بیوقوف چوزہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ٹک ٹک ٹک ٹک۔ ۔ ۔ سگنل پر کھڑی گاڑی کے دروازے کے شیشے پر پلاسٹک کا ایک چوزہ تیزی سے اپنی چونچ مار رہا تھا۔ جبکہ اسی گاڑی کے اندر بیٹھا خوش لباس و خوش شکل بچہ چوزے کو حیرت سے دیکھتا ہوا اسے بند شیشے میں سے ہی پکڑنے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔ گاڑی کے باہر چوزہ پکڑے کھڑے میلے ہاتھوں والے بچے کے بال بکھرے ہوئے اور چہرہ پسینے سے شرابور تھا جو اس کے چہرے پر بنے مٹی کے سرمئی دھبوں کو مزید چمک دار بنا رہا تھا۔ اس کی قمیص کا آخری بٹن بھی آخری سے اوپر والے کاج میں بند تھا۔ اپنے اس ٹرک سے شاید اس نے اپنی جسامت سے بڑی قمیص کو اپنے جسم پر ایڈجسٹ کیا ہوا تھا۔

دونوں بچوں کے چہروں پر مسکراہٹ تھی۔ اندر بیٹھے بچے کے باپ نے اپنے بیٹے کو دیکھا تو اس کی مسکراہٹ میں اسے خوبصورتی اور ایک اطمینان دکھائی دیا تھا جبکہ باہر کھڑے بچے کی پھیکی سی مسکراہٹ سے پھیلے اس کے چہرے کے خدوخال مزید بدصورت ہو گئے تھے اس طرح اس شخص نے محسوس کیا کہ باہر کھڑا بچہ دراصل اپنی آنکھوں میں بسی لالچ کو مسکراہٹ کی آڑ دے کر چھپانے کی کوشش میں پوری طرح ناکام ہے۔

گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے باپ نے پہلے اسے نہ لینے اشارہ کیا۔ ۔ ۔ مگر باہر کھڑے ”چالاک“ بچے کو اندازہ تھا کہ اندر بیٹھا ”معصوم“ بچہ اس کھلونے میں کافی دلچسپی لے رہا ہے اس لیے عین ممکن ہے کہ وہ دام میں آ جائے اور میرا یہ پلاسٹک کا چابی والا چوزہ بک جائے۔

گاڑی ایک پوش علاقے کے ٹریفک سگنل پر کھڑی تھی۔ چوزے کی چابی جیسے ہی ختم ہوتی وہ بچہ اسے فوراً دوبارہ چابی دے دیتا اس طرح چوزے کی چونچ دوبارہ گاڑی کے شیشے پر تیزی سے چلنے لگتی۔ گاڑی کے اندر بیٹھے معصوم بچے کی نظر چوزے پر جبکہ باہر والے چالاک بچے کی نظر شاید ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے بچے کے باپ کی جیب پر تھی۔

سگنل اب قریب قریب کھلنے کو تھا۔ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے خوش لباس آدمی نے کھلونے والے بچے کو اپنی طرف آنے کا اشارہ کیا۔ بچہ اپنے ہاتھ سے چوزے کو چابی دیتا ہوا تیزی سے گاڑی کے گرد گھوم کر دڑائیونگ ڈور کی طرف لپکا مگر جیسے ہی قریب پہنچا تو اس آدمی نے اسے دھکا دیتے ہوئے کہا ”تجھے جب کہہ دیا نا کہ نہیں لینا تو کیوں چونچ مار مار کے شیشیہ خراب کر رہا ہے؟ چل دفع ہو یہاں سے“ ۔ دھکا اگرچہ معمولی تھا لیکن چونکہ بچے کے لیے بالکل غیر متوقع تھا اس لیے وہ اپنا بیلنس ٹھیک سے سنبھال نہ پایا اور چوزہ اس کے ہاتھ سے زمین پر جا گرا۔

سگنل کھل چکا تھا اور گاڑی بھی آگے بڑھ چکی تھی۔ چوزے کی چابی اپنی ختم نہیں ہوئی تھی۔ ۔ ۔ پلاسٹک کا چوزہ زمین پر اوندہ پڑا ٹک ٹک ٹک ٹک کرتا تیزی سے اپنی چونچ سڑک پر مار رہا تھا۔ دراصل چالاک بچے کا چوزہ انتہا کا بے وقوف تھا جو اتنا بھی نہیں سمجھتا تھا کہ پتھریلی زمین پر چونچ مارنے سے چونچ تو ٹوٹ سکتی ہے مگر وہاں سے دانہ نہیں نکلتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
محمد اویس حیدر کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *