وائرس کی وحشت نے مجھے کیسے جمود سے نکالا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم سب کی زندگیوں میں ایک وقت ایسا آتا ہے جب ہمیں لگتا ہے کہ ہم کسی ایک ہی جگہ پر اٹک کر رہ گئے ہیں۔ وہی روزانہ ایک ہی کام، ایک ہی جیسی روٹین، ایک ہی جیسے صبح شام گزارتے گزارتے دل بوجھل ہونے لگتا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ سفر جاری ہے مگر آپ کسی مقام پر پہنچنا نہیں چاہتے یا سفر اس قدر سست روی سے کٹ رہا ہے کہ دل سے کہیں پہنچنے کی امید ہی ختم ہو گئی ہے۔ وہ کام جنہیں کرکے کبھی خوشی ملتی تھی، وہ کرنے سے بھی خوشی کا احساس نہیں جاگتا، پھر اپنے مقاصد کے حصول کے لئے کی جانے والی تگ و دو بھی جمود کا شکار ہونے لگتی ہے۔ یہ احساس بہت ہی بے چین کردیتا ہے۔ اس بے چینی کے عالم میں دل بوجھل اور دماغ ماؤف رہنے لگتا ہے انسان خود کو ہارا ہوا محسوس کرنے لگتا ہے۔

ابھی چند مہینے پہلے میں بھی اسی جمود کا شکار تھی، سکول سے کالج، کالج سے یونیورسٹی، یونیورسٹی سے نکل کر کرئیر بنانے کی آرزو میں کئی سال اچھے گزر گئے اور اب اس سب کو حاصل کرنے کے بعد، زندگی کی تین دہائیاں دیکھ لینے کے بعد آگے کیا؟ اور پھر جب پیچھے نظر دوڑاؤں تو پیچھے بھی کئی گہرے گھڑے دل کو مزید بوجھل کیے جا رہے تھے۔ صبح اٹھتے ہی بے چینی آگھیرتی، دل بوجھل ہو جاتا اور سوچتی صبح اٹھ کر کروں گی کیا؟ یوں ہی آنکھیں بند کیے پڑی رہتی ہوں، اور جب خود پر جبر کر کے اٹھتی تو آنکھوں میں آنے والے نا امیدی کے آنسوؤں کو رو ک نہیں پاتی، پھر انہیں غسل خانے میں جا کر پانی کے چھپاکوں میں تحلیل کرنے کی لاکھ کوششیں کرتی۔

ظاہری طور پر میری زندگی بہت اچھی چل رہی تھی، نوکری، فیملی، دوست سب ٹھیک لیکن مسئلہ صرف میرے ساتھ تھا، میں ایک اندرہی اندر ایک درد محسوس کر تی تھی کہ۔ ”کیا یہ سب کافی ہے؟“ اس بات کا اظہار بھی کسی کے سامنے کرنے سے کتراتی مباد الوگ مجھے ناشکرا کہیں، لیکن میرے اندر مسلسل نا امیدی کے گہرے بادلوں کا بسیر ا تھا، یعنی میں زندگی کے ایسے مقام پر تھی کہ جو میں نے چاہا پوری طرح نہ سہی کسی حد تک میرے پاس تھا، اب مزید کیا؟

اس احساس کے زیر اثر کئی چیزوں کے بارے میں میرا ادراک بدل گیا تھا، میں صبح بستر سمیٹتے ہوئے سوچتی، میں اسے کیوں سمیٹ رہی ہوں؟ رات کو پھر سے سونا ہی تو ہے۔ پھر خودبخود ہی میری انگلیاں تکیے درست کرنے لگتیں اور میں حیرت سے سوچتی کیا مصیبت ہے ایسی چھوٹی باتوں کے بارے کون سوچتا ہوگا؟ کیامیں نے موت آنے تک ہی کام کرنا ہے؟ مجھے خوشی کی جانب لوٹنے کا راستہ ملتا ہی نہیں تھا، میں بری طرح پھنسی ہو ئی تھی۔

لیکن پھر میں نے ایک مختلف تناظر میں سوچنا شرو ع کیا، میں نے اپنی منفی سوچوں پر نظر ثانی کی۔ وائر س کی وحشت میں ان چیزوں کو نوٹس کرنا شروع کیا جنہیں میں نے کبھی اہمیت نہیں دی۔ جب قید ہو کر گھر میں رہنا پڑاتو احسا س ہوا، صبح اٹھ کر دفتر جانا ایک خوش قسمتی تھی، کسی ہوٹل میں دوستوں یا خاندان والوں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کتنالطف دیتا تھا، اپنی مرضی سے پارلر کا چکر لگانا کیسے موڈ کو بہتر بنا دیتا تھا، آزادی سے گھومنا پھرنا، سب سے بڑھ کر اپنے پیاروں کو گلے لگاکر جو ٹھنڈک ملتی تھی اس کی کمی نے میری آنکھیں کھول دیں، اب میری روح پر چھائے بادل ہٹنے لگے تھے، میں خود کو ہلکا محسوس کرنے لگی تھی اورچھوٹی چھوٹی چیزیں بھی مجھے پرجوش محسو س کرنے لگی تھیں۔

خاص طور پر صحت اور یہ زندگی۔ ۔ ۔ دونوں وبا کے دنوں میں خطرے میں پڑیں تو ان کی اہمیت کا احساس جاگا۔ میں نے مراقبہ کرنا شروع کیا، رب سے رجوع کیا، میرا ادراک بدلنے لگاہے۔ ہر دن میں اب بوجھ سمجھ کر نہیں رحمت سمجھ کر گزارتی ہوں۔ مجھے گھروالوں سے بھی محبت کرتے ہوئے یہ خیال نہیں آتا کہ آخر کیوں میں یہ سب کر رہی ہوں یا یہ سب کافی ہے؟ اب میں جان گئی ہوں کہ یہ سب محبت۔ ۔ ۔ محسو س کرنے کے لئے ہے، دوسروں کو پر نچھاور کرنے اور خود ان سے لینے کے لئے ہے۔

میں اب خود کو اس ماحو ل کا حصہ مانتی ہوں اور سمجھتی ہوں کہ دوسرے بھی اس میں اپنا اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ ایسا نہیں ہوا کہ میری زندگی مکمل طور پر بدل گئی ہے، جسمانی طور پر کچھ بھی نہیں بدلا، میں نے نوکری چھوڑ کر کاروبار کاآغازنہیں کر دیا، میں نے کسی ماہر نفسیات سے سیشن نہیں لینا شروع کردئے بس میں نے زندگی کی جانب اپنی سوچ کو بدل کر دیکھا ہے، میں نے اپنے دل کی آنکھوں سے دیکھنا شروع کیا ہے تو مجھے کئی چھوٹی چھوٹی چیزیں واضح نظر آنے لگی ہیں جو اللہ کاشکر کرنے کے لئے کافی ہیں۔ میں نے زندگی میں شکرگزار بننا سیکھ لیا ہے۔ میں اب اس مکھی کی طرح نہیں ہوں جو صفائی چھوڑ کر زخم پر ہی بیٹھتی ہے۔ ۔ ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *