کراچی نام کا یتیم خانہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میرے والد صاحب مرحوم کی نوکری پی ٹی وی میں تھی اور ہر چند سال بعد ان کا تبادلہ کسی نہ کسی دوسرے شہر میں ہو جایا کرتا۔ وہ دو مرتبہ کوئٹہ میں تعینات ہوئے، چند سال سکھر میں رہے، چند سال حیدر آباد میں اور آخر میں ان کا تبادلہ پشاور ہوا۔ میرے ایک چچا اور ایک ماموں اسلام آباد میں رہتے تھے اور ایک پھوپھی واہ کینٹ میں رہتی تھیں۔ والد صاحب کو خود سیاحت کا شوق بھی تھا۔ اس لیے بھی کئی شہر دیکھنے کا اتفاق ہوا۔

اس تمہید کا مقصد یہ کہ اس ملک پاکستان میں سوائے گوادر اور آزاد کشمیر کے سارے ہی اہم شہر میں نے دیکھ رکھے ہیں۔ گلگت بلتستان سے لے کر ٹھٹھہ تک دیکھا ہے، جانا ہے اور پچھلے کم وبیش تین دہائیوں سے ملک کے شہروں میں آنے والی تبدیلیوں کا براہ راست مشاہدہ کیا ہے۔ بلوچستان میں امن و بدامنی دیکھی ہے۔ سوات میں نفاذ شریعت کے نعرے 1996 میں پہاڑوں پر لکھے پڑھے ہیں۔ ملتان میں گیلانی صاحب کے عہد کی چمک دمک دیکھی ہے اور سندھ کے عبداللہ شاہ سے مراد علی شاہ تک کے حالات کا مشاہدہ کیا ہے۔

اس سارے پس منظر میں، اس سارے ہی منظر نامے میں جو شہر اس سارے ملک میں حقیقی یتیم کی صورت میں نظر آتا ہے وہ ہے کراچی۔ یہ ایسا شہر ہے جس کو تباہ کر دینے کی سازش تو کسی نے نہیں کی مگر جس کو سنوارنے کا، سدھارنے کا بھی کسی کا ارادہ نہیں۔ اسی لئے یہ شہر ہر لمحہ ابتر سے ابتر حالت میں جاتا جا رہا ہے۔ ایک بارش اس شہر کا بھٹہ بٹھا دیتی ہے۔ ایک روز تیز ہوائیں چل جاتی ہیں تو اس شہر کی چھتیں اڑ جاتی ہیں۔ یتیمی اور بے کسی کا یہ درجہ کسی اور شہر کو اس ملک میں حاصل نہیں مگر میرے اس دعوے کے حق میں دلائل کیا ہیں؟

بات صرف اتنی سی ہے کہ یہ شہر ہمیشہ سے ہی سندھ کے باقی حصوں سے سیاسی طور پر مختلف رہا ہے۔ پھر ایک طویل عرصہ اس شہر پر ایسا بھی گزرا کہ یہاں سے جیتنے والی پارٹی نہ تو سندھ حکومت کا حصہ ہوتی نہ ہی وفاقی حکومت کا۔ اس شہر کے ساتھ سندھ حکومت کا رویہ مبنی بر دشمنی ہے۔ اس دشمنی میں حسد بھی شامل ہے۔ میرے ایک دوست خیر پور سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ نے جامعہ کراچی سے سندھی میں ماسٹرز کیا ہے، ایک مرتبہ آپ کا ایک سندھی مضمون نظروں سے گزرا جس میں آپ نے دادو کی ابتر حال کا تذکرہ فرمایا تھا مگر اس مضمون میں سب سے حیرت انگیز وہ سطور تھیں کہ جن میں آپ دادو کا موازنہ کراچی سے فرماتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ’دادو کی حالت کراچی جیسی کیوں نہیں، کیا یہ سندھی دشمنی نہیں؟‘ یہ وہ بے مغز حسد ہے جس کو کرنے کے لئے انسان کا مکمل پاگل ہونا ضروری ہے۔ دادو کی پسماندگی کی وجہ کراچی نہیں بلکہ دادو سے منتخب افراد ہیں جو ایک ایک پائی کھا لیتے ہیں۔ یہ ہی حسد ہے کہ جس کی وجہ سے دادو کو تو کراچی نہیں بنایا جاتا، ہاں، کراچی کو دادو بنا دیا گیا ہے۔

کراچی دراصل اسی دن یتیم ہو گیا تھا جب پاکستان کے پہلے فوجی آمر جنرل ایوب خان نے ملک کا دارالخلافہ کراچی سے اپنے گاؤں منتقل کر دیا اور اپنے شاہی جنون میں کروڑوں اربوں روپے ضائع کر دیے۔ اس دن کراچی کے لاکھوں رہائشی جو وفاق کے شہری تھے، سندھ کے شہری بن گئے۔ پھر بھٹو صاحب کا متعصبانہ دور کراچی پر کیسے گزرا، سب جانتے ہیں۔ کراچی اپنی یتیمی سے صرف دو ادوار میں باہر آیا ہے، اول دور جنرل ضیاء کے عہد میں آیا تھا جب عبدالستار افغانی صاحب اور بعد ازاں فاروق ستار صاحب میئر کراچی بنے تھے اور دوسرا دور جنرل پرویز مشرف کے عہد میں آیا تھا جب اولاً نعمت اللہ خان اور بعد ازاں سید مصطفی کمال صاحب ناظم کراچی بنے۔ یہ ادوار اس لیے بہتر تھے کہ اہل کراچی کو کراچی کی باگ ڈور دی گئی۔ ان ادوار میں ہی کراچی میں چند ایسے کام ہو گئے جو آج تک نظر آتے ہیں۔

کہنے کو اب بھی کراچی میں مقامی حکومت موجود ہے مگر سندھ حکومت نے بڑی چالاکی سے بلدیاتی اداروں سے سارے ہی اختیارات چھین لئے ہیں۔ اب کیونکہ ذرائع ابلاغ کا دور دورہ ہے اور سماجی میڈیا بھی بے حد قوی ہو گیا ہے، اس لیے ذلت سے بچنے کے لئے سندھ حکومت پھر بھی چند دکھاوے کے اقدامات کراچی کے معاملے میں کرتی رہتی ہے۔

کراچی کے ساتھ یہ رویہ صرف صوبائی حکومت کا ہی نہیں ہے بلکہ وفاقی حکومتیں بھی کراچی سے اپنے اپنے حصے کی دشمنی کرتی رہی ہیں۔ مردم شماری میں کراچی کے لوگوں کو کم گننے سے لے کر کراچی کے حصے کا پانی تک مار لینے میں وفاق کا بھی بڑا حصہ ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ کراچی اس پاکستان کا معاشی دل ہے۔ کراچی اگر ایک دن ڈھے گیا، یہ نظام اگر مکمل طور پر بیٹھ گیا تو اس ملک کا کیا ہو گا؟

ایک صاحب کراچی کے گٹروں پر قائم علی شاہ کی تصویریں بنایا کرتے تھے اور وزیر اعلیٰ ہاؤس کے دروازے پر گٹر کا پانی پھینکا کرتے تھے۔ تحریک انصاف نے ان کو قومی اسمبلی تک پہنچادیا۔ اس کے بعد سے ان کی تحریک بھی ٹھنڈی پڑ گئی۔ کراچی یتیم ہے تو کیا ہوا، ان کو تو باپ کا سایہ مل گیا۔ کراچی کی مشکلات کا تذکرہ کر کے، اس کا ماتم کر کے بڑے بڑے رتبے اور مقام حاصل کرنے والے اکثر افراد جب طاقت اور اقتدار کے ایوانوں تک پہنچ جاتے ہیں تو وہ اس یتیم کو بالکل اوپر مذکور شخص کی طرح بھول جاتے ہیں۔ یہ شہر یتیم بھی ہے اور یتیم خانہ بھی ہے۔ ایک ایسا شہر کہ جس سے فوائد تو سب حاصل کرنا چاہتے ہیں مگر اس کو اپنانا کوئی نہیں چاہتا۔ ایسی اس ملک میں کوئی جگہ نہیں، کوئی گاؤں نہیں، کوئی قصبہ نہیں، کوئی شہر نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *