ٹی وی لائسنس فیس میں اضافہ، سوشل میڈیا پر حکومت تنقید کی زد میں
پاکستان میں دنیا بھر کے دوسرے ملکوں کی طرح ملک کے سرکاری نشریاتی ادارے کے لیے لائسنس فیس لی جاتی ہے۔ کچھ روز سے پاکستان میں اس فیس میں اضافے کے بارے میں خبریں مقامی میڈیا پر گردش کرنے لگیں اور اس پر ایک بحث شروع ہو گئی ہے۔ جو اب بھی جاری ہے۔
Govt increases PTV fee from Rs35 to Rs100. PTV fee is collected by charging it to consumers’ electricity bills each month.The increased fee means that an estimated Rs21 billion will be collected from consumers annually.#CorruPTIonSarkaar pic.twitter.com/k11EGWOrei
— Tariq Rahim (@TariqRahimPPP) July 19, 2020
پی پی پی کے ایک رکن نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ حکومت نے پی ٹی وی کی فیس 35 روپے سے بڑھا کر 100 روپے کر دی ہے۔ پی ٹی وی فی صارفین کے بجلی کے بل میں ہر مہینے شامل کی جاتی ہے۔ اس اضافے کا مطلب ہے کہ اندازاً 21 ارب روپ صارفین سے جمع کیے جائیں گے۔
The honest Kaptaan has adopted every single thing that he used to curse – jangla bus, IMF, PTV fee, dual citizenship, etc. The only difference is he is more incompetent than the previous ones and has a strong army of idiots to defend him.
— Dr Saqlain Shah (@DrSaqlainSh) July 19, 2020
ڈاکٹر ثقلین شاہ نے لکھا کہ ایماندار کپتان نے ہر وہ چیز اپنا لی ہے جسے وہ کوستے تھے۔ جنگلہ بس، آئی ایم ایف، پی ٹی وی فی، دہری شہریت وغیر ہ وغیرہ۔ فرق صرف یہ ہے کہ وہ پہلے والوں سے بھی زیادہ نالائق ہیں بس ان کا دفاع کرنے والے بیوقوفوں کی ایک فوج موجود ہے۔
Shukr karen Govt ne Bills mei PTV ke sath ARY ki fee add nai ki
😜
— Usman Ashfaq (@engr_UsmAn_7) July 20, 2020
عثمان اشفاق نے لکھا شکر کریں حکومت نے بل میں پی ٹی وی کے ساتھ اے آر وائی کی فی شامل نہیں کی۔
https://twitter.com/_MyLovePakistan/status/1284773721572544513?s=20
ایک اور صارف نے لکھا کہ عمران خان آپ کو پی ٹی وی فی میں اضافے کا جواب دینا ہوگا۔
https://twitter.com/zia_sears/status/1285131232511168512?s=20
ضیاءالرحمٰن نے فیس میں اضافے کے فیصلے پر جواب مانگنے کے بارے میں لکھتے ہوئے دوسرے فیصلوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی وی فیس میں اضافہ بہت سوں میں سے ایک ہے۔
PTI govt approves Rs65 increase in PTV licence fee that will be added to electricity bills of consumers. Listen to what Imran Khan used to say about increasing TV fee in the past… video via @ZahidGishkori pic.twitter.com/1Bj8hGCB0w
— Bilal Farooqi (@bilalfqi) July 18, 2020
صحافی بلال فاروقی نے ایک اور صحافی زاہد گشکوری کے توسط سے ایک ویڈیو شیئر کی جس میں وزیر اعظم بننے سے پہلے عمران خان پی ٹی وی فیس کے لیے اکٹھی کی جانے والی رقم کے محاسبے کا ذکر کرتے ہیں۔ پی ٹی وی فیس کے اضافے کا ذکر کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں کہ سنیں عمران خان ٹی وی فیس میں اضافہ کے بارے میں کیا کہتے تھے۔
Now that govt has hiked PTV license fee by Rs 65 from Rs 35 to Rs 100, which will help state run channel get additional Rs 21 billion, I'm reminded of @ImranKhanPTI's words that in NayaPakistan the conscionable nation would ask about its utilisation. Would PM give an explanation? pic.twitter.com/o8sf4w6TEu
— Baqir Sajjad (@baqirsajjad) July 18, 2020
باقر سجاد نے بھی بہت سے صارفین کی طرح اسی ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ حکومت نے پی ٹی وی لائسنس فیس میں 65 روپے کا اضافہ کر کے اسے 35 روپ سے 100 روپے کر دیا ہے جس سے سرکاری چینل کو مزید 21 ارب ملیں گے۔ مجھے عمران خان کے وہ الفاظ یاد آ رہے ہیں کہ نئے پاکستان میں باشعور قوم پوچھے گی اس کے استعمال کے بارے میں۔ کیا وزیراعظم وضاحت دیں گے؟
The imposition of monthly fee for PTV charged in electricity bills was never really justified. It has now been raised to Rs.100 per month. PTV is another state entity which is full of corruption & incompetence. Having monoplistic control over terrestrial broadcasts it has failed
— Faisal Sherjan (@fsherjan) July 19, 2020
فیصل شیرجان لکھتے ہیں کہ پی ٹی وی کے لیے بجلی کے بل میں ماہانہ فیس کے لاگو کیے جانے کا کوئی جواز نہیں تھا۔ اب اسے بڑھا کر 100 روپے مہینہ کر دیا گیا ہے۔ پی ٹی وی ایسا ایک اور سرکاری ادارہ ہے جو بددیانتی اور نااہلی سے بھرا ہوا ہے۔ اس کی مقامی نشریات پر مکمل اجارہ داری اور یہ ناکام ہے۔
#ErtugrulGhazi reason of increase in #PTV fee from 35 to 100
— Basit Baig (@Baiguuu) July 19, 2020
محمد باسط بیگ لکھتے ہیں کہ ارطغرل غازی ہے پی ٹی وی فیس کی 35 روپے سے 100 روپے تک بڑھائے جانے کی وجہ۔
https://twitter.com/Zuriathinksalot/status/1284503662891499520?s=20
ذورائیت نے اس فیس میں اضافے کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ 35 روپے سے بڑھا کر 100 روپے کر دی گئی ہے۔۔ 35 روپے بھی کیوں دیں۔ اور میں تو ارظغرل بھی نہیں دیکھتی۔
Sir @ImranKhanPTI we don't watch ptv nor we are interested in this failed channel, so why you are imposing 100 rupees extra on electricity bill. Believe me i am feeling sorry that i have voted you. Almost every decision of yours are opposite to as you promised.#PTV#Ptvfee
— Mian AwAis 🇵🇰 (@progawais) July 18, 2020
میاں اویس بھی اس فیصلے سے ناخوش ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ سر عمران خان ہم تو پی ٹی وی دیکھتے ہی نہیں اور اس ناکام چینل میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ آپ ہم پر بجلی کے بل میں اضافی 100 روپے کیوں لاگو کر رہے ہیں۔ میرا یقین کریں مجھے افسوس ہے کہ میں نے آپ کو ووٹ دیا۔ آپ کا تقریباً ہر فیصلہ آپ کے وعدوں کے برخلاف ہے۔
You can take Rs 200 as PTV fee but please update:
Kappas K kashtkaron k naam Aham Paigam and
Malakand, Swat ma Barish wala Weather forecast
— Haider Ali (@haidersays) July 19, 2020
حیدر علی نے لکھا کہ آپ پی ٹی وی فیس کے لیے 200 روپے لے لیں مگر کپاس کے کاشتکاروں کے نام پیغام اور مالاکٹڈ، سوات میں بارش والا موسم کے حال کو نیا بنائیں۔
Why should I invest my money on a channel which doesn't have a tad bit of competency to entertain its audience with a quality content & is merely instrumentalized to create puppets?
If this does not call for civil disobedience then what else does? #ptvfee #Civildisobedience https://t.co/LxZpCpIPYz
— Palwasha Aftab (@AftabPalwasha) July 20, 2020
پلوشہ آفتاب نے لکھا کہ میں ایک ایسے چینل کو اپنا پیسہ کیوں دوں جو اپنے ناظرین کو معیاری مواد کے ذریعے تفریح فراہم کرنے کی ذرا بھی قابلیت نہ رکھتا ہو اور صرف پتلے بنانے کا وسیلہ ہو۔ اگر یہ سول نافرمانی کے لیے کافی نہیں تو اور کیا ہو سکتا ہے؟
I will pay for what I watch. Say no to #ptvfee in electricity Bills.
— Dr Sajid Iqbal (@Sajidkhattak13) July 19, 2020
میں اُس کے لیے ادائیگی کروں گا جو میں دیکھتا ہوں۔ پی ٹی وی فیس کا بجلی کے بل میں شامل کرنے سے انکار
رانا فہد ارشد نے پی ٹی وی کے بارے میں عمران خان کی اپنی ریلیوں سے خطاب کی ویڈیو شیئر کی اور لکھا کہ میری خواہش ہے کہ کسی روز عمران خان اپنی پرانی تقریریں اور بیانات سنیں۔۔ میرے پاس اور کچھ کہنے کو نہیں ہے۔


