بونیر کے لوگ اور شتر بے مہار ”گابا“ پبشلرز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

، عمر رسیدہ بابا جی اب حیات نہیں ہیں اللہ ان کی مغفرت فرمائیں۔ دیر میں جب پہلی بار ان سے میری ملاقات ہوئی تو انہوں نے طویل وقت تک مجھے اپنے سینے سے لگائے رکھا۔ خود سے جدا کرتے وقت انہوں نے میرا ماتھا چوما اور وہاں موجود لوگوں سے کہنے لگے۔ ”بونیر کے لوگ محبت دیتے ہیں اور محبت ہی سے خوش ہوتے ہیں۔ یہ بڑے سادہ دل ہوتے ہیں ان کو بھوک و پیاس کی سختیوں سے کوئی سروکار نہیں ہوتا یہ بس محبت اور مسکراہٹ ہی سے کام چلا لیتے ہیں اور مجھے ضلع بونیر کے ہر فرد سے بے تحاشا محبت ہے“ ۔

ضلع بونیر کی آبادی لاکھوں میں ہے اور آپ کو یہ علم ہونا چاہیے کہ یہ بڑی آبادی پچھلے تین دنوں سے سوشل میڈیا پر ایک پرائیویٹ پبلشر گابا کی وجہ سے سخت اذیت سے گزر رہی ہے۔

آپ المیہ ملاحظہ کیجیئے ہم نے تعلیم کو بھی مذاق بنایا ہوا ہے۔ طوفان بدتمیزی اور ضمیر فروشی کے درمیان رہتے ہوئے بے شمار نام نہاد ماہرین تعلیم نے ذاتی فائدوں اور کاروبار کی خاطر نسلوں کی آبیاری کی بجائے تباہی کو مقصد بنایا ہوا ہے۔ حکومت کے لئے پرائیویٹ اداروں کے ان لابیوں کو قابو کرنا انتہائی مشکل ہے اور جس کا خمیازہ پوری قوم بھگت رہی ہے۔

یہ نام نہاد ماہرین کبھی مذہب کو نشانہ بناتے ہیں، کبھی پاکستان کو اور کبھی علاقائی تعصب کو ہوا دیتے رہتے ہیں۔

آگے بڑھنے سے پہلے آپ کو یہ علم ہونا چاہیے کہ ضلع بونیر کے لوگوں کو مذاق کا نشانہ کیوں بنایا جا رہا ہے۔ روایت یہ ہے کہ 1586 ء میں اکبر اعظم کے نورتنوں میں راجہ بیربل یہاں ایک فوج کے ساتھ آیا تھا۔ جلال الدین اکبر یہ شدید خواہش تھی کہ اس علاقے کو فتح کیا جاسکے۔ اپنے سب سے بہترین نورتن کو یہاں بھیجنے کا مقصد بھی یہ تھا کہ آسانی کے ساتھ یہاں کے لوگوں کو مسخر کیا جاسکے۔

راجہ بیربل چونکہ ایک عظیم سلطنت کی فوج ساتھ لے کر آیا تھا اسی لئے یہ بات اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھی کہ یہاں آباد لوگ محبت دینے پر جب اتر آتے ہیں تو پورے پگھل جاتے ہیں لیکن جب ان کے سامنے نفرت اور دشمنی کی دیوار کھڑی کی جاتی ہے تو پھر آگ کے ہیولے بن جاتے ہیں۔

مغل فوج آئی، لڑائی ہوئی اور اکبر کا محبوب ترین نورتن راجہ بیربل مارا گیا جلال الدین اکبر کو بیربل سے عشق کی حد تک لگاؤ تھا۔ اس کو جیسے ہی راجہ بیربل کی موت کا علم ہوا وہ صدمے سے نڈھال ہوا اور تاریخ کی کتابوں میں درج ہے کہ دو دن تک نہ کسی سے ملا اور نہ کھانا کھایا۔ اس شکست کے بعد اس وقت کی حکومتی مشنری نے اس علاقے کے مکینوں کے خلاف ایسے لطیفے بنانا شروع کر دیے جن کی وجہ سے آج تک اس علاقے کے مکینوں کو لطیفوں میں ایسے ہی یاد کیا جاتا ہے جس طرح بعض دوسرے لطیفوں میں سکھ برادری کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔

مجھے لگتا ہے گابا نامی ادارے کے تمام لوگ کاپی پیسٹ پر اکتفا کرنے والے ہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ بغیر تحقیق کے اس ادارے نے اپنی کتاب میں ”سیون فولش مین“ نامی سبق میں بونیر کا نام لکھا۔

سنہ 1858 ء میں جب سڈنی کاٹن نے بونیر میں مقیم پختونوں کو تتر بتر کیا تو یہ یہاں کے مکینوں کے لئے شرم کی بات تھی۔ صرف پانچ سالوں میں ان منتشر قبائل نے اپنا ایک نیا بیس کیمپ بنایا اور انگریز سرکار کے خلاف متحد ہو گئے۔ بونیر کا ایک علاقہ ملکا ان مجاہدین کا مرکز تھا۔ 1863 ء میں چمبرلین نے یہ اٹل فیصلہ کیا کہ اس علاقے کے سرپھروں کو سخت سے سخت سزا دی جائے لیکن تاریخ کا سبق کچھ اور ہے جو آج تک کتابوں میں موجود ہے جس میں چیمبرلین کی روح چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ ”امبیلہ کمپین“ یاد رہے گا۔

تاریخ کے اوراق پلٹنے سے یہ اندازہ لگانا آسان ہے کہ یہاں کے لوگ بہادر بھی ہیں اور وطن سے محبت کرنے والے بھی۔ علم دوستی اگر دیکھی جائے تو بونیر کی سرزمین صوفیائے کرام کے لئے انتہائی بہترین رہی ہے۔ یہاں پیر بابا، شلبانڈی بابا اور دیوانہ بابا جیسے صوفیائے کرام نے دین اسلام کی تبلیغ کی اور یہاں ہی مدفون ہوئے۔

گابا نے تحقیق ہی نہیں کی ورنہ یہ سبق شامل کرنے سے پہلے لکھنے والے ہزار بار سوچتے کہ جہاں پیر بابا کے قدم پڑے ہوں وہاں کے لوگ بے وقوف کیسے ہوسکتے ہیں۔

گابا نے جس کتاب میں ”سیون فولش مین“ کا سبق شامل کیا ہے اس میں سات لوگوں کو بونیری دکھایا گیا ہے اور ایک کہانی میں ان کی بے وقوفی اور کم فہمی کو شامل کر کے یہ اشارہ دیا گیا ہے کہ یہ سیارہ زمین پر بسنے والے کم عقل اور بے وقوف لوگ ہیں۔

اس حرکت کے پیچھے دو محرکات ہو سکتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ شاید اب بھی ایسے لوگ اور مافیاز ہیں جو پاکستان کے اندر پختون بیلٹ میں تعصب کو ہوا دینا چاہتے ہیں اور اس کے لئے پاکستان کے اندر ہی گابا جیسے نام نہاد اداروں کو استعمال کر رہے ہیں۔ اب گابا کی اپنی پوزیشن کیا ہے اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ آخری اطلاعات آنے تک اس ادارے کے کسی بھی فرد نے سوشل میڈیا یا کسی اور فورم پر معذرت نہیں کی ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ پیسوں کے لئے ادارے اور انسان کہاں کہاں تک جا سکتے ہیں اس پر تو کوئی بحث ہی نہیں ہونی چاہیے کہ ہمارے ملک پاکستان میں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ خیبر پختون خواہ کے پٹھانوں میں بے شمار خامیاں ہو سکتی ہیں لیکن ایک بات طے ہے کہ اسلام اور ملک سے محبت ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ اس ادارے کو کس نے اس اقدام کے لئے راضی کیا ہوگا جو لاکھوں لوگوں کو یوں ننھے بچوں کی ایک درسی کتاب میں بے وقوف لکھنے پر یہ راضی ہوا۔

دوسری بات یہ ہے کہ یہ پرائیویٹ ادارے شہرت اور کاروبار کے لئے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ اس حد کا اندازہ آپ خود لگائیے کہ بے شمار پبلشرز نے بے شمار دفعہ اسلامی اقدار پر بھی حملہ کرنے سے گریز نہیں کیا ہے۔

نصاب کو ڈیزائن کرنا ایک صبر آزما کام ہے اور وجہ جس کی یہ ہے کہ اسی نصاب ہی کو پڑھ کر قوموں کی نسلیں تیار ہوتی ہیں۔ ہمارا مگر المیہ یہ ہے کہ ہم نسلوں کی فکر کرتے ہیں اور نہ ان کی آبیاری کے لئے کوئی مربوط پلاننگ۔

یہ فتنے کا سب سے بڑا کمال ہے کہ یہ پھیلتا آسانی سے ہے اور فتنے جب تعلیم کی کتابوں تک پہنچ جائے تو سمجھ لیجئیے کہ ہماری نسلوں پر کسی کی نظر ہے۔ آج بونیر کے خلاف زہر اگلا جا رہا ہے کل سوات کی باری آ سکتی ہے اور پھر شاید صوابی مردان اور چترال کی۔

گابا نامی ادارے کے خلاف ایکشن لینا ضروری ہوچکا ہے۔ خیبر پختون خواہ کے تمام سکول مالکان کو چاہیے کہ احتجاجی طور پر اس ادارے کے نصاب کا بائیکاٹ کریں تاکہ آئندہ کوئی پرائیویٹ ادارہ زہر اگلنے کی ہمت نہ کریں۔
حکومت کو چاہیے کہ ان نصابی سرگرمیوں کی خود جانچ پڑتال کرے کیونکہ تعلیم کی اہمیت سے کبھی بھی کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply