سورج گرہن سے وابستہ توہمات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قدیم زمانے میں سورج گرہن سے ڈھیروں توہمات وابستہ تھیں۔ اچانک اندھیرا چھا جانے سے لوگ سخت خوفزدہ ہو جاتے۔ کوئی کہتا کسی دیو نے سورج کو نگل لیا ہے۔ کوئی چلاتا کہ شیطانی طاقتیں اچھائی کی طاقت پر غالب آ گئی ہیں۔ کوئی روتا کہ ہمارے گناہوں کی وجہ سے خدا نے عذاب نازل کیا ہے۔ علاوہ ازیں سورج کو پوجنے والے افسوس کرتے کہ سورج دیوتا پر زوال آ گیا ہے۔ اس زوال کو ختم کرنے کے لیے وہ طرح طرح کی قربانیاں دیتے ؛ بعض اوقات خود کو ذبح تک کر ڈالتے۔

سورج گرہن کی حقیقت سے لا علم لوگ سمجھتے تھے کہ سورج گرہن ان پر مختلف طرح سے اثر انداز ہوتا ہے۔ ان کا خیال تھا کہ سورج گرہن کے باعث حاملہ عورت کا بچہ مڑے ہوئے پاؤں کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔ سورج گرہن سے فصلیں تباہ ہوتی ہیں، یا یہ ڈھنڈھورا پیٹا جاتا کہ سورج گرہن کی وجہ خدا کی ناراضی ہے۔ غرض یہ کہ قدیم زمانے میں سورج گرہن ایک پر اسرار عمل تھا۔ قدیم زمانے کے لوگ قدرت کے سامنے نہایت بے بس اور لاچار تھے۔ کسی بھی طرح کا قدرتی واقعہ انھیں خوفزدہ کر دیتا۔ وہ بادل گرجنے، بجلی چمکنے، آندھیاں چلنے، آتش فشاں پھٹنے سے ڈر جاتے۔ اس ڈر نے ان کے ذہن میں دو باتیں اجاگر کیں :

پہلی بات یہ کہ وہ اس خوف سے چھٹکارے کا طریقہ سوچنے لگے۔ چونکہ وہ حقیقت کا سامنا کرنے سے ڈرتے تھے، لہذا خوف سے نجات کے لیے انھوں نے سورج گرہن اور دیگر قدرتی واقعات سے متلعق مختلف جھوٹی کہانیاں گھڑ لیں جنھیں دیومالائی کہانیاں کہتے ہیں ؛ جیسے انھوں نے فرض کر لیا کہ سورج گرہن خدا کی ناراضی ہے یا شیطانی طاقتوں کا حملہ ہے وغیرہ وغیرہ۔ ان کہانیوں کے پیش نظر وہ خوف سے چھٹکارے کے طریقے ڈھونڈتے۔ جو لوگ سورج گرہن کو خدا کا عذاب مانتے تھے، وہ خدا کے حضور گڑگڑا کر اپنے گناہوں کی معافی طلب کرتے۔ جبکہ جو لوگ سورج گرہن کو شیطانی طاقتوں کا غلبہ کہتے تھے، وہ مختلف قربانیاں دے کر بلائیں ٹالنے کی کوشش کرتے۔ ایسا کرنے سے لوگوں کو نفسیاتی سکون میسر آتا اور ان کے خوف میں کم واقع ہوتی۔ وہ مطمئن ہو جاتے کہ اب سورج گرہن ہمیں نقصان نہیں دے گا۔ یوں وہ خود ساختہ خوف کو خود ساختہ طریقوں سے ختم کر لیتے۔

دوسری بات یہ کہ سورج گرہن اور دیگر قدرتی آفات نے انسان میں تجسس پیدا کیا۔ قدیم انسان سوچنے سمجھنے کی صلاحیت رکھتا تھا ؛ لہذا اس نے اپنی عقل کے مطابق قدرتی کو سمجھنا شروع کیا۔ چونکہ قدیم زمانے میں انسانی عقل، انسانی علم اور انسانی تجربہ کافی کم تھا، اس لیے قدیم انسان قدرتی واقعات کو نہایت اوٹ پٹانگ زاویے سے دیکھتے تھے۔ وہ اپنے مسائل کے لیے غیر سبب کو سبب ٹھہراتے۔ یعنی حقیقت میں ان کے مسائل کی وجہ کچھ اور تھی مگر وہ مختلف قدرتی واقعات کو اپنے مسائل کی وجہ سمجھنے لگے۔

جیسے حاملہ عورت کا بچہ جینیاتی یا دوسری وجوہات کی بنا پر معذور پیدا ہوا لیکن طبی علم کی عدم موجودگی کی وجہ سے گھر والے یہ سمجھنے لگے کہ چونکہ حاملہ عورت سورج گرہن کے دوران باہر نکلی تھی، اس لیے بچہ معذور پیدا ہوا۔ علاوہ ازیں وہ یہ سمجھتے کہ سورج گرہن ہماری بد اعمالیوں کی وجہ سے لگا ہے حالانکہ سورج گرہن لگنے کی وجوہات دوسری تھیں۔ یعنی کسی واقعے کی اصل وجوہات کو تلاش کرنے کی بجائے خود وجوہات گھڑ لیتے تھے۔

قدیم بابل (عراق کا شہر) کے لوگ ستاروں کو پوجنے والے تھے۔ وہ چاند سورج سمیت سات سیاروں کو خدا مانتے تھے۔ اس ستارہ پرست مذہب کے پروہت اونچے میناروں پر چڑھ کر سورج، چاند اور سیاروں کا مشاہدہ کرتے۔ تاکہ اپنے خداؤں کے متعلق زیادہ سے زیادہ جان سکیں۔ سیاروں اور سورج کے بغور مشاہدے نے انھیں اس قابل بنا دیا کہ وہ سورج گرہن لگنے سے پہلے ہی اس کا دن اور وقت بتانے لگے۔ یوں وہ پروہت بھولی عوام کو بے وقوف بنا کر فوائد حاصل کرتے۔

موجودہ دور میں سورج گرہن کا اتنی باریک بینی سے مشاہدہ کیا جا چکا ہے کہ ماضی اور مستقبل کے تمام گرہنوں کی درست تاریخیں بتا دی گئی ہیں۔ سورج گرہن کیوں ہوتا ہے، کیسے ہوتا ہے، کب ہوتا ہے ؛ ان سب سوالوں کے جواب تلاش کر لیے گئے ہیں اور خلاباز خلا سے سورج گرہن کا براہ راست مشاہدہ کر چکے ہیں۔ اتنی شاندار ترقی کے باوجود سورج گرہن سے متعلق لوگوں کا خوف ختم نہیں ہوا۔ لوگ اب بھی سورج گرہن کو بد شگونی سمجھتے ہیں۔ ماضی میں سورج گرہن سے خوف کھاتے کھاتے دراصل یہ خوف ان کے رگ و پے میں بس چکا ہے۔

پاکستان کی بات کی جائے تو دریائے سندھ اور کراچی سمندر کے گرد لوگوں نے اپنے معذور بچوں کو یہ سوچ کر ریت میں آدھا دفنایا کہ سورج گرہن لگنے پر ان کی معذوری جاتی رہے گی۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ فلاں بندے کی والدہ جب حاملہ تھی تو انھوں نے دوران سورج گرہن چھری سے کھیرا کاٹا ؛ بعد ازاں بچہ پیدا ہوا تو اس کی کمر پر کٹ کا نشان تھا۔ فلاں بندے کی والدہ سورج گرہن کے وقت سوئی سے کپڑے سلائی کر رہی تھی ؛ بعد ازاں بچہ پیدا ہوا تو اس کے کان میں چھید تھا۔ اس طرح کے سینکڑوں واقعات زبان زد خاص و عام ہیں۔ موجودہ دور کے لوگوں کا اس طرح کا طرز فکر قدیم انسانوں جیسا ہے۔ یعنی اپنے مسائل کے لیے غیر سبب کو سبب ٹھہرانا۔

خوف ایسی شے ہے جو انسان کو الٹا سیدھا سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ اگر کسی شخص کو بچپن میں ذہن نشین کرایا جائے کہ سورج گرہن کا حاملہ عورت پر منفی اثر ہوتا ہے یا سورج گرہن انسانی معاملات پر اثر انداز ہوتا ہے تو وقت کے ساتھ ساتھ یہ خوف اس کے دماغ میں پختہ ہو جاتا ہے۔ اور بڑے ہو کر وہ شخص طرح طرح کے وہم کا شکار ہو چکا ہوتا ہے۔ ایسا شخص سورج گرہن لگنے کے بعد مختلف معاملات کو دیکھتا ہے اور اگر اسے کوئی خرابی نظر آئے تو اس کا سورج گرہن سے تعلق ڈھونڈنے لگتا ہے۔

دلچسپ بات ہے کہ اس کا وہم کوئی نہ کوئی تعلق ضرور سامنے لے آتا ہے۔ اس کا وہم اسے مجبور کرتا ہے کہ وہ ہر خرابی کا تعلق کسی نہ کسی طرح سورج گرہن سے جوڑے۔ جیسے قدیم زمانے میں کسی شخص کو بتایا جاتا کہ تم پر کالا جادو کرایا گیا ہے تو وہ شخص اگلے کچھ دنوں میں خوف کے مارے ہی گھل گھل کر مر جاتا۔ کیونکہ یہ بات اس کے ذہن میں بٹھا دی گئی تھی کہ کالا جادو انسان کو مار دیتا ہے۔ وہ شخص جس کو بچپن میں سورج گرہن سے متعلق ہر قسم کی توہمات سے لاعلم رکھا جائے ؛ وہ بچہ بڑے ہو کر سورج گرہن کے بارے میں کسی وہم اور خوف کا شکار نہیں ہو گا۔

توہم پرستی کے متعلق سب سے عجیب و غریب بات یہ ہے کہ توہم پرست کی توہمات سچی ہونے لگتی ہیں۔ ایسا دراصل اس لیے ہوتا ہے کہ توہم پرست شدید خوف کے زیر اثر آ جاتا ہے۔ جو لوگ سمجھتے ہیں کہ کالی بلی راستہ کاٹ دے تو بری آفت آنے کا خطرہ ہے ؛ اگر ایسے لوگوں کے سامنے سے کالی بلی گزر جائے تو واقعی ان کا دن خراب گزرتا ہے اور کوئی نہ کوئی نقصان ہو جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ کالی بلی اور متوقع نقصان کے بارے میں اتنا منفی سوچنے لگتے ہیں کہ ان کا دن خراب گزرتا ہے اور اس خرابی کو بلی کی خراب قسمت سے تعبیر کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں وہ بلی گزرنے پر اتنے پریشان ہو جاتے ہیں کہ پریشانی کے عالم میں کوئی نہ کوئی غلطی کر بیٹھتے ہیں۔ اس سب کی پشت پر درحقیقت ان کا وہم کارفرما ہوتا ہے۔ یہی معاملہ سورج گرہن سے منسلک توہمات کا ہے۔

سوچنا انسانی فطرت ہے۔ ہر انسان ہر وقت کچھ نہ کچھ سوچتا رہتا ہے۔ واقعات کا مشاہدہ کر کے ان سے نتیجہ نکالنا انسان کی عادت ہے۔ اگر کوئی واقعہ اسے متاثر کرے تو علم کی کمی کے باوجود انسان اس سے متعلق سوچتا ہے۔ علم کم ہونے کی صورت میں آدمی کسی معاملے کی تفہیم کرے ؛ تو وہ تفہیم نہایت غلط ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر معاشرے کے زیادہ تر افراد سورج گرہن کی سائنسی وجوہات سے لاعلم ہے مگر اس کے باوجود وہ سورج گرہن پر سوچتے اور بحث کرتے ہیں۔ چونکہ ان کی معلومات ناقص ہوتی ہے اور سائنس سے ان کا سوتنوں والا بیر ہے اس لیے سورج گرہن سے متلعق حقیقی پہلو جاننے کی بجائے سورج گرہن اور کمر پر نشان کو آپس میں جوڑتے رہتے ہیں۔

موجودہ دور میں سائنس اتنی ترقی کر چکی ہے کہ لگ بھگ ضرورت کے ہر معاملے کی درست تفہیم کرنے کے قابل ہے۔ سائنس نے ہمارے مشاہدے میں آنے والے تقریباً ہر واقعے کی اصل وجوہات کا پتا لگا لیا ہے۔ فی الوقت کسی کی بھینں س دودھ نہیں دیتی تو اس کی وجہ سورج گرہن نہیں ہے۔ اب اگر کسی کا بچہ معذور پیدا ہوا ہے تو اس کی وجہ سورج گرہن میں ماں کا باہر نکلنا نہیں بلکہ اس مسئلے کی پشت پر ٹھوس طبی وجوہات موجود ہیں۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ سورج گرہن میں ماں کے باہر نکلنے سے بچہ اس لیے معذور پیدا ہوتا ہے کہ اس وقت سورج سے مختلف نقصان دہ شعائیں خارج ہوتی ہیں، ان کے لیے دوبارہ عرض ہے کہ سورج گرہن محض اس لیے لگتا ہے کہ سورج اور زمین کے درمیان چاند آ جاتا ہے۔ اس سارے عمل کے دوران سورج ویسا ہی رہتا ہے جیسا پہلے تھا۔ سورج کو دوران گرہن کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جو شعائیں عام روٹین میں خارج ہوتی ہیں، وہی شعائیں گرہن کے موقع پر بھی خارج ہوتی ہیں۔ کسی نئی قسم کی شعاوں کا اخراج نہیں ہوتا۔

در حقیقت سورج گرہن سے متلعق صرف وہی لوگ توہمات کا شکار ہیں جو سائنسی علم سے ناواقف ہونے کے ساتھ ساتھ سائنسی نقطہ نظر سے قدرتی واقعات کو نہیں پرکھتے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply