سیکس کی نفسیات: آزادی اور اخلاقیات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

محبت کا کیا ہے وہ تو آتے جاتے ہو ہی جاتی ہے۔ اصل امتحان اسے نبھانا ہے۔ تعلقات استوار تو ہو جاتے ہیں لیکن جب انہیں کوئی نام دینے کی بات آتی ہے تو کچھ لوگ بدک جاتے ہیں۔ بعض لوگوں کے لیئے ریلشن شپ ایسے ہی آسان ہے جیسے سانس لینا یا کھانا پکانا۔ لیکن کچھ لوگوں کے لیئے کمٹمنٹ یعنی بندھ جانا آسان نہیں۔ محبت نبھانا کیا ہے؟ محبت نبھانا یہ ہے کہ جس سے محبت کا دعوی ہے اس کا ہاتھ تھام لیں۔ اس کے ساتھ با وفا رہیں۔

وہ جو محبت کرتے بھی ہیں، جتاتے بھی ہیں لیکن بندھنے کو تیار نہیں۔ ایسے لوگوں کو یہ بات ایک چیلنج لگتی ہے کہ وہ خود کو ایک بندھن میں باندھ لیں۔ اسے ریلشن شپ اینگزایٹی یا کمٹمنٹ فوبیا کہتے ہیں۔ یعنی جہاں بات ہوئی ہمیشہ ساتھ رہنے کی وہ رسہ تڑا کر بھاگنے کی سوچتے ہیں۔ اس فوبیا کا شکار زیادہ تر مرد ہوتے ہیں۔ لیکن کچھ عورتیں بھی اسی طرح کے تحفظات رکھتی ہیں۔ زیادہ تر عورتیں تو بندھنا چاہتی ہیں۔ کسی ایک کی ہو کر رہنا انہیں اچھا لگتا ہے۔ یہ لوگ بندھن کو گھٹن سمجھتے ہیں۔

یہ کوئی نئی بات نہیں۔ لوگ ایسے رویے رکھتے اور دکھاتے رہے ہیں۔ لیکن تشویش کی بات یہ ہے کہ اس میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ ایسا نہیں کہ انہیں محبت نہیں۔ ایسا بھی نہیں کہ وہ کوئی دھوکے باز ہیں۔ بس کھونٹے سے بندھنا نہیں چاہتے۔ یو ں کہیئے کہ ہمت کی کمی ہے۔ ایک خوف سا انہیں گھیر لیتا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ اپنا آپ پورے کا پور ا کسی کو سپرد کر دینے سے ان کی آزادی چلی جائے گی۔ بچپن کی کوئی محرومی یا خاندانی پیچیدگی بھی اس خوف کا باعث ہو سکتی ہیں۔ یہ بات اب کچھ کچھ ثابت ہو چکی ہے کہ کمٹمنٹ سے بھاگنے والے کمزور اور بزدل ہوتے ہیں۔ دنیا میں ان جیسوں کی کمی نہیں۔ اور ہمارے معاشرے میں یہ بزدلی اور بھی زیادہ ہے۔

ان دنوں اوپن رہلیشن شپ کی بھی بہت باتیں ہوتی ہیں۔ اوپن ریلیشن شپ ایک ایسا بندھن ہے جو آپ کو پابند نہیں کرتا۔  ایک دوسرے کے ساتھ ہیں لکین کسی اور کے ساتھ بھی ہو سکتے ہیں۔ دونوں ساتھی اس بات پر راضی ہیں کہ سیکس پارٹنر بدلتے رہنے میں کوئی برائی نہیں۔ یعنی محبت تو ہمیں ایک دوسرے سے ہی ہے لیکن ذائقہ بدلنے کے لیئے کچھ اور چکھنا بھی جائز ہے اور یہ بات بے وفائی کے ضمن میں نہیں آتی کیونکہ یہ باہمی رضامندی سے ہو رہی ہے۔ اگر دونوں اس پر راضی ہیں تو قاضی یا کسی اور کو بھی اس پر اعتراض نہیں ہونا چاہیئے۔

کچھ مفکر، دانشور اور لکھنے والے بھی اسی قسم کی باتیں کر رہے ہیں کہ نوجوانوں کو اپنے پارٹنر کے انتخاب میں کامل آزادی ہونی چاہیئے۔ اور پارٹنر بدلنے میں کوئی قباحت نہیں۔ یہ سب مغربی معاشرے میں چل جاتا ہے۔ لیکن جب ہمارے دیسی دانشور ایسی باتوں کا تذکرہ کرتے ہیں تو اس کے اثرات منفی ہو سکتے ہیں۔ جب پاکستان کے کسی شہر یا دیہات میں گھٹن زدہ ماحول میں رہنا والا نوجوان یہ پڑھتا ہے تو سچ مچ اس پر ایمان لے آتا ہے۔ اور سیکس کو اپنا حق سمجھ لیتا ہے۔

دانشور یہ بھی سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ سیکس ایک بھوک کی طرح ہے۔ جیسے بھوک میں کھانا کھانا ضروری ہوتا ہے ویسے ہی سیکس کی طلب بھی ہے۔ ہم نے لوگ بھوک سے مرتے تو دیکھے اور سنے ہیں لیکن سیکس کی طلب پوری نہ ہونے سے کسی کو مرتے نہیں سنا۔ اور وہ فرسٹریٹیڈ مرد اپنی بھوک مٹانے کا انتظام کرنے کا سوچتے ہیں۔ شادی کی جیب ابھی اجازت نہیں دیتی۔ کوئی منگنی تک کرنے کو تیار نہیں کہ جب تک کچھ بن نہ جاو ادھر کا رخ مت کرنا۔ مشکلوں سے ایک گرل فرینڈ بنی۔ اسی سے تقاضے پر تقاضا۔ وہ کتراتی ہے کیونکہ جانتی ہے کہ یہی ایک چیز اس کے پاس ہے جس کی حفاظت کی ذمہ داری اس کے اپنے ہی کاندھوں پر ہے۔ یہ ایک بار لٹ گئی تو زندگی برباد بھی ہو سکتی ہے۔

اب جو کسی نے اپنی محبت کے ہرے بھرے لال گلابی خواب دکھا کر لڑکی سے تعلقات استوار کر لیے۔ وہ بے چاری بھی ان کی باتوں پر ایمان لے آئی اور اپنا آپ سپرد کر دیا۔ کونڈوم وہ افورڈ نہیں کر سکتے سیف سیکس بھی ان کا مسئلہ نہیں۔ پھر کیا کیا؟ لڑکی کو مزید بے چارگی اور بدبختی میں چھوڑ کر کسی چور دروازے یا پتلی گلی سے نکل گئے۔ محبت کو ضرب دینے۔

جب سیکس کے مارے ان نوجوانوں کو کوئی محبت کی ماری نہیں ملے گی تو یہ گھٹن وہ کہاں نکالیں گے؟ کسی معصوم بچی کو ورغلا کر ؟ کسی کم عمر لڑکے کو پھسلا کے؟ کسی عورت کی لاش کو قبر سے نکال کر؟ مری ہوئی نا بینا ڈولفن کے ساتھ؟

نوجوانوں کو جسنی تعلیم ملنی چاہیئے۔ بلکہ بچوں کو بھی اس بارے میں بتانا چاہیئے۔ جنس اور نفسیات کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔۔ لیکن یہاں آپ اخلاقیات کو کہاں رکھیں گے؟ دانشوران ملک و قوم ان نوجوانوں کو سیکس کی تعلیم دینے کے ساتھ اخلاقیات کا بھی کچھ درس دیجیئے۔ انہیں اپنے اعمال کی ذمہ داری اٹھانے کی ترغیب دی جائے۔ یہ بھی کہ جب عورت ناکہے تو اس کا احترام کرے۔ زبردستی یا منت سماجت اور دھوکے سے محبت کے کام نہیں ہوتے۔

معاشرہ کو بھی بدلنا ہو گا۔ یہ بات سمجھنی ہو گی کہ سیکس ایک حقیقت ہے اور نوجوان اپنے اپنے طور پر اسے انجام دے رہے ہیں۔ لیکن اس کے نتائج عورت کو بھگتنے پڑتے ہیں۔ سارے الزام بھی عورت کے حصے میں آتے ہیں۔ سیکس جتنی نفسیات میں اتنی ہی معاشرے میں بھی۔ اور معاشرہ ہے مردوں کا۔ مردوں کو مرد بننے میں ابھی بہت وقت لگے گا۔ ابھی اتنی آزادی ان سے سنبھالی نہیں جائے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply