مذبوحی

چند محاوروں اور فلموں کی بدولت قصائی کا لفظ ہمارے ذہنوں میں شقی القلبی اور سفاکی کا تصور اجاگر کرتا ہے۔ تاہم میرا ذہن اس قسم کے تصور سے پاک ہے۔ سبب یہ ہے کہ ہمارے محلے میں ایک قصائی خاندان آباد ہے جس کا ہر فرد شرافت اور وضع داری کا نمونہ ہے۔ چار بھائی ہیں اور چاروں اپنے خاندانی پیشے سے وابستہ ہیں۔ انہیں کوئی عار نہیں ہے۔

یہ لوگ اپنے گھر میں صبح صبح دو یا کبھی کبھی تین جانور ذبح کرتے ہیں اور گوشت کو پاس والے محلے میں لے جا کر اپنی کرائے کی دکان میں رکھتے ہیں۔ شام تک سارا مال بیچ کر یہ لوگ اپنے گھر لوٹ آتے ہیں۔ اور سکھ چین کے ساتھ زندگی بسر کرتے ہیں۔

ہمارے بچپن میں بکرے اور مرغ کا گوشت اس فراوانی کے ساتھ دستیاب نہیں تھا۔ لہٰذا ہمارے یہاں کوئی مہمان آیا ہوتا تو ایک دن پہلے ہی ان لوگوں کو اطلاع بھجوا دی جاتی تھی کہ آدھ کلو کلیجی چاہیے ہوگی کل صبح۔

Read more

ناری شکتی زندہ باد

” مکیش بھیا، کل فادرز ڈے تھا۔ آپ نے اپنے پاپا کو کیا دیا؟“ میں نے اپنے ٹیوٹر سے پوچھا، جو مجھے اور میری بہن رفعت کو ہندی اور حساب پڑھانے ہمارے گھر آیا کرتے تھے۔

”زور کا ایک طمانچہ“۔ مکیش بھیا نے تیز آواز میں کہا۔

مکیش بھیا سے اس قسم کی گفتگو کی بالکل توقع نہیں تھی۔ وہ تو بڑے ہی خوش مزاج اور مہذب انسان تھے۔ ان کا برتاؤ ہمارے ساتھ بڑا مشفقانہ تھا۔ لیکن آج تو معاملہ ہی عجیب تھا۔ درشت لہجہ، خشمگیں آنکھیں اور خشونت زدہ چہرہ۔ یہ ہمارے والے مکیش بھیا تو نہ تھے۔

Read more

بھائی ویرسنگھ نانا کیسے بنے؟

جب تیسری بار میری نظر ان کے ہاتھوں پر پڑی جن میں ایک بھی انگلیاں نہیں تھیں تو وہ مسکرائے اور بولے : ’بیٹے، مجھے پتہ ہے کہ آپ کو تجسس ہو رہی ہے۔ پہلے میں ذرا چائے وائے کا انتظام کروا لوں پھر آپ کو قصہ سناتا ہوں۔‘ یہ کہہ کر وہ ملاقات کے کمرے سے اٹھے اور اندر تشریف لے گئے۔ مجھے تھوڑی شرمندگی ہوئی کہ میں بار بار ان کے ہاتھوں کو کیوں گھور رہا تھا۔ لیکن

Read more

سنگین دیوار

چھ مہینہ بعد آج میں اپنے گاؤں واپس آیا ہوں۔ یہاں داخل ہوتے ہی کیا دیکھتا ہوں کہ وہ سڑک جس کے دونوں طرف ہمارا گاؤں آباد ہے اس کے ٹھیک بیچوں بیچ ایک قد آدم دیوار کھڑی ہے۔ میں اپنے گھر آ گیا اور سیدھا اپنے کمرے میں چلا گیا۔ میں نے اپنا بیگ پیک ایک ٹیبل پر ڈال دیا اور اپنے بائیں ہاتھ کی کلائی سے گھڑی نکالتے ہوئے کھڑکی سے باہر جھانکا۔ ارے اس کمبخت دیوار نے

Read more

اندھے کا سہرا

حال ہی میں سوربھ رائے کی بحالی اسسٹنٹ پروفیسر کی حیثیت سے دہرہ دون میں واقع نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ویزیولی ہینڈیکیپٹ میں ہوئی تھی۔ نوکری میں شمولیت کی رسمی کارروائیاں مکمل کرنے کے بعد سوربھ نے تقریباً ایک ماہ تک تدریس کا کام انجام دیا اور پھر رخصت لے کر اپنے وطن للت پور جانے کا ارادہ کیا۔ چھٹیاں منظور ہو گئیں تو اس نے ٹرین پر اپنی جگہ محفوظ کروالی۔ سوربھ کو یکم مئی کی صبح ساڑھے پانچ بجے

Read more

ایک نوجوان کی خلوت کا بحران

سونالی بہار کے مظفر پور ضلع سے تعلیم حا صل کرنے دلی آ ئی تھی اور اس نے انسٹیٹیوٹ آف ہیومن بی ہیویئر اینڈ اپلائیڈ سائنسس میں داخلہ لیا تھا۔ یہ ادارہ اپنے طلبا و طالبات کو ذہنی طور پر کمزور بچوں اور بچیوں کی تعلیم کے لئے تیار کرتا ہے۔ دوسرے تعلیمی سال میں ہر شخص کے ذمے فیلڈ ورک تھا۔ چونکہ سونالی نوئیڈا سیکٹر چونتیس میں قیام پذیر تھی، اسی لئے اس نے فیلڈ ورک کے لئے اسی

Read more

نرگس

تابش اپنے ماں باپ کے ساتھ بس سے نیچے اترا اور اپنی خالہ کے گاؤں کی طرف جانے والے کچے راستے پر چلنے لگا۔ ہر سال چھٹیاں آنے سے پہلے ہی وہ اپنے والدین کو یہاں آنے کے لئے تیار کر لیتا ہے اور پھر چند دنوں تک اس کا دل پڑھائی لکھائی سے بالکل اچاٹ ہو جاتا ہے۔ وہ بس گاؤں کے خواب دیکھتا رہتا ہے اور نئی نئی سر گرمیوں کا منصوبہ بناتا رہتا ہے۔ ہمیشہ کی طرح

Read more