عید۔۔۔ اور قربانی!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جن دنوں راقم کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج (حالیہ یونیورسٹی) میں زیر تعلیم تھا، پروفیسر ڈاکٹر جاوید اکرم میڈیسن پڑھایا کرتے تھے، ان دنوں تازہ تازہ اسسٹنٹ پروفیسر ہوئے تھے، آج کل یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے ڈین ہیں۔ کرونائی موسم میں اکثر چینل انہیں اپنے ٹاک شو میں لیتے ہیں، پروفیسرصاحب کی گفتگو بہت جاندار، ٹھوس اور سائنسی حقائق پر مبنی ہوتی ہیں۔ گزشتہ دنوں عید قربان کے حوالے سے ایک گفتگو سننے کا اتفاق ہوا، قربانی کے حوالے سے پروفیسر صاحب رائے پیش کر رہے تھے کہ اس سال ہمیں اپنے جذبات کی قربانی دینا ہو گی۔

حکومت لاکھ ایس اوپیز بنا لے، مویشی منڈیوں میں سب احتیاطی تدابیر ہوا میں اڑ جائیں گی۔ خاک اڑے گی، اور اس خاک خون میں اڑتا ہوا کرونا وائرس گھر گھر پہنچے گا۔ ان کا خیال ہے کہ اس سال انفرادی قربانی کی بجائے اجتماعی قربانیوں کا اہتمام کیا جائے، ان کی ایک دلیل بہت دل کو لگی۔ ۔ ۔ حالانکہ دلیل کا مقام دل نہیں دماغ ہے، لیکن جو دل سے نکلتی ہے ’خواہ دلیل ہی کیوں نہ ہو‘ سیدھا دل میں اترتی ہے۔ ۔ ۔ حج کے موقع پر ہم انفرادی قربانی نہیں کرتے، ایک وقت تھا جب حاجی خود جانور خرید کر اسے خود ذبح بھی کرتے تھے، لیکن اب اس کا اہتمام اداروں نے سنبھال لیا ہے، آپ بینک میں قربانی کے پیسے جمع کرواتے ہیں اور آپ کے موبائل پر ایس ایم ایس موصول ہو جاتا ہے کہ آپ کی قربانی ادا ہو گئی اور آپ احرام کھول لیتے ہیں، قربانی سے پہلے اگر احرام کھول دیا جائے تو دم واجب ہو جاتا ہے، اتنے حساس معاملے پر بھی ہم قربانی دینے والے اداروں پر اعتماد کرتے ہوئے اس اہم دینی فریضے کی ادائیگی سے مطمئن ہو جاتے ہیں۔

آخر امسال عید قربان پر ایسا کیوں نہیں ہو سکتا ہے کہ ہم سب لوگ اداروں کے ذریعے اپنی قربانی کا اہتمام کریں، اس طرح وبا سے بھی محفوظ رہیں گے اور ہمارے گلی محلوں میں موسمی قصائیوں اور جانوروں کی آنتوں کی ہڑبونگ بھی نہیں مچے گی۔ ترکی اور ملائشیا میں ہماری طرح گھر گھر قربانی کا جانور ذبح نہیں ہوتا۔ ترکی میں ہر محلے کی مسجد ہے، اور ہم نے دیکھا کہ سب مساجد ڈیزائین نیلی مسجد کا ایک منی ایچر ہیں، مسجد کے باہر کنالوں پر مشتمل لان ہوتا ہے، اہل محلہ اپنے جانور یہیں لاتے ہیں اور مشینوں کے ذریعے گوشت بنا کر انہیں دے دیا جاتا ہے۔

بحریہ ٹاؤن والوں کا انتظام بھی اس معاملے میں خوب ہے کہ گھر میں جانور ذبح کرنے کی اجازت نہیں ہے بلکہ انتظامیہ کی طرف سے ایک جگہ مخصوص ہے جہاں پیشہ وار قصائی معاوضے پر یہ خدمات سر انجام دیتے ہیں۔ اس میں کچھ عار نہیں۔ جب آبادی پھیل جاتی ہے اور شہرگنجان ہو جاتے ہیں تو اسلامی تہواروں میں نئی روایات جنم لیتی ہیں۔ از روئے قرآن، اللہ تک ہمارے دلوں کا تقوٰی پہنچتا ہے، قربانی کے جانوروں کا خون اور گوشت نہیں۔

ایک وقت تھا جب حج پر جانے کے لئے ہر حاجی اپنی سواری کا خود اہتمام کرتا تھا، اور قربانی کا جانور بھی ساتھ لے کر چلتا تھا۔ فی زمانہ ٹریول ایجنسیاں تشکیل دی جا چکی ہیں، سواری اور رہائش سے لے جانور تک کی فراہمی اداروں کے ذمے ہے، اور اس میں کسی کے ثواب میں کچھ کمی نہیں ہوتی۔ ماحول اور حالات کے مطابق اگرقربانی ایسے کسی فریضے کی ادائیگی کے طریقہ کار میں کچھ ترمیم کر لی جائے تو یہ بدعت ہرگز نہیں، اگر بدعت ہے بھی تو یہ بدعت حسنہ ہی شمار ہوگی۔

ہمارے ہاں ایک طبقہ شروع سے معتزلیائی خیالات کا اسیر رہا ہے، یہ روایتی ملا پر تنقید کرتا ہے، حالانکہ اپنی ہیئت اصلیہ میں یہ بھی بلآخر ”ملاں“ ہی ثابت ہوتا ہے، اپنی فہم میں آنے والی بات کو حرف آخر سمجھنا اور اپنی رائے سے اختلاف کرنے والوں کو جاہل اور گمراہ سمجھنے کا طرز فکر ہی شدت پسندی ”ملائیت“ ہے۔ ظاہر پرستی ماڈرن معتزلہ اور روایتی ملاں میں قدر مشترک ہے۔ دونوں گروہ دین کے ہر پہلو کا جائزہ صرف ظاہر کی آنکھ لیتے ہیں۔

عبادات کو مفادات کے تابع سمجھتے ہیں۔ ایک طبقہ عبادات کو ثواب کے باٹوں سے تولتا رہ جاتا ہے اور دوسرا عبادت کے سائنسی فائدے گنوانے میں مشغول ہے۔ ۔ ۔ یعنی کوئی فریق بھی عبادت کو قرب ذات حق کا ذریعہ سمجھ کر اپنی زندگی کے آئین میں شامل نہیں کرتا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہ الکریم کایہ قول بلاغت شعور کو ایک عجب نہج سے روشناس کرواتا ہے ”وہ عبادت فائدہ نہیں دیتی ’جو معرفت میں اضافہ نہیں کرتی“ درحقیقت معرفت ہی قرب معنوی ہے۔

رضائے الٰہی، قرب الٰہی اور معرفت الٰہی جن کی ترجیحات میں شامل نہیں‘ وہ عبادت کو صرف فوائد کے پلڑے میں رکھ کر تولتے ہیں اور پھر اس قسم کے فتوے جاری کرتے ہیں کہ قربانی کی بجائے کسی غریب کی مدد کر دی جائے، حج کی بجائے اتنے پیسے کسی یونیورسٹی کی تعمیر پر خرچ کر دیے جائیں، زکٰوۃ حکومت کا ٹیکس ہے، اگر حکومت کو ٹیکس ادا کر دیا گیا ہے تو یہ زکوٰۃ متصور ہو سکتی ہے، سفر اور مرض کے علاوہ امتحانات کی تیاری بھی روزہ چھوڑنے عذر شمار ہو سکتا ہے۔ علیٰ ہٰذالقیاس۔ ۔ ۔ ایسی پھلجھڑی اور بوالعجبی ہر دور میں دیکھنے اور سننے کو ملتی ہے۔ للعجب ثم العجب!

عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ فلاحی کاموں کا جھنجھنا دے کر طے شدہ فرائض سے روگردانی کا سبق دینے والے خودعمومی فلاحی کام بھی بھول چکے ہوتے ہیں۔ اگر ایک سروے کر لیا جائے کہ خدمت خلق کے حوالے سے کس نے عملی اقدام کیے ہیں، یعنی کس نے پیسہ خرچ کیا ہے اور کس نے محض زبانی جمع خرچ کیا ہے تواس کے نتائج حیرت انگیز ہوں گے۔ حج، عمرے اور قربانی والے افراد اور خاندان ہی خدمت انسانیت کے حوالے سے بھی ممتاز نظر آئیں گے، جبکہ ان پر تنقید کرنے والے اور جمع تفریق کرنے والے یہاں بھی محروم تماشا دکھائی دیں گے۔

”مزاروں پر ریشمی چادیں چڑھ گئیں اور غریب کی بیٹی کا بدن عریاں رہ گیا“ ۔ ۔ ۔ یہ عریاں خیالی دراصل خام خیالی ہے۔ راقم کی عادت ثانیہ ہے ’کسی موضوع پر قلم اٹھانے سے پہلے تکنیکی ہوم ورک پورا کرتا ہے، چنانچہ ابھی تھوڑی دیر پہلے داتا دربار کمپلیکس میں تعینات محکمہ اوقاف کے ایک ذمہ دار افسر جناب گلاب ارشاد سے اس بابت فون پر گفتگو ہوئی۔ میرے لیے بھی یہ ایک خوشگوار حیرت تھی کہ یہاں مزار کی آمدن سے اس قدر وسیع پیمانے پر فلاحی کام ہو رہے ہیں۔

بہت سے تعلیمی ادارے ( بشمول مدارس، فنی تعلیمی ادارے، ٹیوٹا کے اشتراک سے لینگوئج کورسز کے ادارے، اور خواتین کے لئے دستکاری اسکول ) ، یتیم خانے، ہر ماہ تیس سے پینتیس غریب بچیوں کے لئے جہیز کا سامان۔ ۔ ۔ اور لطف کی بات یہ ہے کہ ان کے جہیز کے سامان میں مزار پر چڑھنے والی قیمتی ( ان لکھی) چادریں بھی شامل ہوتی ہیں۔ ۔ ۔ علاوہ ازیں ایک مکمل فلاحی ہسپتال (داتا دربار ہسپتال) اور دیگر کئی فلاحی ادارے، جن میں غریبوں کے لئے قرض حسنہ کا بندوبست کرنے والے ادارے بھی شامل ہیں‘ یہ سب فلاحی ادارے زائرین کے عطیات سے چل رہے ہیں۔

گلاب ارشاد بتا رہے تھے کہ لنگرکی مد میں زائرین کی طرف سے جمع کروایا گیا خشک راشن ہفتہ وار بنیاد پر پیر کے روز مستحق افراد میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ ہم اللہ کے فقیر کے ہاں چلنے والے لنگر کے تصور سے آشنا نہیں۔ لنگر صرف روٹی پانی کا نام نہیں، بلکہ ہر سطح پر انسانی خدمت کے لئے ایک مکمل فلاحی پروگرام کا نام ہے۔ خلاصہ کلام یہ کہ ایک اللہ والا ’اللہ کی محبت میں اللہ کی مخلوق کی خدمت کے لئے زندگی میں اپنے تمام حقوق سے دستبردار ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ جانان کے حضور اپنی جان سے جانے کے بعد وہ اپنے نام پر حقوق ملکیت سے بھی دستبردار ہو جاتا ہے، اب ”فاذکرونی اذکرکم“ کی عملی تفسیر اس طرح نظر آتی ہے کہ اس کے محبین اس کی یاد میں اکٹھے ہوتے ہیں، اس کے نام اور کام کا تذکرہ کرتے ہیں اور اس کے نام پر ایک مشترکہ کاوش سے ایسے فلاحی کام پایۂ تعمیل و تکمیل کو پہنچنا شروع ہو جاتے ہیں۔

مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ فرمایا کرتے کہ دیکھو! شریعت کی عبادات کا حکم جیسے ہے ’ویسے ہی رہے گا، نمازیں پانچ ہی رہیں گی‘ خواہ زمانہ کتنی بھی ترقی کر جائے، تم کتنے بھی مصروف ہو جاؤ۔ آپؒ فرماتے ’خبردار! دین پر تحقیق کے نام پر کوئی ایسا شوشہ نہ چھوڑ دینا جیسے پہلے لوگوں کو گویا دین کا کچھ ادراک نہ تھا اور اب میں ایک نئی بات ڈھونڈ کر لایا ہوں۔ ۔ ۔ یہ گمراہی ہے۔ ہمارے سامنے دو ہی راستے ہیں، ایک یہ کہ اپنے اسلاف کی دین فہمی پر شک کیا جائے اور انہیں یک قلم جاہل قرار دے کر خود کو ان سے زیادہ دین شناس سمجھتے ہوئے اپنی عقلی توجیہہ کو وحی پر مقدم جانا جائے۔

دوسرا یہ کہ جو لوگ زمانۂ نبوت ﷺ میں ہالہ نبوت ﷺ کے زیادہ قریب تھے‘ ان کی دین فہمی کو فائق لیا جائے اور ان کی سینہ بہ سینہ۔ ۔ ۔ تا مدینہ۔ ۔ ۔ روایت کو دین کی حقیقی تشریح مانا جائے۔ صدق دل سے دینی حکم مان لینے کے بعد اس حکم میں پوشیدہ حکمت سمجھ میں بھی آ سکتی ہے۔ ۔ ۔ دین اور عقل میں ایسا بھی ناقابل عبور بعد نہیں۔ عقل کی نفی مقصود نہیں ’بلکہ وحی کا تقدم و ترجیح مقصود بیاں ہے۔ وحی کی تشریح میں قدیم لوگ زیادہ زیرک تھے۔ دینی فہم میں پرانے لوگ زود فہم تھے۔ سائنس میں تازہ ترین بات قابل توجہ ہوتی ہے، دین میں قدیم ترین بات گولڈ اسٹینڈرڈ ہوتی ہے۔

کیا قربانی صرف حاجیوں پر فرض ہے یا غیر حاجیوں کے لئے بھی یہ واجب کا درجہ رکھتی ہے؟ ہمارے اسلاف قرآن و حدیث کی تشریح میں یہی بتاتے ہیں کہ قربانی سنت ابراہیمیؑ ہی نہیں ’سنت نبوی ﷺ بھی ہے۔ اس کا بھی ایک نصاب ہے اور صاحب نصاب کے لئے قربانی واجب ہے۔ میرے اسلاف میں زمانہ قریب میں سر فہرست میرے مرشد ہیں۔ ۔ ۔ سینہ بہ سینہ۔ ۔ ۔ اور میں نے اپنے مرشد کے ہاں عید قربان پر بکرے قربان ہوتے دیکھیں ہیں۔ وما علینا الالبلاغ!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply