پشتونوں کا معاشی قتل عام جاری ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چمن بارڈر پر تاجروں کا دھرنا پچاس روز بعد بھی جاری ہے۔ اور سرحد ہر قسم کی آمد و رفت اور تجارت کے لئے بند ہے۔ جس کی وجہ سے ہزاروں کنٹینرز ڈیورنڈ لائن کے دونوں جانب پھنسے ہوئے ہیں۔ مقامی تاجروں کا مطالبہ ہے کہ حکومت بارڈر پار کرنے پر پاسپورٹ کی طلبی کا فیصلہ واپس لے۔ اور آمد و رفت کو آسان بنایا جائے۔ تاجروں کو بیجا تنگ کرنے سے گریز کیا جائے۔ غیر قانونی ٹیکسز نہ لگائے جائیں۔

باب دوستی پاک افغان سرحد پر دوسرا بڑا گیٹ ہے جس پر روزانہ 25 سے 30 ہزار مقامی لوگ سرحد عبور کرتے ہیں اور ایک اندازے کے مطابق روزانہ 1500 کنٹینرز اور مال بردار گاڑیاں ایک دوسرے ملک داخل ہوتے ہیں۔

چمن ایک پسماندہ علاقہ ہے نہ زراعت کا کوئی خاص انتظام ہے اور نہ صنعتی مراکز ہے تعلیم کی شرح بھی نہایت کم ہے۔ 98 فیصد لوگوں کا ذریعہ معاش اس دروازے پر تجارت سے وابستہ ہے۔ ہزاروں افراد روزانہ بارڈر پار کرتے ہیں اور وہاں سے سامان لے آتے ہیں۔ اور اپنی روزی روٹی کماتے ہیں۔ ملک کو بھی ٹیکسز کی مد میں اربوں روپے ملتے ہیں۔

اس تجارتی مرکز کی وجہ بلوچستان میں کافی اشیا جیسے، پرانے موبائل فون، کمپیوٹر، لیپ ٹاپ اور کاریں کافی کم قیمت پر ملتی ہیں۔ اور پورے پشتون بیلٹ کا روزگار بالواسطہ یا بلا واسطہ جڑا ہوا ہے۔

اب حکومت نے چمن بارڈر کو بھی تورخم کی طرح ریگولرایز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اور آمد و رفت کے لیے پاسپورٹ کی شرط لاگو کیا ہے۔ جو کہ ناممکن ہے۔ دراصل ڈیورنڈ لائن کے دونوں جانب ایک ہی قبیلہ اچکزئی کے لوگ آباد ہیں۔ ان کی زمینیں، جائیداد اور حتیٰ کہ قبرستان بھی مشترکہ ہیں۔ ایک سرحد کے اس پار ہے تو دوسرا اس پار ہے۔ اکثر کی زرعی زمینیں بھی سرحد کے دونوں جانب واقع ہیں۔ وہ صبح جاتے ہیں اور کھیتوں پر پانی لگا کر شام کو واپس آتے ہیں۔ ایک دوسرے کی خوشی غمی میں بلا روک ٹوک شریک ہوتے رہے ہیں۔ تو ایسی صورت حال میں مقامی لوگوں کے لیے ممکن نہیں ہے کہ وہ صبح شام پاسپورٹ پر اپنے گھروں میں آ جا سکیں۔

چمن اور قلعہ عبداللہ کے سارے سیاسی و مذہبی پارٹیوں، اور سول سوسائٹی کے ممبران نے مشترکہ طور پر اس ظالمانہ فیصلے کو مسترد کیا ہے اور اس فیصلے کو لوگوں کا روزگار چھیننے کا حربہ قرار دیا ہے اور مظاہرین کی بھرپور حمایت کا اعلان بھی کیا ہے۔

دوسرا بڑا مسئلہ لغڑیوں کا ہے۔ مقامی زبان میں لغڑی ان کو کہتے ہیں جو ہاتھ کی ریڑھی پر تاجروں کا سامان اجرت پر لے آتے ہیں۔ اس بارڈر پر تقریباً 20 سے 25 ہزار لغڑیوں کا روزگار جڑا ہوا ہے۔ حکومت نے ان کے لئے خصوصی کارڈ جاری کیے تھے جس پر وہ باآسانی اپنا سامان لے کر آتے تھے مگر اب ان کے لئے بھی پاسپورٹ دکھانا لازم قرار دیا ہے۔

ریاست چونکہ ماں ہوتی ہے اپنے شہریوں کی تعلیم، روزگار، صحت، سیکورٹی اور دیگر بنیادی ضروریات کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ مگر یہاں پر ایسا نہیں ہے۔ یہاں شہری بالخصوص پختونخوا اور بلوچستان کے عوام اپنے بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہیں۔

ریاست کو قدرتی وسائل دینے والے صوبے میں ایک بھی صنعتی مرکز نہیں ہے۔ پورے پاکستان کو گیس فراہم کرنے والا ضلع ڈیرہ بگٹی خود گیس سے محروم ہیں وہاں کے باسی لکڑیوں پر روٹی پکاتے ہیں، باقی صوبے کی کیا حالت ہوگی۔

سیندک اور ریکوڈک جیسے شاہکار قدرتی وسائل سے مالامال صوبے میں لوگ غربت، پسماندگی اور بیروزگاری کی وجہ سے فاقوں پر مجبور ہیں۔ تعلیم کی شرح انتہائی نیچے ہے اور بیروزگاری کا اوپر ہے۔ غربت انتہائی زیادہ ہیں۔ تو ایسے حالات میں شہری کریں تو کیا کریں۔ ظاہر ان میں بغاوت اور سماج دشمن رجحانات پیدا ہوں گے اور مختلف سماج دشمن عناصر کے خواہشات کا ایندھن بنیں گے اور دشمن عناصر کے ہاتھوں استعمال ہوں گے۔ پھر ریاست الزام دشمنوں پر لگائے گی کہ فلاں ہماری شہریوں کو ہمارے خلاف استعمال کر رہا ہے۔ تو اپنے شہریوں کو دشمن سے بچانے کی ذمہ داری کس کی بنتی ہیں؟ ظاہر ہے ریاست کی بنتی ہے کہ اپنے شہریوں کی بنیادی ضروریات پوری کر کے ان کو دشمن کے ہاتھوں میں کھیلنے سے بچائے۔ ان کو روزگار دے، تعلیم دے، ان کی زندگیوں کی حفاظت یقینی بنائیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply