکر میں مبتلا رہتا ہے۔ یقیناً یہ فکر مولانا آزاد کو بھی لاحق تھی۔ مولانا ہمیشہ اپنے کام کی دھن میں مگن رہے۔ مگر زلیخا بیگم نے کبھی حرف شکایت اپنی زبان پر نہ آنے دیا۔ 1916 ء سے شروع ہوکر 1945 ء تک جاری رہنے والا پابند زنداں کا سلسلہ چلا تو زلیخا بیگم گھر کی چار دیواری میں عصمت و عفت، وفا و صبر و رضا کی منور شمع کی طرح خاموشی سے جلتی رہیں۔ مہر بہ لب ہوکر شوہر کے ہر فعل و عمل پر مہر تصدیق ثبت کی۔ ہجر کی طویل گھڑیاں کاٹیں مگر کبھی التجاؤں کے کانٹے اپنے شوہر کی راہ میں حائل نہ ہونے دیے۔ ایک مرد و عورت کے جذباتی، ذہنی و روحانی تعلق میں وہ قدریں حائل نہیں ہوتی ہیں جو مادی، سطحی و دنیاوی ہیں۔

انتائی تنگدستی و فراق کے عالم میں بھی زلیخا بیگم نے اس استقلال و ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا جس کے سبب ایک مشرقی عورت لائق تعظیم قرار پاتی ہے۔ شدید بیماری و کرب کی حالت میں کبھی اپنے سرتاج کو خبر نہ ہونے دی کہ پریشانی کے سبب کہیں ان کے کام کا حرج نہ ہو۔ مولانا کی پہلی گرفتاری پر بیگم صاحبہ جب کچھ پریشان ہوئیں تو مولانا نے قدرے ناراضگی کا اظہار کیا۔ اس ناراضگی نے وہ جادو کیا کہ پھر خاموش ہوکر ہر آزمائش سہ جانے کی جو عادت بنی تو تادم آخر وہ برقرار رہی۔

پاکدامنی، شرم و حیا کا یہ عالم تھا کہ مولانا کا نام زبان پر آتے ہی سر جھکالیتی تھیں۔ احتیاط و وضع داری کا یہ عالم تھا کہ مولانا عبدالماجد دریا بادی فرماتے ہیں ”ٹیلی فون کا ریسیور اس لیے نہیں اٹھاتی تھیں کہ نہ جانے دوسری طرف کون اور کیسا آدمی بات کر رہا ہے“ ۔ (عبدالماجد دریابادی :رسالہ ماحول :آزاد نمبر ص: 105 )

وہ بیسوی صدی کے حیا سوز ماحول کے بالکل خلاف تھیں تب ہی تو مولانا دریا بادی لکھتے ہیں کہ

”اللہ اللہ! ایک اتنے بڑے پبلک لیڈر کی بیوی کے لیے اس بیسوی صدی میں پردہ نشیں رہنا خود ہی کیا کم جرم تھا کہ اپنا وقت بجائے کلب اور بال روم اور سینما میں صرف کرنے کے اگلی جنتی بیویوں کی طرح کھانا کھلانا، ان کا پنکھا جھلنا، ان کے خیال سے راتوں کو خود اپنی نیند حرام کرنا۔ ٹیلی ٖفون کو شوقیہ استعمال کرتے رہنے کی بجائے نامحرم کے خیال سے اس کے سننے سے بھی احتیاط کرنا اور کمال یہ کہ شوہر کا نام لینے پر بھی شرمانا۔ ایسی بیوی کو حق کیا تھا آزادی و بے باکی کی اس فضا میں زیادہ جینے کا اچھا ہی ہوا وہ جلدی جنت کے سفر پر روانہ ہوگئیں“ ۔ (عبدالماجد دریابادی :رسالہ ماحول : آزاد نمبر ص 105، 106 )

مولانا کا بار بار جیل جانا زلیخا بیگم کے لیے دائمی فراق بن گیا۔ وہ اس جدائی کے غم میں اندر ہی اندر گھلتی رہیں۔ ایسے میں اولاد کا سہارا ممکن تھا مگر قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ اکلوتی اولاد بھی داغ مفارقت دے چکی تھی۔ زلیخا بیگم تنہا ہوکر رہ گئی تھیں۔ اس کیفیت میں ایک عورت کے دل پر کیا گزرتی ہوگی اس کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے۔ مگر صبر و رضا کی پیکر اس باحیا و جرات مند خاتون نے اس پر کبھی ”اف“ تک نہ کی۔

1908 ء میں اپنی نند حنیفہ بیگم کی جانب سے تحفتاً ملنے والی ایک ڈائری کو بطور نوٹ بک استعمال کرنا شروع کیا۔ ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ لاشعوری طور پر کھینچی گئی آڑھی ترچھی لکیریں بھی فرد کی شخصیت اور اس کی ذہنی کیفیت کا غماز ہوتی ہیں۔ مگر یہاں تو زلیخا بیگم نے اپنا درد دل اشعار کی صورت میں صفحہ قرطاس پر منتقل کیا۔ اشعار ملاحظہ فرمائیں

لاکھ دیتا فلک آزار گوارا تھے مگر

ایک تیرا نہ مجھے درد جدائی دیتا

کلیجہ شدت درد جگر سے منہ کو آتا ہے

بتائیں حال کیا پیارے تمہارے شب ہجراں میں
بغیر آپ کے سب گل ہیں خار آنکھوں میں

کھٹک رہی ہے چمن کی بہار آنکھوں میں
میں وہ ہوں سوختہ قسمت کہ کرے چرخ کہن

مشعل برق مرے درد جگر سے روشن
آئے نہ عیادت کو بھی بیمار کی اپنی

لی خوب خبر تم نے گرفتار کی اپنی
سہل ہونا مری مشکل کا بہت مشکل ہے

کام دشوار وہ نکلا جسے آساں سمجھا
___________________
یا الٰہی خیر ہو مرے دل ناشاد کی

آج پہلو سے صدا آتی نہیں فریاد کی
کیا شکایت میں کروں ظالم تیری بیداد کی

دکھ رہا ہے دل مگر عادت نہیں فریاد کی
زخم کی جا پر کیا بیداد نے تازہ ستم

ہنس دیا غنچہ جو بلبل نے ذرا فریاد کی
نالہ کرتا ہوں میں پوشیدہ ذرا چھیڑو ستار

ساز کے پردے میں نکلے گی صدا فریاد کی
کہہ رہی ہے شمع رو رو کر زبان حال سے

سر کٹا سو بار پہلو سے نہیں فریاد کی

یہ اشعار نہیں فراق زدہ زلیخا کی سسکیاں ہیں۔ وہ کس خاموشی سے اپنے محبوب پر فدا ہوتی رہیں۔ وہ جانتی تھیں کہ ان کا محبوب ان کی زندگی سے بھی قیمتی شے کا جویا اور متلاشی ہے۔

1942 ء میں جب تحریک آزادی زور پر تھی ایسے حالات کے پیش نظر امام الہند اپنی وفا شعار اہلیہ سے متعلق لکھتے ہیں کہ

”اس طرح کے حالات میں مجھ سے زیادہ زلیخا کی نظر رہا کرتی تھی اور اس نے وقت کی صورت حال کا پوری طرح اندازہ کر لیا تھا۔ ان چار دنوں کے اندر جو میں نے دو سفروں کے درمیان بسر کیے ہیں اس قدر کاموں میں مشغول رہا کہ ہمیں آپس میں بات چیت کا موقع بہت کم ملا۔ وہ میری طیبعت کی افتاد سے آگاہ تھی وہ جانتی تھی کہ اس طرح کے حالات میں ہمیشہ میری خاموشی بڑھ جاتی ہے اور میں پسند نہیں کرتا کہ اس خاموشی میں خلل پڑے اس لیے وہ بھی خاموش تھی۔ لیکن ہم دونوں کی یہ خاموشی بھی گویائی سے خالی نہ تھی ہم دونوں خاموش رہ کر بھی ایک دوسرے کی باتیں سن رہے تھے اور ان کا مطلب اچھی طرح سمجھ رہے تھے“ ۔

درد جدائی سہتے سہتے 1940 ء میں تپ دق کا شکار ہوگئیں پھر بھی لمحہ بہ لمحہ مولانا کا خیال ہی رہا۔ اپنی طرف سے ہمیشہ لاپروا رہیں۔ آزمائشوں میں مبتلا بیگم صاحبہ کی نقاہت میں آئے روز اضافہ ہوتا چلا گیا۔ سسکتے سسکتے وہ موت کے قریب تر ہوتی گئیں۔ بیماری نے یہ حال کر دیا کہ ان پر غشی طاری رہنے لگی۔ ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ اگر مولانا کا دیدار ہو جائے تو طبیعت کچھ سنبھلنے کی امید ہے۔

مولانا عبدالرزاق ملیح آبادی جو مولانا آزاد کے خلوت و جلوت کے ساتھی تھے اور دونوں دوستوں نے ایک طویل عرصہ اکٹھے ایک گھر میں گزارا۔ وہ لکھتے ہیں کہ 9 اپریل 1943 ء کی صبح نو دس بجے مجھے فون آیا کہ بیگم صاحبہ تمہیں یاد کرتی ہیں۔ میں فوراً پہنچا۔ گھر کا سناٹا مجھے کوئی ابھی خبر نہ دیتا تھا۔ مجھے کہا گیا کہ ان کے کمرے میں چلو۔ مجھے تامل ہوا۔ عرصہ دراز سے ایک مکان میں رہنے کے باوجود کبھی اچٹتی نگاہ بھی اس پاکباز چہرے پر نہ پڑی۔

کہا گیا کہ بیگم صاحبہ مصر ہیں، وقت آخر قریب تر ہے چلو۔ کمرے میں جاکر دیکھا تو واقعی وقت آخر تھا۔ میرا ہاتھ پکڑ کر کہنے لگیں ”آپ میرے بھائی ہیں۔ آپ کی ہمیشہ شکر گزار رہی ہوں۔ مولانا کا دیدار ممکن نہیں“ان” سے کہنا تمہارے نام پر مر رہی ہوں مگر میرے چلے جانے کا غم نہ کرنا“۔ ہاتھ بری طرح لرز رہا تھا کہنے لگیں ”مولانا کے لیے تو میرے پاس کچھ بھی نہیں“ ہچکی آئی اور وہاں کچھ نہ تھا۔ پلنگ پر میرے سامنے بس ایک لاش باقی تھی ”۔

9اپریل 1943 ء کو بیسویں صدی کے جید عالم، طرز خاص کے صحافی، انفرادیت کے حامل انشاء پرداز، دلوں کو گرمانے والے اور ہلا دینے والے خطیب، مستقل مزاج سیاست دان اور مفسر قرآن کی شرم و حیا، صبر و رضا کی پیکر اہلیہ زلیخا بیگم کلکتہ میں انتقال فرما گئیں۔ (انا للہ وانا الیہ راجعون)

اس جانکاہ خبر کا مولانا پر کیا اثر ہوا اس کا اظہار تو الفاظ میں ممکن نہیں مگر ان کے اپنے یہ الفاظ کسی حد تک ان کی کیفیت کی ترجمانی کرتے ہیں :

”مجھے ان چند دنوں کے اندر برسوں کی راہ چلنی پڑی۔ میرے عزم نے میرا ساتھ نہیں چھوڑا مگر میں محسوس کرتا ہوں کہ میرے پاؤں شل ہوگئے ہیں“ ۔

Facebook Comments HS