نرگس
تابش اپنے ماں باپ کے ساتھ بس سے نیچے اترا اور اپنی خالہ کے گاؤں کی طرف جانے والے کچے راستے پر چلنے لگا۔ ہر سال چھٹیاں آنے سے پہلے ہی وہ اپنے والدین کو یہاں آنے کے لئے تیار کر لیتا ہے اور پھر چند دنوں تک اس کا دل پڑھائی لکھائی سے بالکل اچاٹ ہو جاتا ہے۔ وہ بس گاؤں کے خواب دیکھتا رہتا ہے اور نئی نئی سر گرمیوں کا منصوبہ بناتا رہتا ہے۔ ہمیشہ کی طرح آج بھی وہ بڑے جوش و خروش میں ہے۔ مارے خوشی کے اس کے قدم زمین سے نہیں لگ رہے ہیں۔ اور اس کا چہرہ پھول کی طرح کھلا ہوا ہے۔
لوجی وہ جگہ آ گئی جس سے وہ پہچانتا ہے کہ وہ گاؤں کی دہلیز پہ قدم رکھ چکا ہے اور اب فقط پانچ سے سات منٹ میں وہ خالہ کے گھر پر لسی پی رہا ہوگا۔ یعنی ایک جھونپڑی نما دکان جس میں ایک انتہائی بوڑھا شخص بیڑی، چائے، بسکٹ اور بیسن کے لڈو بیچتا ہے۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں سے مظفر علی گنج شروع ہو تا ہے۔
معلوم نہیں کیوں آج یہاں پہنچتے ہی تابش کو محسوس ہوا کہ جیسے اداسی برس رہی ہے۔ فضا میں تازگی اور سرشاری نہیں ہے۔ کھیت کھلیان بجھے بجھے سے ہیں۔ پرندے بھی جیسے مغموم ہوں کہ ان کی چہچہاہٹ غائب ہے۔ جانور سب بھی ماند پڑے ہوئے ہیں۔ سقف و فرش اور در و دیوار بھی ماتم کناں ہیں۔
ادھر ادھردیکھتا ہوا تابش خالہ کے گھر کے قریب پہنچا۔ اس کے دل میں خیال گزرا کہ گاؤں تو وہی ہے لیکن جیسے اس کی رنگت اور رونق چھین لی گئی ہو۔ لوگ بھی سب وہی ہیں لیکن جیسے ان کے چہرے کا نور سلب کر لیا گیا ہو۔ خدایا! یہ کیا ماجرا ہے؟ یہاں نحوست کیوں برس رہی ہے؟ کس گناہ کی پاداش میں یہاں عذاب نازل ہو رہا ہے؟
خالہ دروازے پر کھڑی راہ تک رہی تھیں۔ انہوں نے بانہیں پھیلا کر تابش کا استقبال کیا۔ اسے گلے لگایا۔ چھوٹی بہن سے بغل گیر ہوئیں۔ بہنوئی کے سلام کا جواب دیا۔ اور پھر سب لوگوں کو لے کر گھر کے اندر آئیں۔
ہاتھ منہ دھو کر سب ایک ساتھ جمع ہوئے۔ سب کے ہاتھ میں ٹھنڈی لسی کا ایک ایک گلاس آ گیا۔ تھوڑی دیر خیر خیریت کا دور چلا۔ پھر اچانک خالہ نے مغموم لہجے میں ایک خبر سنائی: ”پڑوس میں نرگس رہتی تھی نا، وہ بیچاری گزر گئی“ ۔
تابش کی ماں نے تاسف سے ان اللہ و ان الیہ راجعون پڑھا اور پوچھا: ”کیا ہوا تھا اسے؟“ ”کچھ نہیں۔ اچھی بھلی تھی۔ اچانک شام میں طبیعت بگڑی اور چٹ پٹ ہوگئی۔ وہ۔ ۔ ۔ خیر ہٹاؤ۔“
یہ واقعہ سنتے ہی تابش کے دل و دماغ کا توازن بگڑگیا۔ اس کاجی چاہاکہ خالہ کے سامنے سوالوں کے ڈھیر لگادے۔ کب کی بات ہے؟ کیسے ہو؟ اچانک کیسے ہوا؟ کوئی ڈاکٹر نہیں ملا تھا کیا؟ لوگ صدر اسپتال نہیں لے گئے؟ وغیرہ وغیرہ۔ مگر اس نے محسوس کیا کہ خالہ اس موضوع پر کھل کر بات نہیں کرنا چاہ رہی ہیں۔ اور سچ تو یہ بھی ہے کہ بڑوں کی محفل میں اس کا ہیاؤ نہ کھلا۔
لسی اب اسے زہر لگنے لگی تھی۔ اس نے گلاس کو لے جا کر باورچی خانہ میں رکھ دیا اور باہر کی طرف جانے لگا۔ ماں نے پوچھا: ”کہاں جا رہے ہو؟“
”ابھی آیا۔“ کہتا ہوا وہ گھر سے باہر نکل گیا۔
آج سے پہلے تابش نے کبھی ایسا اضطراب اور ایسی افسردگی محسوس نہیں کی تھی۔ ہر سال جب بھی وہ چھٹیوں میں آتا تھا تو نرگس کے ساتھ بھی وقت گزارتا تھا۔ نرگس عمر میں اس سی بڑی تھی لیکن دونوں ہم جولی لگتے تھے۔ نرگس اوٹسٹک تھی اور صحیح سے بول نہیں پاتی تھی۔ اس زمانے میں نہ آٹزم اور آٹسٹک جیسی اصطلاحات تھیں اور نہ اس مسئلہ کے بارے میں کوئی معلومات۔
نرگس کی معصوم ادائیں، ایک خاص طرح کی پھنسی پھنسی آواز اور عجیب و غریب قسم کی ہنسی، تابش کو بڑی دلچسپ معلوم ہوتی تھی۔ تابش کو لگتا تھا کہ جیسے خدا نے کوئی نئی مخلوق بنائی ہے جو جن و انس اور چرند و پرند سب سے مختلف ہے۔ اس نئی مخلوق کی جبلت میں جھوٹ، غیبت، نفاق، ریا، چرب زبانی اور دغا بازی شامل نہیں ہے۔
جب بھی کوئی نرگس کو ڈانٹتا پھٹکارتا یا اس پر پھبتی کستا توتا بش کو بڑی کو فت ہوتی تھی۔ وہ کسی سے کچھ نہیں بولتا تھا مگر دل میں رنج و قلق لیے وہاں پر سے اٹھ جایا کرتا تھا۔
تابش کی آنکھوں میں نرگس کا چہرہ گھوم رہا تھا اور دماغ میں اس کی آواز گونج رہی تھی ”چھام کم۔ ۔ ۔ خے خے۔ ۔ ۔ خے خے۔ ۔ ۔ خیل۔ ۔ ۔ خے خے۔“ اسے لگ رہا تھا جیسے درد سے اس کا سر پھٹ جائے گا اور کسی بھی لمحہ اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا جائے گا اور شاید وہ گر پڑے گا۔
وہ لمبے لمبے قدم اٹھاتا ہوا واصف کے گھر پہنچا۔ ”ارے واہ! تم آگئے۔ اب تو مزہ آئے گا۔“ واصف نے گرمجوشی کے ساتھ استقبال کرتے ہوئے کہا۔
”چلو چل کر اسلم سے ملاقات کرتے ہیں۔“ تابش نے کہا۔
”ہاں چلو“ ۔ واصف جو اباً بولا۔
واصف کا گھر تابش کی خالہ کے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر تھا۔ گاؤں کی مسجد سے بالکل سٹے ہوئے اور اس کے ٹھیک پیچھے والی گلی میں اسلم کا مکان تھا۔ تینوں دوست تقریباً ایک ہی عمر کے تھے۔
تابش جب بھی گاؤں آتا تو گھر سے باہر زیادہ تر اوقات انہی دوستوں کے ساتھ گزارتا تھا۔ تینوں کی پسند و نا پسند ایک ہی جیسی تھی۔ انہیں فطرت کی گود میں کھیلنے اور جو کھم بھرے کام کرنے میں بڑا مزہ آتا تھا۔ اونچے اونچے ٹیلے سے ندی میں چھلانگ لگانا اور دیر تک پیراکی کرنا ان کا محبوب مشغلہ تھا۔ درختوں پر چڑھ کر بیر، املی اور امرود توڑنا اور کھیت میں جا کر پمپ پر نہانا بھی انہیں بہت پسند تھا۔
لیکن ایک جگہ ایسی تھی جہاں تابش کے لیے سب سے زیادہ حیرت اور انبساط کا سامان موجود تھا۔ یہ جگہ تھی جہاں گنے کا عرق نکالا جاتا تھا۔ بیل کا ایک دائرہ میں گردش کرنا اور اس سے پیدا ہونے والی توانائی سے گنے کا پیڑا جانا، گنے کے رس اور کھوجڑ کا الگ الگ جمع ہونا، ایک دلکش منظر پیش کرتا تھا۔ تابش دیر تک اس مستطیل حوض کو دیکھا کرتا جس میں گنے کے عرق کو گرم کر کے جمع کیا جاتا تھا تاکہ گڑ وجود میں آ سکے۔
تابش کو کاشتکاروں کی مہمان نوازی بہت متاثر کرتی تھی۔ ان کاشتکاروں کی طرف سے صلائے عام تھی کہ گاؤں کا کوئی بھی فرد یا کوئی مسافر جب بھی وہاں سے گزرے تو جتنا جی چاہے گنے کا عرق، جسے لوگ کتاری کار س کہتے تھے، پی سکتا ہے۔ رہی بات گاؤں میں آئے ہوئے مہمانوں کی تو خیر ان کا کیا ہی کہنا۔ ان کی تو ایسی آؤ بھگت ہوتی گویا بادشاہ سلامت پدھارے ہوں۔ تابش بھی وہاں جاتا تو لوگ اسے اصرار کرکے گنے کا رس پلاتے، کھانے کو گڑ دیتے، اور دو چار گنے کاٹ اور باندھ کر اس کے ہاتھ میں دے دیتے۔
تکلف سے عاری ان کا تخاطب اور تصنع سے پاک ان کا تبسم تابش کو بڑا دلٓاویز معلوم ہوتا تھا۔ ایک دو فقرے تو ایسے تھے جنہیں وہ ہر ملاقات میں سنتا تھا لہٰذا وہ اس کے ذہن میں محفوظ ہو گئے تھے۔ ”رام رام۔ کا ہو بوا۔ شہر سے اوت ہو۔ سب ٹھیک ہے نا؟“ وہ اپنے دل میں کہتا کہ یہ لوگ شہر والوں سے کتنا مختلف ہیں۔
تابش کو گاؤں کے پکوان بھی بہت پسند تھے۔ بیسن، میتھی اور آٹے کے لڈو، خرمے اور چنے کے حلوے، پیٹھے اور آنولے کے مربے، شکر پارے، نمک پارے، کلیجی کے ساتھ چاول کے آٹے کی روٹی، وغیرہ وغیرہ۔ گنے کے عرق سے تیار شدہ روا بھی اسے بڑا لذیذ معلوم ہوتا تھا۔ وہ بار بار خالہ سے مانگ کر کھایا کرتا تھا۔ اور اگر خالہ نہ ہوتیں تو خود ہی گھڑے سے نکال کر کھاتا تھا۔ اگر کبھی اسے کھانے کو کھیس، جسے وہاں سب پھینس کہتے تھے، مل جاتا تب تو اس کے مزے آ جاتے تھے۔
ہاں ایک کام تھا جس سے تابش مکمل اجتناب کرتا تھا۔ اپنے دوستوں کے لاکھ اصرار اور خوشامد کے باوجود وہ آج تک اس کے لیے راضی نہیں ہوا۔ وہ تھا کنویں میں کود کر نہانا۔ وہ واصف اور اسلم کو کنویں میں ڈبکی لگاتے، تیرتے اور باہر نکلتے دیکھا کرتا تھا مگر کنویں میں جانے کے نام سے اس کے ہاتھ پاؤں پھول جاتے تھے۔
البتہ تابش کو قدرت کے مناظر میں بڑی دلچسپی تھی۔ رنگا رنگ سبزے، انواع و اقسام کے پرندے، بھانت بھانت کے جانور، ندی، پہاڑ، تالاب، کھیت، کھلیان۔ ۔ ۔ غرض ہر چیز میں اس کے لیے تحیر اور تجسس کا سامان مہیا تھا۔
لیکن آج تو معاملہ ہی عجیب تھا۔ تابش کا دل گویا بجھ سا گیا تھا۔ کل تک جو چیزیں اسے خوش کرتی تھیں آج وہ بالکل بے رنگ اور غیر دلچسپ معلوم ہو رہی تھیں۔ اپنے دوستوں کے ہمراہ وہ ندی کے کنارے پر آیا۔ تینوں ایک درخت کے سائے تلے بیٹھ گئے۔ تابش نے انہیں چاکلیٹ نکال کر دی۔ بلکہ اپنے حصہ کی چاکلیٹ بھی ان دونوں کے بیچ بانٹ دیا۔ اور پھر ان سے مخاطب ہوا: ”خالہ بتا رہی تھیں کہ نرگس چل بسی۔ میں ان سے کئی ایک سوال کرنا چاہتا تھا مگر ایسا لگا جیسے وہ کچھ چھپا رہی ہوں۔“ اسلم اور واصف نے ایک دوسرے کا منہ دیکھا اور دونوں کے چہرے کمہلا گئے۔
چند ثانیئے ماحول پر سکوت طاری رہا۔ اس دوران واصف نے ہمت جٹائی اور یوں قصہ شروع کیا: تمہیں تو پتہ ہے کہ لوگ نرگس کو فاترا لعقل جانتے تھے اور جانوروں کے زمرے میں شمارکرتے تھے۔ اس کی ماں صبح اٹھ کر اسے کچھ کھانے کو دے دیتی تھی اور پھر بکریوں، بطخوں اور مرغیوں کے ساتھ ساتھ اسے بھی باہر ہانک دیا کرتی تھی۔ نرگس بھی ان جانوروں کی طرح کچھ چرتی چگتی، ادھر ادھر ماری پھرتی اور شام میں انہیں جانوروں کی طرح گھر لوٹ آتی تھی۔
لوگ کہتے ہیں کہ آج سے تقریباً آٹھ مہینے پہلے کسی نے نرگس کی جھولی میں کچھ بیج ڈال دیے۔ نتیجتاً اس کاپیٹ پھولنے لگا۔ یہ پتہ نہیں چلا کہ وہ کون تھا۔ کوئی کہتا کہ دوسرے گاؤں سے جو گوالا آتا ہے وہی اس کا ذمہ دار ہے۔ چند لوگ موذن شرافت علی کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔ اور کچھ دوسرے لوگوں کا خیال ہے کہ چند لونڈے جو گاؤں سے باہر پاسی خانہ میں تقریباً ہر روز تاڑی پینے جمع ہوتے ہیں یہ انہیں کی حرکت ہے۔
نرگس کے باپ اس زمانے میں بہت سے لوگوں کی طرح کلکتہ میں ملازمت کرتے تھے۔ وہ چھٹیوں پہ گاؤں آنے والے تھے۔ جیسے جیسے ان کے آنے کا دن قریب ہوتا جا رہا تھا ویسے ویسے نرگس کا پیٹ پھولتا جا رہا تھا۔ جب نرگس کے باپ کے آنے کا دن بالکل قریب آ لگا تو نرگس کا پیٹ پھول کر گھڑے کی طرح ہو گیا۔ ادھر اس کی ماں کی سانس پھولنے لگی تھی۔ وہ روز اپنے بال نوچتی، گریبان پھاڑتی، دہاڑیں مار مار کر روتی، لوگوں کو کوستی اور گالیاں دیتی اور کبھی کبھار نرگس کو دوہتھڑ مارتی۔ آخر کار شاید اسے کچھ نہ سوجھی تو ایک شام اس نے دودھ میں کرم کش دوا ملا کر نرگس کو دے دیا۔ اور نرگس خے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ماں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دودھ کہتے ہوئے غٹ غٹ پی گئی۔
واصف کے چپ ہوتے ہی تابش کی نظر ندی پر پڑی جس میں ڈھیر سارا پانی آ چکا تھا۔ تابش نے دل ہی دل میں کہا ”اب سمجھا یہاں عذاب کیوں اتر رہے ہیں۔“ وہ اپنی جگہ سے اٹھا اور چلنے لگا۔ وہ چلتا ہی گیا یہاں تک کہ اسے ایک چھوٹی سی بستی دکھائی دی جو بالکل خاموش تھی۔ تابش کی نظرایک جگہ پر گئی جہاں تھوڑے سے سبزے کے بیچ ایک تازہ تازہ نرگس کا پھول کھلا تھا۔ اس نے ہاتھ اٹھا کر دعا کی: ”خدایا تواس پھول کی نگہانی فرما اور اسے سر سبز و شاداب رکھ۔“ اس کے بعد اس نے اپنی خالہ کے گھر کا رخ کیا۔


