موت کو شکست دینے کی امیتابھ کی 38 سال پرانی کہانی


فلم قلی

‘لمبی عمر ہو، امیتابھ کی حالت میں کافی حد تک بہتری آئی ہے، لیکن انھیں ابھی انتہائی نگہداشت یونٹ میں ہی رکھا جارہا ہے اور شاید مزید 15 دنوں تک رکھا جائے گا۔ معمول پر آنے میں شاید مہینوں لگیں گے۔ تشویش، نیک تمناؤں، دعاؤں کے لیے شکرگزار۔‘

یہ سطریں آنجہانی ہری ونش رائے ’بچن‘ کے اس خط کی ہیں جو انھوں نے 10 اگست سنہ 1982 کو مجھے بھیجا تھا جب ان کے بیٹے امیتابھ بچن 38 سال قبل ممبئی کے بریچ کینڈی ہسپتال میں زندگی کی جنگ لڑ رہے تھے۔

امیتابھ بچن نے اپنی 77 سال کی زندگی میں بیماری کی وجہ سے کئی بار مشکل وقت دیکھا ہے۔ یہ اچھی بات ہے کہ وہ اپنی بیماری پر ہمیشہ فتح حاصل کرتے رہے ہیں۔

ان دنوں وہ ایک بار پھر دنیا کے خوفناک ترین مرض کورونا وائرس سے متاثر ہیں۔ 12 جولائی کو 11 بجتے بجتے جب امیتابھ بچن کو ممبئی کے ناناوتی ہسپتال میں داخل کرنے اور پھر ان کے کورونا وائرس ٹیسٹ مثبت ہونے کی خبر آئی تو سب حیران رہ گئے کہ امیتابھ جیسے شخص کو کورونا کیسے ہو گیا؟

امیتابھ بچن کی خبر کے فوراً بعد ان کے بیٹے ابھیشیک اور دوسرے دن ان کی بہو ایشوریا اور پوتی ارادھیا کو بھی کورونا انفیکشن ہونے کی خبر کے بعد گھبراہٹ مزید بڑھ گئی۔

امیتابھ کے بارے میں زیادہ تشویش ہے کیونکہ ان کی عمر 77 سال ہے اور وہ چند دوسری بیماریوں میں بھی مبتلا ہیں۔ یہاں تک کہ ان کے جگر کا صرف 25 فیصد حصہ ہی کام کرتا ہے۔

آج ملک بھر میں امیتابھ کی صحت کے بارے میں بے چینی ہے، میڈیا ان کی صحت کے بارے میں پل پل کی خبریں صبح صبح حاصل کرتا ہے۔

ملک کے بیشتر علاقوں میں گھروں اور مندروں میں ان کی جلد صحتیابی کے لیے پوجا اور دعائیں کی جا رہی ہیں۔

amitabh
یہ سطریں آنجہانی ہری ونش رائے ‘بچن’ کے اس خط کی ہیں جو انھوں نے 10 اگست سنہ 1982 کو مجھے بھیجا تھا جب ان کے بیٹے امیتابھ بچن 38 سال قبل ممبئی کے بریچ کینڈی ہسپتال میں زندگی کی جنگ لڑ رہے تھے

38 سال پہلے بھی

آج سے ٹھیک 38 سال پہلے جولائی سنہ 1982 میں بھی پورا ملک امیتابھ بچن کی صحت کے متعلق آج سے زیادہ پریشان تھا۔

کوئی ان کی لمبی عمر کے لیے پوجا پاٹھ کر رہا تھا تو کوئی نئے سیارے کی پوجا کر رہا تھا، کوئی گرودوارے میں اردس کر رہے تھے، کوئی کسی پیر فقیر کے مزار پر جا کر ان کے لیے دعا مانگ رہا تھا، تو کوئی چرچ میں دعا مانگ رہا تھا۔

یہ وہ دور تھا جب 26 جولائی سنہ 1982 کو بنگلورو میں فلم ’قلی‘ کی شوٹنگ کے دوران امیتابھ بچن زخمی ہوئے تھے، بڑے بڑے ڈاکٹروں نے اپنے ہاتھ اٹھا لیے تھے۔ ملک بھر میں ان کی حالت ’نازک‘ ہونے کی خبر آنے کے بعد ہر ایک کی سانسیں رک سی گئیں۔

اس وقت ملک میں نہ آج کی طرح نیوز چینلز تھے اور نہ ہی سوشل میڈیا، ان سب کے باوجود ملک گیر سطح پر اس قسم کی تشویش کی مثال نہ اس سے قبل ملتی ہے اور نہ ہی اس کے بعد۔

امیتابھ کے ساتھ ’قُلی‘ کی شوٹنگ کے دوران جب یہ واقعہ پیش آیا اس وقت وہ 40 سال کے تھے۔

amitabh
اس وقت ملک میں نہ آج کی طرح نیوز چینلز تھے اور نہ ہی سوشل میڈیا، ان سب کے باوجود ملک گیر سطح پر اس قسم کی تشویش کی مثال نہ اس سے قبل ملتی ہے اور نہ ہی اس کے بعد

جن کی عمر ابھی 40 سال سے کم ہے انھیں پتا نہیں کہ 38 سال قبل جب امیتابھ بچن زخمی ہوئے تھے تو ملک میں کیسی مایوسی چھائی تھی۔ اس وقت جو مناظر تھے ان کا تصور کرنا آسان نہیں۔

میں تقریبا 43 سالوں سے امیتابھ بچن کو قریب سے دیکھتا آیا ہوں۔ ان کے والد اور معروف شاعر اور ادیب ڈاکٹر ہریونش رائے بچن میرے گائڈ رہے ہیں۔

‘بچن’ جی کے ساتھ قربت کی وجہ سے مجھے سنہ 1976-1977 سے ہی امیتابھ بچن سے ملنے کا موقع ان کے گھر پر ہی ملنا شروع ہوا۔

اگرچہ اس وقت نہ تو موبائل تھے اور نہ ہی فون لیکن بات کرنا آسان تھا۔ خطوط کے ذریعے بچن جی سے باقاعدہ بات چیت ہو جاتی تھی۔

چنانچہ جب امیتابھ بچن کی حالت بنگلورو میں بہت سنگین ہو گئی تو انھیں وہاں سے ممبئی کے بریچ کینڈی میں منتقل کیا گیا۔ اس دوران خطوط کے ذریعے بچن جی سے بات ہوتی رہی۔ اسی طرح کبھی کبھار فون پر بچن جی سے امیتابھ کی حالت کے بارے میں پوچھ لیتا۔

amitabh
لڑائی کے ایک منظر میں فلم میں ولن کا کردار ادا کرنے والے اداکار پنیت اسّر کو امیتابھ کے پیٹ میں گھونسنا مارنا تھا

قلی کا وہ حادثہ کیا تھا

امیتابھ بچن جولائی سنہ 1982 میں چند دنوں تک مسلسل بنگلور میں فلم ‘قلی’ کی شوٹنگ کر رہے تھے۔ بنگلور میں شوٹنگ کی خاص وجہ وہاں کا ریلوے اسٹیشن تھا۔

دراصل ممبئی میں ایسے سٹیشن پر شوٹنگ کی اجازت نہیں ملی تھی لیکن جب بنگلورو اسٹیشن پر شوٹنگ کی اجازت ملی تو منموہن دیسائی اپنی پوری یونٹ کے ساتھ بنگلور پہنچ گئے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp