ملک اللہ یار اور ان کے بچے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ملک اللہ یار مشرقی پنجاب کے ایک زرخیز گاؤں سے تعلق رکھتے تھے۔ جن وقتوں میں میٹرک تک تعلیم بتا کر لوگ اپنے کالراور مزاج اونچے کر لیتے تھے، ملک صاحب نے ان وقتوں میں بی اے کر رکھا تھا۔ ملک اللہ یار کے تین بچے تھے جن میں سے دو ملک سے باہر اور ایک لاہور میں زیرتعلیم تھا، ملک صاحب نہ تو گاؤں کے نمبر دار تھے اور نہ ہی پنجائیت کے سر پنج لیکن ان سے لوگ مشورہ بھی لیتے تھے اور اپنے فیصلے بھی کرواتے تھے۔ اس لئے گاؤں کے نمبر دار میاں عطا اللہ جو کہ ملک صاحب کی عزت تو کرتے تھے، لیکن کافی باتوں میں حاسد بھی تھے۔ جب کبھی کوئی موقع ملتا اپنی پوری کوشش کرتے ہیں کہ ملک صاحب کی فہم و فراست میں کوئی نقطہ نکالا جائے تاکہ لوگ میاں صاحب کی طرف متوجہ ہوں۔

یہ دسمبر 2019 کی بات ہے۔ گاؤں میں ضمنی الیکشن کا دور دورہ تھا تو لوگ اکثر ایک دوسرے کے ڈیرے پر جا کے اپنے امیدوار کے حق میں کمپین چلاتے تھے۔ اس دن ملک اللہ یار کے ڈیرے پر میاں عطا بھی موجود تھا۔ ملک صاحب نے حقے کی باری لگائی اور کرم دین، جو کہ ان کا خاص بندا تھا، کو شاباشی دیتے ہوئے کہا ”سواد آ گیا حقے دا“ ۔ اتنے میں میاں صاحب نے حقؔے کی باری لیتے ہوئے کہا ”ملک صاحب آپ کا سایہ ہم پر قائم رہے لیکن ہر کسی نے اس دنیائے فانی سے جانا ہے، میں سوچتا ہوں کہ آپ نہیں ہوں گے تو یہ حویلی ویران ہو جائے گی۔ آپ کے بچے جو باہر رہتے ہیں کام کرتے ہیں، وہ کہاں پھر گاؤں کی راہ لیں گے؟ وہاں بیٹھے ہوئے سب لوگ خاموش ہو گئے اور ملک صاحب کو دیکھنے لگے۔ ملک صاحب نے قہقہ لگایا اور کہا میاں صاحب آپ کو کس نے کہا ہے کہ میرے بعد یہ حویلی ویران ہو جائے گی؟ میری حویلی بھی آباد رہے گی اور انشاءاللہ اس گاؤں میں میری نسیلں بھی پروان چڑھیں گئی۔ ملک جی بچے باہر چلے جاتے ہیں پھر ان کا گاؤں دل نہیں لگتا، وہ نہیں آنے والے، آپ کی آس مجھے پوری ہوتی نظر نہیں آتی۔ میاں عطا نے یقین محکم کے ساتھ اعلان فرمایا اور لوگوں کو دیکھنے لگ گیا جیسے اپنی بات کی تائید چاہ رہا ہو۔

اؤ کراماں والیا! تو کیا سمجھتا ہے کہ بچے ماں کے چولھے اور باپ کی چار دیواری سے نکل جائیں، تو ویسے بچے نہیں رہتے ہیں؟ میں سمجھتا ہوں کہ جب وہ گھر سے جاتے ہیں تو یہ رشتہ اور بھی مضبوط ہوجاتا ہے۔ جب میرے بچے پیدا ہوئے تھے، تو میں نے خود کو اور اپنی بیوی سے کہا تھا، ہمارے پاس بیس سال ہیں ان کے ساتھ ہنسنے کھیلنے کے، اپنی زندگی کو ان کی موجودگی سے منور کرنے کے، اور جب یہ بیس سال کے ہو جائیں تو ہم نے ان کو ان کی زندگی بھی جینے دینی ہے۔

ملک صاحب نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا۔ تمہیں کیا لگتا ہے ہمیشہ بچوں کو گھر کے کلے سے باندھ کہ رکھنے سے وہ ماں باپ کے زیادہ قریب رہتے ہیں؟ میاں جی ہر پیدا ہونے والی روح کو اللہ نے ایسا خمیر دیا ہوتا ہے کہ وہ اپنی زیست کی انتہا تک جانا چاہتی ہے۔ اور اس کو اس دنیا میں اپنی زندگی اپنے حساب سے جینی ہوتی ہے۔ اولاد ماں باپ سے دور تب ہوتی ہے، کہ جب ماں باپ بچوں کے خوابوں کی راہ میں حائل ہوتے ہیں۔ جب وہ ان کی سوچ کو تالے لگا دیتے ہیں۔

بچوں کی تربیت ایسی کرنی چاہیے کہ وہ اپنے دماغ سے اپنی صلاحیتوں کے کمال تک پہنچے۔ ملک صاحب نے اپنی بات مکمل کی۔ تو کیا ماں باپ کا کوئی حق نہیں؟ ماں باپ اس لیے بچوں کو بڑا کرتے ہیں کہ وہ پچھلی عمر میں ان کو چھوڑ کر اپنی ذات کی بلندی کی تلاش میں نکل جائے؟ اور ماں باپ کو چھوڑ دیں؟ میاں عطا نے ایک ساتھ کئی سوال کر دیے۔

حق ہے، بالکل ہے۔ ماں باپ روشنی کے وہ مینار ہوتے ہیں، جو روشنی دیں یا نہ دیں بچے ہمشہ ان کو دیکھ کر اپنی زندگی کی مہار چلاتے ہیں۔ میں تو بس اتنا کہہ رہا ہوں کہ ہمیں ان کی کشتی کو راستہ دینا چاہیے اور کہنا چاہیے، کہ جاؤ اور دیکھو خدا کی قدرت، جو گاؤں سے باہر بھی موجود ہے۔ اور بے مثال ہے، مشاہدہ کرو، اس رب کے کمال کا اور زندگی کے نئے قرینے سکھوں۔ اس دنیا میں آنے اور خدا کی سب سے بڑی نعمت، عقل، کا حق ادا کرو۔ اور ہاں یاد رہے کہ جب یہ سکھاؤ تو ان کو یہ بھی بتاؤ کہ لوٹ کے یہاں ہی آنا ہے۔ تمہارے خاندان، تمہارے لوگوں کو تمہارے وطن کو ہمیشہ تمہاری ضرورت رہے گی۔

تم چاہو یا نہ چاہو یہ لوگ اور یہی مٹی تمہارا تعارف رہے گا۔ میاں عطا کبھی تم نے دیکھا ہے جب پانی بہتا ہے تو یہ اپنے ساتھ زرخیزی پھیلاتا چلا جاتا ہے، اور جب کہیں اس کو روک دیا جائے یا یہ خود رک جائے تو وہاں بدبو اور پریشانی لاتا ہے۔ ہماری اولاد بھی ایسی ہوتی ہے۔ جہاں جاتی ہے اس زمین کو زرخیز کرتی ہے اور اس عمل میں خود اپنی ذات کے پوشیدہ اسرارو رموز بھی جانتی ہے۔ کرم دین جب تو جانوروں کو روز روز نہ کھولے، تو سارا سارا دن کلے کے ساتھ بندھے رہے ہیں، تو وہ کیا کریں گے؟

ملک صاحب نے کرم دین سے پوچھا جو ان کا ملازم تھا۔ وہ سرکش ہو جائیں گے۔ وہ کلا توڑ کہ بھاگنے کی کو شش کریں گے۔ اور اگر میں ان کے پاس گیا تو مجھے بھی نقصان پہنچانے کی کوشش کریں گے۔ اس لئے میں روز کھول کے باہر گھماتا ہو ں۔ کرم دیں نے اپنا معمول بتایا۔ وہ جانور جن میں عقل نہیں ہوتی وہ یہ رویہ اپناتے ہیں اور اگر ان کو کلے کا پابند کیا جائے تو اسے توڑتے ہیں تو میں حیران ہوتا ہو کہ انسان کو کوئی کیسے ذہنی اور قلبی طور سے پابند کر سکتا ہے؟ ملک صاحب نے تقریر کے انداز میں بات مکمل کی اور حقے کی باری لگائی۔

حقے کی باری کے بعد گویا ہوئے، اور کہا میری اولاد اپنی زندگی کے معنی تلاش کر رہی ہے وہ سائنس اور ٹیکنالوجی کی جد ید تعلیم حاصل کر رہی ہے۔ اور ان راستوں پہ گامزن ہے کہ ہمارے ٹبر میں سے پہلے ان راستوں پہ کوئی نہ گیا، ہو سکتا ہے کہ وہ کچھ ایسا نیا علم، نئی ٹیکنالوجی، نئی جہت، یا نیے قرینے دریافت کریں، جو رہتی دنیا تک میرے اور اس گاؤں کے لیے سرمائے افتخار ہو۔ اور ہاں ان کا سکون و اطمینان اسی مٹی سے جڑا ہوا ہے۔

میں نے اس مٹی سے ان کا رشتہ اتنا مضبوط بنایا ہے کہ ہر ہر دن گاؤں کا ذکر رہتا ہے۔ اکثر جب انہیں کوئی زخم لگتا تھا تو یہی مٹی اٹھا کے ان کے زخموں پر لگا تا تھا۔ جب گاؤں میں بارش ہوتی تھی اس کی مٹی سے اٹھنے والی خوشبو ان کے دل و دماغ کو مہکا دیتی تھی۔ آج بھی مٹی کی مہک ان کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ اور اس بات کا تذکرہ وہ اکثر مجھ سے کرتے رہتے ہیں۔ مجھے اب تک کی زندگی سے کوئی پچھتاوا نہیں اور مجھے ایک بات سے ڈر لگتا ہے۔ اگر میری اولاد اپنی صلاحیتوں کی معراج تک نہ پہنچے اور اس کی وجہ میں ہوا، تو یہ بھی بات مجھے قیامت تک سونے نہیں دے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *